نواز شریف کو پھانسی دو مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

اتوار مئی    |    حافظ مزمل رحمان

آج کل پاکستان میں جہاں بھی لوگ مل کر بیٹھتے ہیں تو ان کا موضوع گفتگو سیاست ہوتاہے ۔ بلکہ یہاں تک کہ سکول سے لیکر یونیورسٹیوں کے طالب علم بھی سیاست میں بحث کرنے کو اپنا بہترین مشغلہ بنا رہے ہیں یہ بات جہاں تک خوش آئند ہے کہ لوگوں میں سیاسی شعور آ رہا ہے وہاں یہ کسی حد تک خطرناک بھی ہے کیونکہ آج کل کی سیاست میں برداشت نہیں ہے خاص طو ر پر نوجوانوں میں عدم برداشت کا عنصر جو تیزی سے پنپ رہا ہے و ہ کسی بھی طور پر قابل تحسین نہیں ہوسکتا۔
ہمارے ہاں سیاست صرف اس کو سمجھا گیا ہے کہ کسی طرح سے مدمقابل اور مخالف پارٹی کے امیدوار کو چپ کروانا ہے بلکہ اس سے اب بات بہت آگے نکل چکی ہے اب تو ہر ایک کی یہ ہی کوشش ہوتی ہے کہ کس طرح مخالف پارٹی کے امیدوار کو پاکستان مخالف یا غدار ثابت کر دیا جائے۔

(خبر جاری ہے)

اس کے لئے ہر طرح کے الزامات کا سہارا لیا جاتا ہے ان الزامات میں کتنی حقیقت ہوتی ہے یہ تو خدا جا نتا ہے مگر ایک بارکسی پر الزام لگ جائے تو اس کو اپنا دامن صاف ثابت کرنے کے لئے کیا کیا کرناپڑتا ہے اس سے اللہ ہی بچائے اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج کل سوشل میڈیا میں ایک جنگ کا سماں ہے ۔

سیاسی پارٹیوں کے ورکر مخالف پارٹی کے رہنماؤں کی تصویروں کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں اللہ کی پناہ! بلکہ کچھ تصاویر کو تو اس طرح سے تبدیل کرکے مختلف سوفٹ وےئر کے استعمال سے اس طرح بنا دیا جاتا ہے کہ ان کو ایک مہذب معاشرے میں بیان کرنا بھی دشوار لگتا ہے ۔ اور اگر آپ کسی موقف کی تائید یا مخالفت میں کچھ کہہ دیں تو آپ بس سمجھ لیں کے گالیوں کی وہ بارش آپ پر برسادی جائیگی کہ آپ کے تصور سے بھی بالاتر ہوگی۔
ان حالات کو تو دیکھ کر لگتا ہے کہ سیاسی ورکروں کو پاکستان سے زیادہ پارٹی کی پرواہ ہے ۔ اور یہ سوچ کہ ہماری پارٹی کی پالیسی تو کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتی اور جو کوئی بھی ہماری مخالفت کرے گا وہ پاکستان مخالف ہو گا یا غدار ہوگا بہرحال موجودہ صورت حال میں ہر طرف سے الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے ۔ نواز شریف کے بیٹوں کے نام آف شور کمپنی بنانے والوں میں آیا ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں اک کہرام مچا ہوا ہے اور دوسری طرف علیم خان کا نام بھی اسی لسٹ میں موجود ہے اور عمران خان صاحب اس پر کوئی بات نہیں کرتے بلکہ علیم خان صاحب کی کمپنیوں کو جائز سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے بعض تجربہ کار عمران خان صاحب پر بھی تنقید کر رہے ہیں ۔
لیکن یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عمران خان صاحب پربھی اسی طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں کہ خان صاحب 300کینال کے گھر میں رہتے ہیں جبکہ یہ گھر میں اکیلے رہتے ہیں اور دوسری طرف نواز شریف کے رائیونڈ محل کی یہ دلیل دی جاتی ہے شریف خاندان وہاں ایک ساتھ اکٹھا رہتا ہے شریف خاندان کا تو کاروبار ہے اور وہ اتنے بڑے گھر کا خرچہ چلاتے ہیں ۔جبکہ خان صاحب کا کوئی کاروبارنہیں ہے اور قومی اسمبلی کی تنخواہ سے یہ شاہد بنی گالہ کا کچن بھی نہ چل سکے ۔
تو اس طرح شاہانہ طرز زندگی کیسے گزاری جا رہی ہے اس کا جواب تحریک انصاف کے لوگوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تحریک انصاف کے لوگ عمران خان کی ذات پر بات کرنے کو تیار نہیں ہوتے اگر آپ کوئی بات کرے تو اس کی تواضع گالیوں سے کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ جہانگیر ترین کے ذات پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ ان کے اثاثے بھی جائز طریقے سے نہیں بنائے گئے۔اور اب تو جہانگیر ترین نے اپنے بیٹوں کے نام پر آف شور کمپنیوں کا بھی اعتراف کر لیا ہے ۔
مگر عمران خان صاحب اس پر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔جیسے ترین صاحب کے بچوں کے نام کمپنیاں ہیں اُسی طرح نوازشریف کے بھی بچوں کے نام کمپنیا ں ہیں ۔
بہرحال ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے کوئی اس پر بحث نہیں کی جاتی ۔کیا پانامہ لیکس ہی صرف آخر ہے اس سے پہلے وکی لیکس کا بھی ۔۔۔بار شور اٹھا تھا لیکن آج کسی کو وکی لیکس کا نام بھی یاد نہیں ہے ۔ یہاں ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ اس پانامہ لیکس میں امریکہ اور اسرائیل کے بااثر لوگوں کے نام کیوں نہیں ہیں جو کہ ان الزامات کو مشکوک بنا رہے ہیں ۔

بہرحال جو بھی ہے یہ سب” الزامات “ میں صرف الزامات اور صرف الزام کی بنیاد پر کسی کی پگڑی اچھالنا کسی مہذہب معاشرے کی پہچا ن نہیں ہے چاہے وہ الزام نواز شریف پر ہو یا عمران خان پر۔
مگر پھر بھی اگر آپ بضد ہے کہ یہ سب سچ ہے جیسا کہ میرے بہت سے قابل احترام صحافی اپنے کالم میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یوں پہلے کہ فیصلہ دے چکے ہیں تو اس کا یہ حل ہے کہ نواز شریف کو بھانسی سے دے دینی چاہیے۔
اس کے بعد عمران خان کی حکومت بنے اور کوئی بھی الزام لگا دے تو خان صاحب کو بھی بھانسی پر لٹکا یا جائے اس کے بعد جوبھی حکومت بنے اس کے ساتھ بھی یہ ہی ہو۔ کیونکہ پر حکومت کی ایک اپوزیشن ضرور ہوگی اور ان پھانسیوں کے فیصلے پر دستخط جناب جسٹس حسن نثار صاحب ،جناب جسٹس سلیم صافی صاحب ، جناب جسٹس رؤف کلاسرا صاحب ، جناب جسٹس نذیر ناجی صاحب اور بھی وہ سب لوگو جو اپنا فیصلہ دے چکے ہیں مگر میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا رہا تو آخر میں بچے گا کون ؟ ایسا کون ہوگا جس پر کوئی الزام نہ لگا یا جا سکے چاہے وہ الزام ۔۔سیاسی اور پوائنٹ سکورنگ کیلئے ہی کیوں نہ ہو۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ مزمل رحمان کے اتوار مئی کے مزید کالم