بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

بدھ مئی    |    عارف محمود کسانہ

کسی بھی قوم کی ترقی یا تنزلی میں اس کے قائدین کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ قومی رہنماء مشعل راہ اور مینارہٴ نور کی طرح ہوتا ہے۔ وہ گاڑی کے انجن کی مانندِ قوم لے کر چلتا ہے۔ اگر وہ درست سمت میں چل رہا ہوتو قوم بھی اس کے پیچھے اسی ڈگر پر چلتی ہے ۔میرِ کارواں کی اگر نگاہ بلند اور دیدہ ور ہوتو قوم بالآخر کامیابی کی منزل پر پہنچ ہی جاتی ہے اور اگر راہبرِ قوم غلط سمت میں محوِ سفر ہوتو قوم کبھی بھی ترقی کی معراج کو نہیں پہنچ سکتی۔
قومی قائد میں جو خوبیاں ہوتی ہیں ان کا اظہار اس کے کردار سے ہوتا ہے۔ دراصل ذاتی کردار ہی اعلیٰ قائدانہ صلاحیتیں پیدا کر سکتا ہے۔قومی زندگی میں یا پبلک لائف میں تو ہر کوئی اپنے آپ کو بہتر اور برتر ثابت کرتا ہے سوال یہ ہے کہ وہ نجی زندگی میں اور ذاتی طور پر بھی وہی اوصاف کا حامل ہے جو عمومی طور پر ظاہر میں سامنے ہوتی ہیں۔

(خبر جاری ہے)


قرآن حکیم کی تعلیمات کا خلاصہ کردار ہی کی تعمیر ہے۔ وہ اس کے لئے مومن کا لفظ استعمال کرتا ہے اور تفصیلاً اس کا ذکر کرتا ہے کہ مومن کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں کرتا۔

یہ حقیقت ہے کہ بہتر کیریکٹر یا تشکیل کر دار کے بغیر نہ تو انسانی مسائل حل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی نظریاتی تعلیم عمل کی صورت میں نظر نہیں آتی۔ قوم کے رہنماء بھی چونکہ اسی کے فرد ہوتے ہیں لہٰذاجیسی قوم ہوگی ویسے ہی رہنماء ہوں گے یا دوسرے الفاظ میں جیسے رہنماء ہوں گے ویسی ہی قوم ہوگی۔ اعلیٰ کردار کے بغیر تشکیل معاشرہ ممکن نہیں اور اس کے لئے قرآن حکیم نے مستقل اقدار واضح طور پر بتادی ہیں جو بھی ان پر عمل پیرا ہوگا کامیابی اور خوشحالی حاصل کرے گا ۔
پاکستان اوردیگر اسلامی ممالک اس وقت بونا قیادت نے ترقی اور خوشحالی سے دور کر رکھا ہے۔ ایک تو قیادت یعنی لیڈر شپ میں وہ خوبیاں موجود ہی نہیں جو ہونی چاہیں اور دوسرا منافقانہ طرز عمل صورتِ حال کو مزید بدترین کر دیا ہے۔ذاتی کردار سے عاری قومی قیادت ہماری تباہی وبربادی کا باعث ہے۔حضور ختم المرسلین نے جب مکہ میں دعوتِ حق دی تو سب سے پہلے اپنا کردار پیش کیا اور بدترین مخالفین نے بھی آپ ﷺ کے کردار پر کوئی انگلی نہ اٹھائی بلکہ صادق وامین کہا۔
یہی گواہی ابو سفیان نے بازنطینی بادشاہ کے دربار میں دی۔ قائد اعظم کی مثال لے لیجئے ان کے مخالف ان کے ذاتی کردار کو نشانہ نہیں بناسکے نہ ہی کسی نے ان پر منافقت کا الزام لگایا اس کے برعکس آج مذہبی ،سیاسی،سماجی اور قومی قیادت کو دیکھئے۔کرپشن،ٹیکس چوری،قرضے معاف کرانا،جعلی ڈگریاں استعمال کرنا، ناجائز دولت حاصل کرنا، جھوٹ،منافقت ،ریاکاری ،بددیانتی غرض ایک لمبی فہرست بن سکتی ہے وہ تمام چیزیں ان میں موجود ہیں۔
بیوروکریسی سیاستدانوں، مذہبی رہنما اور عوام بھی سب اس فہرست میں شامل ہیں۔
پانا مالیکس کی بدولت دنیا بھر میں ہلچل مچ گئی اور یورپ میں حکومت اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر فائیز لوگوں نے استعفیٰ دے دیئے لیکن پاکستان میں ابھی ٹی آر او ٹی آر او کھیلا جاتا ہے۔ مذہبی جذبہ سے سرشار لوگ یورپ میں تبلیغ کرنے آجاتے ہیں حالانکہ تبلیغ کی زیادہ ضرورت پاکستان میں ہے۔یور پ کم از کم اخلاقی طور پر پاکستان کے رہنماؤں اور عوام سے بہت بہتر ہیں ۔
تبلیغ کی ضرورت توخود رائے ونڈ میں ہے، دور جانا بعد کی ترجیح ہونا چاہیے۔ وہاں عدل، انصاف، سچ، ایمان داری، رزق حلال اور سچی گواہی کا درس دینے کی ضرورت ہے۔ اُس جانب رخ کون کرے گا۔پوری دنیا میں جوپاکستان کی رسوائی اس حوالے سے ہے کہ وہاں بے ایمانی اورکرپشن عروج پر ہے وہ سب پر عیاں ہے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ دنیا کے بد عنوان ممالک کی فہرست میں صف اول میں شامل ہے ۔اس سے زیادہ ذلت اور کیا ہوگی کہ غیر مسلم اقوام کی نظروں میں مسلمان حکمرانوں کا تعارف بد دیانت اور لوٹ مار کرنے والوں کی حیثیت سے ہو۔
کوئی اربوں روپے مالیت کی دولت رکھنے کے باوجود چند ہزار انکم ٹیکس دے رہا ہے تو کوئی لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے کے جتن کر رہا ہے اور پھر یہ کہا جاتا ہے کہ کرپشن ثابت کرو۔ یہ ثابت کون کرے گا ؟ حضرت عمر نے ایک جملے میں اس کا جواب دے دیا کہ مال دار کو خود ثابت کرنا ہے کہ دولت کیسے حاصل کی اور کہاں خرچ کی۔ بس اس اصول کا قانوں بنادیں سارامسئلہ حل ہوجائے گا۔ مگر قصور عوام کا بھی ہے کہ وہ پھر انہی کو اپنے سر پر بٹھاتے ہیں جوان کی تباہی کے ذمہ دار ہیں انہیں ہی اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں، بقول میر#
میر بھی کیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
قرآن حکیم عمل پر زور دیتا ہے زندگی میں کامیابی اور عزت اسی سے ملتی ہے۔
اپنا احتساب کرتے ہوئے جھوٹ اور منافقانہ طرز عمل چھوڑ کر سچائی کا راستہ اپنانا چاہیے۔مذہبی اور سیاسی قیادت کا ظاہر اور باطن ایک ہو اوران پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ رہنمائی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہوتے ہیں ۔عوام بھی ذمہ دار ہیں کیوں وہ ایسے رہنماؤں کو خود اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں ۔ لیڈر اور عوام دونوں جہنم میں آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو کیسے مورزالزام ٹھہراتے ہیں ، یہ منظر کشی بہت وضاحت کے ساتھ قرآن حکیم نے کی ہے جسے اگلے کالم میں ملاحظہ فرمائیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عارف محمود کسانہ کے بدھ مئی کے مزید کالم