ایک فتوے کی ضرورت ہے

جمعہ جون    |    ندیم گُلانی

ایک مُسلمان اللہ تعالیٰ کی خوشنودی، اپنی زندگی میں سُکون،خیر وبرکت اور آخرت میں جنت کے حصول کے لئے اپنی طاقت کے مطابق کچھ نہ کچھ کرتارہتا ہے،جس کے لئے وہ عبادات ،خیرات، صدقات اور زکوةوغیرہ کرنے میں زندگی بھر مشغول رہتا ہے،خدمتِ خلق اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں میں ہمارا نمبر پہلے پانچ مُلکوں میں آتا ہے،اور ایک عمومی اندازے کے مطابق پاکستانی قوم ہر سال تقریباٌچھ سو ارب روپے زکوة ،خیرات اور صدقات کی شکل میں خرچ کرتی ہے۔

اب بات اگر ایسے ثواب کے عوامل کی ہو کہ جس میں پیسے کی لین دین کا کوئی سلسلہ نہیں ہے تواُس قسم کے معاملات میں انسان کا ڈاریکٹ معاملہ اللہ سے ہے،جیسے کے نماز،روزہ،یا حج وغیرہ،یہ عمل وہ ہیں کہ جنہیں چاہے تووہ معاف بھی کرسکتا ہے۔

(خبر جاری ہے)

اور نہ چاہے تونہ کرے، یہ سب معاملہ اُس کی مرضی پر منحصر کرتا ہے۔یوں تو اور سب معاملات میں بھی قبول کرنا یا نہ کرنا، معاف کرنا یا نہ کرنا سب اُسی کے ہاتھ میں ہے،لیکن کچھ کام کرتے وقت ذہن میں ایک سوال اُبھرتا ہے،اوروہ سوال ایسے ثواب کے عوامل کرنے کے متعلق ہے کہ جس میں ہم پیسے خرچ کر رہے ہوتے ہیں یا پیسے دے رہے ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا کسی شخص ،اِدارے یا پھر مدرسے وغیرہ کوزکوة ،خیرات یا صدقات وغیرہ دیتے وقت ہمیں صرف اور صرف اپنی نیت دیکھنی چاہئے، یا پھر ہمیں یہ دیکھنے سوچنے اور پرکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ جو رقم ہم کسی کو دے رہے ہیں وہ ٹھیک جگہ خرچ ہوگی بھی یا نہیں ؟یا پھر کہیں وہ رقم کسی ایسے عمل میں استعمال تو نہیں ہو رہی کہ جس سے مُلک مذہب یاپھر انسانیت کو خطرہ ہو۔ اورآج اسی سوال کے حوالے سے مجھے ایک فتوے کی ضرورت ہے۔

مُسلمانوں کی فلاح و بہبود کے حولے سے کچھ اسلامی ممالک اپنے اپنے نظریے اور فرقے کو سپورٹ کرنے کے لئے بے شُمار رقم مدارس اور اپنی اپنی دینی درسگاہوں کی سرپرستی کے نام پر پاکستان بھیجتے ہیں،اور اُس کا مجموعی طور پر نتیجہ پاکستان میں ایک فرقہ ورانہ آگ کو بھڑکانے کی صورت میں نکلتا آیا ہے،پیسے اورطاقت کی پیٹھ ہونے کی وجہ سے یہ کافر اوروہ کافر کے فتوے پاکستان میں پانی کی طرح بہتے نظر آتے رہے ہیں،جس کے نتیجے میں اس مُلک میں جوکچھ ہمیشہ سے ہوتا آیاہے اور جو کچھ ہو رہا ہے، وہ آپ بھی اچھے طریقے سے جانتے ہیں اور میں بھی ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس سارے معاملے نے نہ جانے کتنے سالوں سے ہمیں بحیثیت ایک انسان ،بحیثیت ایک مُسلمان ،اور بحیثیت ایک پاکستانی کہیں کا نہیں چھوڑا،اور آخرکار پوزیشن یہ ہے کہ پاکستان کا شُمار ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود پسماندہ،شدت پسند اور خطرناک مُلکوں میں ہوتا ہے۔
میرے کہنے کا مقصد ہر گزیہ نہیں ہے کہ زکوة ،خیرات اور صدقات وغیرہ دینا کوئی غلط عمل ہے،بلکہ بحیثیت ایک اچھے انسان
اورایک اچھے مُسلمان کے یہ سب کرتے رہنا ہمارا فرض ہے،اورمیرا خیال ہے کہ یہی وہ عمل ہیں جو ریزہ ریزہ جمع ہوکر ہمیں جہنم کی آگ سے بچانے کا کچھ نہ کچھ باعث ضرور بنیں گے،انشاللہ۔

مجھے صرف اس سارے معاملے میں اپنے سوال کے جواب میں ایک فتوے کی ضرورت ہے،اوروہ سوال یہ ہے کہ کیا کسی شخص ،اِدارے یا پھر مدرسے وغیرہ کوزکوة ،خیرات یا صدقات وغیرہ دیتے وقت ہمیں صرف اپنی نیت دیکھنی چاہئے یا پھر ہمیں یہ دیکھنے سوچنے اور پرکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ جو رقم ہم کسی کو دے رہے ہیں وہ ٹھیک جگہ خرچ ہوگی بھی یا نہیں ؟یا پھر کہیں وہ رقم کسی ایسے عمل میں استعمال تو نہیں ہو رہی کہ جس سے مُلک مذہب یاپھر انسانیت کو خطرہ ہو۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ندیم گُلانی کے جمعرات جون کے مزید کالم