با صلاحیت پاکستانی

جمعہ مئی    |    خالد ارشاد صوفی

مئی کا موسم اور اوپر سے پاناما لیکس پر سیاست کی گرما گرمی۔ ایسے میں پاکستانی نژاد ڈرائیور کے بیٹے صادق خان کے لندن کا میئر بن جانے کو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ چلیں مہنگائی‘ بے روزگاری‘ دہشت گردی اور سیاست دانوں کے جھوٹے وعدوں کے ستائے ہوئے عوام کو کوئی تو اچھی خبر ملی۔ بیرون ملک پڑی رقوم کے واپس آنے اور اس ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے میں لگتا ہے ابھی کچھ وقت ہے کیونکہ وزیر اعظم کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر‘ جو دراصل اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سات سوالات کے جواب تھے‘ حزب مخالف کو پسند نہیں ہوئی ‘ یوں لگتا ہے کہ یہ ڈرامہ ابھی مزید کچھ عرصہ چلے گا۔
جب تک اس سے بڑا کوئی ڈرامہ سامنے نہیں آ جاتا۔

(خبر جاری ہے)

احتساب احتساب کا شور ہے ‘ لیکن کوئی سنجیدہ ہو تب ناں! ورنہ تو قوانین بھی موجود ہیں اور سزاؤں کا تعین بھی کر دیا گیا ہے۔ چلیں سزائیں نہ بھی ملیں تو اس غریب قوم کا لوٹا گیا پیسہ تو اسے واپس ملنا چاہئے۔ لاہور کا درجہ حرارت پہلے ہی 42سینٹی گریڈ سے اوپر جا چکا ہے‘ اس لئے ہم سیاست کی گرما گرمی پر بات نہیں کریں گے‘ بلکہ یہ دیکھیں گے کہ صادق خان کی طرح کے اور کتنے لوگوں نے مغرب میں پاکستان یا برصغیر کا نام روشن کیا۔


یہ حقیقت ہے کہ صادق خان لندن کے تو پہلے مسلمان میئر ہیں لیکن وہ یورپ میں پہلے نہیں ہیں۔ البانیا کے شہر ترانہ کے میئر مسلمان ہیں اور ان کا نام ہے ایری اون ویلیاج۔ ان کی عمر اس وقت 36سال ہے اور وہ البانیہ کے شہری ہیں۔روٹرڈیم کے میئر بھی مسلمان ہیں اور ان کا نام احمد ابوطالب ہے۔ کوسوو کے دارالحکومت کا نام پریسٹینا ہے اور اس شہر کے میئر شیفنڈ احمدی بھی مسلمان ہیں۔
دوسرے ممالک میں پاکستان کا نام روشن کرنے والوں میں ایک ڈاکٹر نرگس ماولوالہ بھی ہیں۔
وہ اس ٹیم کا حصہ تھیں‘ جنہوں نے انسانی تاریخ میں پہلی بار سپیس ٹائم میں لہروں کا مشاہدہ کیا۔ ان لہروں کو گریوی ٹیشنل ویوز کہا جاتا ہے اور ان کی دریافت سے 1915میں پیش کی گئی آئن سٹائن کی تھیوری آف ریلیٹیوٹیtheory of relativityثابت ہو گئی۔ اسے اردو میں نظریہ اضافیت کہا جاتا ہے۔ آکسفورڈ ڈکشنری میں نظری اضافیت کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے: ”کائنات کی تمام حرکات اضافی ہیں نیز یہ کہ روشنی کی رفتار حرکت سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ مستقل رہتی ہے۔
مزید برآں وقت چوتھی جہت کے تسلسل کا نام ہے“۔ یہاں مقصود نظری اضافیت کی تصدیق کرنا نہیں بلکہ یہ حقیقت آشکار کرنا مطلوب ہے کہ ڈاکٹر نرگس کا تعلق پاکستان سے ہے۔ وہ کراچی میں پیدا ہوئیں اور اپنی سکول کی تعلیم یہیں سے حاصل کی۔ امریکہ شفٹ ہونے سے پہلے وہ کراچی میں جیزز اینڈ میری کانونٹ (عیسائی راہباؤں کے زیر انتظام چلنے والا سکول) بھی جاتی رہیں۔ اس طرح ڈاکٹر نرگس ماولوالہ وہ پاکستانی ہیں‘ جنہوں نے بیرون ملک اپنے ملک کا نام روشن کیا۔

فیشن اور ڈیزائننگ کی دنیا میں محمود بھٹی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ محمود بھٹی1977میں لاہور سے پیرس گئے اور سب سے پہلے ایک بوتیک پر مختلف حیثیتوں میں کام کیا‘ پہلے کلینر کے طور پر‘پھر پیکیجر کے طور پر اور پھر سیلز مین کے طور پر۔ تین سال بعد‘ 1980میں محمود بھٹی نے پیرس میں اپنا کاروبار شروع کرنے اور فیشن انڈسٹری میں اپنا کیریئر بنانے کا قصد کیا اور ایک چھوٹا سا آؤٹ لیٹ بنا لیا۔
کچھ ہی عرصے میں اس کا بزنس پھیلنے لگا اور آج پانچ سو سے زیادہ ڈیزائنر اس کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ اس کی کروڑوں ڈالر کمانے والی کمپنی ” بھٹی“ کے نام سے دنیا بھر میں اپنی مصنوعات فروخت کر رہی ہے۔ پاکستان کے اس سپوت نے اتنی ترقی کی کہ آج پوری دنیا اسے جانتی ہے ۔ ” بھٹی“ کی دس مختلف ممالک میں شاخیں قائم ہیں۔
ضیا محی الدین کا نام بھی ان پاکستانیوں میں شمار ہوتا ہے‘ جنہوں نے بیرون ملک پاکستانی ٹینلٹ کے جھنڈے گاڑے اور اداکار‘ پروڈیوسر‘ ڈائیریکٹر اور ٹیلی وژن براڈکاسٹر کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
انہوں نے پاکستانی کے علاوہ متعدد برطانوی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے‘ جن میں لارنس آف عریبیا‘ سیمی گوئنگ ساؤتھ‘ بی ہولڈ پیل ہارس‘ ڈیڈلیئر دین میل‘ خرطوم‘ دے کیم فرام بی یانڈ سپیس‘ ورک از اے فور لیٹر ورڈ‘بمبے ٹاکیز‘ مجرم کون‘ آشانتی‘ دی آسام گارڈن‘ امیکیولیٹ کانسیپشن۔ انہوں نے برطانیہ کے کم از کم چودہ ٹی وی سیریز اور سیریلز میں کام کیا۔ انہیں پاکستان میں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا جبکہ انہوں نے بیرون ملک بھی بہت سے ایوارڈ حاصل کئے۔

لارڈ نذیر احمد کا تعلق میرپور سے ہے۔نذیر احمد ابھی گیارہ برس کے تھے کہ ان کے والدین کے برطانیہ سفٹ ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ جانا پڑا۔ انہوں نے اپنی باقی تعلیم برطانیہ سے ہی حاصل کی۔ انہوں نے برطانیہ میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز1990میں کیا اور 1993میں لوکل لیبر پارٹی کے کونسلر اور ساؤتھ یارک شائر میں لیبر پارٹی کے چیئرمین بنے اور 2000تک اس عہدے پر برقرار رہے۔ وہ روتھرہام کے پہلے مسلمان کونسلر بنے اور اس علاقے کے سب سے کم عمر میجسٹریٹ۔
1998میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی ہدایت پر انہیں برطانوی ہاؤس آف لارڈز کا رکن بنا لیا گیا۔ انہوں نے 2013میں برطانوی لیبر پارٹی سے استعفیٰ دے دیاتھا۔
چودھری محمد سرور 1952میں فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔1970میں وہ سکاٹ لینڈ چلے گئے‘ جہاں انہوں نے کیش اینڈ کیری کا بزنس شروع کیا اور جلد ہی ایک کامیاب بزنس مین بن گئے۔ اس کے بعد چودھری محمد سرور نے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور گلاسگو سنٹرل سے لیبر ممبر آف پارلیمنٹ رہے۔
2010میں وہ بیرون ملک سیاست سے ریٹائرڈ ہو گئے اور اپنی برطانوی شہریت ختم کر کے پاکستان آ گئے۔ وہ اگست 2013سے فروری 2015تک پنجاب کے گورنر رہے اور پھر اپنے اس عہدے سے مستعفی ہو کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے اور آج کل اس پارٹی کے پنجاب کے آرگنائزر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
پھر موسیٰ فیروز ہیں جنہوں نے آسٹریلیا میں منعقدہ آن لائن ورلڈ میتھے میٹکس مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ طالب علم شایان انیق اختر ہیں جنہوں نے مائیکرو سافٹ پروفیشنل سرٹیفکیٹ پروگرام میں 1000میں سے 998نمبر لے کر ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔
شرمین سبید چنائے کو کون بھول سکتا ہے‘ جنہوں نے پاکستان کے لئے دو آسکر ایوارڈ حاصل کئے۔ ایسی سینکڑوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ یہ چند نام پیش کرنے کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں‘ لیکن یہاں ان کو بوجوہ وہ مواقع نہیں ملتے۔ علامہ اقبال نے بالکل درست کہا تھا :
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
یہ مٹی واقعی بڑی زرخیز ہے۔
بس ذرا سے نم کی ضرورت ہے۔ جہاں اسے یہ نم مل جاتا ہے وہاں یہ اپنے جوہر دکھاتی ہے۔ ہمارے ملک میں برین ڈرین کی باتیں تو بڑے شدو مد کے ساتھ کی جاتی ہیں‘ لیکن کبھی کسی سیاست دان‘ کسی حکمران‘ کسی حکومت‘ رفاہ عامہ کے کسی ادارے‘ کسی حکومت نے اس برین ڈرین کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔حکمرانوں کو پانامہ لیکس جیسے ٹوپی ڈراموں‘ واک آؤٹوں اور ایک دوسرے پر کیچڑ ااچھالنے سے فرصت ملے تو وہ اس بارے میں کچھ سوچیں کہ یہ ٹیلنٹ جو باہر جا کر پنپتا‘ پھولتا پھلتا اور اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے‘ یہ اگر پاکستان میں ہو تو اس کے ترقی کرنے کی رفتار کتنی بڑھ جائے!مئی کے موسم کی طرح پاناما لیکس کی گرماگرمی بھی ختم ہو جائے گی‘ لیکن یہ کسک دل اور ذہن میں کہیں اٹک سی گئی ہے کہ ہم اپنے ٹیلنٹ کو اپنے لئے محفوظ کرنے‘ اس کی نشوونما کرنے اور برین ڈرین روکنے کے لئے کچھ نہیں کر پا رہے!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

خالد ارشاد صوفی کے جمعرات مئی کے مزید کالم