کہیں منزل کھو نہ جائے

پیر مئی    |    پروفیسر رفعت مظہر

عشرے بیت چلے یہ سنتے سنتے کہ کرپشن کے مگرمچھوں پہ ہاتھ ڈالا جا رہا ہے لیکن ہوا کچھ بھی نہیں۔ البتہ اب فضائے دوراں دِلوں کی دَمساز ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ سپہ سالار بے مِثل ہے لیکن بہرحال عامیوں میں سے بھی نہیں کہ پہلے آپریشن ”ضربِ عضب“ کا نعرہٴ مستانہ لگا کر وہ کچھ کر دکھایا جس کی پاکستان تو کُجا، اقوامِ عالم کو بھی توقع نہ تھی۔پھر لیفٹیننٹ جنرل، میجر جنرل، بریگیڈیئرز اور کرنلز جیسے آفیسرز کو گھر بھیج کر ساری مراعات واپس لے لیں کہ اُن کے ہاتھ کرپشن میں لتھڑے پائے گئے۔
اقتصادی راہداری پر بیان دیا کہ یہ تو پایہٴ تکمیل تک پہنچے گی خواہ اس کے لیے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ کراچی اور بلوچستان میں امن کے لیے اُن کی کوششیں اورکاوشیں روزِروشن کی طرح عیاں۔

(خبر جاری ہے)

ملکی ترقی اورسلامتی کے لیے وزیرِاعظم سے 72 ملاقاتیں کرچکے جوایک ریکارڈہے۔
قوم نے ایوب خاں سے پرویزمشرف تک جرنیلوں کو دیکھا اور بھگتا بھی لیکن ایسا جرنیل دیکھا نہ سُنا۔ دِلوں کے بھیدتو خُدا جانتاہے لیکن جنرل راحیل شریف کی اب تک کی کارکردگی سے صاف ظاہرہے کہ اُن کامطمح نظر صرف ملکی سلامتی اورترقی ہے ، کوئی لالچ نہ ہوسِ اقتدار۔

اسے بھی حیات کا بانکپن ہی کہیں گے جو کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی امنگوں کو جواں رکھتا ہے۔ سپہ سالار کی آرزو یہ کہ دہشت گردی کے ساتھ کرپشن کا ناسور بھی ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے ۔اُن کے دِل میں آرزوؤں کی گدگداہٹ نے جنم لیااور وہ کرپشن کے ناسورکو ختم کرنے کی راہ پہ چل نکلے ۔ وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں لیکن کیا یہ کافی نہیں کہ انھوں نے گھور اندھیروں میں اِک دیا جلانے کی سعی تو کی۔ شاید یہ شہیدوں کے اُس خون کا اثر ہو جو اُن کے سگے بھائی میجر شبیرشریف نشانِ حیدر اور ماموں میجرعزیزبھٹی نشانِ حیدر نے اس وطن کی مٹی میں یوں سمویا کہ اس پاکیزہ خون کی مہکار آج بھی باقی اور دِلوں کو گرماتی ہے۔

اُدھرہمارے بزعمِ خویش رہنماوٴں کا یہ عالم کہ بھوکے بھیڑیوں کی طرح مسندِ اقتدارپر جھپٹتے نظر آرہے ہیں ۔پانامہ لیکس پراپوزیشن نے جوکچھ کہاوہ تسلیم کرلیا گیا ۔وزیرِاعظم نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈجج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن کااعلان کیالیکن اپوزیشن کامطالبہ تھاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن قائم کیاجائے ،جو تسلیم کرلیا گیا۔ پھر بین الاقوامی ماہرین سے فرانزک آڈٹ کی بات کی گئی ، وہ مطالبہ بھی تسلیم ہوا ۔
جب کچھ بَن نہ پڑاتو وزیرِاعظم کے استعفے اورٹی او آر کا غلغلہ اُٹھا ۔ظاہرہے کہ وزیرِاعظم کے استعفے کامطالبہ انتہائی نامعقول کہ ابھی تک کسی بھی تحقیقاتی کمیشن میں وزیرِاعظم مجرم نہ ملزم ۔ پانامہ لیکس میں اُن کانام نہ کسی آف شورکمپنی کی ملکیت ۔ الزام صرف یہ کہ اُن کے بیٹوں کی آف شور کمپنیزہیں ۔تسلیم ! لیکن کیا مدعی ہی منصف بَن جائے گا؟۔ کیایہ اپوزیشن کااختیار ہے کہ جس کوچاہے وقت دے اورجس کوچاہے مصلوب کردے؟۔
اگرایسا ہی ہے توپھر تحقیقاتی کمیشن کامطالبہ کیوں؟۔ ٹی او آر پہ اپوزیشن کاشور سمجھ میںآ تا ہے ۔ حکومت نے ٹی اوآر میں صرف پانامہ لیکس ہی نہیں، کرپشن کے ہر دَرکو بند کرنے کی استدعاکی ہے جوپیپلزپارٹی کوقبول ہے نہ تحریکِ انصاف کو کیونکہ اُن کی صفوں میں ایسے بہت سے نامی گرامی موجودہیں جن کے گرد شکنجہ کَسا جاسکتا ہے ۔
کپتان صاحب کا تو مقصد عیاں ، صرف حصول اقتدار جوہر ڈھلتے سورج کے ساتھ اُن سے کوسوں دورہوتا جارہا ہے ۔
عمران خان کہتے ہیں کہ سب سے پہلے صرف وزیراعظم کا احتساب کیا جائے ۔ سوال مگریہ کہ جہانگیرترین، عبدالعلیم خاں اور خود عمران خان کاکیوں نہیں۔ کیا یہ دودھ کے دُھلے ہیں؟ کیا ان میں سے کسی کے بھی اثاثے ملک سے باہر نہیں؟۔ کیا زرداری کی بیرونی ممالک میں وسیع و عریض جائیداد نہیں؟ کیا بیوروکریٹس پاک صاف ہیں؟ جب جھاڑو پھیرنا مقصود ہو تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ سامنے تنکا ہے یا پتھر ۔وزیرِخزانہ اسحاق ڈارنے توعمران خاں کو یہ چیلنج کردیا ہے کہ وہ اُن کی یااُن کے بیٹوں کی ایک پائی کی کرپشن بھی ثابت کرکے دکھائیں ۔
وہ نہ صرف سیاست چھوڑدیں گے بلکہ اُن کی تمام جائیدادبھی ضبط کرلی جائے اورقوم جوبھی سزا تجویزکرے ، وہ بھی بھگتنے کوتیار ہیں ۔وزیرِاعظم نے پہلے ہی اپنے سمیت پورے خاندان کوکٹہرے میں کھڑا کررکھا ہے ۔عمران خاں اگر واقعی کرپشن کاخاتمہ چاہتے ہیں تو رائیونڈ میں دھرنادینے کی خالی خولی بڑھکوں کی بجائے عملی اقدام اٹھائیں اوراگر اُنہیں ٹی او آر پراعتراض ہے تواپنا ٹی اوآر بناکر قوم کے سامنے پیش کریں لیکن وہ ایساکریں گے نہیں کیونکہ جانتے وہ بھی ہیں کہ حکومتی ٹی اوآر میں کوئی خامی نہیں، اگر خامی ہے توصرف یہ کہ اِس ٹی اوآر کی لپیٹ میں کئی ایسے لوگ بھی ا ٓ جائیں گے جوخاں صاحب کے پہلومیں کھڑے نظرآتے ہیں۔
منی لانڈرنگ، زمینوں پر قبضے کرنے والوں اور قرضے معاف کروانے والوں کے ہاتھوں کے طوطے اُڑے ہوئے ہیں۔ وہ خان صاحب کو کہتے ہیں کہ وہ بچ نہ پائیں گے۔ شایدبات ایک بحرسے نکال کردوسری بحرمیں ڈالنے کے لیے ہی کپتان صاحب نے کہہ دیاکہ اگر وزیرِاعظم رابطہ عوام مہم کے لیے کے پی کے جائیں گے تو ”گونوازگو“ کے نعروں سے استقبال ہوگا ۔ ایسا استقبال عمران خان کا بھی ہو سکتا ہے لیکن ملکی وقومی سلامتی جن کوعزیز ہے اورمنزل کھونے کاخوف ، وہ کسی صورت میں تصادم کی فضاء پیداہونے دیں گے نہ اُن لوگوں کی خواہش کی تکمیل میں معاون ثابت ہوں گے جو لاشوں کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔
ہر محبِ وطن پاکستانی کویاد رکھنا ہوگا کہ بھارت ، امریکہ اورکچھ دوسری پاکستان دشمن عالمی طاقتوں کو ”سی پیک“ منصوبہ قبول ہے نہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے موجودہ کاوشیں ۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے کہ ”عالمی غُنڈوں“ کوایٹمی پاکستان اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہوتا ہرگز قبول نہیں اِس لیے ہرقدم سوچ سمجھ کراُٹھانا ہوگا ۔ اگرایسا نہ ہوا توہم وہ منزل کھو دیں گے جس کی آس میں ہم جی رہے ہیں ۔
یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اپوزیشن محض اس لیے شور مچا رہی ہے کہ چیف صاحب انکار کر دیں اور نوازشریف ہی نشانہ ہوں ، وگرنہ وسیع ترین اختیارات تو مل چکے۔ہم سمجھتے ہیں کہ نوازشریف، آصف زرداری، پرویزمشرف اور عمران خان کا احتساب سب سے پہلے، پھر حواریوں، صنعت کاروں ، بیوروکریسی، پیپلزپارٹی، ق لیگ، ایم کیوایم، پی ٹی آئی اور نوازلیگ کے ہراُس شخص کاجس نے کبھی بھی ،کسی بھی انتخاب میں حصّہ لیاہو تاکہ قوم کوپتہ چل سکے کہ سیاست ،عبادت کِس کے نزدیک ہے اور تجارت کِس کے نزدیک۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے اتوار مئی کے مزید کالم