وہ کون ہے

پیر مئی    |    شاہد سدھو

وہ کون ہے ، آخر وہ کون ہے جو روزِ اول سے ہی حکومت کے درپے ہے۔ وہ کون ہے جسے استحکام کی طرف بڑھتا ہوا پاکستان ہضم نہیں ہو رہا۔ وہ کون ہے جسے تین سال پہلے کے مقابلے میں آج اپنے پیروں پر کھڑا پاکستان منظور نہیں۔ کیا ملک میں حکومت کے خلاف کوئی عوامی تحریک برپا ہے۔ کیا عوام اپنے کام کاج چھوڑ کر حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے۔ حکومت کے کروڑوں حامی اور ووٹرز آج بھی اپنی حکومت سے مطمئن ہیں اور چاروں صوبوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت سے کامیاب کر وارہے ہیں۔
پچھلے چند ہفتوں میں مسلم لیگ ن پنجاب میں جلالپور پیر والا اور وزیر آباد سے قومی اسمبلی کی نشستوں کے لئے ہونے والے انتخابات واضح اکثریت سے جیتی ہے، اسی طرح سندھ میں بدین کا ضمنی انتخاب، بلوچستان میں جھل مگسی کا ضمنی انتخاب اور خیبر پختونخواہ میں پشاور کا ضمنی انتخاب بھی جیتی ہے۔

(خبر جاری ہے)

ابھی چند ماہ پہلے گلگت بلتستان کے انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں بھی مسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

کیا چاروں صوبوں سے ملنے والی کامیابیاں اس بات کا ثبوت نہیں کہ عوام مسلم لیگ ن کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ بیرون ملک سے آنے والی بیس ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر اس بات کا ثبوت ہیں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی حکومتی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ پھر وہ کون ہے جو میڈیا اور چند اینکروں کے ساتھ مل کر چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ آج پوری دنیا کے متعلقہ عالمی ادارے پاکستان کی حکومت کی کارکردگی کی تعریف کر رہے ہیں۔
پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ ساڑھے چار فیصد سے اوپر ہے اور کئی سالوں کے بعد پاکستان ستمبر میں دوبارہ آئی ایم ایف کو خدا حافظ کی پوزیشن میں آجائے گا۔زر مبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چُکے ہیں۔ ملک کے ہر شعبے میں بہتری نمایاں ہے۔ ترقی کا سفر پوری رفتار سے شروع ہوچکا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت چین کی چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہے۔ پاکستان انرجی سے متعلقہ کئی منصوبوں میں علاقے کے ممالک کے ساتھ بطور پارٹنر شریک ہوچکا ہے۔
چین، ترکی، خلیجی ممالک، روس، وسطی ایشیاء کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک بشمول اٹلی بھی پاکستان کو ایک بڑی مارکیٹ اور سرمایہ کاری کے لئے بہتر سمجھتے ہوئے پاکستان کارخ کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں جاری حکومتی اور نجی شعبے کے تعمیراتی منصوبوں نے لاکھوں لوگوں کو گذشتہ تین برسوں میں بر سر روزگار کیا ہے۔ پاکستان کے عوام اپنی آنکھوں سے روز آنہ ہزاروں لوگوں کو کراچی حیدرآباد موٹر وے، موٹر وے سکھر سیکشن، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان بھر میں سی پیک روٹ، لاہور اورنج ٹرین منصوبے، کراچی اور ملتان میٹرو بس منصوبے پر کام کرتے دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان کے عوام روز آنہ ملک کے ہر حصے میں زیر تعمیر بجلی کی پیداوار کے بڑے بڑے کارخانوں میں ہزاروں لوگوں کو تعمیراتی کام کرتے بر سر روزگار دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام ہزاروں لوگوں کو روزآنہ مختلف ایئر پورٹوں کے تعمیری اور اپ گریڈیشن تعمیراتی کاموں، مختلف ریلوے اسٹیشنوں کے اپ گریڈیشن تعمیراتی کاموں میں بر سر روزگار دیکھ رہے ہیں۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے پنجاب میں صوبے بھر کے زمینی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرکے اور پولیس سمیت بے شمار سرکاری اداروں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ لاکھوں لوگ تین سال پہلے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے آج بر سر روزگار ہیں۔
ہروقت حالات کا رونا روتے، مایوسی پھیلاتے میڈیا کو دیکھیں تو کیا یہ بات عجیب نہیں لگتی کہ آج پاکستان کے اسلام آباد اور لاہور شہر گوگل کے لائیو جی پی ایس سے منسلک ہوچکے ہیں۔ لاہور میں اُبر اور کیرم جیسی عالمی شہرت یافتہ کمپنیاں انتہائی کامیابی سے اپنی خدمات کا آغاز کر چُکی ہیں۔ ملتان کے نئے ایئر پورٹ کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے، جبکہ میٹرو بس زیر تعمیر ہے۔
راول پنڈی کا ائر پورٹ اپ گریڈ کیا گیا ہے اور پنڈی اسلام آباد میٹرو بس کا آغاز ہوچکا ہے۔ پشاور ائر پورٹ کی اپ گریڈیشن کا کام جاری ہے۔ اسلام آباد اور گوادر ائر پورٹ زیر تعمیر ہیں۔ کراچی میٹرو بس زیر تعمیر ہے۔بے شمار عالمی سیاحتی ویب سائٹوں پر پاکستان کے ہر قابل ذکر شہر میں آن لائن ہوٹل بکنگ کی سہولت دستیاب ہے،۔ کئی نئے عالمی معیار کے ہوٹل، شاپنگ مال اور سپر مارکیٹیں زیر تعمیر ہیں۔ ریلوے اپنے پیروں پر کھڑا ہوچکا ہے۔
نہ صرف مسافر ٹرینیں بلکہ مال گاڑیاں بھی رواں دواں ہیں۔ جدید سہولیات سے مزین نئی ٹرینیں چلائی جارہی ہیں۔ آج ملک بھر میں دہشت گردی میں نمایاں کمی آچکی ہے۔ سلگتے ہوئے بلوچستان کی آگ ٹھنڈی پڑتی جارہی ہے۔ کراچی میں صورتحال میں نمایاں بہتری آچکی ہے۔ ملک بھر کی انڈسٹری کو زیرو لوڈ شیڈنگ پالیسی کے تحت چوبیس گھنٹے بجلی میسر ہے اور قوی امکان ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت اپنی مدت کے اختتام ۲۰۱۸ تک بجلی کے بحران پر مکمل طور پر قابو پالے گی کیونکہ تقریباً تمام زیر تعمیر منصوبوں کی تکمیل مکمل ہو چکی ہوگی۔
ایل این جی معاہدوں کے تحت گیس کی فراہمی شروع ہوچکی ہے۔ آج ملک درست سمت اور استحکام کی طرف چل پڑا ہے، بے شمار بنیادی انفراسٹرکچر سے متعلق منصوبے، سڑکیں، پل، ایئرپورٹ، ریلوے اسٹیشن، تعلیمی ادارے، ہسپتال ، تفریحی پارک تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ پھر وہ کون ہے جسے یہ سب پسند نہیں آرہا۔ وہ کون ہے جسے پاکستان کی ترقی منظور نہیں۔ وہ کون ہے جو یہ چاہتا ہے کہ حکومت کو گرا دِیا جائے تاکہ ماضی کی طرح ایک بار پھر جاری ترقیاتی منصوبوں کو لپیٹ دیا جائے ۔ آخر وہ پاکستان سے دشمنی کیوں کر رہا ہے۔ کون ہے وہ۔ عوام کو جاننا ہوگا اسے۔ پاکستان کی بقا ء اور یکجہتی کو قائم رکھنے کے لئے ، عوام کو پہچاننا ہوگا اُسے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہد سدھو کے پیر مئی کے مزید کالم