یہ چکر کیا ہے

پیر مئی    |    شاہد سدھو

آخر یہ چکر کیا ہے؟ ایک سال بھی پورا نہیں ہونے دیا گیا اور دھاندلی کے نام پر دھرنوں کا ڈرامہ شروع کر دیا گیا اور ملک کو ہیجان میں مبتلا کرکے ترقی کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ اور اب پانامہ لیک نامی ہوائیوں پر ملک بھر میں ہیجان برپا کر نے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پانامہ لیک نامی چیتھڑوں میں سینکڑوں لوگوں کے نام شامل ہیں مگر ٹارگٹ صرف وزیر اعظم نواز شریف کو کیا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے وزیر اعظم کے بچوں نے ۲۰۰۶ میں آف شور کمپنیوں کے لئے پیسہ کیسے منتقل کیا۔
وزیر اعظم کا خاندان تو اس وقت جلاوطن تھا، یہ بات آپ اس وقت کے مختار کُل پرویز مشرف سے کیوں نہیں پوچھتے کہ اُس کی جابرانہ حکومت میں یہ کیسے ہُوا؟ کبھی کہا جارہا ہے کہ آف شور کمپنیوں کے لئے پیسہ نوے کی دہائی میں منتقل ہوا۔

(خبر جاری ہے)

اگر واقعی یہ جرم ہوا تھا تو آپ یہ بات پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف سے پوچھیں کہ وہ ہر طرح کا زور لگانے اور احتسابی ڈرامہ رچانے کے باوجود شریف خاندان پر کوئی جرم کیوں ثابت نہ کر سکے؟ کیا وجہ ہے کہ پچھلے تین سال میں حکومت کے خلاف کوئی کرپشن اسکینڈل نہیں آیا اس کے باوجود ملک بھر میں جعلی طوفان کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔


چکر کچھ اور ہے ۔ آخر وہ کونسی گیدڑ سنگھی ہے کہ قائدِ آزادی و سونامی و نیا پاکستان ، قائد کینیڈوی ِ انقلاب ،قائدِ بھابھڑا بازار ، قائدین ِ مال اور ِ مونس بچاو تحریک ، قائد ڈالری جہاد اور قائدین ایل پی جی و میٹر ریڈری سب کے سب نے ایک دسترخوان سے کھانا شروع کر دیا ہے اور مل جل کر لنگوٹ کس لئے ہیں۔ میاں صاحب آپ کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہو چُکی ہے۔ آپ کو دانشور اینکر، دانا و بینا کالم نگار اور جہاندیدہ سیاستدان مسلسل مشورے دیتے رہے کہ آپ آصف زرداری سے سبق سیکھیں ، کِس طرح انہوں نے ”کامیابی“ سے مفاہمت کی سیاست کی اور رل مل کر اس ملک کی ” خدمت“ کی۔
کِس طرح رحمٰن ملک نے ٹرانزٹ مسافر کی طرح لندن ، دبئی اور کراچی کے سیکڑوں پھیرے لگائے اور ”مفاہمت“ کو پروان چڑھایا۔ کِس طرح یوسف رضا گیلانی اور راجہ پر ویز اشرف نے حکومتی اداروں اور قومی خزانے کے ساتھ مفاہمتی سلوک کِیا۔ آپ کو مشورے دیئے جاتے رہے کہ آپ جنرل پرویز مشرف سے سبق سیکھیں، ملک کے رہے سہے اڈے بھی امریکہ کے حوالے کر دیں، لوٹ مار سے آنکھیں بند کرلیں اور جنرل صاحب کی طرح اپنا بینک بیلنس بڑھاتے رہیں، مگر افسوس میاں نواز شریف ! آپ نے آصف زرداری اور پرویز مشرف سے کُچھ نہیں سیکھا۔
اگر آپ اس مُلک کو کِسی ڈکٹیٹر یا وڈیرے کی طرح چلاتے رہتے تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا، اگر آپ نائٹ کلبوں کے میٹرک فیل مینیجروں کو قومی اداروں کے سربراہ لگاتے تو بھی ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا، اگر آپ حاجیوں تک سے کمیشن نچوڑ لیتے تو ہم یہ آپ کا حق سمجھ کر خاموش رہتے اور کوئی اعتراض نہ کرتے، اگر آپ کسی بھارتی سیٹھ کے منشی کو ملک کا وزیر خزانہ اور وزیر اعظم لگواتے تو نہر والی حویلی کے اس ڈیڑھ کمرے والے کباڑخانے کی قسم ہم خوش ہوتے، مگر آپ نے جو اِس مُلک کو ایک خوشحال اور ترقی یافتہ مُلک بنانے کی کوششیں شروع کی ہوئی ہیں وہ ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔
آپ کو کِس بزرجمہر نے مشورہ دِیا تھا کہ بجلی کے اتنے منصوبوں پر کام شروع کر وادیں ،جبکہ پچھلے پندرہ سالوں سے ڈکٹیٹر اور وڈیرے نے اِس قوم کو اسکی اوقات پر رکھا ہُوا تھا۔ آپ کو کِس نے کہا تھا کہ لاکھوں غریب طالبعلموں میں لیپ ٹاپ مفت تقسیم کردیں اور ہزاروں لوگوں کو ییلو کیب اور ٹریکٹر فراہم کردیں۔ لاکھوں نوجوانوں میں خود روزگار اسکیم کے تحت لاکھوں روپوں کے قرضے تقسیم کردیں۔ آپ اس قوم کا دماغ خراب کرنا چاہتے ہیں۔
کیا آپ نہیں جانتے کہ اِس اسلامی جمہوریہ کی حکومتوں کا دستور لوگوں کی جیبوں سے پیسے نِکلوانا ہوتا ہے ، دینا نہیں۔ صدیوں سے اپنے حال میں مست قوم کو آپ میٹرو بسوں اور میٹرو ٹرینوں کی عیاشی کروانا چاہتے ہیں؟ کس نے آپ سے کہا تھا کہ لاہور، پنڈی اسلام آبا، ملتان اور کراچی میں میٹرو بسیں اور اورنج ٹرین چلوادیں۔ کچی پکی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے مسافروں کو آپ موٹر ویز، ہائی ویز ، فلائی اوورز اور انڈر پاسز کی لت لگانا چاہتے ہیں۔
علاج کے لئے سسکتے مریضوں کو آپ مفت ڈائیلسس کی سہولت دیتے ہیں۔ دِ ل کے امراض کے علاج کے لئے آپ عالمی معیار کے ہسپتال قائم کرنے کی غلطی کرتے ہیں۔مظفر گڑھ جیسے پسماندہ ضلع میں عالمی معیار کا ہسپتال قائم کرواتے ہیں۔ کم آمدنی والے افراد کے لئے آشیانہ ہاوسنگ جیسا جرم کرتے ہیں۔ غریب یتیم بچوں کے لئے اعلیٰ معیار کے دانش اسکول بنانے جیسا بھیانک جُرم کرتے ہیں۔ آخر ہر قابل ذکر شہر میں یونیورسٹیاں ، میڈیکل کالج اور نئے ہسپتال بنانے کی کیا ضرورت تھی۔
اور یہ جو برسوں کے بعد ٹرینیں نہ صرف وقت پر اپنی منزل پر پہنچنا شروع ہوگئی ہیں بلکہ ریلوے نے کمانا بھی شروع کر دیا ہے، کیا یہ اس مُلک میں ایک جُرم سے کم ہے؟ مُلک میں ریکارڈ بیرونی سر مایہ کاری، مُلک کے جی ڈی پی میں پچھلے سالوں کے مقابلے میں تقریباّ دُگنا اضافہ، مُلک میں ریکارڈ ترسیل زر، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور روپے کی قیمت پر کنٹرول جیسے جرائم تو عالمی عدالت میں بھی نا قابلِ معافی ہیں۔
چین، ترکی اور سعودی عرب جیسے دوست ملکوں کو اتنی لفٹ کر وانا اور اُن سے مُلک میں بھاری سرمایہ کاری کروانا اور ایران سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کرنا ، گھناوٴنے جرائم۔ اورکیا یہ جُرم نہیں کہ؟ آپ نے مزدور کی اجرت میں اضافہ کر کے اُس کا دماغ آسمان پر پہنچانے کی کوشش کی۔ اور یہ جو صوبوں کے معاملات میں مداخلت جیسا بھیانک جُرم آپ کے بھائی کر رہے ہیں ، دوسرے صوبوں کے پوزیشن ہولڈر طلباء کو پنجاب میں مدعو کرنا، گارڈ آف آنر دِلوانا اور پھر ان طلبا ء کو یورپ کے مطلعاتی دوروں پر بھجوا نا۔
کیا یہ صوبائی خود مختاری میں کُھلی مداخلت نہیں؟ اور سب سے بڑے صوبے کی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائز ڈ کر کے پٹواریوں کی روزی پر لات مارنا ؟ پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر تمام صوبوں سے زیادہ عمل کروانا۔نواز شریف! آپ کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے۔ پہلے بھی آپ دو بار اپنے جرائم کی سزا بھگت چُکے ہیں ۔ آپ نے ماضی میں اس مُلک کو ایٹمی طاقت بنانے کا عظیم جُرم کیا۔ آپ نے اس مُلک کو وسطی ایشیائی ریاستوں سے مِلانے کا خواب دیکھا۔
آپ نے گوادر بندر گاہ جیسی مہان غلطی کی۔آپ نے جناح ٹرمینل اور علامہ اقبال ایرپورٹ جیسے منصوبوں کا آغاز کیا۔ آپ نے اِس ملک میں فائبر آپٹک ، اے ٹی ایم اور موبائل ٹیکنالوجی لانے جیسے جرائم کئے۔ آپ نے اکانومی کی لبرالائزیشن کا جُرم کِیا۔ آپ نے گرین چینل کی سہولت فراہم کرنے کا جرم کِیا ۔ آپ نے چنگی ناکوں کے نام پر قائم بھتہ خوری کے مراکز بند کرنے کا جُرم کِیا۔ آپ کا ہاریوں کو زمینوں کی فراہمی کا جرم تو کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔
میا ں صاحب! آپ کے ایسے ہی سنگین جرائم کی وجہ سے ہم نے کبھی دو سال تو کبھی ڈھائی سال میں آپ کی حکومت کا خاتمہ کیا ، لیکن اِس بار آپ کے جرائم بہت سنگین ہو چُکے ہیں، اِس ملک کو اندھیروں سے نکالنے کے منصوبے لگانا اور چین سے بیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لانا ، ناقابلِ برداشت ہیں۔ اگر آپ کو پانچ سال پورے مِل گئے تو آپ اپنے شروع کئے گئے منصوبے مکمل کر کے اِس ملک کے عوام کا دماغ مزید خراب کر دیں گے۔اور وڈیرے، کھلاڑی اور مداری آئندہ الیکشن میں بھی مُنہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ ہم پہلے ہی اس بات کو سمجھ چُکے ہیں ، اسی لئے کبھی ہم آپ کو ہٹانے کے لئے سجاد علی شاہ اور غلام اسحاق خان جیسے گوہر نایاب ڈھونڈتے ہیں اور کبھی کوئی کمانڈو خود ہی بروئے کار آتا ہے۔ اب کے کھلاڑی اور مداری کٹھ پتلیوں کی طرح تماشہ دکھا رہے ہیں۔ چکر یہی ہے جو واضح ہو رہا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہد سدھو کے پیر مئی کے مزید کالم