بیڈ نمبر ایک کا مریض

ہفتہ مئی    |    انوار ایوب راجہ

انسانی زندگی کا آغاز ایک نمبر سے ہوتا ہے اور وہ حتمی طور پر ایک نمبر بن کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے ۔پیدائش کے وقت والدین کے لیے اولاد میں آپ کا نمبر ، پولیو کے قطرے پینے سے لیکر حفاظتی ٹیکوں کی تکمیل تک ایک نمبر، سکول ، کالج اور یونیورسٹی میں آپ کا سٹوڈنٹ نمبر ، حکومتی ریکارڈ میں آپ کا شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کانمبر ، نوکری حاصل کرنے کے لیے ڈومیسائل نمبر اور پھر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی ایک موبائل نمبر ، ایک بینک اکاونٹ نمبر ، نوکری ملتے ہی پے رول نمبر ، پھر کسی ہونے والی بیوی کا نمبر ، تمام سستی دوکانوں کا نمبر ، شادی کے وقت سستے ترین مولوی کا نمبر ، نکاح نامے کا نمبر ، بیگم کی فرمائش پر الگ مکان یا گھر کا حصول اور اس کا نمبر پھر گھر میں پیدا ہونے والے بچوں کا نمبر ، بل جمع کروانے کے لیے بینک میں ٹوکن نمبر ، بچوں کی تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم ، ان کی شادیوں اور دیگر اخراجات سے فراغت کے بعد حج یا عمرے کی درخواست کانمبر ۔

(خبر جاری ہے)


حتمی نمبرات میں اولین نمبر کسی ڈاکٹر یا کلینک کا دوئم کسی ایسے دوست کا کہ جس سے آپ انتہائی مجبوری میں دل کا حال کہہ سکیں اور پھر کہانی کا اختتامی نمبر اس ہسپتال کا بیڈ نمبر جہاں کہانی کا آخری باب لکھا جاتا ہے ۔میں پچھلے ایک ہفتے سے وارڈ نمبر پانچ کے کمرہ نمبر دو کے چھ مریضوں میں سے ایک ہوں مگر یہ کہانی میری نہیں ، بیڈ نمبر ایک کے مریض کی ہے ۔
مجھے جب وارڈ پر لایا گیا تو میرا درد کے مارے برا حال تھا ، درد کش ادوایات سے بھی کچھ افاقہ نہ ہوا۔
میں سخت تکلیف میں تھا مجھے بس اتنا علم تھا کہ میں ہسپتال میں ہوں اور میرے آس پاس کچھ لوگ ہیں مگر حقیقت میں میری جنگ درد کے ساتھ تھی ، درد حاوی تھا اور میں اس کے زیر اثر جبکہ سامنے والے بیڈ کا مریض خراٹے مار رہا تھا ۔مجھے درد کی شدت کے ساتھ ساتھ اس لاپرواہ شخص کی لابالی نیند اور خراٹوں پر غصہ آ رہا تھا ۔
رات بھر میں سو نہیں پایا ، وارڈ میں بہت کم روشنی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد کوئی نہ کوئی نرس کمرے میں آتی اور کسی نہ کسی مریض کو دوا دے کر چلی جاتی ۔
دو بار مجھے بھی درد کش دوا دی گئی مگر درد کی شدت میں کچھ کمی نہ آئی ۔ بیڈ نمبر ایک کے مریض کے خراٹے ، میرا درد اور وارڈ کی تاریکی ، عجیب ماحول تھا۔ رات عذاب میں گزری اور صبح صادق سے کچھ دیر پہلے میں درد کی شدت سے نڈھال بے ہوش ہو گیا ۔میری آنکھ کھلی تو مجھے ٹیکہ لگایا جا رہا تھا اور اور میرے کپڑے اتارے جا رہے تھے کیونکہ اب درد کے ساتھ ساتھ میں بخار میں بھی مبتلا تھا اور ایسے لگتا تھا کہ میں کچھ دیر میں پگل جاوٴں گا ۔
بیڈ نمبر ایک کا مریض ابھی بھی خراٹے لے رہا تھا اور مزے سے سو رہا تھا اور میں تمام توانائی تمام قوت کھو چکا تھا ۔تھکن، کمزوری، ناتوانی ، درد اور بخار ایک طرف اور دوسری طرف بیڈ نمبر ایک کے مریض کے خراٹے ایک بے فکر شخص کے خراٹے جو لگتا تھا کسی باغ میں درخت کے نیچے لمبی تانے سو رہا ہے ۔
ڈکٹر آیا ، اس نے مجھے چیک کیا ، نرس سے دوائی بدلنے کو کہا اور مجھے آپرشن کے لیے تیارہونے کو ۔میرے جسم پر جو تھوڑے کپڑے تھے انہی پر ایک سفید گاوٴن پہنایا گیا جبکہ دوائی کی تبدیلی سے میرے درد میں کچھ کمی آئی ۔
میں نے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوا تو ساتھ والی بیڈ کے مریض نے میرے ہاتھ میں بیڈ کا ریموٹ کنٹرول تھمایا اور سمجھایا کہ اٹھنے کے بجائے اس کا استعمال کرو۔میں نے اپنے بیڈ کو پشت کی جانب سے بلند کیا اور تھوڑا اٹھ بیٹھا ۔اس کمرے میں چھ بیڈ تھے ۔بیڈ نمبر دو پر پیٹر تھا جو ایک ریٹایرڈ سیلز منیجر تھا ، بیڈ نمبر تین پر راجیش تھا وہ کسی پارسل کمپنی کا ڈرائیور تھا ، بیڈ نمبر چار پر مارک تھا جو ایک لاری ڈرائیور تھا اور اب افریقہ میں ایک کامیاب کاروبار کا مالک تھا مارک کی آٹھ بیٹیاں تھیں اور سب کی سب یہاں اس سے ملنے آتی تھیں ، بیڈ نمبر پانچ پر میرا قبضہ تھا اور بیڈ نمبر چھ کا مریض ڈسچارج ہو چکا تھا اور جب میری آنکھ کھلی تو وہ وارڈ سے جا چکا تھا ۔
میں بیڈ نمبر ایک کے مریض کے بارے میں جاننا چاہتا تھا ۔میں نے میز سے چشمہ اٹھایا اور بورڈ پر مریضوں کے نام پڑھنا شروع کر دیے ۔
" بیڈ نمبر ایک مریض کا نام: مسٹر خان ڈاکٹر کا نام : مسٹر جونز، وغیرہ وغیرہ "۔ میں نے چشمہ اتار کر ٹیبل پر رکھا تو بیڈ نمبر ایک کا مریض اپنے فون کی گھنٹی سن کر بیدار ہوا ، اس نے انگڑائی لی فون اٹھایا ، ٹیکسٹ میسیج پڑھے اور پھر سے سو گیا ۔اب کمرے میں مکمل روشنی تھی ، سب مریض جاگ رہے تھے مگر بیڈ نمبر ایک کا مریض سو رہا تھا ۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ خراٹے مارتا مگر ان خراٹوں کی آواز اب اتنی گھمبیر نہیں تھی ۔
ہسپتال میں شفٹ تبدیل ہوئی ، تازہ دم نرسوں نے مریضوں کو بستروں سے نکالا کرسیوں پر بٹھایا ، چاردیں بدلیں مگر بیڈ نمبر ایک کا مریض ابھی بھی سو رہا تھا ۔ ایک نرس نے بیڈ نمبر ایک کی جانب اشارہ کیا اور اپنی ساتھی نرسوں کو کہا " رہنے دو اس کی بیڈ ہم بعد میں ٹھیک کریں گے " ۔یہ اشارے ، یہ سرگوشیاں یہ بتا رہی تھیں کہ مسٹر خان مسٹر مسائلستان ہونگے اسی لیے شائد کوئی بیڈ نمبر ایک کو ہاتھ نہیں لگا رہا تھا ۔
اس کے بعد ہسپتال میں ما مور ہیلتھ کیر کا عملہ ناشتہ لایا ۔مریضوں کے سامنے ٹیبل پر ناشتہ رکھا گیا جبکہ بیڈ نمبر ایک کا ناشتہ ایک کیرر نے اس کی بیڈ کے کونے پر ایک اونچے ٹیبل پر رکھا ۔بیڈ نمبر ایک کا مریض اٹھا اس نے ناشتہ نہیں کیا سگریٹ اور لائٹر اٹھایا اور باہر چلا گیا ۔واپس آیا اس نے چائے پی، بسکٹ کھائے اور پھر سے بستر پر دراز ہو گیا ۔
میں درد سے لاچار آپریشن تھیٹر پہنچا اور مجھے بے ہوش کرنے سے پہلے بتایا گیا کہ اس آپریشن میں اگر میرا کچھ نقصان ہو گیا تو محکمہ صحت ذمہ دار نہ ہو گا ۔
میں نے آپریشن کے اجازت نامے پر دستخط کیے اور اگلے چند سیکینڈز میں میں بے ہوش ہو چکا تھا ۔جب میری آنکھ کھلی تو دوپہر کا وقت تھا اور میں واپس وارڈ نمبر پانچ کی جانب لایا جا رہا تھا ۔مجھے میرے بیڈ پر منتقل کیا گیا ۔ درد ختم ہو گیا اور میں نیم بیدار بستر پر پڑا سامنے دیکھ رہا تھا .
بیڈ نمبر ایک کا مریض بیگ پیک کر رہا تھا ۔شائد وہ ڈسچارج ہو گیا تھا ۔اس نیم بے ہوشی میں بھی میں خوش تھا کہ اب خراٹوں سے تو جان چھوٹے گی ۔
میں پھر سے سو گیا ، آنکھ کھلی تو رات کا وقت تھا ، مجھے دو تین بار ٹیکے لگائے گئے اور میں ہر بار کچھ لمحوں کے لیے بیدار ہوتا اور سو جاتا ۔
آج وارڈ نمبر پانچ میں میرا تیسرا دن تھا اور میری حالت بہت سنبھل چکی تھی ۔میں بستر سے نکلنے اور چلنے کے قابل تھا ، میں نے کرسی پر بیٹھ کر چائے پی ، اپنے خون آلود کپڑے بدلے ، گیلے کپڑے سے جہاں تک ہو سکا اپنے آپ کو صاف کیا اور واپس میں وا رڈ میںآ کر کھڑکی کے پاس دھوپ میں کھڑا ہو گیا ۔
باہر ایک خوبصورت اور کشادہ لان تھا جس میں بینچ لگے تھے اور پھولوں کی کیاریاں مختلف رنگوں کے پھولوں سے سجی تھیں ۔ یہاں برطانیہ میں قبرستانوں اور ہسپتالوں میں باغبانی کا بہت دھیان رکھا جا تا ہے، شائد اس کا مقصد ہسپتال میں مریض کو اور قبرستان میں لواحقین کو تھوڑی سماعتی تسکین دینا ہے .
وارڈ نمبرپانچ کے مریض کچھ نہ کچھ کر رہے تھے ۔کمرے میں پیٹر ، مارک ، راجیش تھے مگر بیڈ نمبر ایک کا مریض نہیں تھا ۔
میں نے مارک سے پوچھا کہ بیڈ نمبر ایک کا مریض کدھر ہے ؟ " ڈسچارج ہو گیا بیچارہ " مارک بولا ۔"بیچارہ ؟" میں نے دل میں سوچا ۔وہ خراٹے مارتا ، سگریٹ پیتا اور ایسے نوابوں کی طرح ہسپتال میں رہ رہا تھا جیسے کوئی چھٹیاں منانے آتا ہے ، بیچارہ کیسے ہو سکتا ہے ۔میں نے مارک سے لفظ بیچارہ کی وضاحت مانگی تو وہ بھی کھڑکی کے پاس آگیا اور بولا " بیڈ نمبر ایک کا مریض اپنے خاندان کے پاس کچھ آخری دن گزارنے گیا ہے اسے کینسر ہے "۔
مارک کے الفاظ سنتے ہی مجھے میری تکلیف بلکہ شائد اس وارڈ کے ہر مریض کی تکلیف کم لگی ، تمام اندازے ، تمام شکوک و شبہات ، تمام خیالات بدل گئے ۔میں واپس بستر پر بیٹھ گیا او ر مسٹر خان کے بارے سوچتے وقت ذہن سے آواز آ ئی " حوصلہ اس میں بلا کا تھا "۔!!!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

انوار ایوب راجہ کے ہفتہ مئی کے مزید کالم