یہ یوم مئی نئی قربانیوں کا متقاضی ہے

پیر مئی    |    قمر الزماں خان

ایک سو تیس سال پہلے 1886ء میں مزدوراور سرمایہ دار کی کشمکش نے ایک موڑ لیا تھا جب سرمایہ دارانہ تاریخ میں پہلی دفعہ ”اجرتی محنت“ کے دورانیے کو ایک’معین‘ وقت کی گرفت میں لایا گیا۔سرمایہ داروں کی یہ پہلی ’نظریاتی‘ شکست تھی ،یہاں محنت کے استحصال کو تسلیم کیا گیا تھا۔اجرت اور محنت کی بحث میں مزدوروں کے قائدین نے ثابت کیا تھا کہ سرمایہ دار مزدورکو دینے والی اجرت ‘ اس کے کام کے دن کے ابتدائی حصے میں ہی پوری کرلیتا ہے اور پھر ’مزدور‘ باقی سارا دن بلا اجرت کام کرتا اور سرمایہ دار کے منافع کا سبب بنتا ہے۔
تب سرمایہ دار بارہ گھنٹوں کے دن میں چھ گھنٹے بلا اجرت محنت لوٹنے کا مرتکب ہوتا تھا ،جب مشینیں سست رو اورٹیکنالوجی آج کی نسبت ہزاروں گنا فرسودہ تھی۔

(خبر جاری ہے)

جدید ٹیکنالوجی،تیز ترین مشینوں اور بالخصوص کمپیوٹرکے استعمال کی وجہ سے پیداواری عمل کہیں تیز ہوچکا ہے۔ جدید اور تیز رفتار مشین نے ’محنت ‘ کرنے والے مزدور کو بھی خود کار (مشینی)انداز میں اسی مستعدی اور رفتار سے کام کرنے پر مجبور کرکے ‘پہلے کی نسبت کئی گنا زیادہ پیداوار کوبڑھا دیا ہے۔

اس طرح سرمایہ دار کے منافع کو توپیداواری اضافے کی نسبت سے کئی گنا’ ضربیں ‘لگ جاتی ہیں مگر ’محنت ‘ کی اجرت وہی رہتی ہے۔ دوسرے معنوں میں ایک متضاد عمل دیکھنے کو مل ملتا ہے۔ ’سرمایہ‘ بغیر اس نسبت سے لاگت بڑھائے‘منافع بڑھانے میں کامیاب رہتا ہے، جب کہ ’محنت‘ کی اجرت پہلے کی نسبت اتنی ہی تیز رفتاری سے سکٹرجاتی
ہے، جتنی تیزی سے ’پیداور کی قدر‘ میں اضافہ ہوا تھا۔
یہ تضاد دولت کی تقسیم کی شدیدعدم مساوات کو ہر سطح پر ظاہر کرتا ہے۔مگر سرمایہ داری نظام پیداواری عمل سے محض ’منافع‘ کمانے تک محدود نہیں ہے ،بلکہ اس کا ہدف ’شرح منافع‘ہونے کی وجہ سے محنت کے استحصال (خواہ اسکی شدت کتنی ہو)کو ایک ہی زاویے میں کرکے قناعت نہیں کرتا۔ اجرتی مراحل میں محنت کے کئی گھنٹو ں کو(مارکس کے دور میں اگر یہ شرح چھ گھنٹے کی محنت کا معاوضہ اور چھ گھنٹے بلا معاوضہ تھی تو اب ایک گھنٹے کا معاوضہ اور سات گھنٹے بلامعاوضہ محنت کو غصب کیا جانا) کو بلامعاوضہ لوٹا جاتا ہے‘ مگر اس اجرت میں مزید کمی کرنے کے لئے وہ تمام سہولیات اور مراعات جو اجرت کے ساتھ منسلک ہوتی گئیں تھیں‘ کی واپسی کا عمل شدت اختیارکرگیا ہے۔
محنت کشوں نے پچھلے دوسو سال میں جو کچھ اپنی جدوجہد میں حاصل کیا تھا، اگر وہ ایک طرف سے انکی جدوجہد اور انکی پرعزم لڑائی کا صلہ تھا‘ تو دوسری طرف دی گئی مراعات سے سرمایہ دار اپنے منافعوں کو بڑھانے کا کام بھی لے رہا تھا۔مگر سرمایہ داری نظام کے اپنی حدود کو چھوجانے یا دوسرے لفظوں میں اب آگے بڑھنے کی سکت نہ رکھنے (زائد صلاحیت پیداور)کے باعث ’پیداوار ‘میں مزید اضافے سے منڈی میں منافع کا وہی حشر ہوگا جو تیل کی زائد پیداوار سے تیل پیداکرنے والے ممالک کے منافعوں کے موجودہ سکڑاؤ سے ہورہا ہے۔
لہذا بغیر پیداوار بڑھائے منافعوں اور دولت میں اضافے کا راستہ پھر محنت کشوں پر حملے کرنا ہی رہ جاتا ہے۔موجودہ کٹوتیوں،لبرلائیزیشن ،ری سٹرکچرنگ،چھانٹیوں،ڈاؤن سائیزنگ،رائٹ سائیزنگ اور اسی طرح مستقل کام کے ساتھ ’طے شدہ ‘ اجرت ،منسلک سہولیات اور مراعات کا خاتمہ کرنے کے لئے ٹھیکے داری یا کنٹریکٹ لیبر کا طریقہ کار استعمال کیا جارہا ہے۔نج کاری کے ذریعے پبلک سیکٹر کے اداروں کو نجی شعبے کو دینے کا عمل بھی کئی طرفہ ہے۔
ایک طرف قیمتی اثاثوں کواونے پونے دیکر سرمایہ داروں کی جیبیں بھری جارہی ہیں تو دوسری طرف ریاست (قومی معیشت )کے جسم کو کاٹ کر سرمایہ داروں کا پیٹ بھررہی ہے۔۔مگر اسی پر اکتفا نہیں کیا جارہا ۔کئی تہوں میں ٹیکس بٹورنے والی ریاست کو اپنی بنیادی ذمہ داریوں (تعلیم ،صحت،پینے کا صاف پانی،بنیادی سماجی انفراسٹرکچر) سے ’چھٹکارہ‘حاصل کرکے‘ ایک طرف پیسے بچانے کا عمل جاری ہے تو دوسری طرف انہی شعبوں کو نجی تحویل میں دیکر لوٹ کھسوٹ کے مزید مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔
نج کاری اور بنیادی زندگی کی ذمہ داریوں سے فرارسے سماجی پستی میں تواضافہ ہورہا ہے مگر حملہ زدہ شعبوں کے مزدوروں سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جارہا ہے۔ پاکستان میں حالیہ دنوں میں تعلیم اورصحت کے شعبے کی نج کاری کا مقصد ’محنت کش ‘ طبقے پر چاروں طرف سے حملہ ہے۔ سرکاری سکولوں اور اسپتالوں سے ’جبری رشتہ ‘اب محنت کشوں کا ہی رہ گیا ہے۔امیروں کے بچے بھاری فیسوں والے نجی سکولوں میں پڑھتے ہیں اور ان گھرانوں کے افراد کا علاج معالجہ بھی نجی اسپتالوں میں ہوتا ہے۔
یہ بات یقینی ہے کہ ”پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ“ کے عنوان سے کی جانے والی ’نجکاری ‘ کے بعدایک روپے کی پرچی پر علاج اور بغیر فیس کے تعلیم کا حصول ،اسپتالوں اور سکولوں کی نجکاری کے بعد ممکن نہیں رہے گا۔دوسری طرف اسپتالوں اور اسکولوں پر قابض سیٹھوں کا سب سے پہلا ہدف ان اداروں میں کام کرنے والے محنت کش ہونگے۔مستقل ملازمت کرنے والے اساتذہ،ڈاکٹر اور دیگر عملے کو ان سے کئی گنا کم تر اجرت لیکر کام کرنے پر رضامند(بے روزگاروں کی بہت بڑی کھیپ سے آنے والے ) ”کنٹریکٹ ملازمین“ سے بدل دیا جائے گا۔
اس طرح روزگار پر موجود لاکھوں محنت کشوں کو بے روزگاری کی بازار میں برباد ہونے کے لئے چھوڑدیا جائے گا۔سرمایہ دارانہ ریاست اس ”پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ“(نجکاری کی مکارانہ شکل) سے بتدریج صحت اور تعلیم کے شعبے سے سبکدوش ہوکر وہ قلیل رقم بھی بچا لے گی ‘جو ان شعبوں پر بادل نخواستہ خرچ کررہی ہے۔میدان صاف ہوگا اور سرمایہ دار، بھوکے گِدھوں کی طرح ان شعبوں پر ٹوٹ پڑیں گے۔وہ تعلیم کی فروختگی اور زخموں پر مرحم رکھنے کے بھاری دام وصول کرنا شروع ہوجائیں گے۔
اس عمل سے محنت کش طبقہ ہی چہارطرف سے متاثر ہوگا۔ یہ ایک خوفناک صورتحال ہے۔ اس کیفیت میں گومگو میں رہنے سے یہ مصیبت ٹل نہیں سکتی اور دوسری طرف کسی ایک شعبے (پی آئی اے کی تحریک میں قیادت کی غداری کی وجہ سے شکست)میں مزدوروں کی عارضی پسپائی کوئی ایسا جواز نہیں ہے کہ نج کاری کی تلوار کو گلے پر چلنے دیا جائے۔پی آئی اے اور واپڈا کی نجکاری مخالف تحریکوں کی ناکامیابی کی ایک بڑی وجہ ‘ان تحریکوں کی الگ الگ لڑائی اورجدوجہد کو صرف حملہ زدہ شعبوں کے مزدوروں تک ہی محدوررکھناہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کڑے وقت میں مزدورقیادتیں‘کشادہ دل ہوکر محنت کش طبقے کی تمام پرتوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے اپنی ’قائدانہ صلاحیتوں ‘کا استعمال کریں۔اساتذہ اور اسپتالوں کے عملے کو اپنے ’وائیٹ کالر‘ ہونے کے احساس سے نکل کر بجلی بنانے والے مزدور،اسٹیل ملز،آئیل اینڈ گیس،پی آئی اے سمیت پبلک سیکٹر اور نجی شعبے کے لڑاکا مزدورکو ساتھ ملاکر اپنے طبقاتی اتحاد کو عملی طور پر بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
جس طرح سرمایہ دار ی نگل سڑ چکی ہے ،اسکا حکمران طبقہ اس سے بھی زیادہ فرسودہ اور کمزور ہوچکا ہے۔ان بدعنوان حکمرانوں کے لئے محنت کش طبقے کے اتحاد میں چلنے والی ایک طاقت ور تحریک سمندری طوفان بن کر تنکوں کی طرح اکھاڑ پھینکے گی۔یہ ملک 1967-68ء کی مزدورتحریک کا گواہ ہے ،جب محنت کش طبقہ نکلا تھا تو حکمرانوں کو رات کے اندھیروں میں بھاگنا پڑا تھا۔مزدوروں کے پاس جدوجہد کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔سچے جذبوں کی قسم جیت محنت کش طبقے کی ہوگی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

قمر الزماں خان کے اتوار مئی کے مزید کالم