اپنوں کے درمیاں

ہفتہ جون    |    خالد ارشاد صوفی

اچھے دوستوں کی صحبت میں بیٹھنانصیب ہوجانا آج کے دور میں غنیمت ہی سمجھنا چاہئے جب کوئی اچھا خیال سننے کو مل جاتاتو ایسی مہمیز مل جاتی ہے کہ زندگی کاپہیہ تیز کرنے میں بڑی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔خاص طور پر جب لاہور کی گرمی انسان کو جلانے پر مائل ہوچکی ہوتو دلوں میں سے مادیت کا ناسور پگھلانے میں یاروں اور دانشوروں کی باتیں بڑا ہی کام دکھاتی اور لطف سے آشنا کرتی ہیں۔ان دنوں کہ جب ہر کوئی ہائے ہائے گرمی پکاررہا تھا،لاہور میں یاردوستوں کی وساطت سے ایسی محبت بھری محفلوں میں شرکت کا موقع ملاکہ پورا ہفتہ تن کی گرمی کابھی احساس جاتا رہا اور من آنگن میں ٹھنڈی ہوا ئیں چلتی رہیں۔
سرشاری بڑی چیز ہے جو انسان کے جذبے کو قوت برداشت عطا کرتی ہے اسی لئے تو سیانوں نے کہہ رکھا ہے کہ اچھی صحبتیں انسان کو زندگی کی جانب لوٹ جانے کا پیغام دیتی ہیں۔

(خبر جاری ہے)

اچھی گفتگو سے ذہن کھلتا ہے ،صحبت یاراں خوش است۔۔۔اس میں فکری اور عملی بالیدگی کا پیغام چھپا ہوا ہے۔گزرے ہوئے ہفتے میں جن تین محفلوں نے مجھے متاثر کیا ہے ان کا ذکر مجھ پر قرض ہے۔
پچھلے اتوارسے معروف صحافی اور مصنف شاہدنذیر چودھری نے ایک خوبصورت روایت کا آغاز کیاہے۔

یہ بات تو صحافی دوست اچھی طرح جانتے ہیں کہ اتوار کا دن ہو ،کسی صحافی کو صبح دم بیدار کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔شاہدنذیرچودھری نے یوں کیا کہ اتوار کی صبح جوہر ٹاوٴن میں ناشتے کے لئے مختلف اخبارات میں میگزین جرنلزم سے وابستہ دوستوں کو اکٹھا کیا اور وجہ یہ بتائی کہ اسطرح کی محفلوں میں صحافی دوستوں کو صبح سویرے اٹھانے کا ایک مقصد ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں صبحیں کیسے طلوع ہوتی ہیں اور لوگ اپنی زندگی کو کیسے انجوائے کرتے ہیں۔
ان کی دعوت پر صہیب مرغوب،عرفان اطہر قاضی،عامر ہاشم خاکوانی،اعجاز بٹ،ندیم نظر،نصیر الحق ہاشمی اور راقم نے اپنی صبح کی گہری نیندوں کو تیاگ دیااور پھر واقعی احساس ہوا کہ ایک صحافی کی زندگی میں صبح طلوع کرنا کتنا ضروری ہوچکا ہے۔تازہ ہوا فکری گھٹن ختم کردیتی ہے ۔محفل میں صحافتی زندگی کے مسائل اور ان سے نپٹنے کے جدید طریقوں پر خوب گفتگو ہوئی ۔برادر شاہدنذیر چودھری کا کہنا تھا کہ دنیا کو ذہنی فکری اور جسمانی فوائد سے روشناس کرانے والے قلمکاروں کو اپنی زندگی میں بھی ان سنہری اصولوں کو اپنانا چاہئے ۔
جو صبح اٹھے گا اسکی شام سہانی ہوگی۔واک اور ورزش ٹینشن اور ڈپریشن کا بہترین علاج ہے ۔اس پر عرفان اطہر ،صہیب مرغوب اور عامر خاکوانی نے بہت مفید گفتگو کی ۔ڈاکٹرز تو بے چارے چیخ چیخ کر بتارہے ہیں کہ تازہ ہوااور ورزش انسان کے ہارمونز کو صحت مند بنادیتی ہے جس سے اسکو دماغی بیماریوں سے کافی حد تک نجات مل جاتی ہے۔اس وقت ہمارے صحافیوں ، دانشوروں اور قلم کاروں کو ایسی ہی صحت کی ضرورت ہے ۔اس محفل کاکم ازکم مجھے فائدہ یہ ہوا کہ میں نے صبح خیزی اور واک کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیا ہے اور مجھے جاوید چودھری کا یہ جملہ اس وقت بہت یاد آتاہے کہ اگر تم کامیاب انسان بننا چاہتے ہو تو صبح اٹھواور تازہ ہوا کھاوٴ ۔
کیونکہ دنیا کا ہر کامیاب انسان صبح سویرے اٹھنے کا عادی ہے۔ایک دن کی روٹین نے مجھے واقعی دن کی روشنی اور وقت کا احساس دلایا ہے حالانکہ اس سے قبل ہم دوستوں کے ساتھ اکثر یہ گلہ کیا کرتے رہتے تھے کہ یار وقت کا پتہ ہی نہیں چل رہا کیسے کٹ جاتاہے۔اس کی وجہ سمجھ آگئی ہے کہ گیارہ بارہ بجے سو کر اٹھنے والوں کے دن میں سے چار پانچ گھنٹے تو نیند کاٹ لیتی ہے۔اس روز جب میں نے صبح سویرے اٹھنے کا عزم کیا تو میرے لئے سارا دن کاٹنا مشکل ہوا،میں بار بار گھڑی دیکھ کرحیران ہوتا رہا کہ ابھی تو بارہ بجے ہیں لیکن میں نے اتنے سارے کام کیسے کرلئے۔
دراصل وقت کو پکڑا نہیں جاسکتا لیکن ٹائم مینجمنٹ کے اصولوں پر عمل شروع کریا جائے تو زندگی کا لطف دوبالا ہوجاتاہے۔
دوسری محفل گزری ہوئی جمعرات کوہمدرد نے سجائی جس کے انتظامات برادر علی بخاری نے سنبھال رکھے تھے۔فلیٹیز میں اے پی این ایس اور سی پی این ای کے لاہور سے منتخب ہونے والے صحافیوں کے اعزاز میں تھی۔سعدیہ راشد، مجیب الرحمن شامی،عطاء الرحمن،ضیا شاہد،عمر شامی،جمیل اطہر،بیرسٹر ایس ایم ظفر،رحمت علی رازی،بشری رحمن،جسٹس ناصرہ جاوید،نوید چودھری،قیوم نظامی،افتخار مجازاور آسمان صحافت کے کتنے ستارے موجود تھے۔
اس تقریب کا مقصد تو نومنتخب عہدے داروں کو مبارکباد دینا تھا لیکن مقررین نے ہمدرد پاکستان کے بانی حکیم محمد سعید شہید کی قومی اور ملی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرکے اپنے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور ساتھ ساتھ ہمدرد کی متولیہ محترمہ سعدیہ راشد کو اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کی روایت کو جاری رکھنے پر خراج تحسین پیش کیا۔اس محفل کی خاص بات یہ تھی کہ ایک عرصے بعد ہمدرد کے علاوہ ہر دانشور کو احساس ہوا کہ حکیم محمدسعید کی شہادت کے بعد قومی صحافت میں انکی یادوں کو تازہ رکھنا کتناضروری ہے۔
علی بخاری ہمدرد کے ایک جانثار رکن ہیں اور انہوں نے اس موقع پرمیڈیا مالکان کے ساتھ سینئر صحافیوں کو اکٹھا کرکے یہ موقع فراہم کردیا تھا کہ وہ حکیم محمد سعید کی فکر ی تسلسل کو جاری رکھاجاسکے۔
تیسری محفل ایک ماڈرن درویش سید بلا ل قطب کے ساتھ تھی۔انہوں نے صحافیوں کے ساتھ برنچ کا اہتمام کررکھاتھااور اس کا سہربرادرم علی عباس کے سر جاتا ہے۔محفل میں نوجوان دانشوروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور خوشی اس بات پر ہوئی کہ ہر کوئی سید بلال قطب سے الجھے ہوئے سوالوں پر منطقی بحثیں کررہاتھا۔
سید بلال قطب ہر کسی کو جواب دے رہے تھے لیکن وہ بے حد رنجیدہ دکھائی دے رہے تھے۔بھید کھلا کہ برطانیہ سے واپس آنے کے بعد ان کا یہ غم اور بڑھ گیا ہے کہ مسلمان علمی تمسخر کا شکار ہوگیا ہے اور وٹس ایپ اور فیس بک پر وہ اسلامی معلومات اور امیجز پرتمسخرانہ رائے دے رہا اور بے وجہ کی بحثوں میں پڑ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگ سوال طنزیہ طور پر کرتے ہیں اور یہ لہجہ انہیں وٹس ایپ اور فیس بک نے دیا ہے ۔
مطالعہ سے محرومی اور اپنی اقدار سے لاعلمی نے عام مسلمانون کے ساتھ ساتھ رجحان ساز افراد کو بھی مسخرہ بنادیا ہے ،کوئی اپنا کردار درست کرنے کی طرف نہیں جارہا۔لوگ یورپ کی نقل کرنا چاہتے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ یورپ کے نقش قدم پر چلنے میں علمی اور سماجی ترقی ہے حالانکہ یورپ نے گناہ کو لیگل فریم میں لا کر اسکا تصور تبدیل کرنا چاہا ہے جبکہ ایک مسلمان گناہ کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔زنا بدکاری شراب اور ایسی لعنتوں والے ملک ہمارے آئیڈیل کیسے ہوسکتے ہیں۔

اس بات میں تو واقعی کوئی دو آرا نہیں ہیں کہ ہم مسلمانوں کو اپنی اقدار کے مطابق ملکی قانون وضع کرنے چاہئیں تاکہ گناہ سے محفوط رہ کر ایک خوبصورت معاشرے کو پروان چڑھایا جاسکے۔لیکن افسوس کہ پاکستان میں ایک ایساطبقہ طاقتور ہورہا ہے جو طالبان جیسا ہی خطرناک ہے اور ملک کو غیر اسلامی بنانے اور اس قوم کو ناامیدی اور گناہ کی جانب متوجہ کررہا ہے۔یہ طبقہ قوم کی سوچ بدل رہا ہے۔ظاہر ہے جہاں سوچ اپنے تشخص سے جڑی ہوئی نہ ہوگی وہاں اپنے دین اور ملک سے محبت کا حق کیسے ادا ہوسکتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

خالد ارشاد صوفی کے ہفتہ جون کے مزید کالم