پاکستانی ہندو

پیر مئی    |    شاہد سدھو

یہ مئی دو ہزار گیارہ کا ذکر ہے۔ راقم بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں تھا ۔ایک روز دورانِ گفتگو میرے ایک میزبان شرما صاحب کی اہلیہ نے پوچھا کہ ” آپ کے سندھ صوبے میں ان دنوں لاء اینڈ آرڈر کا شاید سیریس مسئلہ ہے “۔ میں اس سوال کو روٹین کا سوال سمجھا اور ہوں ہاں میں جواب دیا ۔ مگر انکا اگلا جملہ میرے لئے کافی حیران کن تھا، بولیں ، ” بہت سی فیملیز مائیگریٹک کر کے اندور بھی آئی ہیں“۔
میں ابھی حیران ہی ہورہا تھا کہ شرما جی نے فوراً یہ کہتے ہوئے موضوع بدل دِیا کہ وہ اور مسئلہ ہے اور بات کو گھما کر دوسری طرف لے گئے۔ اُسی شام میں نے ایک مسلمان دوست مجید بھائی سے اِس بات کا ذکر کِیا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے صوبہ سندھ سے بہت سے ہندو خاندان نقل مکانی کرکے اندور آئے ہیں اور پناہ گزین کیمپ میں مقیم ہیں۔

(خبر جاری ہے)

ان پاکستانی ہندووٴں کے مطابق پاکستان میں ان کا جینا مشکل بنا دیا گیا ہے، اسلئے یہ ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔

اندور شہر میں چونکہ انیس سو سینتالیس میں بھارت ہجرت کرجانے والے سندھی ہندووٴں کی کافی بڑی تعداد آباد ہے، اسلئے نقل مکانی کرنے والے پاکستانی ہندووٴں نے بھی یہاں کا رُخ کیا ہے ۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ سلسلہ صرف اندور تک محدود نہیں ہے بلکہ بھارت کے کئی دیگر شہروں بشمول، راجکوٹ، احمد آباد، جے پور، دہلی، پونے، ممبئی میں بھی پاکستان سے پچھلے چند سالوں میں ہجرت کرنے والے پاکستانی ہندو مقیم ہیں۔
سندھ سے ہندووٴں کی بھارت ہجرت کے سلسلے میں تیزی دو ہزار آٹھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد آئی۔ لبرل قرار دی جانے والی پیپلز پارٹی اقلیتوں کے تحفظ میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔ پورا اندرون سندھ گزشتہ کئی برسوں سے بد امنی کا شکار ہے۔ زیادہ تر ہندووٴں نے دادو،گھوٹکی، ڈہرکی، خیرپور، لاڑکانہ، جیکب آباد کے اضلاع سے نقل مکانی کی ہے۔ سندھ سے ہجرت کرنے والے ہندو ، اغوا برائے تاوان، بھتہ، ڈکیتیوں اور ہندو لڑکیوں کے اغوا اور ان سے مسلمان لڑکوں کی جبری شادیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کو اپنی ہجرت کی وجوہات بتاتے ہیں۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان مہاجر ہندووٴں نے کہیں بھی یہ شکایت نہیں کی کہ ان کے مذہب بدلنے کی کوئی کوشش ہوئی یا کسی مذہبی جماعت یا گروہ نے ان پر اِس سلسلے میں دباوٴ ڈالا۔ ان ہندووٴں کی اکثریت سندھ کے ڈاکو راج کی شکار ہے جو وڈیروں کی سر پرستی میں عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنائے ہوئے ہے۔ ڈاکووٴں کے سر پرست سیاستدان وڈیرے بلا کسی خوف و خطر کے اندرون سندھ کے کئی اضلاع میں اپنی حکمرانی قائم کئے ہوئے ہیں۔
متمول افراد بشمول ہندو برادری کے افراد کا اغوا معمول بنا ہوا ہے۔ان سیاستدان وڈیروں کی بھتہ خوری بھی عروج پر ہے۔لوگوں کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو دن دھاڑے چھین لیا جاتا ہے اور پھر ان کی واپسی کے لئے بھاری بھتہ طلب کیا جاتا ہے۔ اس سارے معاملے کو دو آتشہ اندرون سندھ کی پیر گردی نے بنایا ہوا ہے۔ طاقتور سیاسی پیر جونکوں کی طرح عوام سے چمٹے ہوئے ہیں اور ان کا خون نچوڑ رہے ہیں۔ یہ نام نہاد پیر ، مریدوں سے بھاری چندے تو اینٹھ ہی رہے ہیں، ساتھ ساتھ ڈاکووٴں کے گروہ بھی پال رہے ہیں۔
اغوا شدہ ہندو لڑکیوں کے مسلمان لڑکوں سے نکاح کا کام ان کی ہی سر پرستی میں ہورہا ہے۔ ستم ظریفی کی بات ہے کہ اگر کوئی مسلمان لڑکی ، کسی مسلمان لڑکے سے اپنی مرضی سے نکاح کی مرتکب ہوتی ہے تو اکثر کاری قرار دے کر موت کی حقدار ٹھہرائی جاتی ہے۔ قابل غور ہے کہ سندھ کے ہندووٴں کی بھارت نقل مکانی کا مسئلہ اب بھارتی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں بھی اٹھایا جانے لگا ہے۔ صرف اندور شہر میں پاکستانی ہندوں مہاجرین کی تعداد بیس ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔
بی جے پی کی حکومت ان ہندووٴں کو بھارتی شہریت دینے کے پراسیس کا آغاز کر چکی ہے۔پاکستان کے شہریوں کی اس بڑی تعداد میں نقل مکانی ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس سے قبل عیسائی اور دیگر اقلیتی افراد کے تھائی لینڈ اور سری لنکا میں پناہ لینے کے واقعات بھی رپورٹ ہوچکے ہیں، لیکن ان لوگوں میں سے اکثریت معاشی ہجرت کرنے والوں کی ہے جو دیگر پاکستانی مسلمانوں کی طرح ملازمتوں کی تلاش میں غیر قانونی طور پر دوسرے ممالک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان کے اقلیتی شہریوں کا تحفظ یقینی بنا چاہئیے۔اس سلسلے میں فوری طور پر اندرون سندھ میں ہندو برادری کو اعتماد لے کر ان کے تحفظ کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہد سدھو کے پیر مئی کے مزید کالم