اور اب قوم کے معمار بھی سڑکوں پر

ہفتہ جون    |    قاسم علی

وطنِ عزیز میں آئے روز احتجاجوں کے نئے سلسلوں کا آغاز ہوجانا اب کوئی اچنبھے کی بات نہیں رہی کبھی ڈاکٹرز تو کبھی نرسیں سڑکوں پر ہوتی ہیں توکبھی کلرکس مال روڈ پر دھرنا دئیے نظر آتے ہیں، کہیں پاکستان کی سب سے بڑی کمیونٹی معذورافراد حق دو یا ماردو کے نعرے لگانے میں مصروف کار ہوتے ہیں تو کہیں کسان حکومت کی جانب سے موثر زرعی پالیسی نہ ہونے اور مسلسل خسارہ برداشت کرنے پر چراغ پا ہوتے ہیں کئی شہروں میں تاجرحضرات حکومتی ٹیکسوں سے نالاں ہوکر شٹرڈاوٴن ہڑتالیں کرتے ہیں تو کہیں عوام ہائے بجلی ہائے روٹی ہائے روزگار کی تختیاں گلوں میں لٹکائے اپنا سر پیٹ رہے ہیں ۔
مگر اب قوم کے جس طبقے نے سڑکوں کا رخ اختیار کرکے ایک اہم مسئلے کی جانب حکومتی توجہ دلانے کی کوشش کی ہے اس نے ہر ذی شعور کو دکھی کردیا ہے کیوں ''استاد ''کا مرتبہ ہی کچھ ایسا ہے ہمارے مذہب اسلام نے تعلیم اور معلم کی اہمیت کو اس طرح بیان کیا ہے کہ باب العلم حضرت علی  نے فرمایا کہ جس نے مجھ کو ایک لفظ بھی سکھایا وہ میرا استاد ہے۔

(خبر جاری ہے)

کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ وہ اپنے محسنوں کو وہ مقام نہیں دیتی جو کہ اس کا حق ہے اور استاد سے بڑھ کر قوم کا محسن کون ہوسکتا ہے ؟جب تک ہماری اقوام اسلام کے زریں اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے استاد کی قدر کرتی رہیں تب تک پوری دنیا سے تشنگان علم اپنی پیاس بجھانے عراق و غرناطہ کا رخ کیا کرتے تھے لیکن استاد کی ناقدری نے ہم کو پستیوں میں دھکیل دیا اب دنیا کی پانچ سو بہترین یونیورسٹیوں میں مسلم ممالک کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں رہ گیاجبکہ دوسری جانب مغرب نے استاد کی قدر کی جس کا نتیجہ بھی سب کے سامنے ہے کہ آئے روزنت نئی ٹیکنالوجی اور نئے نئے فنون میں ان کی مہارت ان ممالک کواوجِ ثریا تک پہنچارہی ہے بعض ممالک میں استاد کو صدرمملکت کی طرح پروٹوکول دیاجاتا ہے پھر قوم کے یہ ہیرو اپنی قوم کو فراموش بھی نہیں کرتے اور دنیا کی بہترین یونیورسٹیاں انہی ممالک میں ہیں ۔

بات ہورہی تھی اساتذہ کے احتجاج کی گزشتہ دنوں اس بارے پرویز اختر مہار سے بات ہوئی جو کہ پاکستان ٹیچرز یونین اوکاڑہ کے صدر ہیں ان کا کہناتھا کہ حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں نے ہمیں احتجاج پر مجبور کیا ہے پاکستان میں تعلیم کا پہلے ہی بیڑا غرق ہوچکا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکوٴستان تعلیم کے لحاظ سے دنیا بھر میں 160ویں نمبر پر ہے حکومت کو چاہئے تھا کہ موثرتعلیمی اصلاحات کے ذریعے اس میں بہتری لاتی مگر کیا یہ جارہاہے کہ پورے کے پورے تعلیمی نظام کو پرائیویٹائز کیا جارہاہے ہے اور پہلے مرحلے میں پانچ ہزار سکول پیف کے حوالے کربھی دئیے گئے ہیں یہ سلسلہ مرحلہ وار جاری رہے گا اللہ بخش قیصر جو کہ پاکستان ٹیچرز یونین پنجاب کے صدر ہیں ایک مخلص شخصیت انہوں نے بھی انتہائی دکھی دل کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ 1973ء کا آئین استاد اور تعلیمی اداروں کو تحفظ دیتا ہے مگر موجودہ حکومت کی نااہلی کے باعث تعلیم ایک کاروبار اور استاد سڑکوں پر خوارہوکررہ گیا ہے انہوں نے بتایا ذوالفقار علی بھٹو نے پرائیویٹ اداروں کو بھی سرکاری بنایا بیشمار ٹیچرز کو بھرتی کیا جس سے تعلیم کا میعار بھی بہتر ہوا اور استاد کو عزت اور روزگار بھی ملا مگر موجودہ حکومت سرکاری اداوٴروں کو پرائیویٹ کرنے پر تلی ہے جس سے نہ صرف تعلیم کا نقصان ہوگا بلکہ بیشمار اساتذہ بھی بیروزگار ہوں گے انہوں نے حکومت پنجاب کے پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے کو مضحکہ خیز قراردیتے ہوئے تین جون کو پنجاب اسمبلی کے سامنے دمادم مست قلندر کا اعلان کررکھا ہے ۔
حکومت کو چاہئے کہ حالیہ بجٹ میں تعلیمی بجٹ کو کم از کم پانچ فیصد کرنے کا اعلان کرے اور تعلیم کی نجکاری سے باز رہے پنجاب میں پچاس ہزار سے زیادہ سکولوں میں ساڑھے تین لاکھ کے قریب اساتذہ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں پہلے مرحلے میں پانچ ہزار سکولوں سے فارغ ہونے والے اساتذہ کو تو دیگر سرکاری سکولوں جہاں اساتذہ کی تعداد کم تھی وہاں ایڈجسٹ کردیا گیا ہے مگر دوسرے مرحلے سے دس ہزار سکولوں اور پھر اس کے بعد فارغ ہونے والے استاد کہاں جائیں گے یہ سب سے اہم بات ہے اور جس کمزور رزلٹ کو بہانہ بنا کر حکومت یہ سب کرنے جارہی ہے وہ بھی قابل غور ہے کہ ان سکولوں میں سے بعض میں تو اساتذہ کی تعداد ہی پوری نہیں تھی وہاں تعلیم کیسے دی جاتی حکومت کو چاہئے تو یہ تھا کہ وہاں پر ٹیچرز بھرتی کرتی مگر حکومت پورا سسٹم ہی پرائیویٹ کرکے اس کو مزید تباہ حالی کی جانب لے جارہی ہے کیوں کہ یہ سارا نظام سرمایہ داروں کے ہاتھ میں چلاجائے گا جو ان سکولوں کو ٹھیکے پر دیں گے جو نان کوالیفائیڈ اساتذہ کم تنخواہ پر بھرتی کرکے رہی سہی کسر بھی پوری کردیں گے جو بچوں کو اس طرح کبھی نہیں پڑھا سکتے جس طرح سرکاری سکولوں کا ماہر تعلیم پڑھا سکتا ہے ۔
بہر حال اساتذہ کی جانب سے کئی ماہ سے جاری احتجاج اور حکومت کی جانب سے مسلسل بے حسی جاری ہے جس سے دلبرداشتہ ہوکر کئی اساتذہ تنظیمیوں کے مابین اتحاد ہوگیا ہے اور تین جون کو سب پنجاب اسمبلی کے سامنے ہیں اب حکومت اس معاملے کو کس طرح ہینڈل کرتی ہے یہ آنیوالا وقت ہی بتائے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

قاسم علی کے جمعہ جون کے مزید کالم