ایک بہادر آدمی

ہفتہ جون    |    پروفیسر رفعت مظہر

سوچا تو ہمیشہ یہی کہ کالم ایسا ہونا چاہیے جو اپنے اندر ہر طبقہٴ فکر کو محظوظ کرنے کے جواہر سموئے ہوئے ہو، خیال اچھوتا ہو، پیغام نیا اور جہت بھی نئی لیکن کیا کیجیے کہ ہم جس دھرتی کے باسی ہیں، وہاں ہر روز ایک نیا ”کھڑاک“ سامنے آتا ہے اور پھر ذہنی رَو اُسی طرف بہہ نکلتی ہے۔ ابھی پاناماپیپرز کا غلغلہ درمیان ہی میں تھا کہ ڈرون حملے میں ملامنصور اللہ کو پیارے ہوئے اور تجزیوں، تبصروں کی بھرمار میں ہم بھی یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہوئے کہ یہ سب کیا دھرا امریکہ کا ہے جو ایک طرف تو ”شانتی، شانتی“ کا ورد کر کے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کا عندیہ دیتا ہے اور دوسری طرف اپنی ابلیسیت کے زور پر ملامنصور کو ہلاک کر کے مذاکرات کے سارے در بند کر دیتا ہے۔
ملامنصور کی ہلاکت کے تبصروں کے ساتھ ہی ”پاناماپیپرز“ پر کئی چھوٹی چھوٹی ”کھڑاکیاں“ بھی جاری رہیں۔

(خبر جاری ہے)

ایک طرف حکومتی وزراء خواجہ سعد رفیق، پرویزرشید، خواجہ آصف اور دوسری طرف اپوزیشن کے اعتزازاحسن، شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید کے آگ اگلتے جملے جلتی پہ تیل کا کام کرتے رہے اور میدانِ جنگ کا سا سماں برقرار رہا۔ شیخ رشید کی تو بن آئی کہ اپوزیشن نے انھیں بھی کسی قطاروشمار میں سمجھ لیا اسی لیے انھوں نے ایک دفعہ پھرپیشین گوئیاں شروع کر دیں۔

ویسے ہمیں تو قارئین کو یہ بتاتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے کہ شیخ رشید کی طرف سے کی جانے والے تمام پیشین گوئیوں کا نتیجہ ہمیشہ الٹ ہوتا ہے، شیخ صاحب کو تو پتہ نہیں شرم آتی ہے یا نہیں، اگر آئی ہوتی تو کم از کم پیشین گوئیوں سے تو باز آ ہی جاتے لیکن شیخ صاحب کی تان ہمیشہ میاں نوازشریف کو گھر بھیجنے پر ٹوٹتی ہے۔ وہ بہادرآدمی بھلا شیخ صاحب جیسے لوگوں کے بس کا کہاں جو بیماریٴ دل میں مبتلا ہو کر حریفوں کو للکارتا رہا۔
لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ سب پانامالیکس کی پارلیمانی کمیٹی کو سبوتاژ کرنے کے بہانے ہیں۔ حکومت نہیں چاہتی کہ متفقہ ٹی او آرز سامنے آئیں جبکہ دوسری طرف لندن میں بیٹھے میاں نوازشریف کو ڈاکٹرز کہہ رہے تھے کہ بھلے مانس! پہلے اپنے دل کا علاج تو کروا لو۔ میاں صاحب کی طرف سے جواب ملا کہ دو سال بعد دیکھا جائے گا۔ تب ڈرانے کی کوشش کی گئی کہ بیماری ایسی نہیں جو مہلت دے سکے۔ میاں صاحب نے کہہ دیا ”اچھا! دسمبر میں آپریشن کروا لوں گا۔
“ تب ڈاکٹر نے چِڑ کر کہا ”مسٹرنوازشریف! آپ وزیراعظم پاکستان میں ہیں، یہاں صرف میرے مریض۔ جائیے تین دن اپنے گھر والوں کے ساتھ گزار آئیے، چوتھے دن آپ کا آپریشن ہو گا۔“ تب کہیں جا کر میاں صاحب آپریشن کے لیے راضی ہوئے۔ آپریشن سے ایک روز قبل میاں شہبازشریف سے طویل ملاقات میں انہیں نصیحتیں بھی کیں اور وصیت بھی۔ میاں شہباز شریف جذباتی ہوئے تو انھیں پیار بھری ڈانٹ سے حوصلہ رکھنے اور ہمت نہ ہارنے کا کہا۔
اپنی بیٹی مریم نواز سے فون پر گفتگو کی تو بیٹی کی آواز بھر آئی، لہجے میں لرزش پیدا ہو گئی۔ ضبط کے سارے بندھن ٹوٹنے ہی والے تھے کہ میاں صاحب نے دبنگ لہجے میں کہا ”تم بہادر اور باہمت بیٹی ہو۔ میں سب کو حوصلہ مند رکھنے کی ذمہ داری تمھیں سونپ کے آیا ہوں۔ میں مطمئن ہوں اور اللہ کی رضا پہ راضی۔ دعا کرتی رہنا، اللہ خیر کرے گا۔“ اپنی والدہ ماجدہ سے بات کرتے ہوئے اپنے لہجے میں ساری توانائیاں سمیٹ لیں کہ کہیں مامتا پریشان نہ ہو جائے۔

31مئی کو میاں صاحب کا ساڑھے چار گھنٹوں پر محیط بائی پاس ہوا تو پتہ چلا کہ صرف ایک نہیں چار ”بائی پاس“ ہوئے۔ پیوندکاری بالکل ٹھیک ہوئی اور سرجن بہت خوش کہ کسی قسم کی پیچیدگی کے بغیر آپریشن مکمل ہوا۔ میاں صاحب نے ہوش میں آتے ہی میاں شہبازشریف سے کہا کہ قوم کو بتا دیں، صحت یابی کے بعد جلد واپس آؤں گا۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ میاں صاحب کی صحت یابی کی دعاؤں میں اپنے پرائے سبھی شریک تھے۔
محترم عمران خاں کی طرف سے جلد صحت یابی کی دعاؤں کے ساتھ پھولوں کا گلدستہ بھیجا گیا۔ پیپلزپارٹی کے صف اوّل کے تقریباً تمام رہنماؤں نے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور یہی نہیں بلکہ اقوامِ عالم میں بھی دعاؤں کا بھرپور سلسلہ جاری رہا۔ میاں صاحب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر طبقہٴ فکر نے ان کی صحت یابی کے لیے بھرپور دعائیں کیں جس پر محترمہ مریم نواز نے کہا ”قوم کے جذبات کا قرض ساری زندگی ادا نہیں کر سکتے۔

سبھی سیاسی اکابرین کا میاں صاحب کی صحت کے حوالے سے رویہ انتہائی معقول ومناسب تھا لیکن یہ اپنے افتخار محمد چودھری کو پتہ نہیں بیٹھے بٹھائے ”شیخ رشید“ بننے کی کیا سوجھی۔ انھوں نے میدانِ سیاست میں محض اپنے ”نمبر ٹانکنے“ کے لیے کہہ دیا کہ وزیراعظم صاحب اپنی جگہ کوئی دوسرا وزیراعظم مقرر کریں۔ تب ہمیں حضرت علی کا یہ قول یاد آ گیا ”جس پر احسان کرو، اس کے شر سے ڈرو۔“ یہ وہی افتخار محمد چودھری ہیں جن کی بحالی کے لیے میاں نوازشریف صاحب نے 2008ء کے انتخابات سے پہلے اپنے ”ٹکٹ ہولڈرز“ سے حلف لیا تھا۔
یہ وہی میاں صاحب ہیں جو اس وقت عدلیہ بحالی کے لیے باہر نکلے جب وکلاء تھک ہار کر بیٹھ چکے تھے اور یہ وہی نوازشریف ہیں جو گھر تب لوٹے جب عدلیہ کو بحال کروا لیا۔ آج افتخار چودھری صاحب اپنی سیاسی دوکانداری چمکانے کے لیے ایسے بیان داغ رہے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ آئینی لحاظ سے ان کا موٴقف انتہائی کمزور ہے؟۔ کیا آئین میں نہیں لکھا کہ وزیراعظم تین ماہ تک کی رخصت لے کر اپنی ذمہ داریاں کابینہ میں سے کسی بھی وزیر کو تفویض کر سکتا ہے؟۔ اگر ایسا ہے اور تحقیق کہ ایسا ہی ہے تو پھر پریس کانفرنس میں پوائنٹ سکورنگ کے شوق میں انھوں نے اپنا قد ہی گرایا، میاں صاحب کا تو کچھ نہیں بگڑا۔ وہ تو انشااللہ جلد صحت یاب ہو کر اپنی بھرپور توانائیوں کے ساتھ اسی مسندِاقتدار پر جلوہ افروز ہوں گے جس پر کئی لالچی نظریں گڑی ہوئی ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے ہفتہ جون کے مزید کالم