مردم شناسی

پیر مئی    |    عبدالرحمن

اللہ رب العزت کی بنائی کائنات کی بستی میں انسان اس کی خوبصورت ترین تخلیق ہے ۔گو کہ انسان بذات خود ایک شاہکار تخلیق ہے مگر اس کے باوجود کائنات میں بکھرے ہوئے رنگ،،،قدرتی حسن وجمال انسان کی سب سے بڑی کمزوری ثابت ہوئی ہیں ۔چاند کو مسخر کرناہو،،،مریخ پہ کمند ڈالنے کی تیاری کرنی ہو،،،سمندر کی گہرائیوں میں پائے جانے والے رازوں سے پردہ اٹھانا ہو یا بلیک ہول کے افسانوں کا سراغ لگانا ہو،،،پہاڑوں کی بلندیوں کی وجوہات جاننا ہوں یا زمین کے پھیلاو کے مقاصد بیان کرنا ہوں،،، انسان لمحہ لمحہ بے چین اور بے قرار دکھائی دیتا ہے ۔
فطری اصولوں کی سمجھ بوجھ حاصل کرنا یا فطری حسن و جمال کی کھوج لگانا انسان کا خاص حاصہ ہے۔اپنے وجود سے لے کر آج تک انسان اپنے اردگرد بکھری کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے لئے جدوجہد کرتے دکھائی دیتا ہے۔

(خبر جاری ہے)

کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانے والاانسان اپنے اور اردگردکے لوگوں کے حال سے اس حد تک غافل تھا کہ اللہ نے انسان کی اپنی وحی کے ذریعے راہنمائی کی اور اسے مقصد حیات سے آگاہ کیا۔”بے شک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آ چکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھا۔

ہم نے انسان کو مرکب نطفے سے بنایا تاکہ اس کا امتحان لیں پھر ہم نے اس کو سننے والا اور دیکھنے والا کر دیا پھر ہم نے اس کو راستہ دکھایا اب یا وہ شکر کرنے والا ہے یا ناشکری کرنے والا یا وہ ہمارے دکھائے ہوئے سیدھے راستے پر چلے گا اور سعادت پائے گا یا کفران نعمت کرے گا اور منحرف ہو جائے گا۔“( سورہ دہر آیت ۱۔ ۲۔۳)۔
مقام افسوس ہے کہ کائنات کے رازوں سے پردہ ہٹانے والا انسان وحی کے ذریعے آنے والی رہنمائی کو فراموش کر کے ایک بار پھر مردم ناشناس بن چکا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ حکمران مردم شناس نہ ہو تومعاشرے کی فلاح و بہبود اورمعاشرتی اصلاح کسی طور ممکن نہیں۔ بیمار معاشروں میں حکمرانوں کامردم شناس نہ ہونا کسی المیہ سے کم نہیںہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں پھیلی زر پرستی کی ہوس ،،کرپشن،،لالچ،،،اور جھوٹی شان و شوکت نے ہمارے معاشرے کو توڑ پھوڑ ڈالا ہے ۔عوام کی آنکھوں میں امید و یاس کے دئیے جلا کے عوامی جذبات سے کھیلنا،،معاملات میں بگاڑ پیدا کر کے ذاتی مفادات کا حصول مردم ناشناس سیاسی دوکانداروں کا شغل بن چکا ہے۔
مادیت پرستی کے سامنے انسانی جذبات پانی کی طرح بہہ گئے ہیں،،بے سہارا لوگوں کی عزت و آبرو تھانوں کی دہلیز پہ پامال ہو رہی ہیں،،،لوٹ کھسوٹ ،،،ذخیرہ اندوزی،،،ملاوٹ ،،،دھوکا دہی،،،فراڈ ،،،قتل و غارت گری معمول بن چکے ہیں ،،،،غریب کے لئے روٹی کے ایک ٹکڑے کا حصول،،،مریض کے لئے اسپرین کی ایک گولی،،،قابل افراد کے لئے میرٹ کا حصول خواب و خیال بن چکے ہیں۔معاشرے کے دھتکارے افراد امید کی آخری کرن لئے ایوان عدل پہنچتے ہی قانون کے دائروں میں پھنس کر اپنی ہی بے بسی کارونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔
معاشرتی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ انسان انسان سے بیگانہ ہو چکا ہے،،،رشتوں کا لحاظ مر گیا ہے،،،دوستیوں کی مثالیں قصہ پارینہ بن چکی ہیں،،، بھائی کے ہاتھوں بھائی کی جان و مال محفوظ نہیں ،،،ہمسائے ایک دوسرے سے پناہ مانگ رہے ہیں،،،سرمایہ دار مزدور کا پیٹ کاٹنے میں لگے ہیں ،،،اب معاشرے میں مزدور ہی بے بس نہیں بلکہ کسی بھی فردکا بس ہی نہیں چل رہا،،،،جھوٹ ،،،طمع لالچ کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے ،،،ایماندار ،،دیانت دار،،نیک ،،پاکباز لوگ منہ چھپائے پھر رہے ہیں۔
نیکی کا معیار بدل گیا ہے ،،،جھوٹ اور سچ کی آمیزش عام ہو چکی ہے،،،رشتوں کا رنگ پھیکا پڑ گیا ہے ،،،ہر طرف تماشہ ہے کہ تھم ہی نہیں رہا۔نت نئی دریافتوں میں لگ کر،،،مادیت پرستی کو خدا تسلیم کر کے انسان انسانیت سے گر چکا ہے ،،اپنی شناخت کھو چکا ہے۔حکمران خود پرستی کے خول سے باہر نکل کر کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتے ۔عوام کے منہ سے روٹی کے نوالے چھین کے آف شور کمپنیاں بنا کر غیر قانونی طور پر رقم بیرون ملک بھجوانے والے حکمرانوں کی سوچ اس وقت تک نہیں بدل سکتی جب تک معاشرے کا ہر فرد مردم شناس نہیں بن جاتا۔
انسانی جذبات ،،،احساسات،،خیالات،اعتقادات کی قدرو منزلت ،،لفظوں کی حرمت کا پاس نہیں کیا جاتا۔مردم شناسی پر کمال حاصل کئے بغیر انسان نہ توخود کو نہ پہچان سکتا ہے نہ ہ اپنے خالق کو پہچان سکتا ہے۔مردم شناس انسان ہی خدا ترس،درد دل رکھنے والا اورہمدرد ہو سکتاہے۔انسانی معاشرے میںمردم شناس انسان ہی پہلی اکائی ہیں جو انسانوں کو جوڑنے،،معاشرے کی اصلاح کرنے اور فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کا سبب بن سکتے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عبدالرحمن کے پیر مئی کے مزید کالم