ایک تھا راجہ

بدھ مئی    |    محمد ثقلین رضا

ایک دفعہ کاذکرہے کہ ایشیا کے ایک ملک پاکستان میں بادشاہ حکمرانی کرتا تھا‘ کہنے کو پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ تھا مگر اس بادشاہ نے جمہوریہ کو شاہی نظام میں اس لئے بدل ڈالا کہ اسے عوام سے بے پناہ محبت تھی اسے مان تھا کہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اس لئے وہ بھی کرتا یہی سوچ کرکرتا کہ عوام کی حمایت حاصل ہے۔ حتیٰ کہ اسی سوچ کی بدولت اس کے ”خزانے “ لبالب بھر گئے مگر وہ اپنی محنت جدوجہد میں مصروف رہا۔
جیسا کہ ابتدا میں بتایاجاچکا ہے کہ بادشاہ چونکہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوا اس لئے اس کا کہناتھا کہ وہ عوام کو ہی جوابدہ ہوگا اس کے علاوہ اس نے کسی دوسرے ادارے کے سامنے پیش ہونے سے انکارکردیا۔ چونکہ اس ملک میں فوجی‘ سیاسی حکومتوں کے تجربہ کے باعث لوگ سمجھتے تھے کہ بادشاہ سلامت کو کسی نہ کسی کا جوابدہ ہوناپڑیگا مگر بادشاہ سلامت نے ایسا کرنے سے انکارکردیا۔

(خبر جاری ہے)

اس دوران ان کے مخالفین نے حکومت گرانے کی بڑی کوشش کی ‘اس کی حکومت پر سومنات جیسے حملے باربار ہوتے رہے مگر بادشاہ سلامت کے روئیے میں کوئی فرق نہیں آیا۔


بادشاہ سلامت کے مشیران علی الصبح پہنچ جاتے اور پھر گردان الاپتے رہتے کہ ”حضور کا اقبال بلند ہو‘ ملک میں سب اچھا ہے‘ یہ جو غدار اوردشمن آپ کیخلاف سازش کررہے ہیں یہ آپکابال تک بیکانہیں کرسکتے“ بادشاہ سلامت ان کی راگنیوں میں خوش نہال دھمال ڈالتارہتا اورپھر خاموشی سے دربانوں کے پہرے میں اپنے بیڈ رو م میں جاکر سوجاتا ‘ جب شام یاصبح کے وقت آنکھ کھلتی تو خود کو تروتازہ پاتا۔

اس کے مشیروں میں اچھے خاصے تجربہ کار لوگ شامل تھے جونہی بادشاہ سلامت کو ناگوار گزرنے والی باتوں کا ذکر آتا تو یہ ہاتھ میں باتوں کی توپیں لئے فوراً مخالفین پر پل پڑتے اوران کی ایسی ایسی کہانیاں نکال لاتے جن کا مخالفین کے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں ہوتاتھا
سنا تھا کہ بادشاہ سلامت کے اس روئیے کی پختگی کاباعث ایک تو یہ تھا کہ ان کے ابا حضور کاروباری آدمی تھے اورانہوں نے اپنے سارے بیٹوں کی تربیت بھی کاروباری انداز میں کی تھی ‘بس جونہی مملکت میں ایسا کوئی کام درپیش ہوتا بادشاہ سلامت کی ”کاروباری آنکھ“ کھل جاتی اوروہ پوری عقل کا استعمال کرتے ہوئے دن رات اسے کاروباری ”اینگل“ سے دیکھاکرتا ۔
رہی سہی کسر دربار میں موجود بھانڈوں کا قبیلہ پورا کردیتا ۔ اس قبیلے کی ڈیوٹی تھی کہ جونہی بادشاہ سلامت کے چہرے پر سوچ کی لکیریں گہری ہوناشروع ہوجائیں فوراً ہی ”بھاگ لگے رہنڑ“ قسم کی صدائیں بلندکرتے ہوئے بادشاہ کی دل پشوری کرنا ہے۔
سنا ہے کہ بہت عرصہ پہلے بادشاہ سلامت کو اس ملک کے مرکزی صدر مقام اسلام آباد کی ایک قبر سے فیض ملا تھا یہ بھی سنا ہے کہ بادشاہ سلامت کافی عرصہ تک اس قبر کی مجاوری بھی کرتے رہے مگر بعد میں قبر میں مدفون شخصیت کے بھائی بیٹوں نے یہ کام سنبھال لیا اوربادشاہ سلامت نے اس فرض سے چھٹکارا پاتے ہی دو کام بڑی تیز ی سے کئے ایک حکومت پانے کی اور دوسرا دولت جمع کرنے کی خواہش۔
ان کی دونوں خواہشیں پوری ہوتی چلی گئیں
اسی دوران ان کی اپنی ہی فوج کے سپہ سالار سے ان بن ہوگئی اور پھر بغاوت پھیلتے ہی بادشاہ سلامت کو ملک بدر کردیاگیا ۔ کہاجاتا ہے کہ مشیروں اوربھانڈو ں کی فوج نے یہ کہہ کر سکون کی نیند سوناشروع کردی ”الٹے سیدھے راگ الاپ الاپ کر گلے خراب ہوگئے اب کچھ عرصہ آرام کرینگے“پھر یوں ہوا کہ سپہ سالار کی اپنے ہی دوستوں کے ہاتھوں بغاوت کے باعث چھٹی ہوئی تو پھر بادشاہ سلامت کو وطن آنے کا موقع مل گیا ۔
بادشاہ سلامت پھر سے نئی امنگ ‘ترنگ کے ساتھ اپنے مشن پر چل نکلا‘ حیرت کی بات ہے کہ جلاوطنی کے دوران بھی بادشاہ سلامت کی تجوریوں کوہجم بڑھتا رہا اور پھر جب اپنے ملک واپس لوٹا تو پھر تجوریاں کا سائز بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔
سنا ہے کہ بادشاہ سلامت کو رات کے سوتے اورصبح جاگتے ہی سب سے پہلے وزیرخزانہ سے پوچھنے کی عادت پڑگئی کہ ہماری تجوریوں کی روز بڑھتی شرح کی کیفیت کیا ہے‘ایک دن کاواقعہ ہے کہ بادشاہ سلامت اس دن خوشگوار موڈ میں تھے ‘ وزیرخزانہ سے پہلے آنیوالے تمام وزرا نے خوشخبریاں درخوشخبریاں سنائیں ”حضور آپ کا اقبال بلند ہو‘ ملک میں ہرطرف شانتی ہے‘ ہرمردوعورت بچے بوڑھے کی زبان پر آپ کیلئے دعا ہے‘گو کہ عوام کے جسم پر کھال ہی باقی رہ گئی ہے ‘خون ہم نچوڑ چکے ہیں لیکن عوام خوش ہیں کہ چلو آپ کے زیرسایہ جینے کا موقع تو مل گیا ہے“بادشاہ سلامت ہیں کہ ان کی باچھیں کھلی جارہی ہیں ‘اچانک وزیرخزانہ کی آمد ہوئی اور ان کے مرجھائے چہرے نے بادشاہ سلامت کو پریشان کردیا‘ پتہ چلا کہ آج تجوریوں میں اس قدر خزانہ نہیں بھراجاسکا جس کی بادشاہ سلامت کو امید تھی۔
بادشاہ کاجلال عروج پر پہنچ گیا‘ حکم جاری کیا کہ عوام سے سانس لینے کاٹیکس لیاجائے اور یہ ٹیکس ہرچھوٹے بڑے سے لیناہوگا ‘پھر حکم جاری ہوا کہ اگر یہ ٹیکس کم پڑے تو سارے جانداروں سے ٹیکس وصول کرو“ ایک وزیر باتدبیر نے پوچھا ” حضور!جاندارکیسے ٹیکس دینگے؟“ جواب ملا کہ انہیں ذبح کرکے ان کا گوشت عوام کو بیچو اور کھال بیچ کر قومی خزانے میں رقم جمع کرائی جائے۔ سارے وزرا پریشان ہوگئے ‘ بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا ”دھیان میں رکھنا کھوتے گھوڑے کی تمیز نہ ہو‘ سارے کے سارے جاندار ہی اس کی زد میں آنے چاہیں“
مورخ کے قلم سے مزید کچھ بھی لکھاجاسکتا تھا لیکن لگتا ہے کہ اس کے بعد مورخ حرام جانور کا گوشت کھاتے ہی پھر اگلی دنیا کے سفر پرروانہ ہوگیاتھا یا یہ بھی ہوسکتاہے کہ اسے بادشاہ کے خاص رتنوں میں جگہ مل گئی ہواوراس نے باقی کی تاریخ ادھوری چھوڑ دی ہو‘ تاہم اس ملک کے باسی اس کے بعد صومالیہ نامی ملک کو بھی مثال میں پیچھے چھوڑ گئے تھے۔

نوٹ:یہ کہانی تصوراتی ہے ‘کسی قسم کی مشابہت پر راقم الحروف ذمہ دار نہیں ہوگا
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد ثقلین رضا کے بدھ مئی کے مزید کالم