کولمبس اور دُھلی جرابیں !

بدھ مئی    |    ارشاد بھٹی

ایک تقریب میں کسی خاتون نے چرچل سے کہا” اگر آپ میرے خاوند ہوتے تو میں آپ کو زہر دے دیتی “ تو چرچل بولے ”محترمہ اگر میری بیوی آپ ہوتیں تو میں زہر خود ہی کھا لیتا“ ۔ ہرآدمی کی 3خواہشات، کاش وہ اتنا خوبصورت ہوتا جتنا وہ اپنی ماں کو نظرآتاہے ، کاش وہ اتنا امیر ہوتا جتنا اسکے بچے سمجھتے ہیں اورکاش اس کے اتنے ہی آفئیرز ہوتے جتنے اسکی بیوی سمجھتی ہے ۔ایک بیوی نے خاوند سے کہا ”سنو جی جس مولوی نے ہمارا نکاح پڑھایا تھا وہ آج فوت ہوگیا ہے “شوہر کا جواب تھا ”برُے کم دا برُا نتیجہ “۔
ایک بڑے اداکارکو جب بتایا گیا کہ” آج شوٹنگ ساری رات چلے گی لہذا وہ اپنی بیوی کو بتادیں کہ وہ پوری رات باہر رہیں گے “ تو اداکار بولا” جب اس فلم کے سب خطرناک سین ڈپلی کیٹ ہی کر رہا ہے تو یہ اطلاع بھی اسی سے دلوادیں “۔

(خبر جاری ہے)

ایک شخص کوا لٰہ دین کا چراغ ملا اس نے چراغ رگڑا تو جن حاضر ہوگیا ،وہ شخص بولا”فوراً پاکستان سے امریکہ تک سٹرک بنادو“ جن نے جواب دیا” آقا یہ کام بہت مشکل ہے کوئی اور حکم “ اس شخص نے کہا”تو پھر میری بیوی کو میرا فرمانبردار بنادو“ جن بولا” سٹرک سنگل بنانی ہے یا ڈبل“۔

بیگم نے بڑے ہی لاڈ بھرے لہجے میں خاوند سے کہا ’جانو کچھ ایسا کہو کہ میں خوش بھی ہوجاوٴں اور اداس بھی“خاوند بولا” جانِ من تم میری زندگی ہو اور اس زندگی سے موت بہتر“۔ جوہانسبرگ کے ایک میگزین کے مطابق ”ایک بار جوانی میں ونی نے اپنے خاوند نیلسن منڈیلا کی اتنی پٹائی کی کہ پاس کھڑے منڈیلا کے دوست کا صبر جواب دے گیا، وہ ونی پر پستول تان کر بولا” اگر اب ہاتھ اٹھایا تو گولی مار دوں گا “۔
پھر اپنا دل توتب سے گارڈن گارڈن کہ جب سے پتا یہ چلا کہ دنیا بھر کو ڈرانے والے امریکی صدر اپنی بیگموں سے خوفزدہ ، جیسے صدر جانسن اپنی بیگم سے اتناچالو تھا کہ اس نے ایک ملازم کی صرف یہ ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ جونہی بیوی پرائیویٹ حصے سے اسکے دفتر آنے لگے تو وہ اسے فوراً اطلاع کردے کیونکہ جس دن جانسن اپنی بیگم کو مجلسی مسکراہٹ کے سا تھ اپنے دفتر کے دروازے پر ریسو نہ کرتا اس دن اسکے ساتھ بہت براہوتا ، صدر ٹرومین کے منہ سے غلط بات بعد میں نکلتی اسکی بیوی اسے جھڑک پہلے دیتی ، باربرانے صدر بش کو سزا دینا ہوتی تو وہ اسے اپنے ہاتھ کا پکا کھاناکھلاتی ،بش اس سزا سے ہمیشہ خوفزدہ رہتااور اپنی پچاسویں سالگرہ پر بل کلنٹن کا یہ کہنا کہ” میری خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز یہی کہ کبھی میں ہیلری کی بات مان لیتا ہوں تو کبھی ہیلری اپنی بات منوا لیتی ہے“۔

میرا وہ دوست جو جب پیدا ہوا تو کسی نے پوچھا” بیٹا ہو ا یا بیٹی “تو اس کا باپ بولا ” دھاندلی“ ہوئی ہے، جو بچپن میں محلے کے جِم میں اکثر لوہے کے باٹ اٹھایا کرتا اور ایک بارتو باٹ اٹھاتے پکڑا بھی گیا ،جس نے بچپن میں 10صفحات کا مضمون اس پر لکھا کہ شلوار واحد ہے یا جمع اور اس مضمون کا اختتام کچھ یوں کیا کہ چونکہ شلوار اوپرسے واحد اور نیچے سے جمع لہذا یہ دونوں ہے ، جسکا دوستوں سے برتاوٴ ایسا کہ اس میں برکم تاوٴ زیادہ ، جس نے زندگی بھر کسی بے وقوف کو اپنا نہیں بنایا ہمیشہ اپنوں کو بے وقوف بنایا،جس نے ہمیں لفظ اوسط کا مطلب کچھ یوں سمجھایا کہ ” جب کسی شخص کا ایک پاوٴں جلتے چولہے میں ہو اور دوسرا پاوٴں فریج میں تو اوسطً وہ شخص پرسکون زندگی گذار رہاہوگا ،جسے جب پتا چلا کہ بندہ ایک گردے سے بھی زندہ رہ سکتا ہے تو اس نے فوراً کہہ دیا کہ” مرنے کے بعداس کا ایک گردہ عطیہ کر دیا جائے“ ،جسکی ایک تھیوری یہ بھی کہ” بچے کنٹرول کرنے والے اگر بڑوں کو کنڑول کر لیں تو بچے ہوں ہی نہ“ ،جسکی 5سالہ تحقیق کا نچوڑ کہ ”چونکہ ساغر صدیقی اس لیئے نہایا نہیں کرتا تھا کہ اسے پانی گیلا لگتا تھا لہذا اسے چاہیئے تھا کہ وہ ٹوٹی بند کر کے نہا لیتا“، جو مقررتو اتنا اچھا کہ لاکھوں کے مجمع کو کنڑول کرلے مگر ناظر اتنا برا کہ ایک عورت کو دیکھتے ہی آوٴٹ آ ف کنڑول ہو جائے ،جو ادب شناس ایسا کہ اکثر کہتا کہ ”مجھے مہدی حسن کی شاعری بہت پسند ہے ،خاص کر دیوانِ غالب میں موجود انکی غزلیں تو کمال کی ہیں“،جو آجکل اس لیئے ناپ تول کر بولتا کہ”ایک روز جب اس کی دوسری بیوی نے غصے میں ڈکشنری اٹھا کر اسکے منہ پر دے ماری تو بقول اس کے اس د ن اسے پتا چلا کہ الفاظ بندے کو کس طرح گھائل کر دیتے ہیں “،جواپنی فوت ہوچکی پہلی بیوی سے ابھی بھی اتنا ڈرے کہ” دبے قدم بیوی کی قبرسے چند فٹ دور کھڑا ہوکر فاتحہ پڑھ کر دبے قدم واپس آجائے“ اور جو یہ دعو ٰی کرے کہ وہ گفتگو سن کر مرض اوربیوی دیکھ کرخاوند کے حالات بتا دے ، ہمارے اسی دوست کا تجربہ کہے کہ ’ ’ شادی سے پہلے بیوی کی آنکھیں ہرنی جیسی لیکن شادی کے بعدطوطے جیسی ،شادی سے پہلے بیوی کان سے سنے اور زبان سے سنائے لیکن شادی کے بعد وہ آنکھ سے سنے بھی اور آنکھ سے سنا ئے بھی“ ، اسی کاکہنا ہے کہ” ایک چالاک آدمی کیلئے ایک احمق عورت ہی کافی“ ،اسی کاما ننا ہے کہ”شریف لوگوں کو تو الجبرا اور بیوی کی زندگی بھر سمجھ ہی نہیں آتی“ اور 4شادیوں کے بعد ہمارا یہی دوست اس نتیجے پر پہنچا کہ” بندے کو تو ایک بیوی بھی زیادہ مگر مصیبت یہ کہ ایک سے کم بیوی ہو نہیں سکتی “۔

کہتے ہیں کہ محبت کی شادی میں راتیں اچھی او ردن برے اور پیار کی شادی اُس باکسنگ کی طرح کہ جس میں ناک آوٴٹ خاوند ہی ہو ۔ باکسنگ سے یادآیا کہ ہمیشہ ہار جانے والے ایک باکسر نے اپنے کوچ سے پوچھا کہ” یہ ڈریسنگ روم باکسنگ رِنگ سے اتنا دور کیوں ہوتا ہے“ ،کوچ جل کر بولا”تمہیں کیا ،تم نے کون ساچل کر جانا ہوتا ہے “۔ بیوی کے حوالے سے ہمارے ہر سیانے نے بڑی سیانی باتیں کیں جیسے ایک سیانے نے جب کہا کہ ” عاشق،شاعر،سیاستدان اور بیوی کو زبان درازی کاحق حاصل “،تو دوسرا سیانا بولا ”کراچی کی آب وہوا،کابل کے حالات ،واشنگٹن کے دعوے اور بیو ی کے مزاج کا کوئی اعتبار نہیں “، پھر جب ایک سیانا بولا کہ ”بیوی زبان سے سوچے اور اسکی زبان اس کے دماغ سے تیز چلے“تو دوسراسیانا کہہ اٹھا کہ” اپنی بیوی پاس نہ ہوتو دوسرے کی بیوی پیار ی لگے اور اگر اپنی بیو ی پاس ہو تو دوسرے کی بیوی بہت ہی پیاری لگے“اور پھر ایک سیانے کی یہ بات کہ ” بیوی کی تلاش میں نکلو تو آنکھ کی بجائے کان کا استعمال کرنا کیونکہ آپ نے اتنا بیوی کو دیکھنا نہیں جتنا اسے سننا ہے“ تو جس جس نے بھی اس سیانے کی اس بات پر کان نہ دھرے وہ پھر بعد میں کان پکڑ ے ہی مِلا ۔

چند سالوں میں تحقیق دانوں نے بیویوں پرجو تحقیق کی وہ تحقیق کم اور تفتیش زیادہ لگے، جیسے ایک تحقیق کے مطابق سکاٹ لینڈ کی بیویاں کنجوس،امریکی بیویاں دھوکے باز، فرانسیسی سیرو تفریح کی دلدادہ، بھارتی چغل خور ، سپین کی نوکری باز، برطانوی کھیلوں کو پسند کرنے والی ، جنوبی افریقہ کی نرم مزاج ، ناروے کی سخت مزاج،عربی خاموش طبع،جاپانی ہلہ گلہ کرنے والی ،چینی سخت جان اور پاکستانی بیویاں فضول خرچ ،پھر جہاں اک تحقیق نے یہ بتایا کہ 60سال جینے والی خاتون کا ایک سال صرف اس پرلگ جائے کہ ”آج پہننا کیا ہے “اورمیک اپ کرنے والی عورت 70سال تک پہنچتے پہنچتے 2کلو لپ اسٹک کھاجا ئے وہاں اک دوسری تحقیق سے یہ پتا بھی چلا کہ مالدیپ شادیوں میں پہلے نمبر پر جبکہ بلجیئم طلاق دینے والوں میں سرفہرست اور شوہروں کی سب سے زیادہ پٹائی اٹلی میں ہو،اسی طرح امریکی یونیورسٹی میں ہوئی تحقیق کے مطابق ایک باتونی خاوند پورے دن میں13ہزار الفاظ بولے جبکہ ایک باتونی بیوی کی دن بھر کی گفتگو20ہزار الفاظ پر مشتمل ،اب ایک تو میاں بیوی میں فرق7 ہزار الفاظ کا اور اوپر سے صورتحال مزید خراب تب ہو جائے کہ جب خاوند شام کو گھرپہنچے تو وہ اپنے 13ہزار الفاظ کے اختتام پرہوجبکہ بیوی اس وقت اپنے20ہزار الفاظ کے درمیان میں اور پھر ایک مغربی محقق ڈاکٹر ایڈگر 5سال کی کھوج کے بعد بولا ” خوبصورت بیویوں کے شوہروں سے بدصورت یا قبول صورت بیویوں کے شوہروں کی عمریں لمبی ہوتی ہیں“ حالانکہ ہمارا خیال ہے کہ ” بات عمر کے کم یا زیادہ ہونے کی نہیں بات صرف یہ ہے کہ بدصورت بیویوں کے خاوندوں کو اپنی عمر لگتی زیادہ ہے“۔
بہرحال دوستوقصہ مختصر ،گو کہ بیوی وہ چھٹی حس جوپہلی پانچ حسوں کو بھی ختم کردے، یہ آرٹ کا وہ نمونہ جو کبھی کسی کی سمجھ میں نہ آیااور گوکہ بیوی آتی خزاں ،بیوی جاتی بہار، بیوی صحرا کی دھوپ ،بیوی سردیوں کی دھند،بیوی اَن دیکھا خواب،بیوی کانٹوں بھر ا گلاب،بیوی بے وقوف کا منصوبہ اور بیوی عقلمند کی سازش مگر پھر بھی بیوی کے بغیر گذارہ ممکن نہیں کیونکہ وہ وقت گیا کہ جب بنا بیوی کے کولمبس نے امریکہ دریافت کرلیا تھا اب تو بیوی کے بنا کسی کولمبس کو دفتر جاتے ہوئے دھلی جرابیں بھی نہ ملیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ارشاد بھٹی کے بدھ مئی کے مزید کالم