بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

پیر جون    |    ذبیح اللہ بلگن

پروین شاکر مرحومہ نے جب کہا تھا کہ ”بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی“تو خدا جانے ان کے فکر وتصور میں کس کی تصویر سجی تھی۔مگر آج رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اسلامی شعار کے استہزا پر پروین شاکر کا یہ مصرع دہرانے کو دل چاہتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ قلمکاروں کی دنیا میں جب بعض صاحب قلم اسلام اور اسلامی معاشرے کو ہدف تنقید بناتے ہیں تو ہم جیسے مذہب پسند ان کی مذمت اور مزاحمت کرتے ہیں ۔
دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو مسلم معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والے ہر واقعہ کو اسلام سے جوڑ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ اسلامی تعلیمات سماج کی تعمیر و ترقی میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کر سکتیں لہذا سلام کو مساجد تک محدود کر دینا چاہئے اور معاشرتی نظام کی فلاح و بہبود کیلئے دیگر روشن خیال نظریات کو عملی جامع پہنانا چاہئے ۔

(خبر جاری ہے)

اسلا م اور اہلیان اسلام پر تنقید دراصل مسلمانوں کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے کی جاتی ہے ۔

مسلم معاشرے میں ہم جو طرز عمل اختیار کرتے ہیں مذہب بیزار اسے ”اسلامی فعل“قرار دیتے ہیں اور پھر اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس طرز عمل کوبطور مثال پیش کرکے اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ہمارے ایک روشن خیال صاحب تو اس قدر مذہب بیزار ہیں کہ وہ ایک ٹی وی چینل پر بیٹھ کر ببانگ دہل کہتے ہیں کہ”میرے مطابق“معاشرے کی تباہی کا حقیقی زمہ دار مذہب ہے ۔اب یہاں رک کرزرا سوچنا چاہئے کہ اگر وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں غیرت نہیں کیونکہ وہ دودھ میں پانی ملاتے ہیں ،مرچوں میں بورا شامل کر دیتے ہیں،تربوز کو لال رنگ کے انجیکشن لگاتے ہیں وغیرہ وغیرہ تو اس میں ایسا غلط بھی کیا ہے ؟۔
یہاں تحریر کے آغاز میں عرض کیا گیا پروین شاکر کا مصرع مکرر عرض ہے کہ ”بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی“۔
ماہ صیام رواں دواں ہے ،شدید گرمی اور طویل دورانیے کے روزے نے مسلمانوں کو ایک صبر آزما کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے ۔اس کے باوجود مسلمان اس تکلیف دہ عمل سے محض اس لئے گزر رہے ہیں کہ انہیں کامل یقین ہے کہ اس صبر اور مشقت کی بدولت اللہ تعالیٰ ان کے سابقہ گناہوں کو معاف فرمائیں گے اور مستقبل میں لغزشوں سے اجتناب کرنے کی توفیق سے بہرہ ور کریں گے ۔
ہونا تو یہ چاہئے کہ اللہ کی رضا کے طلب گاروں کیلئے آسانی پیدا کی جائے اوران کی خدمت کی جائے مگر یہاں حالات انتہائی دگرگوں سطح تک پہنچ چکے ہیں۔قرآن اور پیغمبر فرمان ﷺکے مطابق روزے دار مزدور سے سہل کام لینا چاہئے اور روزہ دار کو راحت افزا ماحول فراہم کرنا چاہئے مگر ہمارے پاکستانی معاشرے کی حقیقی اور عملی صورتحال یہ ہے کہ ہر سطح پر روزہ دار کا استحصال کیا جا رہا ہے ۔روزہ افطار کروانا تو ایک طرف وہ خود روزہ افطار کرنے کی سکت سے محروم ہے ۔
اگر وہ چاہے کہ کسی پھل کا جوس نوش کر کے دن بھر کی پیاس اور بھوک کی تسکین حاصل کرے اور اگلے روزے کیلئے توانائی حاصل کر سکے تو وہ بیچارا پھلوں کی قیمتوں کا سن کر اپنی خواہش سے دستبردار ہو جاتا ہے ۔کیا کہیں گے خادم اعلیٰ بیچ اس مسئلے کے جب ماہ رمضان سے ایک روز قبل آلو پندرہ روپے میں فروخت ہو رہا ہو اور رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی اس کی قیمت 60روپے کلو ہو جائے ، جب 80روپے درجن بکنے والا کیلا 200روپے درجن میں فروخت ہونے لگے ،جب 80روپے کلو والا آم 150روپے کلو میں بک رہا ہو تو ایسے معاشرے کو اسلامی اور فلاحی معاشرہ قرار دیا جا سکتا ہے؟۔
ابھی کل ہی کی بات مریم طاہر بتا رہی تھیں رکشے میں بیٹھے بیٹھے سموسے والے سے ایک درجن سموسے لیے تھے جب گھر جا کر دیکھا تو وہ درجن نہیں گیارہ تھے ۔اس سموسے والے کے اسلام کو تو ایک طرف رکھئے کیا اسے انسان بھی قرار دیا جاسکتا ہے؟جو اٹھارہ گھنٹے بھوکا رہنے والے انسانوں کے ساتھ اس شرمناک فعل کا مرتکب ہو رہا ہے ۔میں نے بھی کل کچھ سموسے خریدے تھے مگر اس وقت مایوس ہوا جب میدے میں سوڈے کی مقدار زیادہ ڈال کر اسے پھولنے پر مجبور کر دیا گیاتھا مگر اس کے اندر آلو اور دیگر مواد نہیں ڈالا گیا تھا ۔
بخدا اس میں کوئی راوی موجود نہیں بچشم خود اور بذات خود ذاتی تجربے کی بات کررہا ہوں کل ایک کلو ٹماٹر خریدے تھے ان میں ایک پاؤ کے قریب گلے سڑے تھے۔مجھے زار بتائیے ایسے دوکاندار کے بارے میں آپ کے کیا کہیں گے ؟۔کیا اسے زیبا ہے کہ وہ حکمرانوں کی کرپشن اور بد عنوانی کے بارے میں کوئی تعرض کرے ۔کیا مناسب ہوگا کہ وہ اللہ سے گلہ باندھے کہ اللہ نے اس کے گھر بیماری کیوں اتار دی ہے ؟۔کیا ایسے مسلمان کو کوئی حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی دعاؤں کی عدم قبولیت کے بارے میں خالق کائنات سے استفسار کرے ؟۔
یقین جان لیجئے ہماری اس انسان دشمنی پر زمین اپنا سینہ چاک کر چکی ہوتی اور آسمان زمین پر آن گرتا اگر اس میں اللہ کی مخلوق سے پیار کرنے والے موجود نہ ہوتے ۔آپ نے سڑکوں اور چوراہوں میں لگے افطار دسترخوان تو ضرور دیکھے ہونگے ۔جی ہاں !ان دسترخوانوں کے میزبان روزہ داروں کو روزہ افطار کرواتے ہیں ،ان کی خدمت کرتے ہیں جاتے ہوئے ساتھ لیجانے کی بھی اجازت دیتے ہیں ۔اگر فلک محض مزنگ بازار کے سموسہ فروش کو دیکھتا تو یقینا کرو فر کا اظہار کرتا مگر وہ اسی مزنگ بازار میں لگے دسترخوان کو بھی دیکھ رہا ہے جہاں اٹھارہ گھنٹے طویل دورانیے کا روزہ رکھنے والے تسکین حاصل کرتے ہیں ۔
ماہ مقدس میں منافع دوگنا کرنے والوں نے خالق کائنات کو خفا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ ہماری اکثریت مذہب کے نام پر جان تو دے سکتی ہے مگر حرام خوری سے مجتنب نہیں ہوسکتی ۔ہماری اکثریت رسول اللہ ﷺ کی حرمت اور تقدس پر قربان ہو نے کو پابہ رکاب ہے مگر اسی پیغمبر کی ہدایات کو زندگی کا نصب العین قرار نہیں دے سکتی ۔یہی وجہ ہے کہ حکمران بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جو کچھ ہم گلی محلوں میں کر رہے ہیں۔
یہاں ناصح بھی کذب بیانی میں ملوث ہے اور حاکم و مزدور بھی بد عنوانی کی قبا اوڑھے ہوئے ہے ۔میں کسی اور کوکیا کہہ سکتاہوں میری اپنی جامع تلاشی بتاتی ہے کہ میں اپنے دفتر میں سارا دن جھوٹ بول کر اور رشوت کا مال جیب میں ڈال کر کہتا ہوں یہ سبزی فروش کتنا نا ہنجار ہے اسے رمضان کے مہینے کی بھی شرم نہیں ؟اور یہی حال سبزی فروش اور شیر فروش کا بھی ہے۔مجھے بتا دیجئے میری ان تمام سرگرمیوں کو دیکھ کر اگر کوئی مذہب بیزار ٹی وی پر بیٹھ کر اسلام اور مسلمانوں پر ہرزہ سرائی کرتا ہے تو اسے کیونکر منع کیا جا سکتا ہے ؟۔کن استدلال کی بنیادپر اس کا منہ بند کیا جا سکتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمان کا استہزا نہ کرے ؟۔یہی تو عرض کیا تھا کہ ”بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی“
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ذبیح اللہ بلگن کے اتوار جون کے مزید کالم