بے غیرت کون!

اتوار مئی    |    نبی بیگ یونس

"بے غیرت آدمی تم میری تلاشی نہیں لے سکتے ہو، تم مجھے جانتے نہیں"یہ الفاظ تھے سابق چیئرمین سینیٹ نیئر بخاری کے جب سول کپڑوں میں ملبوس ایک پولیس اہلکار نے اُسکی تلاشی لینا چاہی۔ پولیس اہلکار ریاض ایف ایٹ کچہری کے مرکزی گیٹ پر فرائض انجام دے رہا تھا تو اندر آنے والوں میں نیئربخاری بھی تھا۔ یہ وہی کچہری ہے جہاں پہلے دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوا ہے اور متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔
اُس وقت بھی سیکورٹی پر انگلیاں اٹھائی گئی تھیں۔ اگر نیئر بخاری جیسے لوگ تلاشی لینے پر پولیس اہلکار کو گالیاں دیں اور تشدد کا نشانہ بنائیں تو سیکیورٹی کیسے بہتر بنے گی۔ نیئر بخاری نے اس معاملے میں جھوٹ پر جھوٹ بولا۔ پہلے کہا کہ اُسکے سیکورٹی گارڈ نے پولیس اہلکار کو دھکا دیا اور خود اس نے کچھ نہیں کہا، لیکن جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے، ویسے بھی سائنس کے دورجدید میں جب کوئی چیز چھپانا مشکل ہی نہیں ناممکن بن چکا ہے تو ایک آدمی کا جھوٹ آسانی سے پکرا جاتا ہے۔

(خبر جاری ہے)

چند گھنٹوں میں ہی نیئر بخاری کے جھوٹ کا پول کھل گیا اور پتہ چلا کہ پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے والا کوئی اور نہیں بلکہ نیئربخاری کا بیٹا اجرار بخاری تھا۔ اگلے ہی روز سی سی کیمرے کی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی جو ہر ٹیلی وژن چینل پر پوری قوم نے دیکھی۔ فوٹیج میں واضح نظر آیا کہ قانون کا علم رکھنے والانیئر بخاری جو قانون ساز ادارے سینیٹ کا چیئر مین رہاہے نے پولیس اہلکار کو دھکا دیا اِس کے ساتھ ہی پیچھے سے موصوف کابیٹا بھاگتا ہوا آیا اور پولیس اہلکار کو زور دار تھپڑ رسید کیا۔

کیا یہ لوگ کوئی آسمانی مخلوق ہیں، یہ سوپر نیچرل ہیں؟ کوئی سیاستدان ہو، جنرل ہو، جج ہو، صحافی ہو یا کچھ اور قانون سب کیلئے یکساں ہوتا ہے۔ کہنے تو پاکستان میں بھی قانون سب کیلئے ایک جیسا ہے لیکن قانون پر عمل در آمد نہیں ہے۔ اگر نیئر بخاری والا کام کسی غریب آدمی نے کیا ہوتا تو نہ جانے کتنے سال کیلئے جیل چلا جاتا، لیکن یہ غیرقانونی کام کرنے والا پیپلز پارٹی کا جیالا اور سیاستدان نیئر بخاری تھا جس نے نہ صرف ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ پر جھوٹ بولا، بلکہ اپنے کئے پر کوئی ندامت بھی ظاہر نہیں کہ اور وآسانی کے ساتھ ضمانت بھی کرادی۔

جس ملک میں انصاف نہ ہو اور سب کیلئے حقوق مساوی نہ ہو وہ ملک اور معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا ۔ پاکستان میں چند ہزار روپے کا بجلی بل دیر سے ادا کرنے والے غریب لوگوں کا میٹر کاٹ دیا جاتا ہے لیکن جو طاقتور لوگ بل ہی نہیں دیتے انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، اشارہ توڑنے والے ایک ڈرائیور کا چالان کیا جاتا ہے لیکن رات دن قانون کی دھجیاں بکھیرنے والوں کو تحفظ فراہم کیاجاتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف دومرتبہ آئین اور قانون توڑ کر سنگین غداری کا مرتکب ہوا لیکن اسے 89 روز تک اے ایف آئی یو میں تحفظ دیا گیا، سنگین غداری کے مرتکب شخص کیلئے قانون میں سزائے موت ہے لیکن اس صورت میں کیا ہو گاجب افراد قانون و آئین سے بالاتر ہوں۔
یہاں تو آئین توڑنے والوں کو گارڈ آف آنر دیکر پرتپاک طریقے سے رخصت بھی کیا جاتا ہے اور انہیں بیرون ملک رسائی بھی دی جاتی جبکہ عدالتوں میں انکے خلاف کئی مقدمات زیر التویٰ ہوتے ہیں۔
نیب میں کرپشن کے 179میگا اسکینڈل ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، اس ملک میں بیس سال قبل موٹر سائیکل رکھنے والوں کے پاس آج طیارے ہیں اور وہ کھربوں روپے کے مالک ہیں، یہی لوگ عام لوگوں کو بے غیرت کہتے ہیں، عام لوگوں کا خون نچوڑ کر یہ لوگ دنیا کے بادشاہ بن گئے۔ بے غیرت کون اور غیرت مند کون یہ سب کو معلوم ہے !
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

نبی بیگ یونس کے اتوار مئی کے مزید کالم