جناب خادم اعلیٰ! لوگوں کی بد دعاؤں سے بچیں

ہفتہ جون    |    حافظ ذوہیب طیب

دکھ اور غم کے مارے لوگوں کا ،اپنے اوپر ہونے والے مظا لم کا ایک حد سے بڑھ جا نے کے بعد دل سے جو آہ نکلتی ہے عرف عام میں اس کو بد دعا کہا جاتا ہے جو ایک ایسی چیز ہے کہ تاریخ عالم میں اپنے آپ کو بڑے بڑے پھنے خاں سمجھنے والے فرعونوں، قارونوں اور ان کے چیلوں کی طاقت کچھ ہی دیر میں دریا برد اور خاک میں مل جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ کسی بھی مسلمان حاکم کو کسی علاقے میں حکمرانی کے لئے نامزد کرتے تو اسے لوگوں کی بد دعا سے بچنے کے احکامات ضرور صاد ر فر ماتے ۔
بخاری کی حدیث نمبر:2448میں جس کو نقل بھی کیا گیا ہے کہ حضرت ابن عباس  سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ کو جب (عامل)بنا کر یمن بھیجا ،تو آپ ﷺ نے انہیں ہدایت فر مائی کہ مظلوم کی بددعاسے ڈرتے رہنااس لئے کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کو ئی پردہ نہیں ہوتا۔

(خبر جاری ہے)

نبی رحمت ﷺ کے ایک اور فر مان ہے :”مظلوم کی بد دعا چنگاریوں کی طرح آسمانوں پر جاتی ہے“۔
ان دونوں احادیث مبارکہ سے مظلوموں کی بد دعا کی سنگینی کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ اللہ کے ہاں ان کی ”آہیں“ کیسے مقبول ہوتی ہیں اور کس طرح لوگ جس کے نتیجے میں ذلت و خواری اور اللہ کے عذاب کا نشانہ بنتے ہیں ۔

حالیہ دنوں میں اس کی مثال 2010میں بے شمار حاجیوں کے ساتھ ہاتھ کر جانے اور اس کے نتیجے میں اللہ کے گھر میں بد دعائیں لینے والے سابقہ وفاقی وزیر اور اس کے آلہ کاروں کے خلاف حج انتظامات میں بد عنوانی کے خلاف عدالتی فیصلہ ہے جس میں انہیں 12سال قیدکا فیصلہ سنا کراحا طہ عدالت میں ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔ یاد رہے ان کے دور حکومت میں اس معاملہ کو ٹھپ کر نے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا بلکہ اُس وقت ایف۔
آئی۔اے میں تعینات ایک ایماندار افسر حسین اصغر کو جو سپریم کورٹ کے حکم پر اس کیس کی تحقیقات کر رہے تھے کا گلگت بلتستان تبادلہ کر دیا گیا۔لیکن جس کے خلاف اللہ کی عدالت میں یف۔آئی۔آر درج ہو چکی ہو ، وہ اللہ کے غضب سے بھلا کیسے بچ سکتے ہیں ۔ ؟؟؟
جناب خادم اعلیٰ ! مجھ سمیت کئی ایسے لو گ ہیں جو آپ کی صلاحیتوں کے دلداہ ہیں لیکن جب پنجاب اور بالخصوص میں صحت کی تبا ہ ہوتی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔
آپ کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دینے والے صوبائی مشیر، وزیر، سیکر ٹری صحت سمیت ہسپتالوں کے ایم۔ایس اپنا الو سیدھا کرتے ہوئے اپنے پیاروں کی علاج کی خاطر در در کے دھکے کھانے والے وہ لوگ جن کے پاس ایک ڈبہ دودھ خریدنے کے بھی پیسے نہیں ہوتے ، انہیں مزید ذلیل کر کے انجوائے کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور یوں ، علاج کی سہولت میسر نہ ہونے او رہاتھوں میں ہی سسک سسک کر مر نے والے ا پنے بچے کو دیکھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر اپنے اللہ کو آپ کی شکایت لگاتے نظر آتے ہیں ۔

میں، ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیادوں پر ذلیل ہو نے والے ان ہزاروں لوگوں کا ذکر نہیں کرتا صرف ایک واقعہ آپ کے سامنے رکھنا چا ہوں گا جوایک دوست کچھ روزقبل لاہور کے سر کاری ہسپتالوں کی کار کردگی اور اپنے ہمسائے کے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان سنا رہے تھی:” ایک بار پڑھا تھا کہ اولادیں اس لئے ہوتی ہیں کہ جب ہم مر جائیں تو جنازوں کو کندھادیں۔ہمیں پیار سے نہلائیں، سفید اجلے کپڑے پہنائیں اور دھیرج سے مٹی کے حولے کر کے چلے آئیں۔
اُس روز لیکن عجیب ہی ہوا۔بہت متقی ، خود بھی جوان اور بیٹا بھی 22سال کا،ماں کے ہاتھ کا کھانا کھایا،سر درد رتھا، دوائی لی اور سو گیا۔فجر کی نماز پابندی سے پڑھنے والا بیٹا جب نہ اٹھاتو باپ کو تشویش ہوئی، دیکھا توبیٹا کمرے میں نیم مردہ حالت میں پڑا تھا۔
باپ نے جوانی کی چوکھٹ پر قدم رکھنے والے بیٹے کو اٹھایا اور قریب ہی چوبرجی چوک میں ایک ہسپتال میں لے آئے۔کرپشن کے خلاف نعرے لگوانے والی مذہبی و سیاسی جماعت کے زیر انتظام چلنے والا ہسپتال ، جہاں تعینات عملہ خود اخلاقی کرپشن میں ملوث ہے ۔
جس پر یہاں موجود نیم غنودگی کی حالت میں پائے جانے والے ڈاکٹرز نے جواب دیا کہ ہمارے بس کی بات نہیں ، کارڈیالوجی لے جائیں۔ کارڈیالوجی ہسپتا ل لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے جواب دیا کہ دل کا نہیں ،دماغ کا معاملہ لگتا ہے تو پڑوس میں واقع سر وسز ہسپتال لے آئے۔جہاں ایک بیڈ پر تین تین مریض پڑے تھے ۔انہوں نے بھی اپنی جان چھڑوانے کے لئے جواب دیا کہ دماغ کا علاج جنرل ہسپتال میں بہتر ہوتا ہے ۔ لہذا کئی گھنٹوں سے ہسپتالوں کے چکر کاٹتا اور ذلیل ہو تا باپ اپنے بیٹے کو جنرل ہسپتال لے آتا ہے ۔
یہاں بھی ڈاکٹر اپنی مجبوری کا رونا سناتے ہیں کہ انتہائی نگہداشت کا مریض ہے اور ہمارے اس وارڈ میں جگہ نہیں ہے ۔بیٹا ، مٹھی سے گرتی ریت کی طرح ہاتھوں سے نکل رہا تھا اور باپ دیوانہ وار کبھی ایک ہسپتال سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے ہسپتال کے چکر لگا رہا تھا۔
بالآخر ایک رشتے دار کے مشورے پر لاہور کی نہر پر واقع انتہائی پرائم لوکیشن پر واقع پرائیویٹ ہسپتال کا رخ کیا جا تا ہے جو کھلے دل کے ساتھ مریض کو داخل کرتے ہیں اور ساتھ ہی چند روپوں پر ملازم باپ کو فوری طور پر ایک لاکھ روپے جمع کرانے کے احکامات صاد ر کئے جاتے ہیں۔
خیر ،کسی طرح ایک لاکھ روپے جمع کرایا گیا جس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے روزانہ کی بنیادوں پر 60ہزار روپے جمع کرانے اور کئی روز تک ہسپتال میں رکھنے کی بھی بات کر ڈالی، یہ سن کر ایک دفعہ پھر جناح ہسپتال کا رخ کیا جاتا ہے جہاں کی کہانی اس سے بھی عجیب ہے ۔ دو دن رہے اور سینئر ڈاکٹر کو صرف ایک دفعہ توفیق ہوئی کہ وہ وارڈ کا چکر لگا سکے۔ ایسی صورتحال دیکھ کر باپ نے جوان بیٹے کو اٹھا یا اور کہا:” چل بیٹا، گھر چلیں ،تمہاری ماں بھی انتظار میں ہوگی ،تو بھی تو تھک گیا ہو گا ،بیٹاکہ جو سکون کی نیند سو چکا تھا ،ہر درد جس کا مٹ چکا تھا،سانس اور روح کے سب جھگڑے جس کے ختم ہو چکے تھے “۔
میں سوچ رہا ہوں کہ بیٹے تو اس لئے ہوتے ہیں کہ ماں باپ کے جنازے اٹھائیں۔کتنا مشکل ہوتا ہے اولادوں کے جنازے اٹھانا“۔۔
جناب خادم اعلیٰ! یہ تو صرف ایک واقعہ ہے ، سر کاری ہسپتالوں میں روزانہ ایسے بیسیوں واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ابھی بھی وقت ہے کہ آپ ملک و قوم کے پیسیوں کو جونکوں کی طرح ڈکارتے ، ان افسران پر یقین کر نے کی بجائے خود صحت کی صورتحال کو مانیٹر کریں، ہسپتالوں کا اچانک دورہ کریں جیسا کہ آپ میٹرو اور اب اورنج لائن منصوبوں کا کرتے ہیں ۔
اپنے کسی بھروسہ مند اور نیک افسر کو اس کی باقاعد گی سے مانیٹرنگ کے احکامات صادر کرتے ہوئے پنجاب کے سر کاری ہسپتالوں میں ذلیل و خوار ہوتی ، دکھوں اور تکلیفوں کی ماری عوام کے سر پر دست شفقت رکھیں۔ یاد رہے! اگر اب بھی آپ جھوٹ پر مبنی سب اچھا ہے کی رپورٹ پر مطمئن رہے تو روزانہ کی بنیادوں پر ان ہزاروں لوگوں کی بد دعائیں اپنا کام دکھانا نہ شروع کردیں اور پھر ہمارے پاس کوئی مہلت باقی نہ رہے گی۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو۔آمین
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے ہفتہ جون کے مزید کالم