قوم کی تقدیر پرچھائے مٹی کے مادھو

جمعرات مئی    |    محمد ثقلین رضا

اکثر سنتے آئے ہیں کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں مگربعض بہت ہی سیانے لوگوں کا خیال کچھ مختلف ہے ‘ ان کے مطابق یہ انگلیاں دیکھنے میں برابر نہیں ہیں مگرکھانا کھاتے ہوئے یہ بالکل برابر ہوجاتی ہیں۔ یہ مقولہ اورجوابی مقولہ دونوں ہی پاکستانی سیاستدانوں پر فٹ بیٹھتے ہیں۔ ایک دوسرے کوبرداشت نہ کرنے والے‘ مخالفین کیلئے گلے میں فٹ بھونپو ‘دل میں حسد کی آگ اورزبان پر تیز زہر‘ یہ نشانی ہے پاکستانی سیاستدانوں کی‘ مگر جونہی معاملہ پیٹ کا ہو ‘بس جی اللہ دے اوربندے لے‘ کے مصداق ہرسیاستدان کی زبان پرمٹھاس اور دل میں پیارمحبت کے جلتے دیپ اور گلے میں راگ راگنی الاپتی دکھائی دیتی ہے ۔
معاملہ چونکہ پیٹ کاہوتا ہے اوریوں بھی سوائے چند ایک سیاستدانوں کے‘ الا ماشااللہ سارے سیاستدان اس معاملے میں واقعی ”جس کا پیٹ بڑا اسی کانام بھی بڑا “ کے مقابلے میں شریک ہیں۔

(خبر جاری ہے)

خیر بعض سیانوں نے ہمارے سیاستدانوں کو یہ بھی سبق پڑھایا ہے کہ چاہے سارا ملک لوٹ کرکھاجاؤ اور نشان بھی باقی نہ چھوڑو ‘اس کے بعد ”ہاضمی پھکی “ استعمال ضرور کرنا تاکہ تمہارا بڑھاہواپیٹ خزانے کی لوٹ مارظاہر نہ کرسکے۔

اب بعض لوگوں نے اس ”ہاضمی پھکی “ کیلئے طرح طرح کے مطب خانوں کارخ کرناشروع کردیا‘(ان مطب خانوں کی مزید تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ دور آمریت اوردور جمہوریت میں ان کا رنگ وروپ مختلف ہوتاہے اور ان کے حکما بھی الگ الگ )
چھوڑئیے چھوڑئیے ان پھلجھڑیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے تازہ ترین کھابہ بھی ملاحظہ ہو‘ سنا‘دیکھااوربتایاگیا ہے قومی اسمبلی کے اراکین نے ”اتفاق رائے “ سے اپنی تنخواہوں اور دیگرمراعات میں اضافے کابل جھٹ پٹ منظورکرلیا۔
سناگیا ہے (کیونکہ ایک عام آدمی تو اس کا صرف تصورکرسکتاہے) کہ پہلے اراکین اسمبلی کی تنخواہ 74 ہزار تھی جو اب اس نئے بل کی منظوری کے بعد دو لاکھ کے قریب ہوجائیگی اسی طرح سپیکرقومی اسمبلی‘ چیئرمین سینٹ کی تنخواہ چار لاکھ‘ ڈپٹی سپیکر ‘وائس چیئرمین کی تنخواہ ساڑھے تین لاکھ ہوگی جبکہ ٹی اے ڈی اے (المعروف لٹ پٹ) کی مد میں الگ سے دولاکھ سے زائد رقم ملے گی۔ ہم نے کہا تھا ناں کہ کھاتے وقت پانچوں انگلیاں برابر ہوجاتی ہیں۔
عملی نمونہ بھی سامنے آگیا کہ جس بھی ”جی دار “رکن اسمبلی نے تجویز دی یا جس نے تائید کی ‘ پتہ نہیں ان کا تعلق کس جماعت سے تھا ۔ویسے حیرت تو تحریک انصاف کے اراکین پرہوئی کہ ہرمعاملے میں ”میں نہ مانوں“ کی رٹ لگانے والے اس معاملے میں ”آمنا وصدقنا“ کی عملی تفسیر بنے دکھائی دیتے تھے۔قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کے اس بل کے حوالے سے طرح طرح کی تجاویز سامنے آرہی ہیں ایک بہت ہی سیانے مگر ان پڑھ شخص کا کہنا ہے کہ سرکارخواہ مخواہ ہی اربوں روپے ان فضول لوگوں پر خرچ کرتی ہے جن کا کوئی کام نہیں ہوتا ۔
ایک رکن اسمبلی پانچ سال میں کروڑوں مفت میں لے اڑتا ہے اگر اس سے پوچھاجائے کہ ان پانچ سالوں میں کیا کیا بل سامنے آئے اوران پر کیا کیا عمل ‘ردعمل رہا‘ آپ کی اس حوالے سے کیا کاوشیں رہیں؟ جس مقصد کیلئے آپ اسمبلی گئے وہ مقصد کس حد تک پورا ہوا؟ یقینا ان سوالوں کے جواب اس ”مٹی کے مادھو“ کے پاس نہیں ہونگے۔ کیونکہ الاماشااللہ ہماری اسمبلی ایسے ”مٹی کے مادھوؤں“ سے بھری ہوئی ہیں۔
جو اول تو اسمبلی آنا گوارہ نہیں کرتے اگر کبھی بھولے سے آبھی جائیں تو حاضری لگانے کے بعد فشوں ‘ یہ توخیرپانچوں اسمبلیوں کے ارکان کا مشترکہ طرز عمل ہے ۔ ایسا ہونا اس لئے بھی لازمی ہے کہ ہمارے ملک کے پردھان منتری اورسب سے وڈی سرکار نے بھی آٹھ مہینے کے بعد اسمبلی ایوان میں آنے کی زحمت کی۔
دنیا بھر میں ہرجگہ ایک فارمولہ طے ہوتا ہے کہ کسی بھی سرکاری یا نجی کمپنی میں ملازم رکھتے وقت اسکے اوقات کار ‘ قوانین کے ساتھ ساتھ تنخواہ طے کی جاتی ہے اورپھر اسی اوقات کار کے مطابق فرائض کی انجام دہی ملازم پر فرض ہوتی ہے ۔
ظاہر ہے کہ اگر کمپنی کو وہ ملازم اس تنخواہ کے اعتبار سے فائدہ مند لگے تو وہ ملازم رہ سکتا ہے بصور ت دیگرچھٹی۔ اب خدا کے واسطے ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر اوراپنے اندر جذبہ حب الوطنی جگاکر جواب دیجئے کہ ان تین سالوں میں پانچوں اسمبلیوں کے ”مٹی کے مادھوؤں“ کی بدولت قوم یا ملک کو کس قدر فائدہ پہنچا‘ ایک پلڑے میں ان پر اٹھنے والے اخراجات کو رکھ دیجئے اوردوسری طر ف ان کی بدولت ملک وقوم کو ملنے والے فائدوں کا وزن رکھ کرتول لیجئے ‘خود اندازہ ہوجائیگا کہ سود وزیان کا سودا صرف ملک وقوم کے ساتھ ہی کیوں ہوتاہے؟ فیکٹریوں کی ایک پوری چین کا مالک اس ملک کاکرتادھرتا ہے اسے بھی بخوبی علم ہے کہ اسی شخص کو ہی فیکٹری ملازم رکھاجاسکتاہے جو فیکٹری اورمالک کیلئے فائدہ مند ہویعنی تنخواہ حلال کرنا جانتا ہے مگر حیرت کے ان کااپنے کاروبار کے معاملے میں الگ اور ملکی معاملے میں الگ فارمولہ ہے
خیر ایسے کئی دل جلے کئی قسم کی پھبتیاں کستے دکھائی دیتے ہیں مگر ان ”ہانہہ سڑیوں “ کاکچھ فائدہ نہیں کیونکہ ہونا وہی ہے جو ”مٹی کے مادھوؤں“ کو بنانے والے ہاتھ چاہیں گے۔
یعنی کمہار کاہاتھ چاک کے اوپر رقص کناں ہے اور نیچے پاؤں گردش میں ہیں ‘ہاتھ کی منشا جیسی بھی ہوگی ویسی ہی شکل سامنے آجائیگی۔ فی الوقت وقت کا کمہارچاہتا ہے کہ ایسے ہی ”مٹی کے مادھو“ اس قوم کا مقدر رہیں ۔ سو قوم بھگت رہی ہے ان مٹی کے مادھوؤں کو‘
ایک اوردل جلے کا مشورہ ہے کہ پانچوں اسمبلیوں میں بیٹھے ان مٹی کے مادھوؤں کی بجائے اگر آئینی‘ معاشی ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دیدی جائے جس کاکام وزیراعظم کومشورے دیناہو‘ یہ ٹیم ہرمعاملے میں وزیراعظم کی معاون ہوگی ایسا ہی صوبوں میں بھی ہوناچاہئے تاکہ فرد واحد فیصلوں میں آزاد نہ ہو اور نہ ہی مٹی کے مادھو قوم کی تقدیر اور مستقبل سے یونہی کھیلتے رہیں ۔ یعنی جس میں جتنا دم ہوگا اتنا ہی اسے پروٹوکول ملے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد ثقلین رضا کے جمعرات مئی کے مزید کالم