سانحہ12مئی کراچی لہو لہو۔ آل پارٹیز کانفرنس

بدھ مئی    |    میر افسر امان

جماعت اسلامی کراچی شہر کی نمائدہ سیاسی جماعت رہی ہے۔ کراچی بلدیہ اعظمیٰ میں دو دفعہ(مرحوم) عبدالستار افغانی میئر رہے اور ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ سٹی گورنمنٹ کی نظامت پر فائز رہے۔ فاشسٹ لسانی تنظیم ایم کیو ایم سے پہلے جماعت اسلامی کے لوگ پاکستان کی قومی اسمبلی میں منتخب ہو کرجاتے رہے ہیں۔ کہا جاتا تھا کہ پاکستان کی سیاست کراچی میں بنتی تھی۔ پھر ایک بین لاقوامی سازش کے تحت، جس میں پاکستان کا ازلی بھارت پیش پیش ہے ،نے کراچی کے امن کو تباہ و برباد کر دیا جس کا ثبوت را کے جاسوس کلبھوشن یادیو کا بیان ہے۔
ایم کیوایم بار بار کراچی سے کیسے جیتتی رہی ۔ جواب یہ ہے کہ جبر، دھونس، دھاندلی اور جھرلو الیکشن جیسے مصر،شام، لیبیا اور دوسرے ملکوں میں آمرزر جیتتے رہے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

جیسے مقبوضہ کشمیر میں ہمیشہ بھارت کی پٹھو سیاسی پارٹیاں جیتتی رہی ہیں۔ غیر بات ہو رہی تھی ۱۲/ مئی کی، یہ وہ دن ہے جس دن ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اسلام آباد کے ایک پروگرام میں مکے لہرا کر کہا تھا کہ طاقت کا مظاہرہ میری پارٹی نے کراچی میں کیا ہے۔

وہ مظاہرہ کیا تھا کہ جس کا اظہار ڈکٹیٹر نے ہوا میں دونوں ہاتھوں کے مکے بنا کر لہراتے ہوئے کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ کراچی شہر کی تمام بڑی شاہراہ ہوں کو کنٹینز لگا کر اس وقت کے مشیر داخلہ اور موجودہ جیتے ہوئے ایم کیو ایم کے نامنزد کراچی کے میئر وسیم اختر نے بند کر دیا تھا۔کراچی کی پولیس کو بھی اسلحہ مال خانے میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ بندر روڈ پر ایک غیر قانونی ریلی کا انعقاد بھی کیا تھا۔
یہ انتظامات اس لیے کیے تھے کہ ان دونوں میں سابق چیف جسٹس چوہدری افتخار احمد کے حق میں ملک بھر میں وکلا کی تحریک چل رہی تھی۔ کراچی کے وکلا کی تنظیم کی طرف سے چوہدری افتخار احمد خطاب اور کراچی کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہوئی تھی۔جیسے ہی چوہدری افتخار احمد کراچی ایئر پورٹ پر اُترے شہر بھر سے لوگ ان کے استقبال کے لیے اُمنڈ آئے۔ پھر فاشسٹ ایم کیو ایم نے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے کراچی شہر کو خون کی ندیوں میں مبتلا کردیا۔
چوہدری افتخا راحمد کو ایئر پورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیا اور کراچی کی عوام کو ان تک نہیں پہنچنے دیا گیا۔ کراچی ایئر پورٹ کے قریب جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر کی گاڑی پر بے تہاشہ فائرنگ کی گئی جس سے وہ اور ان کے کارکن شدید زخمی ہوئے۔ مشہور ہوا کہ وہ شہید کر دیے گئے مگر اللہ نے اُن کو بچا لیا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی شیری رحمان صاحبہ کی گاڑی پر شدید فائرنگ کی گئی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے قافلہ پر فائرنگ کی گئی۔
سنی تحریک کے کارکنوں پر فائرنگ کی گئی۔ سڑکوں پر جگہ جگہ کراچی کے عوام کی لاشیں پڑی ہوئیں تھی۔فاشسٹ ایم کیو ایم کے کارکن اپنی پارٹی کے جھنڈے لہراتے ہوئے خون کی ہولی کھیل رہے تھے۔ اپنے پرانے محمول کے مطابق پرائیویٹ گاڑیوں ، بسوں ور موٹر سائیکلوں کو جلا رہے تھے۔ جگہ جگہ جلتی ہوئی گاڑیوں سے دھواں نکل رہا تھا۔فائر بریگیڈ کے ملازمین کہاں سے آتے وہ تو سارے کے سارے ایم کیو ایم کے حلف یافتہ کارکن تھے۔
انہوں نے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ایم کیو ایم کی پالیسی کے تحت گیراج میں پارک کی رکھیں اور کراچی شہر جلتا رہا۔ اس دن الیکٹرونک میڈیا نے کمال کی رپورٹنگ کی اور یہ سارا سین عوام کو دیکھاتے رہے۔ اس ظلم کی داستان عوام کے سامنے رکھنے پراورسزا ے طور پر ایم کیو ایم کے جھنڈا اور اسلحہ بردار کارکنوں نے آج ٹی وی کے دفتر پر حملہ کر دیا۔ آج ٹی نے آن لائن یہ ساری کاروائی ناظرین کے سامنے رکھی۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے آج ٹی وی کے کمپائنڈ میں پارک کی ہوئی آج ٹی وی کے ملازمین کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو آگ دی۔
جس کی کوریج آج ٹی وی عوام کو دیکھا رہا تھا۔ پھر آج ٹی وی کے نیوز روم پراندہ دھند فائرنگ کی گئی۔ اور اس وقت کے بہادرنیوز انچارج اور مشہور ٹی اینکر ،یہ ظلم آن لائن عوام کو دیکھاتارہا۔ آج ٹی وی نیوز روم کی دیوریں گولیوں سے چھلنی ہو گئیں تھیں۔ شہر میں۵۰/ سے زائد بے گناہ شہریوں کی لاشیں بکھری پڑیں جس میں جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی،نیشنل عوامی پارٹی ، سنی تحریک اور کئی پارٹیوں کے کارکنان اور کراچی کے عام شہری شامل تھے۔
سوال یہ ہے کہ کیا کسی سیاسی پارٹی کے کارکن ایسی سفاکانہ حر کت کر سکتے ہیں۔ نہیں ہر گزنہیں۔ یہ کام کسی سیاسی پارٹی کے کارکنوں کا نہیں ہوسکتا۔ یہ کام تربیت یافتہ دہشت گردہی کر سکتے ہیں وہ دہشت گرد کون ہیں۔ صاحبو! جب وکی لیک نے یہ انکشاف کیا تھا کہ برطانیہ کے کراچی کے سفارتی اسٹاف نے برطانیہ ای میل کی تھی کہ ایم کیو ایم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ برطانیہ کے کراچی کے سفارت عملے کی حفاظت کے لیے ایم کیو ایم کے ۳۵۰۰۰/ مسلح کارکن ہروقت موجود ہیں۔
( شاید یہ اس لیے کیا گیا ہوکہ الطاف حسین برطانیہ میں ایم آئی سیکس کے مہمان ہیں) اس وکی لیک کو کراچی کے مشہور انگریزی اخبار اور اس کے حوالے سے جنگ گروپ کے شام کے اخبار نے بھی شائع کیا تھا۔ معزز قارین !اگراس رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے کوئی کاروائی کی ہوتی اور ان ۳۵۰۰۰/ مسلح ایم کیو ایم کے کارکنوں سے اسلحہ واپس لے لیا ہوتا، یا ان کے خلاف قانونی کاروائی کی ہوتی تو یہ ۱۲/ مئی اور اس جیسے کراچی میں لا تعداد خونی واقعات نہ ہوتے۔
اس کے لیے کس کو ذمہ دار ٹھیرایا جائے یہ سوال حل طلب ہے؟ بہر حال جماعت اسلامی کراچی نے گزستہ سالوں کی طرح اس سال بھی قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے اس دن کو یاد رکھا اور تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کو اکٹھا کیا ۔ آل پار ٹیز کانفرنس کے رہنماؤں کو اپنے ہیڈ کواٹر ادارہ نور حق میں بلا کر ۱۲/ مئی کے خونی سانحہ پر روشنی ڈالی۔ اپنی تقریروں میں ہر مقرر نے جماعت اسلامی کا شکریہ ادا کیا۔آل پارٹیزکانفرنس ” کراچی لہو لہو“سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹیری لیاقت بلوچ نے کہا سانحہ۱۲/ مئی کے مجرموں کو سزا دی جائے۔
اُس وقت کی حکمران پارٹی کے دہشتگردوں نے ریاستی جبر تشدد کا مظاہرہ کیا، نہتے شہریوں پر گولیاں برسا کر۵۰/ قیمتی چراغ گل کر دیے۔ درجنوں زخمی ہوئے۔شہر میں ہر طرف کشت و خون کا بازر گرم تھا تھا۔زخم آج بھی تازہ ہیں۔سانحہ ۱۲/ مئی کو ۹/ سال بیت گئے آمر کی سرپرستی میں قتل ہونے والوں کے ورثا انصاف کے منتظر ہیں۔چیف جسٹس بحالی تحریک میں سرعام۵۰/سے زائد افراد ایم کیو ایم کی دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔
وکلا کا ملک گیر احتجاج، عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ اور بارز کی جانب سے مذہمتی اجلاس منعقد کئے کراچی بار،ملیرباراورسندھ ہائی کورٹ بار میں سیاہ پرچم لہرائے گئے۔کانفرنس میں قراردادیں منظور کی گئیں۔۱۲/مئی کے ظلم کے حوالے سے ڈکومنٹری بھی دکھائی گئی۔ اس کانفرنس میں امیر جماعت اسلامی کراچی نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ۱۲/ مئی سے قبل ۱۲/ مئی ۲۰۰۴ء کا دن بھی کراچی کی تاریخ کا سیاہ دن تھا۔
این اے ۲۴۶ کے ضمنی انتخابات میں فاشسٹ ایم کیو ایم کے دہشت گردوں نے جماعت اسلامی کے ۹ /کارکنوں کو شہید کر دیے۔ اگررا کے ایجنٹ اب بھی کراچی میں موجود ہیں ا ن کے خلاف کاروائی کی جائے۔ کراچی بار کونسل کے سابق صدر نعیم قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا تحریک کی وجہ سے بڑی پارٹیوں کے لیڈر واپس پاکستان آئے مگر افسوس کی کہ سانحہ ۱۲/ مئی اور نشتر پارک کے قاتلوں کو کسی نے گرفتار نہیں کیا۔ مسلم لیگ(ن) کے طارق نذیر نے کہا کہ۱۲/ مئی،۹/ اپریل اور۱۲/ ربیع الاول کے سانحات کی ترجہیی بنیاد پر تحقیقات کرائی جائے ۔
جمعیت علمائے پاکستان کے صدیق راٹھور نے کہا کہ ملک میں خرابی ڈکٹیٹروں کی وجہ سے ہے۱۲/ سانحہ کے لواحقین انصاف کے منتظر ہیں۔،جمعیت علمائے اسلام(س)کے رہنماحافظ احمد علی ۱۲/ کو جن پارٹیوں نے ظلم کیا وہ آج اقتدار میں ہیں ان کا فرض ہے کہ قاتلوں کو انجام تک پہنچایں۔ جماعة الدعوة کراچی ڈاکٹر مزمل ہاشمی نے کہا کہ ملک کے مسائل اس لیے ہیں کہ ملک کو نظریاتی اساس سے محروم کر دیا گیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا عمر صادق نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ۱۲/ مئی کے سانحے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
جمعیت علمائے پاکستان کے مستقیم نورانی نے کہا کہ را کے ایجنٹ کیوں اتنی بڑی تعداد میں پیدا ہوئے۔مولانا نورانی نے اس شہر میں اس فتنے کے خلاف بہت پہلے ہی کہا تھا کہ یہ فتنہ شہر کو تباہ کر دے گا۔ پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے بشارت مرزا نے کہا کہ اس دن ظلم کی داستان رقم کی گئی۔نظام مصطفےٰ پارٹی کے الحاج رفیع نے کہا کہ ۱۲/ مئی کے ۵۰ مظلوں کا حساب حکمرانوں کو دینا ہو گا۔ اسلامک لائرز فورم کراچی کے صدرعبدالصمد خٹک ایڈوکیٹ نے کہا کہ ۱۲/ مئی کے دن قانون کی حکمرانی کے خواہش مندوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔
تحریک بیداری عوام کے رفعت اعوان،مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سیدعامر نجیب اور دیگر نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض نائب امیر جماعت اسلامی مسلم پرویز نے ادا کیے۔آل پارٹی کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ وہ ۱۲/ کے سانحہ میں ملوث ڈکٹیٹر پرویز مشرف اور ایم کیو ایم کے کرادار کی شدید مذمت کرتی ہے۔موجودہ حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ سانحہ ۱۲/ مئی کی تحقیقات کرائی جائے۔ملوث دہشت گردوں کو سزااور شہدا کے ورثہ کو انصاف دلائے۔ ڈکٹیٹرمشرف کے ریڈ جاری کیے جائیں۔آل پارٹیز کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ سپریم کورٹ از کود نوٹس لے کر ۱۲ مئی میں ملوث کرداروں کو انصاف کے کہٹرے میں لائے۔آل پارٹی کانفرنس کے شرکا کے لیے ریفرشمنٹ کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس اس آل پارٹیزکانفرنس کا اختتمام ہوا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

کراچی

میر افسر امان کے بدھ مئی کے مزید کالم



متعلقہ کالم