وحشت کا معمول

بدھ جون    |    قمر الزماں خان

گزشتہ چندماہ کے دوران خواتین پر تشدد زیادہ بھیانک اور سفاک شکل اختیار کرگیا ہے۔خواتین کو زندہ جلا کرمارڈالنے کی انتہائی وحشیانہ وارداتوں میں پے درپے اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔لیکن المیہ ہے کہ ایبٹ آباد،مری ،لاہور میں خواتین کو زندہ جلا کرمارنے کے وحشیانہ اقدامات سماج میں کوئی بڑا ارتعاش یا رد عمل پیدا کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔”معززین“ کے جرگے جوان دوشیزاؤں کو جلانے کا حکم دینے میں کوئی عار یا ندامت محسوس نہیں کرتے ۔
ماؤں کو بیٹیوں کے قتل کے لئے استعمال کیا جانا، ممکن ہوچکا ہے۔نام نہاد پنچائتیں شادی کا سرعام اعلان کرنے والوں کو محض اس لئے منہ کالا کرکے جوتے مرواتی ہیں کہ ان کے پاس ’نکاح نامے‘ کا پرت محفوظ نہیں ہے۔

(خبر جاری ہے)


سماج ان سنگین اور اندوہناک جرائم،تشدد اور زندہ جلا کر ماردینے کے واقعات پر ”معمول“ کا ردعمل ظاہر کررہا ہے، گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ماضی میں اس طرح کا سماجی رویہ درجنوں بچوں اور خواتین کو لقمہ اجل بنا ڈالنے والے بم دھماکوں کے بعد بھی نظر آیا ہے۔

یہ ایک ایسے معاشرے کی علامات ہیں جو ثقافتی، نفسیاتی اور سماجی حوالے سے گراوٹ، بد دلی اور بے حسی کا شکار ہے۔ تیسری دنیا کی مخصوص خاصیت ہے کہ سماج کے کچھ پہلو یا حصے انتہائی ’ایڈوانس‘ ہو سکتے ہیں‘ جب کہ عین اسی وقت سماج بحیثیت مجموعی پسماندگی اور رجعت سے دو چار بھی ہو سکتا ہے ۔
یہ ایک غیر انقلابی دورہے،جس میں اکثر اوقات سماج کے پسماندہ حصے ،نظریات اور سوچیں حاوی نظر آتی ہیں۔
دلیل اور منطق کی بجائے بے بسی سے جنم لینے والے غصے ،انتقام اور تشددپر مبنی نظریات اور رویے عام نظر آتے ہیں۔اگرچہ پاکستان کوئی ’استثنائی ‘حیثیت نہیں رکھتا بلکہ جس نظام کے تحت دنیا کو چلایا جارہا ہے اس نظام نے خود کوقائم رکھنے اور اپنے مفادات کی تکمیل میں جس آلے کو سب سے زیادہ موثر سمجھ کر استعمال کیا وہ تشدد،قتل وغارت گری،خانہ جنگیوں اور جنگوں میں انسانی ہلاکتیں اور بربادی ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے رکھوالوں اور سامراجی قوتوں نے جنگوں میں انسانوں کی ہلاکت اور اذیت کے لئے ہر خوفناک طریقہ استعمال کیا ہے۔ویت نام کی جنگ میں امریکی فوج نے جس قسم کی بربریت کا مظاہرہ کیا اس کے تصور سے دل دہل جاتے ہیں۔ لاطینی امریکہ میں سامراج مخالف حکومتوں کو ختم کرنے کے لئے سی آئی اے نے متعدد آپریشنز کئے جن میں نہ صرف بائیں بازو کی حکومتوں کا خاتمہ کیا گیا بلکہ باقاعدہ ڈیتھ سکواڈ بنا کر محنت کشوں کے قتل عام کئے گئے۔
اسی طرح انڈونیشیا میں اپنے پالتو جنرل سہارتو کے ذریعے اٹھارہ لاکھ کمیونسٹوں کو قتل کرایا گیا۔دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر جاپان میں ایٹم بم گراکر لاکھوں زندہ لوگوں کوجلادیا گیا۔براعظم امریکہ کے قدیم باشندوں (ریڈ انڈینز)کی نسل کشی کے لئے اختیارکئے گئے وحشیانہ طریقہ ہائے کار،رہتی دنیا تک امریکی حکمران طبقے کی وحشت کا حوالہ رہیں گے۔سامراجی قوتیں تشدد، خونریزی، وحشت اور رجعت کی ضرورت کے لئے اخوان المسلمین ،سراکت الاسلام، ”افغان مجاہدین“ اور طالبان جیسی قوتوں کو پیدا اور استعمال کرتی آئی ہیں۔
امریکی حکمرانوں نے حالیہ دہائیوں میں افغانستان میں جو کھیل شروع کیا تھا اور جس طرح مذہب کو استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا سے کرائے کے قاتل جمع کرکے سامراجی مفادات کا ڈالر جہاد شروع کیا تھا ،38 سال گزرنے کے بعد اسکے اثرات ہر روز دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں محسوس ہورہے ہیں۔مجاہدین،طالبان ،القاعدہ اور انکی متعدد شاخیں اور شکلیں پوری دنیا کو تاراج کرنے میں مشغول ہیں۔نائن الیون کا واقعہ اسی افغان جہاد کی پیداکردہ قوتوں کی بدلی ہوئی ہیئت اور مفادات کا شاخسانہ تھا۔
اس خونی واقعہ میں بھی چارہزار سے زائد بے گناہ مارے گئے۔دوست اور دشمن اور دشمن کو پھر دوست بنا کرامریکی سامراجی مفادات کا خونی اور شیطانی چکر مسلسل چل رہا ہے۔ نائن الیون کو جواز بنا کر امریکی سامراج نے افغانستان اور عراق میں خون کی ندیاں بہادی گئیں،ان جنگوں میں بلاشبہ لاکھوں بے گناہوں کو لقمہ اجل بنا دیا گیا۔ان جنگوں میں تشدد کے نت نئے طریقے متعارف کرائے گئے اور جیلوں میں اذیت کدے کھول کر پوری دنیا پر لرزہ طاری کرنے کی کوشش کی گئی۔

اب 11 اور 12 جون 2016ء کی درمیانی رات کو امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈوکے ایک نائٹ کلب پر حملے میں پچاس افراد کا قتل کرنے والے عمرمتین کا تعلق بھی اسی افغانستان سے بتایا جاتا ہے جس کو امریکی سامراج نے پہلے بالواسطہ طور پر ڈالر جہاد اور پھر براہ راست حملے سے تاراج کیا اور اس سامراجی وحشت میں قتل و غارت گری اور برباد ہونے والی زندگیوں کا کوئی شمار نہیں۔لیکن اورلینڈو کے اس حملے میں پھر بے گناہ اور معصوم لوگ ہی ہلاک ہوئے۔
اس حملے کے محرکات اسلامی بنیاد پرستی پر مبنی معلوم ہوتے ہیں لیکن کیا یہ وہی بنیاد پرستی نہیں جسے امریکی سامراج نے اپنے خلیجی اور پاکستانی اتحادیوں کے ذریعے بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری سے ”کمیونزم“ کے خلاف ابھارا تھا؟ آج اس کا نشانہ دنیا بھر کی طرح یورپ اور امریکہ کے عوام بھی بن رہے ہیں۔اس طرح کے واقعات کا سب سے زیادہ فائدہ پھر سامراجی حکمران اٹھاتے ہیں اور مذہبی و نسلی تعصبات کو مزید پروان چڑھا کر محنت کشوں کو تقسیم کرتے ہیں۔
امریکہ میں ہونے والی اس دہشت گردی کا سب سے زیادہ سیاسی فائدہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہی ہوگا۔
تشدد اور قتل و غارت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے‘ جس کے کئی پہلو ہیں۔اورلینڈو میں ہی جمعرات کی رات معروف گلوکارہ کرسٹینا گریمی کو ایک شخص نے گولی مارکر ہلاک کردیا اور خود کشی کرلی۔ امریکہ میں گزشتہ چھ ماہ میں گن فائرنگ کے 33 واقعات سے 208 افراد قتل ہوئے۔اسی طرح امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں بالخصوص سیاہ فام باشندوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج معمول بن چکے ہیں۔
یہ سب کچھ اس امریکی سماج میں ہو رہا ہے جہاں سرمایہ داری نے سب سے زیادہ مادی ترقی دی ہے۔
پچھلے عرصے میں پیرس اور برسلز میں دہشت گرد حملوں میں درجنوں بے گناہوں کی جانیں گئیں ،ان حملوں کی ذمہ داری اسی ”دولت اسلامیہ“(داعش) نے قبول کی جس کی پیدائش اور پھیلاؤ مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں کا ناگزیر نتیجہ ہیں۔ بالخصوص شام میں بشارالاسد حکومت کے خلاف افغانستان طرز کے ڈالر یا ریال جہاد میں داعش جیسے کئی گروہوں کو امریکی سامراج یا اس کے سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے ”اتحادیوں“ نے پروان چڑھایا ہے۔

حکمران طبقات کی جانب سے اپنے نظام کی حفاظت اور مالی مفادات کے لئے تشدد کا استعمال کوئی انہونی چیز نہیں ہے ۔خوف وہراس پھیلاکر لوگوں کو مطیع رکھنا اور اپنے نظام کے لئے ممکنہ خطرات کا پیشگی تدارک کرنے کیلئے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو ماردینا ،ایسے واقعات تاریخ میں بھرے ہوئے ہیں۔زندہ جلانے یا گلے کاٹنے کا وحشت ناک طریقہ کار بھی حالیہ دہائیوں میں امریکی سامراج کے ”مجاہدین“
نے ہی بے دریغ استعمال کر کے ”مقبول عام“ کیا ہے۔
ہر مذہب کی بنیاد پرستی اتنی ہی زہریلی اور وحشی ہوتی ہے چاہے وہ ہندوستان میں بنیاد پرست ہندو ہوں یا برما میں بدھ مت کے پیروکار۔
پاکستان میں زندہ جلانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے آرہے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سال 2015ء میں ملک بھر میں 1096 خواتین کو غیرت کے نام پر جان سے ماردیا گیاجن میں سے 144 کو تیزاب یا آگ سے جلایا گیا، جب کہ 939 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
2014ء میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کی تعداد 1005 تھی جن میں تیزاب یا آگ سے جلائی گئی خواتین کی تعداد 153 جبکہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والوں کی تعداد 828 تھی۔پاکستان میں ریاستی اور غیر ریاستی سطح پر مارنے سے پہلے یا بعد‘ جسم کو مسخ کرنے کے بھیانک واقعات ایک تسلسل سے پیش آرہے ہیں۔بلوچستان میں اب تک ہزاروں مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوچکی ہیں۔اسی طرح ماورائے عدالت تشدد کرکے حراست میں قیدیوں کو مارنے کا طریقہ کار پچھلی کئی دہائیوں سے استعمال کیا جارہا ہے۔
گزشتہ سالوں میں پولیس حراست میں سینکڑوں ’ملزموں‘ کو اسی طریقہ کار کے ذریعہ مارا گیا ہے ،یہ طریقہ کار بطور خاص پنجاب پولیس میں بہت مقبول ہے۔پولیس مقابلوں کے رواج میں بے گناہوں کا قتل اور سپاری لے کر قتل کے واقعات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تشدد اور قتل وغارت گری کا بازارہرطرف گرم ہے۔خواتین اور بچے زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔یہ سماج کا کمزورترین حصہ ہوتے ہیں۔ریاستی سطح پر تو حاکمیت اور نظام کو بچانے یا پھر ”امن“ قائم کرنے کے لئے انسانوں کو بے دریغ قتل کیاجاتا ہے۔
مگر قبائلی رسم ورواج کی آڑ میں،مذہبی بنیادوں پر،سماجی اقداریا غیرت اور عزت کے نام پر بھی تشدد ،تیزاب پھینکنا، قتل کرنا یا جلا کر مارنے کے عمل کے سامنے نام نہاد تہذیب وتمدن ہاتھ باندھے کھڑے ہیں ۔
آج اس جدید دنیا میں معاشرت اورتمدن کا رخ پیچھے کی طرف ہے ‘کیونکہ جس نظام کے تحت اسے چلایا جا رہا ہے اس کا ہر پہلو گراوٹ اور بحران کا شکار ہے۔ یہ بحران ناگزیر طور پر رویوں، ثقافت، اقدار میں اپنا اظہار کرتا ہے اور سماج جب انقلابی تحریکوں کے ذریعے آگے کی جانب سفر نہ پائے تو تعفن کا شکار ہو کر گلنے سڑنے لگتا ہے، یہی آج ہو رہا ہے۔
تشدد اور وحشت عمومی نفسیات میں سرائیت کر چکے ہیں۔خودکشیاں بھی تشدد اور بیگانگی کی نفسیات کا ہی ایک رخ ہیں۔اسی طرح بھوک سے تنگ آکر بچوں کو مارکر خودکشی کرنے والے واقعات زیادہ بڑے پیمانے پر اس نظام زر کی اصلیت کو بیان کرتے ہیں جس میں پیداوار تو انسانی ضروریات سے بھی کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے مگر اس نظام کی بندشوں اور منافعوں کی ہوس نے انسانوں کو کبھی بھوک تو کبھی بارود سے تڑپ تڑپ کر مرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

قمر الزماں خان کے بدھ جون کے مزید کالم