”عوامی بات“

بدھ جون    |    حافظ ذوہیب طیب

کئی سال گزرنے کے بعد میں آج بھی ان دنوں کو یاد کرتا ہوں جب کرب و الم کے کیسے کٹھن رستوں کا مسافر رہا تو روح کانپ اٹھتی ہے ۔ میں اس وقت دہم جماعت کا طالبعلم تھا جب اماں جی کو کینسر تشخیص ہو تا ہے ۔ امی جان کی امید سے بھری نگاہوں کو اداس اور سرخ وسفید چہرے کو زرد ہوتا دیکھ کر سینے پر چھریاں چلتی تھیں اور روز بروز اس کیفیت میں اضافہ ہو تا جا رہا تھا۔علاج کے لئے لاہور کے تما م سر کاری ہسپتالوں کے طواف کرتے رہے لیکن جن کے جسم احساسات سے خالی ہوں بھلا انہیں کسی دوسرے کی پرواہ کیسے ہو سکتی ہے؟ کبھی ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال ۔
پورے ایک مہینہ تک ہم یونہی ذلیل و خوار ہوتے رہے ۔ کینسر کاجان لیوا درد سہتی ،امی جان کی بھی ہمت جواب دہ چکی تھی ۔

(خبر جاری ہے)

فیصلہ کیا کہ کسی سستے پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کیکوشش کی جائے ۔لیکن پرائیویٹ طریقے سے کینسر کا علاج کرانے کے لئے ایک خطیر رقم کی ضرورت تھی جو ہمارے پاس نہیں تھی۔ ابو جان کی پنشن سے گھر کا خرچہ چلتا تھا جس میں بمشکل گھر کا کرایہ اور دیگر ضروری اخراجات پورے ہوتے تھے۔
فیصلہ کیا کہ تعلیم کے ساتھ کوئی ہلکی پھلی نوکری تلاش کر کے ابو جان کا ہاتھ بٹایا اور امی جان کے علاج اور ادویات کے لئے کوئی رقم جمع کر لی جائے ۔

ایک جاننے والے جو اردو بازر میں پرانی کتابوں کا سٹال لگایا کرتے تھے، کہ ہاں ملازمت کا آغاز کر دیا۔ صبح سے شام جسم کے ہر حصے کو تھکاوٹ سے چور چور کر دینے والی شدید محنت کے بعد جب گھر پہنچتا تو پڑھنے کے لئے وقت میسر نہ آتا۔ اس لئے روز ہی یہ فیصلہ کرتا کہ کل سے نوکری پر نہیں جاؤں گا لیکن امی جی کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتا اور یوں اگلی صبح زندگی کے گورکھ دھندوں کو پورا کرنے کی خاطر اپنی خواہشات پر چھری پھیرتے ہوئے نئے ولولے کے ساتھ کام میں مصروف ہو جاتا۔
دن ، مہینے اور سال ، امی جان کی طبیعت تھی کہ سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی تھی جبکہ گھرکے حالات بھی بد سے بد تر ہوتے جا رہے تھے۔ ان سب چیزوں کو دیکھتے ہوئے ہر لمحہ میرے لئے قیامت ثابت ہو رہا تھا۔ ایک دفعہ پھر سخت ترین حالات سے نبٹنے کا فیصلہ کیا اور رات کے اوقات میں لاہور کے ٹیمپل رود پر واقع چائے کے ایک ہوٹل میں ملازمت کر لی ، یوں رات بھر چائے بناتا اور صبح جو کچھ وقت بچتا اس میں کچھ دیر سونے کے بعد اردوبازر کا رخ کرتا ۔
ابھی کچھ ہی دن گذرے تھے کہ امی جان ،بیماری کی شدت سے آزاد ہو کر ،ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہمیں چھوڑ کر اپنے اللہ جی کے پاس چلی گئیں۔ امی جان کی قربت کی وجہ سے کئی روز تک تو اس سانحہ سے باہر نہ نکل سکا۔ لیکن جیسے ہی غم کی شدت جب کچھ کم ہوئی تو مشکلات کا پہاڑ پہلے سے مزید بڑا ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔
امی جان کی وفات کے بعد تینوں بہنوں کی شادی ، میرے لئے اگلا چیلنج تھا۔ جس کے لئے اچھے رشتوں کی تلاش اور شادی کے اخراجات کے لئے ایک کثیر رقم کا بندوبست ،کسی عذاب سے کم نہ تھا۔
لہذا ، ایک دفعہ پھر اپنے مستقبل کے ساتھ سمجھوتا کر نا پڑا اور نئے چیلنج سے نبرد آما ہو نے کے لئے ایک طویل عرصے تک دو نوکریوں کے ساتھ پڑھائی جاری رکھنا جو ایک مشکل کام تھا ،کرتا رہا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے میری مدد کی اور میں نے اس چیلنج کو بھی بخوبی سر انجام دیا۔
قارئین ! اس سارے عرصے میں مجھے پاکستان مین بسنے والے ایک عام آدمی کی مشکلات کا اندازہ ہوا کہ کیسے زندگی کی سانسوں کو پورا کر نے کے لئے شب وروز وہ اپنے ارمانوں کو توڑ رہا ہوتا ہے، کیسے وہ اپنی خواہشوں پر گھر والوں کی ضروریات کا بھاری بھر پتھر رکھ کر اندر ہی اندر مرتا جاتا ہے۔
ہسپتالوں،تھانوں، کچہریوں بلکہ ہر جگہ اسے اپنے جائز کاموں کے لئے کیسے کیسے عذاب کا سامنا کر نا پڑتا اور کیسے کیسے ”چول“ لوگوں کے ساتھ اس کا پالا پڑتا ہے ۔ یہاں رہنے والے ہر دوسرے آدمی کی کہانی انہی واقعات کے گرد گھومتی ہے۔
قارئین کرام !صحافت چونکہ مجھے وراثت میں ملی تھی اور بچپن سے ہی لکھنا میرا جنون تھا۔ میں نے یہ عہد کیا تھا کہ اگر اللہ نے مجھے اس قابل کیا کہ قلم کی طاقت کو استعمال کرسکا تو سیاست اور اس کے منافقت سے بھرے گلی کوچوں میں رہنے والے سیاسی آقاؤں پر لکھنے کی بجائے عام آدمی کے مسائل پر بات کرتے اس کے سا تھ رواء رکھے جانے والے ظلم کا نوحہ کہتے ہوئے ”عوامی بات“ کی جائے ۔
اللہ کی توفیق سے پچھلے 7، سالوں کے دوران ”زور قلم“کے نام سے عوامی بات کرتا رہا ، عام آدمی کے مسائل لکھتا رہا۔ کئی روز سے یہ خیال ذہن میں جنم لے رہا تھا کہ جب کر نی ہی عوامی بات ہے تو کالم کا عنوان’زور قلم سے تبدیل کر کے ’ عوامی بات“ کیوں نہ کر لیا جائے ۔ ذہن میں جنم لیتے خیال کو حقیقت میں تبدیل کرتے ہوئے بالآخر میں اپنے کالم کا عنوان’عوامی بات“ کر رہا ہوں ۔ میری کوشش ہوگی کہ عوامی بات میں پہلے کی طرح لوگوں کے سلگتے مسائل کا ذکر کیا جائے اور انہیں حکام بالا تک پہنچا کر ان کے کرب میں کچھ کمی کرسکوں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے بدھ جون کے مزید کالم