”اندھوں کے شہر میں آئینے“

منگل جون    |    ندیم گُلانی

انسان اپنی زندگی میں عقل شعور اور آگہی کے کسی مقام تک پہنچنے سے پہلے ایک طویل سفر کرتا ہے،اور اُس سفر کی جُدا جُدا منزلیں اور مراہل ہوتے ہیں،اور اُن منزلوں اور مرحلوں میں بچپن،لڑکپن اور نوجوانی کا بھی ایک بہت بڑا حصہ ہوتا ہے،اور اِن عُمروں میں بن جانے والی یادیں زندگی بھر انسان کے ساتھ چلتی ہیں،اور ایسی ہی کچھ بے شُمار یادوں میں کوئی یاد ایسی بھی ہوتی ہے جو کہ کسی نہ کسی حوالے سے آپ کی تربیت کا حصہ بن جاتی ہے۔

میری اور میری جنریشن کے کئی لوگوں کی وطن سے محبت اور وطن کے لیے کچھ کرجانے والی تربیت بھری یاد1994ء میں PTVکوئٹہ سینٹرسے نشر ہونے والے ایک ڈرامہ سیریل ”دُھواں“سے بھی بندھی ہوئی ہے،اس بات میں کوئی شک نہیں کہ میری جنریشن کے جو لوگ وطن سے محبت کرتے ہیں یاوطن کے لیے کچھ کر گُزرنا چاہتے ہیں اُن کی ڈاریکٹ یا اِن ڈاریکٹ تربیت میں”دُھواں“اور PTVسے نشر ہونے والے ایسے ہی کئی ڈراموں اور پروگرامز کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

(خبر جاری ہے)

ہم مانے یا نہ مانے لیکن وہ تربیت آج بھی ہماری شخصیت کا حصہ ہے۔
”دُھواں“ ایک ایسا ڈرامہ کہ جس کے نشر ہونے کے وقت بچے کھیلنا چھوڑ دیتے تھے،مائیں بہنیں کھاناپکانا چھوڑ دیتی تھیں،باپ بھائی بڑے بوڑھے کام کاج اور کاروبارچھوڑ دیتے تھے،گلیاں اور شہر ویران ہو جاتے تھے۔ جو مقبولیت اورپیار ”دُھواں“ کی ساری ٹیم کو اِس ڈرامے کی نسبت سے ملااِسکی مثال بہت کم ہی ملتی ہے، لیکن اِس ڈرامے کی نسبت سے جو مقبولیت اور پیار ”دُھواں“ کے ہیرو اور رائٹرعاشر عظیم کو ملا اُس کا کوئی بدل نہیں،حیرت کی بات یہ ہے کہ22 سال گُزر جانے کے باوجود بھی لوگ عاشر سے اُتنا ہی پیار کرتے ہیں جتنا کہ 22 سال پہلے کرتے تھے۔

پچھلے کچھ دنوں سے عاشر ایک بار پھر ٹیلی ویژن اسکرینز کی زینت بنا ہُوا ہے،اور اُس کی وجہ وزیراعظم جناب نوازشریف صاحب کی موجودہ گورنمنٹ کی جانب سے کِیا جانے والا ایک جاہلانہ قسم کافیصلہ ہے،اور وہ فیصلہ عاشر عظیم کی حُب الوطنی سے لبریزایک نظریاتی فلم”مالک“ کوبَین کرنے کا ہے، اِس فلم کے رائٹر،ڈاریکٹر اور ہیرو بھی عاشر خود ہیں،اب آپ یہ سوچ رہے ہونگے کے اِس فلم میں ایسا کیا دِکھایا گیا ہے کہ اِسے بَین ہی کر دِیا گیا؟
در اصل عاشر نے کوئی قانون نہیں توڑا ،کوئی گُناہ نہیں کِیا، عاشر کا قصور صرف اتنا ہے کہ ِاس نے اپنے کام کے ذریعے وڈیروں، نوابوں،چوہدریوں اور اِن سے جُڑے اِن جیسے کئی کرپٹ عناصروں کو اپنا اصلی چہرہ دِکھانے کی کوشش کی تھی، اور عوام کو اپنا اصلی مقام بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی تھی،جو کہ اِن صاحبِ اقتدار طاقتوروں کوپسند نہیں آیا۔

5اپریل 2016کو عاشر عظیم کی فلم ”مالک“ کو سینسربورڈکی جانب سے سرٹیفیکیٹ دیاگیا،8اپریل2016کوفلم ریلیز کر دی گئی،اور تقریبن 3 ہفتے بعد27۱پریل کوفلم کو بَین کردیا گیا۔فلم پر پہلی پابندی”سندھ سینسر بورڈ“ نے 26اپریل کولگائی جسے تین چار گھنٹے بعد ختم کر دیا گیا،”سندھ سینسر بورڈ “ یا شاید سندھ گورنمنٹ یعنی پیپلزپارٹی کی گورنمنٹ کوCMسندھ کے لفظ پراعتراض تھا ،جو کہ ختم کردیا گیا،اُس کے بعد اُنہیں صرف CMکے لفظ پر بھی اعتراض تھا، جسے اُن کے حُکم کے مُطابق بِپ کردیا گیا۔
لیکن 27اپریل کو وفاقی گورنمنٹ اور وزارتِ اطلاعات ونشریات نے فلم کو پورے مُلک میں بَین کرنے کا حُکم نامہ صادر کر دیا۔
ویسے کیا یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ ایک بار سینسر بورڈز کے سرٹیفیکیٹ دینے کے بعد بھی کوئی شخص یا پھر کوئی ٹولہ کسی فلم کو صرف خود کو نہ پسند آنے کی بنیاد پر بَین کر سکتاہے؟نہیں ․․․․بلکل نہیں․کیونکہ اس مُلک کے تین سینسربورڈز”سینٹرل سینسر بورڈ“،”پنجاب سینسربورڈ“اور” سندھ سینسر بورڈ“ نے اس فلم کو اچھے طریقے سے دیکھنے کے بعد سرٹیفیکیٹ دیا ہے، اور سینسر بورڈزکے سرٹیفیکیٹ دینے کے بعدکم سے کم کوئی وفاقی گورنمنٹ یاوزارتِ اطلاعات ونشریات اِسے ڈاریکٹ بَین نہیں کر سکتی۔

فلم کو بَین کرنے کی جھوٹی سچی وجوہات میں سے کچھ وجوہات یہ بھی بتائی جا رہی ہیں کہ اِس فلم میں یہ سب بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ”مُلک میں لاقانونیت ہے“۔۔”مُلک کی پولیس نِکمی اور کرپٹ ہے“۔۔”سیاسی نظام مجموعی طور پر کرپٹ اور نِکماہے“۔۔”سیاستدان صرف پیسہ بنانے میں مشغول ہیں“۔
اب مجھے آپ صرف ایک بات بتا دیں،کہ کیا یہ سب جھوٹ ہے؟کیا مُلک میں لاقانونیت نہیں ہے؟کیا مُلک کی پولیس نِکمی اور کرپٹ نہیں ہے؟کیاسیاسی نظام مجموعی طور پر کرپٹ اور نِکمانہیں ہے؟کیاسیاستدان صرف پیسہ بنانے میں مشغول نہیں ہیں“۔
مجھے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ اِس میں الزام تراشی یا جھوٹ کہاں ہے۔بات صرف اتنی ہے کہ ”آئنہ اُنکو دکھایاتو بُرامان گئے“۔
گورنمنٹ کو اِس فلم میں پاکستان آرمی کی ونگISPR”انٹر سروسزپبلک ریلیشنز“کی انوالومینٹ سے بھی بڑی تکلیف ہوئی ہے، بلکہ کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عاشر کو اپنی فلم کے لیے ISPRسے مدد لینے کی وجہ سے یہ سب بُھگتنا پڑ رہا ہے۔مجھے تو بڑی حیرت ہوتی ہے جب میں کسی شخص کو کسی کام کے پیچھے پاکستان آرمی کا ہاتھ ہونے کی وجہ سے تکلیف ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں،اوراس جاہلانہ سوچ کے بندے آئے دن آپ کو ٹیلی ویژن اسکرینز پر الگ الگ پروگرامز میں بڑی بڑی ڈھینگے مارتے ہوئے نظر آتے ہیں،آخرکوئی ان جاہلوں کو یہ کیوں نہیں سمجھاتاہے کہ پاکستان آرمی اِس مُلک کا معتبر اِدارہ ہے، اور یہ آرمی ہمارے اپنے مُلک پاکستان کی آرمی ہے،کوئی انڈین آرمی نہیں ہے۔
ضرورت کے مطابق پاکستان کا ہر شہری اپنے کسی بھی کام کے لیے اپنی آرمی سے مدد لے سکتا ہے، عاشر کو بھی اپنی فلم کے لیے جہازاور ٹینکز وغیرہ کی ضرورت تھی،تو کیا وہ اِس کام کے لیے انڈین آرمی کے پاس جاتا؟ظاہر ہے اُسے اپنی فلم کے لیے جتنی بھی لوجسٹک Helpدرکار تھی، اُس کے لیے اُسے ISPRکے پاس جانا پڑا ،اور اُنہوں نے اُسکی ضرورت کے مطابق Helpکر دی۔اس سے بڑھ کے پاکستان آرمی کی اِس فلم میں کوئی انوالومینٹ نہیں ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شیر چاہے سویا ہُوا ہی کیوں نہ ہو ،گیڈروں کو اُس سے ڈر ہی لگتا ہے،اور یہی حال پاکستان آرمی کے معاملے میں اِس مُلک کے کرپٹ اور چور سیاستدانوں کا ہے۔
پاکستان کے کانسٹی ٹیوشن آرٹیکل نمبر 19 کے تحت ہر پاکستانی کو کسی بھی معاملے میں اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے،اور عاشر نے ایک حُب الوطن شہری اور ایک آرٹسٹ ہونے کے ناطے اپنا حق اپنی فلم ”مالک“ کے ذریعے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، جو کہ اِن حُکمرانوں اور سیاستدانوں کو ہضم نہیں ہو پا رہا۔

میں نے ایسے ایسے لفافہ جرنلسٹوں کوٹاک شوز میں ”مالک“ کے خلاف بات کرتے ہوئے سُنا ہے کہ جنہوں نے ٹھیک طریقے سے فلم کا ٹریلر تک نہیں دیکھا،اُن کے لیے تو کیا ہی کہا جا سکتا ہے سوائے اِس کے،کہ ”شرم تم کو مگر نہیں آتی“۔
ویسے اِس قسم کے معاملات اِس مُلک میں ہونا کوئی نئی چیز نہیں ہے،جس شخص نے بھی کسی بھی دَور میں اِس مُلک سے محبت اپنے کام کے ذریعے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے،اُس کے ساتھ ایسا ہی کچھ نہ کچھ ہوتا آیاہے۔
کیونکہ مُنافق معاشروں میں مُلک کے لیے کام کرنے والوں کو اہمیت نہیں دی جاتی ،اور اندھوں کے شہر میں آئینے بیچنے والوں کے ساتھ یہی کچھ ہوتا آیا ہے جو عاشر کے ساتھ ہو رہا ہے۔
بحر حال عاشر کا کیس اب کورٹ میں ہے،دیکھتے ہیں کے کیا ہوتا ہے،لیکن ایک بات طے ہے کہ 22سال پہلے ”دُھواں“ سے بے پناہ شہرت پانے والے عاشر کو اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر عزت دینی تھی،سو وہ عزت اُسے اپنے کام اوراِس مُلک سے محبت کے بدلے میں پورے پاکستان سے مل رہی ہے،پاکستانی جتنا پیار عاشر سے ”مالک “کے ریلیز ہونے سے پہلے کرتے تھے، اُس میں کئی ہزار پرسنٹ اضافہ ہو گیا ہے۔
عاشر کی فلم کو دوبارہ چلنے کی اجازت ملے یا نہ ملے،لیکن عاشر کو اپنے حصے کی محبت اور عزت مل چُکی ہے،اور یہ عزت اور محبت ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔
میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں جاتے جاتے آپ سے عاشر کی فلم ”مالک“ کاوہ نظریاتی ڈائیلاگ اور وہ ”عہدِوفا“ ضرور شیئرکرتا چلوں جو کہ اِس فلم کی بُنیاد ہے،اوریہ ہی وہ وعدہ ہے جو عاشر نے اِس قوم سے لینا چاہا ہے، اُمید کرتا ہوں کہ اِسے پڑھ کے آپ باخوبی سمجھ جائیں گے کہ عاشر کو اُس کی فلم بَین کر کے کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے۔

”میں پاکستان کا شہری ،پاکستان کا مالک ہوں،یہ زمین ،یہ لوگ میرے ہیں،اِسکے حکمران میرے مقررکردہ،اور مجھے جوابدہ ہیں،میں عہد کرتا ہوں،کہ میں ہر اُس شخص،یا ادارہ،خواہ اندرونی یا بیرونی،جو اس مُلک کے خلاف کام کرے گایا اسکے قانون کو توڑے گا،کے خلاف، بِنا برادری،زبان، یا مذہب کی تمیز کے اپنی پوری قوت استعمال کرونگا۔کیونکہ میں،پاکستان کا شہری،اسکا مالک،اسکی بقا کا حتمی ضامن ہوں۔“
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ندیم گُلانی کے اتوار جون کے مزید کالم