لاہور کی نوحہ گری۔ قسط نمبر 2

بدھ جون    |    میاں محمد ندیم

میاں محمد ندیم
ٹھوکرپر نہراور سٹرک کے درمیان آم کے باغ ہوا کرتے تھے مگر کنکریٹ کے جنگل انہیں چاٹ گئے-اس دیومالائی شہرکو کنکریٹ کا جنگل کھاگیا-اس کے حسن کو گرہن لگ گیا اور پھر رتیں بھی ہم سے روٹھنے لگیں-آج تو ”ٹھنڈی سٹرک“بھی ٹھنڈی نہیں رہی سیکورٹی کے نام پر ٹھنڈی سٹرک سے اس کا اصل حسن درخت چھین لیے گئے-پھراس کے گرد اونچی اونچی عمارتیں تعمیرہوتی چلی گئیں‘ٹریفک کے اژدھام نے رہی سہی کسرپوری کردی-ایسا ہی کچھ مال روڈکے ساتھ ہوا صدیوں پرانے درختوں کا بے رحمی سے قتل عام کیا گیا جونجانے کتنی سرگوشیوں کے امین تھے-اسی کے دہائی میں ملتان روڈکے دونوں اطرف ٹاہلی اور کیکرکے درختوں کی گھنی قطاریں ہواکرتی تھیں-گھنٹوں میں کوئی ایک آدھ بس یا ٹرک گزرتا -کاریں تو شاید شہربھر میں گنی چنی ہونگی کہ ہمارے اندازابھی شاہانہ نہیں ہوئے تھے-پھر وہ دور بھی آیا کہ کیکریا ٹاہلی کا کوئی درخت دیکھنا ہوتو لاہور سے میلوں دور جاکرتلاش کرنا پڑتا ہے-درخت بیچارے بھی خوف کے مارے لاہور کو چھوڑگئے کہ بے قدروں کے شہرمیں کیا کرنا ہے-مگر ایسا نہیں کہ لاہور شروع سے ہی بے قدرا شہرتھا اسے بے قدرا بنایا چند خاندانوں کی ہوس زرنے-سولہ سو ایکٹر(جسے آج اقبال ٹاؤن کہا جاتا ہے)بنی تو کہا جاتا تھا کہاں جنگل میں جاکرکوئی بسے گا-بس یہیں سے باغوں کا شہراجڑنا شروع ہوا-ویژن کی بات کرنے والوں کو تو علم بھی نہیں کہ ویژن کس چڑیا کا نام ہے-ابن انشاء نے1970کی دہائی میں خبردارکیا تھا اگر ایک دانشورکو تباہی نظرآرہی تھی تو سیکرٹریٹ میں بیٹھے بابوؤں اور اقتدار میں بیٹھے شاہی خانوادوں کا ویژن اس وقت کہاں تھا؟-میں کیپٹل ازم کے محافظ نام نہاد جمہوری نظام کا ناقدرہا ہوں لہذا میرا کسی جماعت سے کوئی تعلق ہے نہ ہی واسط ‘مگر لاہور کے شہری کی حیثیت سے اتنا ضرور کہنا چاہونگا کہ مورخ جب قیام پاکستان کے بعد کے لاہور کا نوحہ لکھے گا تو شریف خاندان کا نام اس میں سرفہرست ہوگا-علامہ اقبال ٹاؤن سے شروع ہونے والا تباہی وبربادی کا سلسلہ ایسا چلا کہ اب تک رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا-شہراتنا بڑھ چکا ہے کہ اسے کنٹرول کرنا کسی حکومت کے بس کا کام نہیں رہا-ماحولیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو کنکریٹ کے جنگل نے اس شہرکو برباد کرکے رکھ دیا ہے-چند سال قبل واسا کے منیجنگ ڈائریکٹرنے خبردارکیا تھا کہ اگر شہر کے پھیلاؤ کا سلسلہ نہ رکا اور ماحولیاتی تباہی کا سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو آنے والے چارسے پانچ سال میں لاہور کا سب سے بڑا مسلہ پانی ہوگا-چند دن پہلے ایک رپورٹ نظرسے گزری جس میں بتایا گیا تھا کہ لاہور کا زیرزمین پانی ایک میٹرسالانہ کے حساب سے نیچے جارہا ہے-یعنی آنے والے چند سالوں میں لاہور پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ایک شہرہوگا-جب پانی ہی نہیں ہوگا تو کروڑوں‘اربوں کے گھر کون خریدے گا؟-حکمران‘امراء‘پراپراٹی مافیا کسی کوکوئی فرق نہیں پڑے گا-فرق پڑے گا تو لاہور کے ان کے غریب باسیوں کوکہ جن کے پاس کوئی اور ٹھکانہ بھی نہیں کہ جہاں جاکر بس جائیں-ابھی سے لاہور کے کئی علاقوں میں اثرات نظرآنا شروع ہوگئے ہیں آدھے سے زیادہ شہرمیں پانی کی غیراعلانیہ راشن بندی چل رہی ہے کہ پانی24گھنٹوں میں صرف دوسے تین گھنٹے کے لیے ہی فراہم کیا جارہا ہے-درختوں کے قتل عام‘بیلوں کے خاتمے ‘دریاکے خشک ہوجانے اور بارش کے پانی کے لیے ذخائرنہ بنانے کی وجہ سے لاہوربدترین ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے-بھئی زمین سے پانی لے رہے ہو تو زمین کو پانی چاہیے بھی کہ نہیں؟بارشیں نہ ہونے کے برابررہ گئی ہیں کہ ہم نے ان عوامل کو ہی نہیں رہنے دیا جو بارشوں کا سبب بنتے ہیں-ہرطرف کنکریٹ کے جنگل بسانے سے ابرنہیں برسے گا-ابرکو برستے دیکھنا چاہتے ہو تو ان عوامل کو واپس لیکر آؤ-ہماری حکومتوں کی پالیسیاں واہیات حد تک بے وقوفانہ ہیں جن پودوں اور درختوں کا ہمارے ماحول اور آب وہوا سے کوئی میل ہی نہیں انہیں درآمدکرکے لگوادیا -سارا زورنہرکنارے اور ”براہمنوں“کے بستوں کے گرد پھول لگانے پر ہے-اربوں روپے سالانہ اس عیاشی پر اڑادیئے جاتے ہیں مگر مجال ہے کوئی بولے-کوئی ہے جو کہے کے حضور ایک سال کا بجٹ ہمارے روایتی پودوں اور درختوں پر خرچ کردیں مگر کس میں دم ہے بادشاہ سلامت کے سامنے کچھ بولے-ان کے تو اراکین اسمبلی کوملاقات کے لیے باقاعدہ عرضی دینا پڑتی ہے -تین ارب روپے کی لاگت سے بادشاہ سلامت کے لیے نیا طیارہ خریداجارہا ہے -کیا جہاں پناہ یہ خطیر رقم لاہور کو اس کے روایتی پودے اور درخت واپس کرنے پر صرف نہیں کرسکتے-جن میں سے اکثرکا قتل عام انہی کے خاندان کے ادوار میں کیا گیا-مگر لاہور سے شاہی خانوادے کا تعلق صرف ووٹوں اور اقتدار کی حد تک رہا ہے-رہنے کے لیے تو خیرسے لندن میں گھروں کی بھرمار ہوگئی ہے-دوبئی ‘جدہ اور دیگر ممالک کے جائیدادیں الگ ہیں -شاہی خانوادے کو یہ سب کچھ لاہور کی ہی وجہ سے ملا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ کم ازکم لاہور کو اس کے درخت ہی لوٹا دیں -آج کل نہر کنارے درختوں کا قتل عام جارہی ہے مگر ساری زبانیں گنگ ہیں -قاضی شہربھی اوں آں کرکے خاموش ہوبیٹھے -واہیات سی سول سوسائٹی جو ہر چھوٹی چھوٹی بات پر مظاہرے کرتی ‘پریس کانفرنس کرتی نہیں تھکتی اس نے بھی اہم ترین معاملے پر بھنگ پی رکھی ہے-سیاسی جماعتوں کو دیکھ لیں دھرنے‘جلاؤ ‘گھیراؤ‘ہڑتالیں بھئی کسی نے اس بات پر بھی دھرنا دیا ہے کہ پاکستان میں جنگلات دوفیصد سے بھی کم رہ گئے ہیں جوکہ کم ازکم کسی بھی ملک کے کل رقبے کا 25فیصد ہونا چاہیں-بات لاہور سے ہوتی ہوئی ماحولیات کی طرف نکل گئی مگر یہ بھی اہم معاملہ ہے-لاہور کا سب سے بڑا مسلہ اربنائزیشن رہا ہے یعنی چھوٹے شہروں سے لاہور کی طرف نقل مکانی کا رجحان -چونکہ ہماری حکومتیں عقل سے اتنی عاری اور نالائق رہی ہیں کہ انہوں نے کبھی اس مسلہ کی طرف توجہ ہی نہیں دی-لاہور کی طرف نقل مکانی کی کئی وجوہات ہیں مگر تعلیم اور صحت کی سہولیات ان میں سرفہرست ہیں -اگر ہمارے حکمران طبقے کے پاس ویژن نام کی کوئی چیزہوتی توملک بھرمیں ڈویژنل ہیڈکواٹرزکی کی سطح پریونیورسٹیوں‘میڈیکل کالجوں اور دیگر اعلی تعلیمی اداروں کے کیمپس کھول دیئے جاتے‘اسی طرح ہر ڈویژنل ہیڈکواٹرکی سطح پر تمام ترسہولیات سے آراستہ ہسپتال فراہم کردیئے جاتے تو نقل مکانی کے رجحان میں کمی لائی جاسکتی تھی-اسی طرح انڈسٹری کو جوکہ اب بڑے شہروں میں بھی دفن ہوچکی اگر چھوٹوں شہروں میں لگایا جاتااس کے لیے صنعت کاروں کو مراعات کے ذریعے ترغیب دی جاتی تو نقل مکانی کے رجحان کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکتا تھا-مگر ہمارے شوبازقسم کے” قائدین“نے سارازور بڑے شہروں کی تعمیروترقی پر رکھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ ہی ہم سے بڑے شہرسنور سکے اور نہ ہم چھوٹے شہروں کو بچاسکے-میں امریکا میں گھوما پھرا ہوں امریکیوں کی ٹاؤن پلاننگ نے مجھے سب سے زیادہ متاثرکیا کہ ہرشہر‘قصبے یا دیہات کے سائزکے حساب ان کے گرد ونواح میں جھیلیں موجودہیں جوکہ نہ صرف زیرزمین پانی کی سطح کو قائم رکھتی ہیں بلکہ بارشوں میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں -اسی طرح درخت ہے آپ جس طرف بھی نکل جائیں آپ کو درخت نظرآتے ہیں -ہماری طرح کنکریٹ کے جنگل امریکا میں بھی ہیں مگر ان کو حدسے تجاوزنہیں کرنے دیا گیا نیویارک امریکا کا سب سے بڑا شہرہے مگر اس کی آبادی 85لاکھ کے قریب ہے جبکہ اس کے مقابلے میں لاہور کی آبادی ایک کروڑسے تجاوزکرچکی ہے-اگرہم نیویارک اور لاہور کے مابین درختوں ‘جھیلوں اور پانی کے دیگرذخائرکا مقابلہ کریں تو لاہور نیویارک سے بہت پیچھے ہے-شاید کچھ لوگ کہیں کہ نیویارک تو ساحلی شہر ہے اس لیے وہا ں ماحولیاتی اثرات زیادہ نہیں تو ہم لاہور کا تقابلی جائزہ کسی اور شہرسے کرلیتے ہیں ‘میرے سسرالی رشتہ دار کے آباء واجداد آئرلینڈسے ہجرت کرکے امریکا پہنچے‘یہ آئرش امریکن دیگر کمیونٹیوں کی طرح شروع میں نویارک میں ڈیرے ڈالے کر بیٹھے رہے اس کے بعد انہوں نے امریکا کے مختلف علاقوں کا رخ کیا-میری اہلیہ کا خاندان کئی دہائیاں پہلے اپاچی قبیلے کے علاقے میں آباد ہوا جوکہ ریاست الاباما سے شروع ہوکرجارجیا‘ٹینسی ‘میسی سپی‘کنٹیکی‘اوہائیو‘ساؤتھ‘نارتھ کیرولینا‘ ریاست اوہائیو‘ویسٹ ورجینیا ‘ورجینیااور پنسلوینیا سے ہوتا ہوا نیویارک ریاست کے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے-یہ خاندان شروع میں ویسٹ ورجینا میں آباد ہوااور پھر مختلف ریاستوں میں پھیلاتا چلاگیا مگر آج بھی آئرش امریکن کی بڑی تعداد ویسٹ ورجینا ‘اوہائیو اور کنٹیکی جیسی ریاستوں میں آباد ہے-زینزویل اوہائیو کا ایک چھوٹا ساڈسٹرکٹ ہے جس کی مجموعی آبادی 30ہزار کے قریب ہے مگر اس کے گرد ونواح میں 4بڑی جھلیں ہیں جن میں سے کئی ہزاروں ایکٹرزپر مشتتمل ہیں اسی طرح اس کاؤنٹی میں درختوں کی تعداد انسانوں سے زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں موحولیاتی تبدیلیوں نے زیادہ اثرات مرتب نہیں کیئے بڑے شہروں کی طرح -زینزویل کی طرح امریکہ میں چھوٹے شہروں اور قصبوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ‘دریا بھی بھرپور بہتے ہیں لہذا ان علاقوں میں زراعت اور ڈیری فارمزتیزی سے پھل پھول رہے ہیں ‘بہت سارے پاکستانی اور انڈین خاندانوں نے ان علاقوں میں فارم بنا رکھے ہیں ‘مقامی آبادی کا بڑا حصہ بھی زراعت سے منسلک ہے مگر جب ہم ریاست اوہائیو کے چھوٹے سے شہر”زینزویل“کا موازنہ لاہور جیسے بڑے شہر سے کرتے ہیں تو ہمیں سخت شرمندگی ہوتی ہے کہ ماحولیاتی اعتبار سے ہم نے لاہور کا بیڑا غرق کردیا ہے اور اسے باغوں کے شہر سے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کردیا ہے -یہی وجہ ہے کہ آج لاہور کو بدترین ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے -قدرت نے انسان کو زمین کا نگران‘چوکیدار بنایابنایا مگر ہم اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں -ابھی بھی وقت ہے ہمیں سوچنا ہے کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دیکر جانا ہے ایک بنجر‘قحط زدہ پاکستان یا ایک خوشخال اور زرعی پاکستان ؟فیصلہ ہم نے کرنا ہے مگر وقت بہت کم ہے------جاری ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

میاں محمد ندیم کے منگل جون کے مزید کالم