محکمہ پولیس کا گرتا ہوا مورال: ذمہ دار کون؟

بدھ مئی    |    حافظ ذوہیب طیب

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ روز ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، سیاسی افراد کے ڈیروں پر باعزت لوگوں کی عزتوں کو پامال اور اپنے بنائے ہوئے قانون اور مرضی کے مطابق فیصلے صادر کئے جاتے ہیں ۔ جو نہ مانے پھر اس کی ہڈیاں پسلیا ں توڑ کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔ جس میں اکثر پولیس والے بھی ان ظالموں کے ہاتھوں یر غمال بنے اور خاموش تما شا ئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ”ستو“ پی کر سوئے ہوتے ہیں ۔

بہاولنگر میں بھی کچھ اسی طرح کا معاملہ دیکھنے کو نظرآیا جب شراب اور طاقت کے نشے میں دھت ، ایم۔این۔اے کے مزارعے نے اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہوئے پولیس پارٹی پر ہلا بول دیا ۔ لیکن یہاں ان کا واسطہ ایک ایما ندار پولیس افسر کے ساتھ پڑا جس نے ہمت اور جرائتمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر اس بدمعاش کو گرفتا ر کر کے اس کا غرور خاک میں ملانے کی کوشش کی ۔

(خبر جاری ہے)

جو ،اس بد معاش کے اباحضور ، مقامی ایم۔

این۔اے کی طبیعت پر شدید ناگوار گزری جنہوں نے فوری طو ر پر ہاٹ لائن کے ذریعے خادم اعلیٰ پنجاب کو اپنے ساتھ ہونے والی ڈی۔پی۔او کی بد معاشی سے آگاہ کیا۔
ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ سینٹرل پولیس آفس لاہور میں بیٹھے خادم اعلیٰ اور ان کے خاندان کے ذاتی ملازم اورپولیس کی تاریخ کے سب سے کمزور سر براہ نے اپنے ڈی۔پی۔او کوایمانداری کا مظاہرہ کر نے پر خوب ڈانٹ پلائی اوراپنے اس روئیے پر ایم۔
این۔اے سے معافی مانگنے کے احکامات صادر کئے۔ لیکن آئی۔جی صاحب کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ جتنے وہ کمزور ہیں ان کا ڈی۔پی۔او اپنے فیصلے میں اتنا ہی زیادہ مضبوط اور قوی ہے۔ لہذا اُس نے ایسا کر نے سے معذرت کرلی ۔جس کی پاداش میں بالآخر اُسے ”کھڈے لائن“ لگانے کا پروانہ جاری کر دیا گیا ۔
اسلام آباد میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے کے دوران،قانون کی پاسداری اور معصوم لوگوں پر تشدد نہ کر نے کی سزا دیتے ہوئے محمد علی نیکو کارہ کی معطلی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ طوالت پکڑتا جا رہا ہے جس کے پیچھے سیاسی افراد کی طاقت اور محکمہ کے افسران کی کمزوری یا اہل سیاست کے ساتھ وفاداری ، پورے زور و شور کے ساتھ کار فر ماہے ۔
یہی وجہ ہے کہ محکمہ میں میرٹ کا جنازہ پوری دھوم کے ساتھ نکالا جا رہا ہے لیکن آئی،جی صاحب اپنی سیٹ پکی کر نے کے چکروں میں محکمے کے افسروں اور جوانوں کا مورال کم کرتے جا رہے ہیں ۔
قارئین کرام ! ڈی۔پی۔او بہاولنگر شارق کمال سے روا ء رکھا جانے والا سلوک اس وجہ سے بھی منظر عام پر آگیا کہ کئی بڑے صحافی ان کے دوست ہیں لیکن روزانہ کی بنیادوں پرسپاہی سے لیکر انسپکٹر تک کئی ایسے لوگ افسروں کی انکوائری بھگت رہے ہوتے ہیں جنہوں نے سیاسی قانون کے مقابلے میں پاکستان کے قانون کے مطابق فیصلے کئے ہوتے ہیں ۔
ان کا کائی پرسان حال نہیں اور پھر روز روز کی ذلت اور افسران کے روئیوں سے تنگ آکر وہ بھی سیاسی پھنے خانوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں ۔جس کے نتیجے میں کام کر نے والے افسران کی محکمہ میں تبدیلی لانے کے لئے کی جانے والی تما م کاوشیں بشمول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کار گر ثابت نہیں ہو پاتا ۔ اور وہ اتنے بے بس ہوتے ہیں کہ محکمہ کی کالی بھیڑوں جو اپنے قبضہ گروپ آقاؤں کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں ، انہیں بھی ہٹانے میں ناکام ٹہرتے ہیں ۔

محکمہ پولیس میں روز بروز بڑھتا ہو اسیاسی اثرو رسوخ اس بات کا ثبوت ہے کہ تھانہ کلچر میں تبدیلی کے نعرے حقیقت سے کوسوں دور ہیں ۔ محکمے کی تباہی کے ذمہ دار کوئی اور نہیں، انتظامی سیٹ پر براجمان صاحب بہادر ہیں، جن کی غلط پالیسوں اور فیصلوں کی وجہ سے افسروں و اہلکاروں میں بد دلی پھیلتی جارہی ہے ۔ بہتر ہو گا کہ وہ سیاسی پہلوانوں کی چنگل سے آزاد ہو کر ،اللہ کو رازق تسلیم کرتے ہوئے محکمے کے فیصلوں میں خود مختار بنیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ جس کے نتیجے میں محکمہ پولیس کا گرتا ہو امورال پھر لوٹا یا جا سکتا ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

پولیس

حافظ ذوہیب طیب کے بدھ مئی کے مزید کالم



متعلقہ کالم