سانحہ ایبٹ آباد ظلم کی آخری حد

منگل مئی    |    عمر خان جوزوی

ایسا کرنا تو دور کوئی انسان ایسا توسوچ بھی نہیں سکتا۔۔ کیسے کوئی انسان کسی ذی روح کو آگ لگا کر زندہ جلا سکتا ہے۔۔؟ سولہ سالہ عنبرین جس نے غربت، تنگدستی، بھوک و افلاس کے سوا کچھ دیکھا ہی نہیں تھا اس کو فقیر، حقیر اور بے سہارا سمجھ کر آگ کے شعلوں میں ڈالنا ظلم نہیں ظلم عظیم ہے۔ جن لوگوں نے یہ کام کیا ان کو انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے۔ کوئی انسان ایسا ظلم نہیں کر سکتا۔ عنبرین کو زندہ جلانے والے انسان نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ کے قرآن نے جانوروں سے بھی بدتر کہا ہے۔
واقعی یہ لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جو کام انہوں نے کیا ایسا توکسی جانورنے بھی نہیں کیا ہوگا۔ عنبرین کی راکھ بنی نعش جب ایک نظر دیکھی میری تو نیندیں ہی حرام ہو گئیں۔

(خبر جاری ہے)

اپنا تو یہ حال ہے کہ جب کوئی مرغی بھی ذبح کررہا ہو تو ہم رخ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں کہ کہیں دل کی دھڑکنیں تیز نہ ہوں۔ معلوم نہیں یہ لوگ کس چیز کے بنے ہوئے ہیں کہ جو مرغی نہیں انسانوں کو ذبح کرکے جلاتے ہیں پھربھی زندہ رہتے ہیں۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ عنبرین کو پسند کی شادی کرنے والی صائمہ کے گھر اور علاقے سے باغی ہونے کی سزا دی گئی۔ اول بات یہ ہے کہ لو میرج یا کورٹ میرج کوئی جرم نہیں۔ یہ حقیقت کہ لڑکی کی شادی و نکاح کیلئے ولی کی اجازت لازمی مگر ساتھ لڑکی کی رضا بھی تو لازمی ہے۔ایسے میں اگرایک لڑکی نے اپنی رضااور پسندسے شادی کرہی لی تواس سے کیاہوا۔۔؟ آسمان سرپراٹھانے یاگھروں کے گھراجاڑنے کی بجائے ولی کوبھی رضاکی صورت اختیارکرلینی چاہئے کیونکہ ایک لڑکی اگر کسی جگہ شادی یا کسی سے نکاح پر راضی نہیں تو زبردستی تو اس کا نکاح بھی نہیں کیا جاسکتا۔
اس حقیقت سے ہٹ کر اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ لو میرج اور کورٹ میرج ناقابل معافی جرم ہے تو پھر بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صائمہ کی پسند کی شادی یا گھر سے بھاگنے میں قصور وار کون ہے ۔۔؟ وہ لوگ جنہوں نے صائمہ کی پسند کی شادی کو ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے سہولت کاری کے شبے میں عنبرین کو زندہ جلایا۔ انہوں نے اپنی صائمہ کی تربیت ایسی کیوں نہیں کی کہ لو میرج اور کورٹ میرج کی نوبت ہی نہ آتی۔
صائمہ کی پرورش اور تربیت آگ میں جلنے والی عنبرین نے نہیں بلکہ ان ظالموں کی تھی جو آج صائمہ کی شادی کو جرم سمجھ رہے ہیں۔ بے کار درخت کو جڑ سے کاٹنے کی بجائے اس کی شاخوں کو تراشنا جس طرح عقلمندی نہیں اسی طرح اس معاملے میں اپنے آپ کو آگ لگانے اور زندہ درگور کرنے کی بجائے ایک غریب اور مظلوم لڑکی کو نشانہ بنانا بھی قرین انصاف نہیں۔ بچے ایک ساتھ اٹھتے بھی ہیں۔ ۔۔کھیلتے بھی ہیں۔۔۔ ماضی۔۔۔حال اور مستقبل کے حوالے سے باتیں بھی کرتے ہیں۔
پھر ایک چھت کے سائے تلے سکول میں پڑھنے والوں کا تو رشتہ ہی نرالہ ہوتا ہے۔ ایک ساتھ کتاب پڑھنے والے پھر اجنبی نہیں رہتے۔۔ ان کا آپس میں ایسا تعلق بنتا ہے کہ جس کی گہرائی پھر بھائی اور بہن کے رشتے سے بھی کم نہیں ہوتی۔ صائمہ اگر عنبرین یا عنبرین اگر صائمہ کی بہن جیسی بن گئی تھیں تو اس میں عنبرین کا کیا قصور ۔۔؟ صائمہ کا اگر عنبرین کے ساتھ دل کا رشتہ تھا تو اس میں برائی اور جرم کیا ۔۔؟ کیا محض دلی لگاؤ اور تعلق کی بناء پر کسی کو کسی اور کے ناکردہ گناہوں کی اتنی بڑی سزا دی جا سکتی ہے ۔
۔؟ رات کی تاریکی میں معصوم اور مظلوم عنبرین کو زندہ جلاتے ہوئے ان ظالموں کو اپنی ماؤں۔۔ بہنوں اور بیٹیوں کا بھی ذرہ خیال نہیں آیا۔۔؟ ایک غریب لڑکی کو آگ میں ڈالتے ہوئے ان کے دل ذرہ بھی نہیں دھڑکے نہ ان کے ظالم ہاتھ ایک لمحے کیلئے لرزے۔۔؟ موت کو سامنے دیکھتے ہوئے عنبرین نے تو ان ظالموں کو اللہ اور اس کے پیارے رسولﷺ کے بہت واسطے دئیے ہوں گے۔۔ان ظالموں کو ان کی ماؤں۔۔۔ بہنوں اور بیٹیوں کے سر کی قسمیں دے کر جان کی امان مانگی ہوگی۔
۔ وہ تو اس وقت بہت روئی اور بہت چلائی ہوگی۔ اسی وجہ سے تو جائے وقوعہ کے قرب و جوار میں رہنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے رات کے آخری پہر بچاؤ بچاؤ کی آوازیں سنیں ۔۔ آگ کے شعلوں میں جلتے ہوئے اس وقت تو وہ درد و تکلیف اور آگ کی تپش سے چیخ اٹھی ہوگی ۔۔ لیکن پھر بھی ان ظالموں کو اس پر ذرہ بھی ترس نہیں آیا۔ اور ترس آتا بھی کیسے۔۔؟ قرآن نے جو ان کو جانوروں سے بھی بدتر کہا ہے۔۔ جانوروں کا تو کوئی دل نہیں ہوتا پھر ان کو ترس کیسے آئے گا ۔
۔؟اللہ کی لاٹھی واقعی بے آوازاورظلم واقعی چھپتانہیں ۔ظالموں نے جس بے دردی اورجس طریقے سے عنبرین کوموت کے گھاٹ اتارکرظلم کوکالے کپڑے میں لپیٹ دیاتھاان ظالموں کوکیاکسی اورکے وہم وگمان میں بھی نہیں تھاکہ ظالم اتنی جلدی بے آبروہوجائیں گے۔۔لیکن قدرت نے دنیاکوایک بارپھردکھادیاکہ ظالم چاہے کتنے ہی بااثر اورظلم کتنے ہی خفیہ طریقے اورمنصوبے سے کیوں نہ کیاگیاہویہ دنیاپرعیاں ہوکرہی رہتاہے۔
معصوم لڑکی کوجلاناکوئی معمولی بات اورواقعہ نہیں کہ اس کوفراموش کردیاجائے۔ظالم شکنجے میں آچکے۔ انہوں نے جوکچھ کیااب اس کی سزاان کوضروربھگتنی ہوگی۔اس کے ساتھ ہمیں بھی اپنی ذمہ داریوں کااحساس کرناہوگا۔سانحہ مکول جہاں وقت کے حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے وہیں اس واقعے سے ہماری اپنی آنکھیں بھی کھلنی چاہئیں ۔ایک لڑکی کوسوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس طرح بیدردی سے موت کے گھاٹ اتاراگیااوراس کے خلاف کسی نے کوئی آوازبھی نہیں اٹھائی ۔
کیامکول میں کوئی ایک شخص بھی ایسانہیں جس کے سینے میں دل اورمنہ میں حق کی زبان ہو۔۔؟کیاہم آج اتنے بے حس ہوچکے کہ ظلم کواپنی آنکھوں سے دیکھتے اورکانوں سے سنتے ہوئے بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔جس ملک اورمعاشرے کے لوگ زندہ ہوتے ہوئے بھی جب بے جان بن جائیں توپھراس ملک اورمعاشرے کوکوئی تباہی سے نہیں بچاسکتا۔سانحہ مکول پرآنسوبہانے والوں کواپنی گریبان میں بھی جھانکناچاہئے۔سانحہ مکول کوبرپاکرنے والے ظالم اگربہت بااثراوران کوظلم سے روکناکسی کے لئے ممکن نہیں بھی تھاتوکیااس ظلم کے خلاف آوازاٹھانے کی بھی کسی میں ہمت نہیں تھی۔
۔؟کیااس ظلم پرمکول کے کسی شخص کادل نہیں دھڑکا۔۔؟کیامکول کے کسی انسان کے اندرسے یہ آوازنہیں آئی کہ وہ اس ظلم کے خلاف آوازاٹھائے۔۔؟ایک علاقے میں اتنابڑاظلم ۔۔اتنابڑاسانحہ اورواقعہ رونماہونے کے باوجوداس علاقے کے درودیواراورانسانوں کاجگہ سے نہ ہلناانسانیت کے منہ پرطمانچہ ہے ۔ایسے ہی لوگوں کے بارے میں توشاعرنے کہاہے کہ۔۔۔۔ دنیامیں قتیل اس سامنافق کوئی نہیں ۔۔۔۔جوظلم توسہتاہے بغاوت نہیں کرتا۔
۔جولوگ ظلم سہنے کے عادی بن جاتے ہیں وہاں پھرایسے سانحات اورواقعات کورونماہونے سے کوئی نہیں بچاسکتا۔ظلم بھی تب بڑھتاہے جب انسان اندرسے کھوکھلاہوجاتاہے ۔جہاں ظلم کے خلاف آوازاٹھانے والے کوئی نہ ہوں وہاں پھرانسانوں کویاتوزندہ جلادیاجاتاہے یاپھرزندہ درگورکیاجاتاہے ۔ویسے بھی بقول شاعر۔۔۔۔قتل کی رسم پرانی ہوچکی فراز۔۔۔۔اب تومیرے شہرکے لوگ انسانوں کوزندہ جلاتے ہیں ۔اللہ ہماری حالت پررحم فرمائے۔۔۔امین
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

ایبٹ آباد

عمر خان جوزوی کے پیر مئی کے مزید کالم



متعلقہ کالم