سفید رنگ کے دستانے

جمعہ جون    |    عمار مسعود

جیسے شاعری کو شخصیت سے الگ نہیں کیا جا سکتا اسی طرح کہانی کار کو بھی اپنی کہانی سے الگ نہیں رہ سکتا۔ وہ وہیں کہیں منظر میں موجود ہوتا ہے کسی کردار کا روپ دھارے ۔ فقیر بھی کہانی میں وہ ہوتا ہے، تصوف بیان کرنے والا بابا بھی، غمزدہ بچہ بھی ، ڈوپٹہ سنبھالتی عورت بھی،آخری سانسیں لیتا بوڑھا بھی، لمبا چوڑا شوخ ہیرو بھی، سفاک اور ظالم ولن بھی۔ کہانیوں کے مختلف کردار اس کے وجود کی نشان دہی کرتے ہیں۔
اس کی زبان بولتے ہیں۔ اسی کا لہجہ اپناتے ہیں۔ اسکا مزاج اپناتے ہیں۔اسکا دکھ بتاتے ہیں۔ اسکی شوخیاں نبھاتے ہیں۔ اسکے ساتھ مسکراتے ، گنگناتے اور رنگ اڑاتے ہیں۔
مدتوں بعد ایک کتاب ہاتھ لگی۔ رات کی رانی۔ مصنفہ ہیں رابعہ الرباء۔ اگر میں رابعہ کو نہ جانتا ہوتا تو شائد اس کتاب کو پڑھنے کی توفیق نہ ہوتی۔

(خبر جاری ہے)

ایک آدھ ادبی تقریب میں ملاقات ہوئی۔کوئی خاص جان پہچان نہیں ہوئی۔ دیگر شاعرات اور ادیباوں کی طرح نہ بڑھ کر استقبال کیا ، نہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر گفتگو کی، نہ کان میں کہے جانے والے کسی کثیفے پر بے باک قہقہہ لگایا،نہ اپنی کتاب بڑھ کر پیش کی، نہ میری کتاب طلب کی، نہ ٹی وی پرکسی انٹرویو کی درخواست کی، نہ کوئی سیلفی بنوائی نہ دوبئی اور امارات میں ہونے والی کسی ادبی تقریب کی البم ساتھ لائیں۔

بس سمٹی سمٹی ایک کونے میں بیٹھی رہیں کسی نے تعارف کروایا یہ افسانہ نگار ہیں۔ اچھی کہانیاں لکھتی ہیں۔بس اتنی ہی ملاقات ہوئی۔ چہرہ تو یاد نہیں رہا بس اتنا یاد رہ گیا کہ چادر میں لپٹی افسانہ نگار نے ہاتھوں میں سفید رنگ کے دستانے پہن رکھے تھے۔
کہانی کے مسئلے کہانی کار کی طرح دشوار ہوتے ہیں۔ کہانی کس طرح کہانی کار کے ذہن میں جنم لیتی ہے اس کا سراغ آج تک کوئی نہیں لگا سکا۔کبھی یہ ایک منظر سے کہانی کار پر وا ہوتی ہے۔
کبھی کسی پرانی یاد کے سہارے منکشف ہوتی ہے۔ کبھی مستقبل کے خواب اس کے ظہور کا سبب بنتے ہیں۔ کبھی کسی گیت کا کوئی بول کہانی بنا دیتے ہیں۔ کہیں معاشرے کی سنگینی ، کبھی حالات کی رنگینی اور کبھی کسی اپنے کی غمگینی کہانی کی طرف کہانی کار کو لے چلتی ہے۔ رابعہ الرباء کی سب کہانیاں پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انکے ہاں کہانیاں تضاد سے جنم لیتی ہیں ۔ انکی شخصیت کے اختلاف سے پیدا ہوتی ہیں۔

رات کی رانی کی ہر کہانی بے باک ، بہادر اور گستاخ ہے۔ان کہانیوں میں آپ کو وہ افسانہ نگار کہیں نہیں نظر آتی جو ادبی تقریبات میں سمٹی سمٹائی ، ہاتھوں تک کو دستانوں سے چھپائے بیٹھی ہوتی ہے۔ یہی شخصیت اور کہانی کا تضاد ہے جو نئے نئے کرداروں کے نت نئے روپ دھارنے پر مجبور کرتا ہے۔ان کو مشکل مراحل میں ڈالتا ہے۔ان سے شوخ مکالمے بلواتا ہے۔ کہانی کے خدوخال سنوارتا ہے۔
رات کی رانی بہت طویل کتاب نہیں ہے ایک ہی نشست میں ختم ہو جاتی ہے۔
لیکن ایک نشست میں ختم نہیں ہوتی۔ کہانییوں کے کردار پھر آپ کے ساتھ چلتے ہیں ۔ اپ ان میں اپنے ہم شکل تلاش کرتے ہیں ۔ اپنے ہم مزاج ڈھونڈتے ہیں۔ رات کی رانی کی ایک نشست کی کیفیت مدتوں ہی رہتی ہے۔ خوشبو کی طرح ساتھ ساتھ رہتی ہے۔یہ خوشبو پریشان نہیں کرتی ہاں البتہ اداس کرتی ہے ۔ اس خوشبو کی کسک سی رہتی ہے۔ ہر کہانی کے انجام کی یاد دلاتی ہے۔
کتاب پڑھنے کے بعد تحقیق کا جنون چڑھا کہ اتنی اچھی منفرد اور بے باک افسانہ نگار کو لوگ جانتے کیوں نہیں مانتے کیوں نہیں اور پہچانتے کیوں نہیں۔
یہاں پر وہ تضاد دریافت ہوا کہ جس سے رابعہ کی کہانی تشکیل پاتی ہے۔ یہ افسانہ نگار شہرت سے گھبراتی ہے۔مشہور ہونے سے ڈرتی ہے۔ نعرہ لگانے سے گھبراتی ہے۔ اس کی وجہ ذاتی بھی ہو سکتی ہے اور معاشرتی بھی ۔ میں اس بارے میں نہیں جانتا ۔ لیکن یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جو کردار کہانیوں میں ہر مرحلے سے گزر جاتے ہیں وہ ذات پر آکر کیوں رک جاتے ہیں؟ اس کا جواب میرے پاس نہیں اور لگتا ہے رابعہ بھی اس سوال کے جواب سے بے خبر ہیں۔


رات کی رانی کے موضوعات اآفاقی نہیں ذاتی ہیں۔ حیرت گم ہوتی ہے انسانی تعلقات کی باریکیوں میں جا کر کیسے موضوعات تخلیق ہوتے ہیں۔ ایک بار کو کہنے کے درجنوں طریقے ہونا درست ہے مگر رابعہ کے پاس اس تعلق کو بیان کرنے کے لئے نہ لفظوں کی کمی ہے نہ موضوعات کی۔ وہ ہزار ہا طریقے سے بات کرتی ہیں۔ کرداروں کی صفوں در صفوں میں سے کسی ایک پر نگہ انتخاب ڈالتی ہیں اور اچانک وہ بات کہہ جاتی ہیں جو گمان میں نہیں ہوتی ۔
جو امکان میں نہیں ہوتی۔ انجام کی حیرت انکی کہانیوں کا خاصہ ہے۔
معلوم کرنے پر پتہ چلے کہ رابعہ نے کالم بھی لکھے ہیں ، بچوں کی کہانیاں بھی، تنقیدی مضامین بھی ۔ کالم میں بھی اردو ادب نے انکی جان نہیں چھوڑی۔احمد ندیم قاسمی سے بات شروع ہوتی ہے اور انتظار حسین تک جاتی ہے۔ سب کے سب کالم اردو ادب کی شخصیات سے جڑے ہوئے ہیں۔ان شخصیات کی محبت سے لتھڑے ہوئے ہیں۔ لیکن بات صرف محبت کی نہیں ہے رابعہ کی تحریروں میں محنت بھی نظر آتی ہے۔
تفصیلات ، حالات زندگی، عادات سب شخصیات کے ایک ہی مضمون میں سمو دیتی ہیں۔ تنقید کے مضامین ، افسانے پر بحث، اچھی کہانیوں کا انتخاب ان کے کارناموں میں سے ہے۔ہر تحریر ایک مکمل مقالہ ہے جو اردو ادب کی اس طالبہ نے بڑی تحقیق سے جمع کیا ہے۔ یہ تنقیدی تحریریں اس دور میں تو زندہ ہیں ہی مگر اس سے آنے والے زمانے بھی مستفید ہوں گے۔
بات کہانی اور اس کی تشکیل سے شروع ہوئی تھی۔ کہانی میں کہانی کار کے اپنے کردار کا ذکر ہو رہا تھا۔
رابعہ کی کہانیوں کے کرداروں میں رابعہ نہیں ملتی اسکا تضاد ملتا ہے۔ اختلاف ملتا ہے۔ انکار ملتا ہے۔ یہی تضاد ان کہانیوں کا حسن ہے۔ایک منتظر سا تصادم ان کہانیوں کی خوبی ہے۔میں زیادہ نہیں جانتا لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ کہانی کار اور کہانی کی کشمکش میں رات کی رانی کی خوشبو بکھرنے سے رابعہ نے خود روک لیا ہے؟ جانے کس سوگ کا کفن اوڑھ لیا ہے؟ شائد اس نے زمانے کی ہرحقیقت کو بھانپ لیا ہے۔ تب ہی تو اس نے سفید دستانوں سے اپنے ہنر مند ہاتھوں کو ڈھانپ لیا ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے جمعہ جون کے مزید کالم