وقت ِ آخر کی باتیں ۔۔۔!

جمعرات جون    |    ارشاد بھٹی

12ربیع الاوّل 11ہجری ۔پیر صبح 10سے 11بجے کا درمیانی وقت۔جب آپ عبدالرحمن بن ابوبکر  کی دی ہوئی مسواک کر چکے، پانی سے اپنا چہرہ مسلسل تر کرتے ہوئے ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔مو ت کی سختیاں ہیں “ فرما چکے تونماز، نمازاور میری امت کے غریب لوگ کہتے کہتے آپ پر نزع کی حالت طاری ہوئی ۔آپ کا سر حضرت عائشہ  کی گود میں تھا ۔ آپ نے اپنی انگلی مبارک اوپر اٹھائی اور نگاہ چھت کی طرف بلند ہوئی ،ہونٹ مبارک پھرسے ہلنا شروع ہو ئے ، حضرت عائشہ  نے آپ کے منہ سے اپنا کان لگایا تو آپ فرما رہے تھے ”ان انبیاء،صدیقین ،شہدا اور صالحین کے ہمراہ جنہیں تو نے انعام سے نوازا ،اے اللہ مجھ پر رحم کر ۔
اے اللہ اے رفیقِ اعلیٰ،اے اللہ اے رفیقِ اعلیٰ، اے اللہ اے رفیقِ اعلیٰ۔

(خبر جاری ہے)

۔ آخری فقرہ تیسری بار دہراتے ہوئے آپ کا ہاتھ مبارک جھک گیا اور آپ اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جاملے ۔ اس وقت آپ کی عمر 63سال 4دن تھی ۔ ایکدن نہایت سرد وخنک موسم میں حضرت ابوبکر  صدیق نے غسل کیا تو ٹھنڈ لگنے سے بخار چڑھا اور 15روزہ بخار نے یہ حالت کر دی کہ مسجد جانے سے بھی معذور ہوئے ، 22جمادی الثانی 13ہجری اور پیرکادن تھا آپ  نے اپنے کفن دفن کی وصیت کر کے کہا کہ ”آرزو ہے کہ آج رات ہی اس عالم ِفانی سے کوچ کر جاوٴں“ وہی ہوا ،پیر کا دن ڈوبا اور رات کو 63برس کی عمر میں آپ اپنے مالک ِحقیقی سے جاملے۔

فیروز ابو لولونے یکم محرم 24ہجری کو حضرت عمر  پر قاتلانہ حملہ کیا ،خنجرسے لگے چھ واروں کے زخموں سے جب حضرت عمر فاروق  کی حالت زیادہ بگڑی اور وقت ِآخر آن پہنچا تو ان آخری لمحوں میں آپ نے فرمایا ”اے اللہ مجھے اپنی مغفرت سے ڈھانپ لے اگر ایسا نہ ہوا تو افسوس مجھ پر اور میری ماں پر جس نے مجھے جنم دیا “۔ 18ذوالحج 35ہجری کو کئی دنوں سے باغیوں کے گھیرے میں حضرت عثمان غنی  پر موقع پا کر جب ایک باغی کنانہ بن بشر نے لوہے کی لاٹ سے حملہ کیا تو قرآن پڑھتے ہوئے پیشانی پر ضرب کھا کر آپ  ایک طرف گر کربولے ”میرااللہ پر توکل ہے ،وہ میرے لیے کافی ہے اور وہی ذات سب کچھ سنتی اور خوب علم رکھتی ہے“، ابھی یہ الفاظ اداہی کیئے تھے کہ سودان بن حمران نے دوسری ضرب لگائی اور پھر عمروبن الحمق نے سینے پر چڑھ کر تلوار کے وار سے آپ  کو شہید کر دیا ۔
19رمضان 40ہجری کو نماز فجر کے دوران عبدالرحمن بن ملجم نے حضرت علی پرتلوار سے حملہ کیا، سر مبارک پرگہری چوٹ آئی ، جب دنیا سے جانے کا وقت آیا تو آپ نے امام حسن اور امام حسین  کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ” میں تم دونوں کو تقویٰ الہی کی وصیت کرتاہوں ”یتیم پر رحم کرنا ،بے کس کی مدد کرنا ،آخرت کیلئے نیک اعمال کا خیال رکھنا ، ظالم کا دشمن اور مظلوم کا دوست بننا۔ قیامت والے دن ذرہ برابر نیکی کی جزا ملے گی اورذرہ برابر برائی کی سزا ملے گی“۔
اپنے آخری لمحوں میں حضرت امیر معاویہ  نے کہا ”کاش میں نے حکومت نہ کی ہوتی،کاش میں اس فقیر کی طرح ہوتا جو تھوڑے پر زندہ رہتا اور جب موت اپنے ناخن چبھوتی ہے تو کوئی تعویذ فائدہ نہیں دیتا“۔ اپنی جان اللہ کے سپرد کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن زبیر  نے کہا ” ہم پیٹھ پھیرنے والے نہیں ہم وہ ہیں جو سینہ سپر رہتے ہیں“۔ حضرت عمروبن العاص  نے کلمہ پڑھتے ہوئے وفات پائی ۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز  وہ خلیفہ ہیں کہ جن کے دور میں حضور کی یہ حدیث سچ ہوئی کہ ”میر ی امت پر ایک وقت آئے گا کہ جب ڈھونڈنے سے بھی زکوٰة لینے والا نہیں ملے گا “۔
ایک روایت کے مطابق آپ کو زہر دیا گیا ،جب خالق ِ حقیقی کے پاس جانے کا وقت آیا تو آپ نے قرآن پاک کے بیسوویں پارے کی سورہ قصص کی 83ویں آیت پڑھی ،جس کا ترجمہ ہے کہ ”یہ آخرت کا گھر ان لوگوں کیلئے ہے جو دنیا میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ زمین پر فساد کرتے ہیں اور آخرت تو تقویٰ والے (اللہ سے ڈرنے ) والوں کی ہے “۔ حضرت داوٴد  کے بیٹے حضرت سلیمان نے وفات کے وقت فرمایا” میں اپنے اللہ کے ہاں جا رہا ہوں ،جو گناہ صغیرہ کا حساب لیتا ہے اور گناہ کبیرہ پر عذاب دیتا ہے“۔
سیدنا عبدالقادر جیلانی  وحدہ لا شریک اور توحید ،توحید کہتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔ حضرت رابعہ بصری  نے ”راہ کشادہ کرو،موت آگئی ہے“ کہہ کر کلمہ پڑھااور اللہ کو پیاری ہوگئیں ۔ حضرت امام غزالی ”آقا کا حکم سر آنکھوں پر“ کہہ کر اور حضرت امام احمدبن حنبل ”میرا اللہ میرا محافظ ہے “کہتے ہوئے سفر آخرت پر روانہ ہوئے ۔ مہاتما بدھ آخری سانسیں لیتے ہوئے بولے ” بھکشووٴں کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ تمام چیزوں کو زوال ہے“، سقراط مرتے وقت بولا ”اب تم سب لوگ خاموش ہو جاوٴ مجھے سکون سے مرنے دو اور میرے قصاب دوست کا قرض چکا دینا “ ۔
انسان کو بندر کی ترقی یافتہ شکل قرار دینے والا چارلس ڈارون مرنے سے چند لمحے پہلے مدھم آواز میں بولا ”میں موت سے بالکل نہیں ڈرتا“، نیوٹن کے آخری کلما ت تھے کہ ” میری حالت اس بچے کی سی تھی ،جو سمندر کے کنارے بیٹھا گھونگوں اورسیپیوں سے جی بہلاتا رہا جبکہ قدرت کا عجائبات بھرا سمندر اس کے سامنے تھا “ اور امریکہ دریافت کرنے والا کرسٹو فرکولمبس تنگدستی و کسمپرسی کی حالت میں مرتے ہوئے کہہ رہا تھا ” اے خدا میں اپنی روح تیرے سپر د کرتا ہوں“۔
جارج واشنگٹن کے آخری الفاظ تھے ”ڈاکٹر مجھے جانے دو “۔ حجاج بن یوسف نے مرتے ہوئے کہا کہ ”الہٰی مجھے بخش دے،کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ تو مجھے نہیں بخشے گا،الہٰی بندوں نے مجھے ناامید کر ڈالا حالانکہ میں تجھ سے بڑی ہی امید رکھتاہوں۔ “ اپنے آخری لمحات میں سکندر اعظم بولے ”میرے بعد میری سلطنت سب سے طاقتور کیلئے ہے“ ، مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے وفات کے وقت کہا کہ ”میرے ساتھیوں کا خیال رکھنا “، اورنگ زیب عالمگیر نے ”حقیقی محافظ اللہ ہے“ کہتے ہوئے وفات پائی ۔

شیر شاہ سوری وفات سے چند لمحے پہلے بولے ” روح اٹھنے کا وقت آگیا ہے“ ، مصطفی کمال اتاترک نے کہا ” میرے عزیز دوستو موت اٹل ہے ا سے کوئی نہیں ٹال سکتا“ ، نپولین مرتے وقت کہنے لگا ”یہ دنیا مایوسی کا ہی نام ہے “۔ علامہ اقبال  نے آخری لفظ ”اللہ“ کہا ،قائداعظم ” اللہ پاکستان“کہہ کر لیاقت علی خان” خدا پاکستان کی حفاظت کرے“ ، ٹپیو سلطان ”اسی طرح تیزی سے آگے بڑھتے جاوٴ “، مسولینی” میں بے گناہ ہوں“ اور مشہور ادیب برناڈ شا اپنی آخری سانسو ں میں نرس سے مخاطب ہو کر بولا” خاتون میں ختم ہو چکا ہوں ،تمام ہو چکا ہوں “۔
ذوالفقار علی بھٹو نے تختہ دار پر چڑھتے ہوئے کہا کہ "Finish it"۔ شہرہ آفاق روسی افسانہ نویس ٹالسٹائی نے مرتے وقت اپنی بیٹی سے کہا ”مسلسل جستجو۔۔ مسلسل جستجو“۔رابندر ناتھ ٹیگو ر بولا ”میں نہیں جانتاکیا ہوگا ،کیا ہوگا“۔ آزادی کی جنگ لڑنے والے کیوبا کے فیڈرل کاسترو کے ساتھی چی گویرا نے مرتے ہوئے کہا کہ ” ایلڈا(بیوی) میرا پیار تم تک پہنچے ،غم نہ کرنا اور دوسری شادی کر لینا اور فیڈرل کاسترو ”آپ پریشان نہ ہوں،آپ نے جو کیا،ٹھیک کیا“۔
صاحبو ! یہ وقت ِ آخر کی باتیں ہیں ۔موت نے نہ کبھی کسی کو بخشا ہے اور نہ بخشے گی اور یہ” وقت ِ آخر“ ہم پر بھی آنا ہے ۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے کہ ”ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے“ پھر فرمایا” تم جہاں بھی ہو گے موت تمہیں ڈھونڈنکا لے گی “، سورةرحمن میں ہے کہ ”سب نے فنا ہونا ہے، باقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات رہے گی“ ۔حضور نے فرمایا ”دنیا میں اسطرح رہو جس طرح کوئی مسافر یا راہ گذر ہوتاہے“۔
آپ کا ہی فرمان ہے کہ ”موت کی یاد نفس کی تمام بیماریوں کا علاج ہے “۔ ایک بار حضرت علی  حیرت سے بولے ” لوگوں کو قہقہے لگاتے دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے کہ کیا انہیں قبر یا دنہیں “۔ ایک شام بہت ساری باتیں کرنے کے بعد مولانا طارق جمیل بولے ”چند حکمرانوں اور حکومتوں کو چھوڑ کر ہمارے حکمران اور حکومتیں پہلے بھی ایسی ہی گذارہ لائق تھیں ،جیسی اب ہیں ۔لہذا ہر برائی اور ہر خرابی حکمرانوں اور حکومتوں کے کھاتے میں ڈالنے کی بجائے خود کو ٹھیک کر لو ، یاد رکھو ہمارے مسائل حکمرانوں اور حکومتوں نے اتنے خراب نہیں کیئے ، جتنا خود کو ہم نے خود ہی تباہ کر لیا ۔
کہنے لگے آج اہل مغرب کی زندگیوں میں ان کا دین ہے جبکہ ہمارا دین ہماری مسجدوں، منبروں اور تقریروں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ ہمارے سیدھے کام بھی ہمیں الٹے اس لیئے پڑ رہے ہیں کہ اللہ ہم سے ناراض ہے ۔ لہذااس سے پہلے کہ مہلت ختم ہوجائے ، جانے کی گھڑیاں آن پہنچیں ،توبہ کے دروازے بھی بند ہو جائیں اور اس سے پہلے کہ ”وقت ِآخر “ آن پہنچے ،اپنی اصلاح کر کے اللہ کو منالو ،مخلوقِ خدا کی بھلائی کر کے اللہ کو منالو اور اپنے اللہ کی مان کر اپنے اللہ کو منالو ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ارشاد بھٹی کے جمعرات جون کے مزید کالم