خواہشات کا مجموعہ مایوسی کی داستان!

ہفتہ جون    |    ساجد خان

اس سال کے قومی میزانیہ پر سب سے اچھا تبصرہ پاکستان تحریک انصاف کے شعلہ بیان مقرر شاہ محمود قریشی کا ہے۔ وزیر خزانہ ڈار صاحب جو مسلم لیگ نواز کے باخبر حلقوں میں اتفاق ڈار کے نام سے مشہور ہیں ۔ بہت ہی محنت مشقت کے علاوہ پاکستان کے خیر خواہ عالمی ادارہ کی بھر پور مشاورت سے ایک میزانیہ پیش کیا ہے۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امیر لوگوں کا غریب ملک بہت ہی لاچار اور بے بسی کا شکار ہے ۔جناب اسحاق ڈار وزیرخزانہ پاکستان بنیادی طور پا اکاونٹنٹ ہیں۔
یہ لوگ اعداد کے حوالہ سے ایسا کو رکھ دھندہ تیار کرتے ہیں کہ کوئی بھی سرا آپ کے ہاتھ نہیں آتا۔ جب بے نظیر اور میاں صاحب کی جماعتیں انتخاب کے بعد سرکار بنانے کا سوچ رہی تھیں۔ اس زمانہ میں ملک کے صدر ملٹری کے جنرل مشرف تھے۔

(خبر جاری ہے)

دونوں جماعتوں نے باہمی مفادات کے تناظر میں اہم فیصلہ کیا کہ مل جل کر حکومت بنائی جائے اور اس پر عمل بھی کچھ عرصہ ہی ہوسکا۔ اس وقت جناب اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ کے طور پر مسلم لیگ نواز نے نامزد کیا۔

مگر کچھ ہی عرصہ کے بعد فریقین ایک دوسرے پرا اعتبار کے معاملہ میں بدظن ہو گے۔
اس ہی زمانہ میں آئی ایم ایف کی طرف سے حکومت پاکستان کو شکایت کی گئی کہ جو اعدا وشمار وزارت خزانہ پیش کرتی ہے وہ قابل اعتبار نہیں ہوتے۔ ایسے میں آئی ایم ایف پاکستان کی معیشت پر اعتبار کرنے پر تیار نہیں۔ اس زمانہ میں امریکہ کی نظرِ عسنایت کچھ زیادہ ہی تھی۔ امریکی اور برطانیوی دوستوں کی مدد کی وجہ سے آئی ایم ایف نے خاموشی اختیار کر لی۔
معاشی معاملات میں پاکستان کو کافی مسائل کا سامنا تھا اور وہ مسائل ابھی بھی ہیں۔ ان مسائل میں سب سے اہم مسئلہ انکم ٹیکس کا تھا۔ انکم ٹیکس کی وصوی کے معاملہ میں سرکار سرگرم تو تھی۔ مگر ٹیکس دینے والوں کی تعداد قابل تشویش رہی۔ اس زمانہ میں ملک کو آصف علی زرداری چلا رہے تھے۔ دہشت گردی کی وجہ سے ملکی معیشت بدحالی کا شکار تھی۔ اگرچہ ان کے میاں نواز شریف سے ذاتی تعلقات مسالی تھے۔ مگر سیاسی طور پر میاں نواز شریف کے متوالے پیپلز پارٹی کو ہر دم پریشان رکھتے تھے اور مسلم لیگ نواز نے پیپلز پارٹی کے دو وزیراعظموں کی قربانی بھی کروا دی۔
جو بظاہر جمہوریت کا شاخسانہ لگی۔
اس سال کے قومی بجٹ میں عوام اور کسانوں کے لیے بہت دعوے نظر آتے ہیں۔ وزارت خزانہ کے ٹھنڈے دفترون میں بیٹھے باوٴ افسران کے پاس تجاویز کا انت نہیں۔ پھر گزشتہ چند سالوں سے زراعت کے معاملات نظر انداز ہو رہے تھے زرعی اجناس کی قیمتوں میں مسلسل کمی کسانوں کو پریشان کر رہی تھی۔ جبکہ دوسری طرف قومی اسمبلی میں وڈیروں اور سرداروں کی بہشات ہے۔ ایسے میں مسلم لیگ نواز کے ممبران اسمبلی ملکی مسائل پر توجہ دیتے نظر نہ آئے پھرنواز سرکار کی پالیسی صوبوں کے بارے میں بڑی غیر یقینی سی رہی۔
پنجاب میں ترقیاتی کاموں کے اشتہار دوسرے صوبے کے لوگوں کے لیے حیرانگی کا باعث بھی بنے۔ بظاہر تو پنجاب میں ترقی کا اتنا شورغل تھا کہ پنجاب کے عوام حیران تھے کہ ترقی کہاں ہو رہی ہے جو ان کے نصیب میں نہیں۔ مہنگائی کا جن سارے پاکستان میں راج کرتا نظر آتا۔ مرکزی سرکار اور صوبائی حکومتوں کا کام فقط دعوے تک محدود رہا۔ پھر آئین کی ترمیموں نے صوبوں کو با اختیار تو بنا دیا۔مگران سے قوت فیصلہ کی قوت چھین لی۔
اس سے صوبوں کی داخلی خود مختاری کو ضرب لگی۔
اس دفعہ کے بجٹ نے قومی معیشت کی زبوں حالی واضح کر دی ہے۔ ہمارے اخراجات پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ اور آمدنی کے معاملات اندازوں پر قائم یں۔ معمولات کی مد میں تبدیلیاں نوکر شاہی کے زرخیز ذہن کی پیداوار لگتی ہیں ملکی کسانوں اور تاجروں سے مشاورت کا فقدان نظر آتا ہے۔ پھر اس دفعہ قومی میزانیہ میں چند ایسی تبدیلیاں خاموشی سے کی جا رہی ہیں جو ہمارے ملک کے باثر افراد کے مفادات سے وابستہ نظر آتی ہیں۔
اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف سرکار ملک میں کرپشن پر پردہ ڈالنے کو ہی مسائل کا حل خیال کرتی ہے۔ انہوں نے اس معاملہ میں اپوزیشن لیڈر خودشید شاہ کو اپنا ہمنوا بنایا ہے۔ اب سید خورشید شاہ اس سال کے بجٹ پر اپنے لیڈر سابق صدر آصف علی زرداری سے ذاتی حیثیت میں تجاویز لینے کے لیے دبئی جا چکے ہیں۔ آصف زرداری کے مخصوص مشیر سینٹر رحمان ملک کوشش میں ہیں ک بجٹ کو جیسے تیسے کر کے منظور کروانے میں میاں نواز شریف کی مدد کی جائے اور پھر پانامہ کے معاملہ پر ان سے کوئی سودے بازی ممکن ہو سکے گی۔
اس ساری صورت حال میں جمہوریت پر لوگوں کا ایمان مزید مشکوک ہوتا جا رہا ہے۔
اس دفعہ کے بجٹ کے آنے سے پہلے کسی سرکاری حلقوں سے دعوے کیے جارہے تھے کہ ٹیکس نٹ میں اضافہ اسی میزانیہ کا بنیادی ہدف ہوگا۔ مگر بجٹ کے اعلان کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف کے خزانہ کے لوگ انکم ٹیکس کو ملکی آمدنی کے لیے زیادہ اہم نہیں سمجھتے اور اس ہی وجہ سے ٹیکس کی وصولی کا ہدف بھی مقرر نہیں کیا جا سکا۔
اور ملکی معیشت میں نئے ٹیکس دینے والوں کی واسیع گنجائش موجود ہونے کے باوجود ٹیکس کے معامہ کو نظر انداز کیا گیا۔ ہمارے ہاں عام ٹیکس جو روز مرہ کی اشیا پر ہے وہ تقریباََ تمام لوگ دیتے ہیں۔ ایک امیر آدمی اور غیری ب آدمی کی آمدنی اتنی نہیں کہ وہ باقاعدہ ٹیکس نٹ کا حصہ بن سکے۔ مگر اس کے باوجود سرکار غیر اصولی اور غیر آئینی طریقہ سے ٹیکس لگاتی ہے اور وصول بھی کر رہی ہے۔ اور جو لوگ ٹیکس دینے کے لیے تیار ہیں ان کو بھی کوئی رعایت ملتی نظر نہیں آتی۔
وزیرخزانہ صرف اور صرف قرضوں کی معیشت پر یقین رکھتے ہیں جس ملک کے لیے بہت خطر ناک صورت حال بن سکتی ہے ۔
اس ساری غیر یقینی صورت حال میں وزیراعظم علیل ہیں اور علاج کے لیے ملک سے باہر ہیں۔ ملکی معاملات کی نگرانی وزیرخزانہ کے پاس ہے۔ اس دفعہ جب بجٹ پیش کیا گیا تو وزیراعظم تو ایوان میں موجود نہ تھے۔ پھر وزیر خزانہ کا وریہ بھی بڑا حیران کن تھا۔ ان کی تقریر میں خود ستایشی اتنی زیادہ تھی کہ ان کی اپنی جماعت کے لوگ حیران تھے کہ وزیر خزانہ کو اتنی زیادہ خود نمائشی کی کیا ضرورت ہے ۔
بجٹ میں کسانوں کے معاملات پر وہ ایوان کی طر ف سے تالیوں کے طلب گار بھی نظر آئے۔ مگر ارکان اسمبلی وزیراعظم نواز شریف کی غیرحاضری کی وجہ سے بے چین سے نظر آئے۔ ارکان نے کافی توجہ سے وزیرخزانہ کا بھاشن سنا اور چند دعووٴں پر ان کی ستاش بھی کی۔ مگر سب ارکان کے چہروں پر تشویش مسلسل غالب رہی اورایوان میں مختلف قسم کی خبروں پر بات چیت نمایاں رہی۔ ایوان کے سپیکر نے بہت ہی کوشش کی کہ ایوان کا تقدس قائم رہے۔
مگر ممبران کی عدم توجہ نے ان کی ایک نہ چلنے دی۔ ارکان اسمبلی کے سب اہم معاملہ ان کی تنخواہوں کے اضافہ کا تھا۔ جس میں ان کو سرفراز کیا گیا۔
اس وقت باظہر ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف سرکار اور عسکری ادارے ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات پر ہماری وزارت خارجہ اور اس کے بابو حسبِ روایت نوکر شاہی کے مزاج کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مگر عسکری حلقے امریکی روئیے کے خلاف بات کرتے نظر آتے ہیں اور اس ہی وجہ سے امریکہ سرکار ایک وفد پاکستان کی شکایات کا جائزہ لینے کے لیے آرہا ہے۔
مگر امریکہ اس خطہ میں نئی تبدیلیوں کا خواہش مند ہے ۔ کیا اس کے لیے ہم لوگ تیار ہیں یہ اہم سوال ہے۔ اب میاں ں نواز شریف صحت مند ہو کر پہلے تو بیت اللہ جائیں گے اور اُمید ہے رمضان کا آخری عشرہ وہاں گزاریں اور اس کے بعد وہ ملکی سیاست کے بارے میں حیران کن اعلانات بھی کر سکتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم معاملہ کرپشن کا ہوگا۔ مگر اس سے پہلے کی کابینہ میں تبدیلی بھی ممکن ہے ۔ ان کو بجٹ کو پاس کروانے میں ایک وفعہ پھر آصف علی زرداری اور ایم کیوایم کے ساتھ بات کرنی ہوگی۔ ان کے ویزرخزانہ کے خواہشات کا مجموعہ اور مایوسی کی داستان ملکی سیاست میں تبدیلی کرتی نظر آرہی ہے۔جو کم از کم جمہوریت کے حق میں نہیں ہوگی اور اس وقت جمہوریت کے لیے کر بھی کیا سکتی ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ساجد خان کے ہفتہ جون کے مزید کالم