سودخورخداسے ڈریں

بدھ جون    |    عمر خان جوزوی

بیٹا تو ایک اور بھی تھا لیکن ماں باپ کو سب سے زیادہ لاڈمناسے تھا۔مناکا مختصر سا خاندان گاؤں میں ہمارے گھر کے قریب بلکہ پڑوس میں آباد تھا۔ گاؤں کے دیگر لوگوں کی طرح مناکے والد بھی کھیتی باڑی کرکے کسی نہ کسی طرح زندگی کا نظام چلانے کی کوشش کرنے میں مصروف تھے۔منا کے دوسرے بھائی جو عمر میں اس سے بڑے تھے بسلسلہ روزگار بیرون ملک سعودی عرب میں مقیم تھے۔ حد سے زیادہ لاڈ اور پیار نے منا کو سکول اور مدرسے سے بہت دور کر دیا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ پھر والدین کی ڈانٹ ڈپٹ اور مار کٹائی کے باوجود مناکے معصوم قدم کبھی ایک دن بھی سکول و مدرسے کی طرف نہ بڑھے۔ وقت گزرتا گیا منا کی عمر چودہ پندرہ سال تک پہنچ گئی مگر قلم و کتاب کے ساتھ منا کا رشتہ پھر بھی نہ جڑ سکا۔

(خبر جاری ہے)

منا کو تعلیم سے روشناس کرانے کے جب تمام حربے ناکام اور کوششیں بے سود ثابت ہوئیں تو گھر کے درودیواروں سے مستقبل سے بے فکرمنا پر لعن و طعن کی چھوٹی چھوٹی کنکریاں آہستہ آہستہ برسنے لگیں۔

والدین کے لاڈو محبت کے بدلے اپنی انا ۔۔ غفلت ۔۔ لاپرواہی اور جاہلیت کی انتہاء دیکھ کرپھر منا کا سر بھی آہستہ آہستہ شرم سے جھکنے لگا۔ سکول و مدرسے نہ جانے کی قسم نے منا کو پھر اپنے ہی گھر میں اجنبی سا بنا دیا تھا ۔ اولاد اولاد ہوتی ہے۔ بیٹا ہو یا بیٹی ۔ چاہے بیٹا کتنا برا اوربیٹی کتنی بری کیوں نہ ہو والدین کو پھر بھی ہر چیز سے زیادہ ان سے محبت اور ان ہی کی فکر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے والدین نے منا کو سمجھانے اور تعلیم سے روشناس کرانے کیلئے منت سماجت اور آؤ بھگت سمیت ہر قدم اٹھایا مگر منا سکول جانے کی بجائے ایک دن کراچی پہنچ گیا۔
اس وقت حالات ایسے تھے کہ گاؤں یا شہر میں جوبھی کوئی شخص بے روزگار ہوتا تو وہ روزگار کی غرض سے کراچی جاتا ۔آج بھی لوگ محنت مزدوری کیلئے شہر قائد کا رخ کرتے ہیں لیکن اس وقت کراچی جانے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی تھی۔ جب سے کراچی کے حالات خراب ہوئے ہیں۔ اس کے بعد سے اکثر لوگوں نے اس طرف سے رخ ہی موڑ لیا ہے۔ خیرمناسکول تو نہ گیا پر کراچی پہنچ گیا۔منا نے کراچی میں جتنے مہینے اور دن گزارے وہ بھی بڑے لاڈ سے گزارے۔
قلم کتاب کی طرح کسی کام کوبھی توہاتھ لگایا نہیں مگر گھر سے کوسوں دور شہر قائد میں زندگی کے شب و روزعیش وعشرت سے گزار ے۔کراچی میں قیام کے دوران منا کی علاقے کے ایک سود خور سے ملاقات ہوئی، وہ سود خور منا کیلئے تو سونے کی چڑیا ثابت ہوئے لیکن اس سود خور نے منا کے غریب والدین اور گھر والوں کیلئے کڑی آزمائش۔۔ مشکل امتحان اور ایک بہت بڑی مصیبت کیلئے جو سامان فراہم کیا اس نے پھر ایک نہیں کئی آنکھوں کو نم اور دلوں کو زخموں سے چور چور کیا۔
دنیا کی ہر فکر و قید سے آزاد اور بوڑھے والدین سے بے فکر منے کو تو آرام و سکون سے زندگی کے شب و روز گزارنے کیلئے کراچی میں صرف اور صرف نوٹوں کی ضرورت تھی وہ بھی سود خور نے پوری کر دی ۔مناجب تک کراچی میں رہااس سودخورنے اس کابڑاخیال رکھا،جیب خالی ہونے سے پہلے وہ اس کی جیب میں نوٹ پھینکتا۔مطلب سودخورنے منے کے جیب کوکبھی فقروفاقے کامحتاج نہیں ہونے دیا۔منے کوبھی ادھر ہمارے حکمرانوں کی طرح بیٹھے بیٹھے موج مستی اورعیش وعشرت کی بیماری نے گھیررکھاتھاجس کی وجہ سے وہ سودخورکے شکنجے اورجال میں روزبروزدھنستاگیا۔
کچھ مہینے بعدتومناکراچی سے گاؤں واپس آگیالیکن اس وقت پھربہت دیرہوچکی تھی ۔وہ سودخوراپناکام کرگیاتھا۔سودخورنے منے کوکتنے پیسے دےئے تھے اس کے صحیح فگر ،اعدادوشمارکاتواوروں کوکیامنے کوبھی کوئی پتہ نہیں تھالیکن منے کے غریب اوربوڑھے والدین کے پاؤں کے نیچے سے تواس دن زمین ہی نکل گئی جب سودخورنے گاؤں پہنچتے ہی لاکھوں روپے کی دعویداری کردی ۔پوچھنے والوں نے سودخورسے جب یہ سوال کیاکہ منے نے چندمہینوں میں اتنے پیسے کیسے کھائے۔
۔؟تواس کاجواب تھاکہ یہ سارے اس نے نہیں کھائے۔۔؟دویاتین لاکھ بتائے کہ یہ مناکھاگیاہے باقی سودلگاکے ٹوٹل اتنے بنتے ہیں ۔گاؤں کے وہ غریب لوگ جوکھیتی باڑی اوردیگرمحنت مزدوری کرکے زندگی کی گاڑی کوکسی طرح آگے دھکیلتے ہیں ان کے لئے لاکھوں کی رقم کوئی چھوٹی اورمعمولی شئے نہیں ۔پھرسودخوربھی کوئی شریف اورانسان کابچہ نہیں تھا۔یہی وجہ تھی کہ منے پر لاکھوں کی اس دعویداری نے منے کی ماں کی کمرتوڑکراسے چارپائی تک محدودکردیا۔
ادھرسوچ سوچ سے منے کے باپ کی زندگی بھی اجیرن سی ہوگئی۔سودخورکی جانب سے لاکھوں کی یہ دعویداری توان دونوں پرآسمانی بجلی بن کرگری تھی ۔یہ لمحات ان کیلئے دنیامیں کسی قیامت سے کم نہیں تھے ۔منے کے غریب با پ نے بہت سوچ بچارکی مگرکوئی حل نہ نکلا۔آخرحالات کے ہاتھوں مجبورہوکرمنے کے بدقسمت باپ نے دل پرپتھررکھ کر اپنی اس زمین جس کووہ اپنے خون پسینے سے سیراب کرتے تھے اس کاایک حصہ بیج کرسودخورسے جان چھرائی ،اس واقعے نے منے کی ماں کودیوارسے لگادیاوہ پھرچارپائی سے کبھی اٹھ نہ سکی ۔
سودکی اسی لعنت کے ہاتھوں ایڑھیاں رگڑرگڑکروہ قبرمیں اترگئی۔باپ بھی دل پربری طرح چوٹ لگنے سے تیلی بن کررہ گئے۔ہنستابستاگھرچنددنوں میں سودکے ہاتھوں اجڑگیا۔سودکی اس لعنت نے نہ جانے اس طرح کے اورکتنے ہنستے بستے گھراجاڑے ہونگے۔۔؟سودکے ہاتھوں نہ جانے روزانہ کتنے لوگ غم والم اورکرب سے گزرکرقبرمیں اترتے ہونگے۔۔؟ایبٹ آبادکے معروف تاجرشیخ اکرام میرے عقیدت مندوں میں سے ایک ہیں ۔آج کل تووہ گولڈ(سونے ) سے کھیلتے ہیں مطلب سونے کاکاروبارکرتے ہیں لیکن آج سے بیس پچیس سال پہلے جب اس کی عام اشیاء کی ایک بہت بڑی دکان تھی جس سے ان کاگزارہ خانوں اورنوابوں کی طرح اچھے طریقے سے چل رہاتھایہ اس وقت کی بات ہے ۔
شیخ صاحب اخلاق کے اعلیٰ درجے پرفائزہیں جس کی وجہ سے ان سے پہلی بارملنے والاکوئی بھی شخص پھر اس کادوست ،مریداورعقیدت مندبننے بناء نہیں رہ سکتا۔وہ الگ بات ہے کہ ہمارے سرکش قلم نے انہیں ہماراگرویدہ اورعقیدت مندبنادیاہے۔بہرحال آج کی طرح بیس،پچیس سال قبل بھی شیخ صاحب کے عقیدت مندوں کی کوئی کمی نہیں تھی ۔بدقسمتی سے اس وقت شیخ اکرام کے عقیدت مندوں میں سے تین بینکاربھی شامل تھے جن کاتعلق مختلف بینکوں سے تھا۔
شیخ صاحب کواللہ نے دنیاکی ہرنعمت سے نوازاتھا۔دکان کے ذریعے شیخ صاحب کے گھرکانظام ٹھیک ٹاک چل رہاتھا،گھراوردکان میں ہرطرف برکت ہی برکت تھی ۔والدین ،بہن ،بھائی اوربچے سکون کی زندگی گزاررہے تھے ،رزق حلال کمانے کی برکت سے شیخ صاحب کے گھرمیں دنیاکی تقریباًہرچیزمیسرتھی ۔شیخ صاحب کے دن اوررات بہت اچھے طریقے سے گزررہے تھے ۔خوشیوں کاسفرکامیابی سے جاری تھاکہ نہ جانے اچانک کس کی نظرلگ گئی ۔
۔؟ اسی لئے توکہاجاتاہے کہ وقت بدلنے اوربراٹائم آنے میں دیرنہیں لگتا۔وہ تین عقیدت مند بینکارایک ایک ہوکے شیخ صاحب پر،،برامہربان،، ہوتے گئے۔پہلے ایک نے اپنے بینک کے ذریعے 25ہزارکاقرضہ دلایا،پھردوسرے نے اورآخرمیں تیسرے نے بھی بینک سے 25ہزارکاقرضہ دلوادیا۔شیخ صاحب جوآج بھی بہت سادہ ہیں اس وقت توکمال کے سادہ تھے وہ توسمجھ رہے تھے کہ یہ کوئی عام قرضے ہیں ،جولوگ ایک دوسرے کوکاروباودیگرضروریات کے لئے دیتے رہتے ہیں اسی وجہ سے تواس نے پچیس پچیس کے ساتھ ایک اورپچیس ملاکے کل 75ہزارروپے لے لئے تھے کہ اس سے بھی دکان میں سامان ڈال دیں گے ورنہ ایسی کوئی بات۔
۔مشکل اورپریشانی کوئی نہیں تھی کہ شیخ صاحب کے لئے قرضہ لیناضروری ہوتا۔یہ تووہ عقیدت مندوں کی عقیدت سمجھ کرگناہ کرگیاتھا۔ ان کوکیاپتہ کہ ان قرضوں سے سودکے جراثیم بھی جڑے ہوئے ہیں یہ تواس وقت پتہ چلاسب کچھ ہاتھ سے جانے کے بعدجب شیخ اکرام کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ان قرضوں سے دکان میں سامان توڈالاگیالیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دکان اورمنافع میں اضافے کی بجائے کمی شروع ہوتی گئی۔
قرضے سے لپٹے سودکے جراثیم گھراورکاروبارمیں اس طرح سرایت کرگئے کہ انہوں نے چندماہ میں ہی ہرچیزکودیمک کی طرح چاٹ لیا۔گھراوردکان سے خیروبرکت اٹھ گئی۔۔راحت وسکون کی جگہ پریشانیوں نے ڈیرے ڈال لئے۔خانوں اورنوابوں کی طرح شاہانہ زندگی گزارنے والے شیخ اکرام کے گھرفاقے شروع ہوگئے۔اس سے پہلے کہ گھراورجائیدادسے بھی ہاتھ دھوناپڑتا۔شیخ صاحب بیماری کی جڑپکڑنے میں کامیاب ہوگئے۔۔بینکوں سے جوقرضے لئے تھے وہ انہوں نے واپس کردےئے اوربارگاہ الہٰی میں روروکر اپنے ناکردہ گناہ کی معافی مانگی ۔
سچے دل سے توبہ کیا۔۔گھراوردکان میں سودسے جنم لینے والے جراثیموں کوسودکش اقدامات اورادویات سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا۔سودکی لگنے والی پہلی ٹھوکرہی شیخ اکرام کے لئے آخری ٹھوکرثابت ہوئی۔شیخ صاحب نے اللہ کامبارک اوربابرکت نام لے کرایک بارپھراپنے کاروبارکاآغازکیا۔سودکی نحوست ختم ہوتے ہی شیخ صاحب پردوبارہ نعمتوں اوررحمتوں کی بارش ہونے لگی ۔اللہ نے پھربہت جلدشیخ صاحب کے حالات بدل دےئے۔
کاروباردوبارہ رواں ہوتے ہی شیخ صاحب نے لوگوں کوسودکی تباہی اوربربادی سے بچانے کیلئے اپنے طورپر غریبوں اورضرورت مندوں کوقرضے دینے شروع کئے تاکہ کسی اورپرسودکاسایہ نہ پڑے۔شیخ صاحب کے پاس اب مال ودولت کی کوئی کمی نہیں ۔آج ان کادامن خوشیوں سے بھرا،گھراورجیولری شاپ میں برکت کی روشنی ہرسوپھیلی ہوئی ہے ۔اس واقعے کوبیس تاپچیس سال گزرگئے لیکن بے احتیاطی اورلاپرواہی میں سودکی لعنت سے ان کے دل پرلگے زخم آج بھی تازہ ہیں ۔
جب بھی اس کے سامنے سودکاکوئی ذکرہوتاہے تووہ فوراًماضی کے جھروکوں میں کھوکردونوں کانوں کوہاتھ لگاناشروع کردیتے ہیں ۔سودواقعی تباہی اوربردبادی کے سواکچھ نہیں ۔یہ حلال مال کوبھی گنداکرکے چندلمحوں میں ہڑپ کرلیتاہے۔اسی وجہ سے مسلمانوں کو اس سے دوربہت دوررہنے کی تاکیدکی گئی ہے۔سوداللہ سے اعلان جنگ ہے ۔بھلااپنے رحیم وکریم رب سے بھی کوئی مسلمان اعلان جنگ کرسکتاہے۔ہم توزندہ ہی اسی رب کے حکم سے ہیں ۔
وہ چاہے توایک لمحے میں اس دنیاکوہی ختم کردے ۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی دنیاوآخرت کی کامیابی کی خاطرہی مسلمانوں کوسود سے دوررہنے کاحکم دیاہے ۔مگرافسوس کہ آج ہمیں اصل کامیابی کی فکرہی نہیں ۔اسی وجہ سے آج ہم سودسے دوربھاگنے کی بجائے اس کے پیچھے بھاگتے جارہے ہیں ۔ جولوگ چندپیسے کمانے کی خاطرسودپرسوددیتے ہیں کیاانہوں نے کبھی ایک منٹ کے لئے اس کے انجام کے بارے میں بھی سوچا۔۔۔۔؟ہمارے سامنے ایسے سینکڑوں نہیں ہزاروں واقعات ایسے ہیں کہ جن میں سودخورارب پتی اورکروڑپتیوں سے دھول چھاٹنے اورمٹی کھانے پرمجبورہوئے۔
اس دنیامیں جن لوگوں نے بھی اپنے شفیق ورحیم رب سے بغاوت کرکے سودکوگلے سے لگایاوہ پھرایک نہ ایک دن ضروردنیاکے سامنے ہاتھ پھیلاکر تماشابنے۔میں نے خوداس دنیامیں بڑے بڑے سودخوروں کوبلندیوں سے ذلت ورسوائی کی کھائیوں میں گرتے دیکھا۔انسان کی حرص تو کبھی ختم نہیں ہوتی۔سوروپے پاس ہوتودل کہتاہے کہ ہزارہوتے ۔جب ہزارروپے پاس ہوں تودل بول اٹھتاہے کہ پانچ ہزارہوتے توکیابات ہوتی۔۔اسی سوسے ہزار،ہزارسے لاکھ ،لاکھ سے کروڑاورکروڑسے ارب نے انسان کواپنے اصل مقصدسے دوراورسودکے قریب کردیاہے۔
آج اگرکسی کودس پربیس اورپچاس پرسوملے توکون نہیں لیتا۔۔۔؟یاکون انکارکرتاہے۔۔۔۔؟یہی سوپردوسواورہزارپرپانچ ہزارلیناہی توسودہے ۔مگرکاش کہ انسان اس کوسمجھے۔۔آج کاانسان تواس کوبڑی کامیابی سمجھ رہاہے اسی وجہ سے توآج ہرہاتھ سودکی گندگی سے رنگاہواہے۔ارب پتی اورکروڑپتیوں کابھیک مانگناناکامی۔۔۔۔تباہی ۔۔۔۔بردبادی ۔۔۔۔دنیاکے لئے عبرت نہیں تواورکیاہے۔۔۔۔؟مگرافسوس کہ سودخوروں کواپنی گنہگارآنکھوں سے تماشابنتے دیکھنے کے باوجودہم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔
آج بھی چندلمحوں کی عیش وعشرت اورچندٹکوں کی خاطر سودکوہم نے خودپرلازم کردیاہے۔۔نہ جانے آج اس ملک میں کتنے ایسے بدبخت اورظالم لوگ ہیں جوقرضوں کے جھانسے میں غریبوں کوسودمیں جکڑکران کی دنیاویران اورآخرت تباہ کررہے ہیں ۔جولوگ سودکوکاروبارکادرجہ دیتے ہیں ان کے دن کاچین اوررات کاسکون بھی غارت ہوجاتا ہے ۔ان کے چہروں سے نورانیت ختم اوردل سے ایمان کے اثرات تک زائل کردےئے جاتے ہیں ۔انسان اگرسودسے ہونے والی تباہی وبردبادی پرصرف ایک منٹ کے لئے بھی سوچے توکبھی سودکے قریب بھی نہ جائے۔
مگردنیاکے نشے اورمال ودولت کی حرص نے انسان کی آنکھوں پرایسی پٹی باندھ رکھی ہے کہ انسان آنکھوں کے ہوتے ہوئے بھی اندھادکھائی دیتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ دن کی روشنی میں بھی تباہی کی طرف جاتے ہوئے انسان کواپنی تباہی وبردبادی پھرنظرنہیں آتی ۔سودنے آج ہمارے اس معاشرے کواندراندرسے کھوکھلاکردیاہے۔لوگ سودلے اوردے کرایک دن توعیاشی کرلیتے ہیں لیکن اس کے بعدان کے ساتھ جوکچھ ہوتاہے اس کے بارے میں سوچ کربھی انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔
ہمیں اس معاشرے۔۔ملک اور قوم کوتباہی وبردبادی سے بچانے کے لئے سودکی لعنت کاہرحال میں خاتمہ کرناہوگا۔تاریخ گواہ ہے کی سودلینے اودینے والے دونوں آج تک کبھی کامیاب نہیں ہوئے نہ ہی قیامت تک یہ لوگ کبھی کامیاب ہوں گے ۔سودخوردرحقیقت اللہ کے مجرم ہیں اوراللہ کے مجرم کبھی سکون سے رہ ہی نہیں سکتے۔اس لئے سودخور نہ اس دنیامیں کبھی خوش رہیں گے اورنہ ہی آخرت میں اللہ کے عذاب سے کبھی بچ سکیں گے ۔اللہ کاہرعذاب بہت سخت ہوتاہے ۔سودخوراللہ سے ڈرکراس گناہ سے بازآجائیں ورنہ پھردنیااورآخرت دونوں میں ایک بڑے عذاب کیلئے تیاررہیں۔اللہ ہمیں سودکی لعنت اوراپنے ہرعذاب سے بچائے۔آمین یارب العالمین ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے منگل مئی کے مزید کالم