سیکولرزم کی بحث، چند سوالات !قسط نمبر۔3

جمعہ مئی    |    محمد عرفان ندیم

ہم مسلمان ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات پر پختہ یقین رکھتے ہیں ۔ اللہ اور اس کے رسول پرایمان لانے کا تقاضا ہے کہ ہم خود کو اللہ اور اس کے رسول کے سپر د کردیں، اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے سامنے ہماری کوئی مرضی نہ رہے۔ہم سرا پا اطاعت بن جائیں۔اللہ ہماراخالق اور پالنہار ہے۔ وہ حق رکھتا ہے کہ جیسے چاہے اپنے بندوں پر احکامات جاری کرے۔بعض کاموں کا حکم دے اور بعض کاموں سے روک دے اور بندے کا کام یہ ہے کہ وہ بندہ ہونے کے ناطے اپنے خالق ومالک کے احکامات کو من و عن قبول کرلے۔
اللہ کے احکامات کو بلا سوچے سمجھے قبول کرنے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ احکام عقل ورضاکے خلاف ہیں بلکہ یہ عقل اور فطرت کا تقا ضا ہے۔عقل ہی کے ذریعے ہم اپنے اللہ کو پہنچانتے ہیں اورعقل ہی کی بنیاد پر ہم اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ یہ کائنات خود بخود نہیں بنی بلکہ اسے بنانے والی کوئی ذات ہے۔

(خبر جاری ہے)

اور اس ذات نے اس کائنات کوبے مقصد پیدا نہیں کیا ۔وہ رب کائنات کو بنانے اور انسان کی تخلیق کو اپنی عبادت اور بندگی سے منسوب کرتا ہے، ہم نے عقل ہی کی بنیاد پر ان حقیقتوں کو جاناہے۔

اللہ اوراس کے رسول کو جاننے اور مان لینے کے بعدہمارا عقیدہ ہے کہ تمام غیبی اموار کا ادراک انسانی عقل سے ماوراء ہے اور اس کے لیے انسان وحی کا محتاج ہے،انسان صرف ظاہری آنکھ سے ہی دیکھ سکتا ہے اور انسان ادراک صرف محسوسات تک محدود ہے،امور غیبی کے ادراک کے لیے انسانی عقل محدود ہے اور بلاشبہ اس کے لیئے وہ و حی کی محتاج لیکن اس سے یہ مغا لطہ ہر گز نہیں ہونا چاہے کہ شریعت کے دائرے میں عقل کی کوئی حیثیت نہیں یا شرعی احکام ومسائل میں عقل ایک خاموش تماشائی ہے۔
نہیں ایسی بات ہر گز نہیں بلکہ شرعی احکام کی اصل مخاطب تو ہے ہی عقل ،عقل تمام احکام شرعیہ کی اصل مخاطب ہے اور ایک پاگل مخبوط الحواس اور عقل سے عاری انسان پر تو احکام شرعیہ نافذ ہی نہیں ہوتے ،عقل ہی ان احکام کو سمجھتی ہے اور عقل ہی کی بنیاد پر کسی مسلمان کو احکام شرعیہ کا پابند بنایا جاسکتا ہے۔شریعت کے کچھ احکام قطعی نوعیت کے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو قطعی نوعیت کے نہیں ہیں۔ان میں مشا بہت کی بنیاد پرایک سے زائد معنی کا احتمال ہوتا ہے اس لیے ان میں اجتہادو قیاس کی گنجائش موجودہ ہوتی ہے۔
علماء دین اپنے زمانے اور حالات کے تقا ضوں کے مطابق ان احکام میں اجتہادد کر کے ان کا کوئی منا سب اور ممکنہ حل تلاش کر سکتے ہیں۔اللہ اپنے بندو ں کے حق میں بڑارحم دل اور مہربان ہے۔اس نے ہر گز ایسا نہیں کیاکہ اپنے بندوں کو شرعی احکام کے زریعے مختلف پابندیوں میں جکڑدے بلکہ اللہ نے تو اس کے برعکس انسانی عقل کے لیے ایک وسیع میدان چھوڑدیا ہے کہ وہ اس میں غورو فکر کرکے اپنے لیے مناسب لائحہ عمل اور قابل عمل حل تجویز کر سکے۔
لیکن یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ ہر مسلمان کو اجتہاد ی میدان میں زورآزمانے کی ا جازت نہیں کہ جو چاہے جیسے چاہے شرعی احکام کی صورت گری کرتا رہے،بلکہ اس کا حق صرف علماء اورمجتہدین کے پاس ہے اور وہی اس بات کے حقدار اور اس کے مجاز ہیں کہ وہ شرعی احکام میں غوروفکر کریں۔اپنی اجتہادی بصیرت کو کام میں لاتے ہوئے نئے اورجدید مسائل کاحل تجویز کر سکیں ۔علماء کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ اصول وضوابط کی روشنی میں عقل کا استعمال کریں اورنئے مسائل کے حل کے لیے ان قواعد کی حدود میں رہیں جو اللہ کی طرف سے نازل کیئے گئے ہیں۔
ان قواعد کی حد میں رہ کر اگر وہ کسی نئے مسئلے کے حل میں کوئی غلطی بھی کرتے ہیں تو اس کا بھی انہیں اجر وثواب دیا جائے گا۔
اب تک کی گفتگو سے اتنی بات واضح ہوچکی ہے کہ سیکولرزم کے علمبردار عامة المسلین کے موقف سے الگ موقف اپنائے ایک انتہا پر کھڑے ہیں ۔وہ اسلام کی تشریح اپنے مخصوص نکتہ نظر سے کرنا چاہتے ہیں اور وہ اسلام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں خواہ اس کے نتیجے میں دین کا ساراحلیہ ہی کیوں نہ بگڑ جائے۔
اس کے لیے انہیں معجزات کا انکار ہی کیوں نہ کرنا پڑے، ان کی کوشش ہے کہ وہ اسلامی احکام اور احکام شرعیہ کواپنی مرضی کے تا بع رکھیں۔جب چاہیں اور جیسے چا ہیں اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیں۔یہ حضرات مغربی اداروں میں پڑھے مستشرقین کے خوشہ چین ہیں اور انہی کی عینک سے اسلام کو دیکھتے ہیں۔انہیں اسلامی سزائیں ،حدود اور تعزیرا ت ظالمانہ قوانین دکھائی دیتے ہیں لیکن اگر ہسپتالوں پر بمباری کی جائے یا سکولوں میں مصوم بچوں کو اڑادیا جائے تو یہ ان کے نزدیک دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے ۔
یہ اپنی مرضی سے اسلامی احکام کی تعبیر و تشریح کرنا چاہتے ہیں ۔ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں اسلامی احکام میں تقدیم و تاخیر اور حذف واظہارکا پورا پورا اختیار ہونا چاہیے۔ یہ مذہب کو صرف جمعہ اور عید ین تک محدود کرنے کے خواہشمند ہیں،یہ خود تو مذہب کو کوئی حیثیت نہیں دیتے لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ ہر فرد کو مذہب کے بارے میں آذاد ہونا چاہیے۔ صحیح لفظوں میں یہ ہر مسلمان کو اپنے جیسانام نہادروشن خیال اور جدت پسند بنانا چاہیے ہیں۔
ان سیکولرسٹوں کی خواہش ہے کہ مذہب کو وطن سے دیس نکالا دیا جائے۔ ان کی خواہش ہے کہ مسلم معاشروں میں بھی اسی طرح کی آزادی ہو جیسی آزادی کے مظاہرآج ہم امریکہ اور یورپ میں دیکھ رہے ہیں ،جہاں ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے اور جہاں خواہشات کی تکمیل سب سے بڑا مذہب گردانا جاتا ہے۔ خدارادین اسلام کو سمجھیں ،اگر آپ مسلمان ہیں تو کوئی مسلمانی والی بات کریں ۔دین اسلام کوئی ڈھکا چھپا دین نہیں اور نہ ہی یہ کوئی مغلق اور مشکل کتاب ہے ،یہ لفافے میں بند کوئی اجنبی چیز نہیں، یہ مغالطوں اور متشابہات پر مشتمل کوئی فلسفہ نہیں اور یہ کوئی ایسی ڈھکی چھی وعوت نہیں جس کے مفہوم سے لوگ آگاہ نہ ہوں ۔
یہ ایک واضح اور کھلی دعوت ہے ،اس کے احکامات ومسائل باالکل واضح اور دو ٹوک ہیں ۔اس کے احکام میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں کہ جس کا جو جی چاہیے وہ اس طرح اس کی تشریح کرتا پھرے۔ اس کے اصول و ضوابط مقرر شدہ ہیں اور احکام کے استنباط کے قواعد مرتب ہیں۔اس لیئے ہر ایرے غیرے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اس جولانگاہ میں اپنی خواہشات کے گھوڑے دوڑاتا پھرے۔ ،مذہب اسلام کی بنیادیں، اس کے مصادر و مراجع اور اس کا منبع باالکل واضح اور دو ٹوک ہے۔
اسلام کوئی عیسائیت جیسا مذہب نہیں کہ جس میں پوپ اور کلیساکو خدائی اختیارات حاصل ہوں۔یوپ اور پادری کی لغویات تشریعی احکام کا درجہ حاصل کر لیں اور پوپ کو شارح کی بجائے شارع کا درجہ دے دیا جائے۔
یہ ہیں ہم اور یہ ہیں ہمارے عقائد و نظریات ،اب آپ بھی واضح کردیں آپ کون ہیں ، کیا چاہتے ہیں ، آپ کے عقائد و نظریات کیا ہیں ، آپ اللہ اور رسول پر کس حد تک ایمان لاتے ہیں اور آپ مذہب کو اپنی زندگی میں کیا درجہ دیتے ہیں ،ہمارا مقدمہ واضح ہے آپ ان سولات کی روشنی میں اپنی پوزیشن واضح کریں اور کھل کر اپنا موٴقف بیان کریں۔اب یہ واضح ہو جانا چاہئے آپ مسلمان ہیں یا لادینیت پسند۔
پس تحریر : سیکولرزم کی اس بحث میں عالم عرب کے مشہور اسکالر ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے افکار و نظریات سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے جمعرات مئی کے مزید کالم