کینسرسے بھی زیادہ موذی حکمران اورسیاستدان

پیر جون    |    عمر خان جوزوی

نوجوان جون جولائی کے سورج کی طرح غصے سے تپا ہوا تھا۔۔۔۔ میرے قریب آکر رکا ۔۔۔۔ کھاتی نظروں اور گھورتی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کسی بھوکے شیر کی طرح دھاڑا ۔۔۔۔ تبدیلی تو دور ۔۔۔۔ اس ملک کا کچھ بننے والا نہیں ۔۔۔۔ عمران خان اورنوازشریف کیا ۔۔ ایک نہیں سو عمران خان بھی آجائیں تب بھی اس ملک اور قوم کے جو حالات ہیں یہ ایسے ہی رہیں گے۔۔ جس طرح آخری سٹیج پر پہنچنے والے کینسر کے مریض کا کچھ نہیں ہوتا ۔
۔۔۔ اسی طرح اس ملک اور قوم کا بھی اب کچھ نہیں ہوگا ۔۔ کیونکہ اس ملک کو کینسر سے بھی زیادہ خطرناک بیماری نے اپنی آغوش میں لے رکھا ہے ۔۔ میں نے کہا نوجوان خیر تو ہے۔۔ ؟ وہ غصے سے مزید لال پیلے ہوئے ۔۔ لمبی سانس لینے کے بعد۔۔آہ۔۔کہہ کر بولے ۔۔اس ملک میں کبھی کوئی خیر ہوئی ہے ۔

(خبر جاری ہے)

۔ ؟خیر ہوتی تو لوگ اس طرح در در کی ٹھوکریں کھاتے ۔۔؟خیر ہوتی تو اس ملک کی گلیوں۔۔ محلوں۔۔ چوکوں اور چوراہوں پر حوا کی معصوم اور مظلوم بیٹیوں کی اس طرح عصمت دریاں ہوتیں۔

۔؟ خیر ہوتی تو میرے جیسے ڈگری ہولڈروں کا یہ حال ہوتا۔۔۔؟ میں نے کہا نوجوان جوش نہیں۔۔ ہوش سے کام لیں ۔۔۔ بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے ۔۔۔۔؟ وہ بولے جس کو پیٹ کاجہنم بھرنے کیلئے کھانا ۔۔ پہننے کیلئے کپڑا اور سر ڈھانپنے کیلئے سایہ نہ ملے۔۔ وہ کبھی ہوش میں رہ سکتا ہے ۔۔۔؟ بھوک ۔۔۔ پیاس۔۔۔۔ مہنگائی ۔۔۔۔ غربت و بیروزگاری یہ تو چرس ۔۔۔ افیون۔۔۔ شراب اور پاؤڈر سے بھی زیادہ خطرناک اورنشہ آور ہے ۔
ان کا سایہ بھی کسی پر پڑے تو وہ پھر ہوش میں نہیں رہتا ۔۔۔ میرے والدین نے بڑے لاڈ و پیار سے مجھے پالا۔۔۔ انہوں نے خود ۔۔تو روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کیا ۔۔۔ مگر اپنی پوری جمع پونجی میری اعلیٰ تعلیم پر صرف اس لئے لٹائی کہ میں لکھ پڑھ کر مشکل وقت اور بڑھاپے میں ان کا سہارا بن سکوں ۔۔۔ میں لکھ پڑھ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ تو بن گیا ۔۔۔ آج میرے پاس ڈگریوں پر ڈگریاں ہیں ۔۔۔ ایف اے تو معمولی بات ۔۔
۔ بی اے اور ایم اے سمیت کیا سے کیا میں نے نہیں کیا ۔۔۔ عصری تعلیم کی کوئی کتاب میں نے چھوڑی نہیں ۔۔۔ کمپیوٹر و جدید سائنس کا کوئی کورس مجھ سے بچا نہیں ۔۔۔ پھر بھی میرے وہ محسن جنہوں نے میرے کل کیلئے اپنا آج قربان کیا ۔۔۔ جو آج بستر مرگ پر پڑے زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہیں ۔۔۔ میرے پاس ان کو دینے کیلئے کچھ نہیں۔۔۔ جوزوی صاحب۔۔ لوگ ایک بار مرتے ہیں۔۔ مگر۔۔ میں۔۔ تو دن میں ہی سو بار مرتا اور سو بار جیتاہوں ۔
۔ جب بھی میرے بوڑھے والدین کی امید بھری نگاہیں مجھ پر پڑتی ہیں۔۔ میرے پاؤں کے نیچے سے زمین اور جسم سے سانس تک نکل جاتی ہے۔۔ سوچتا ہوں کہ یہ زمین پھٹے اور میں اس میں دھنس جاؤں۔ جوزوی صاحب ۔۔کیا میرے والدین نے اپنا آج میرے کل کیلئے اس لئے قربان کیا تھا کہ میں ان کیلئے سہارا بننے کی بجائے بڑھاپے میں بھی ان پر بوجھ بنوں ۔۔ ؟ درجنوں ڈگریاں جیب میں ہونے کے باوجود آج جب وہ مجھے بیروزگار اور نکما دیکھتے ہوں گے تو ان کے دلوں پر کیا گزر رہی ہو گی۔
۔ ؟ جب بھی کہیں کوئی نوکری آئی سب سے پہلے میں نے اس کیلئے اپلائی کی۔۔ درخواستوں پر درخواستیں میں نے لکھیں ۔۔۔ سرکاری و پرائیویٹ اداروں و دفاتر میں ڈگریاں میں نے جمع کروائیں ۔۔۔ ٹیسٹوں پر ٹیسٹ اور انٹرویو پر انٹرویو میں نے دئیے ۔۔۔ پاس جو کچھ تھوڑے بہت پیسے تھے وہ بھی این ٹی ایس کے نام پر نوکری کیلئے اڑا دئیے ۔۔۔ لیکن پھر بھی مایوسی و ناکامی کا منہ دیکھنے کے سوا مجھے کچھ نہیں ملا ۔۔۔ جوزوی صاحب۔
۔ صرف میں ہی نہیں میرے جیسے ہزاروں اور لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں ہاتھ میں لئے آج اس ملک کی گلیوں۔ ۔۔ محلوں۔۔۔ چوکوں ۔۔۔ چوراہوں اور شاہراہوں پر نوکری کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا کر روڈ ماسٹری کرنے پر مجبور ہیں ۔۔۔ ہمیں جہاں بھی امید کاکوئی دیاروشن نظرآتاہے۔۔ ہمارے پہنچنے سے پہلے اس پر رشوت اور سفارش کا سپرے کر کے اسے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بجھا دیا جاتا ہے ۔۔ جن لوگوں کے پاس رشوت اور سفارش ہے۔
۔ اعلیٰ تعلیم اور ڈگریوں کے باوجود ان کیلئے اس ملک میں بہترین روزگار سمیت ہر نعمت موجود ہے۔۔ مگر ہمارے جیسے غریبوں کیلئے درجن سے زائد ڈگریوں کے سائے تلے بھی اندھیرا ہی اندھیرا ہے ۔۔۔آج میرے جیسے ایک نہیں ہزاروں و لاکھوں غریبوں سے بوڑھے اور بدقسمت والدین نے بہت سی توقعات اور امیدیں وابستہ کی ہوں گی ۔۔۔۔ وہ خوش ہوتے ہوں گے کہ بیٹا نوکری کرکے گھر کا نظام چلائے گا ۔۔۔ ان کی تنخواہ میں بچوں اور بچیوں کی شادی کرائیں گے۔
۔ ادھر نوکریوں کا یہ حال ہے۔۔ اب آپ ہی بتائیں کیا ہم ان کو منہ دکھانے کے قابل ہیں ۔۔۔ ؟ جوزوی صاحب۔۔ جو لوگ ملک کی ترقی اور تبدیلی کے نعرے لگا رہے ہیں ۔۔۔ جو لوگ عوام کی تقدیر بدلنے کی بات کررہے ہیں ۔۔۔ جو لوگ اٹھتے بیٹھتے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ دکھا رہے ہیں ۔۔۔ جو لوگ پرانے سے نئے پاکستان میں داخل ہونے کی نوید سنا رہے ہیں ۔۔ یہ سارے جھوٹے ہیں ۔۔۔ ان کے ہوتے ہوئے اس ملک میں تباہی و بربادی کے سوا کچھ بھی نہیں ہونے والا ۔
۔ مداریوں کی طرح دھرنوں اورجلسوں میں لوگوں کوجمع کرکے نعرے لگانے والے یہی نئے اور پرانے پاکستان کے سیاستدان ہی تو اس خطرناک بیماری کی جڑ ہیں ۔۔جنہوں نے اس ملک کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔۔۔ میاں نواز شریف ۔۔ آصف علی زرداری ۔۔۔ عمران خان ۔۔۔ فضل الرحمن ۔۔۔ الطاف حسین ۔۔۔ چوہدری شجاعت ۔۔۔ شیخ رشید جیسے سیاستدانوں اورحکمرانوں نے ہی تو اس ملک کے پورے نظام کو اپنے تابع کر دیا ہے۔
۔ عوام کی تو اس ملک میں کوئی اہمیت ہی نہیں پھر عوام میں ہمارے جیسے غریبوں کی حالت تو اس پتنگ سی ہے جس کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے جس کے ذریعے اسے کسی بھی وقت اورکسی بھی جگہ سے کنٹرول کیا جاتا ہے ۔۔۔ اس ملک کے غریب۔۔ انسان بعد میں اور جشن حکمراناں کے پتنگ پہلے ہے۔ یہ حکمرانوں کی مرضی ہے کہ وہ جب چاہیں ان غریبوں کو مہنگائی۔۔۔ غربت و بیروزگاری کے حملوں میں اڑائیں یا سیاسی مفادات تلے دبائیں ۔
۔درحقیقت غریبوں کودیوارسے لگانے میں ہی تو ان حکمرانوں کی بقاء ہے ۔۔ملک ترقی کرے یانہ ۔۔اس سے حکمرانوں کاکیا لینادینا۔۔ان حکمرانوں کوغریب عوام اورملک سے پہلے اپنے مفادات اوراقتدارکی فکرہے۔۔اقتداراورکرسی ہوتوسب ٹھیک اورسلامت۔۔پھرعوام بھوک سے بلکے یافاقوں سے مرے ۔۔اس سے کچھ نہیں ہوتا۔۔آج ملک میں ہزاروں اورلاکھوں نوجوان بیروزگاری کے ہاتھوں دردرکی دھول چھاٹنے پرمجبورہیں مگرحکمرانوں اورسیاستدانوں کوسیاست سے فرصت نہیں ۔۔کوئی پانامہ سے نساہے توکوئی ہنگاموں میں پھنسا۔۔جب تک یہ حکمران اورسیاستدان خودٹھیک نہیں ہوتے اس وقت تک اس ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔۔نوجوان کے ان تلخ حقائق نے مجھے لاجواب کردیاتھا۔۔یوں میں سرجھکاکران کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے اتوار جون کے مزید کالم