ہم سب اقلیت ہیں

اتوار جون    |    عمار مسعود

یہ تحریر لکھتے وقت دل رنج و تاسف سے بھرا ہوا ہے۔ غم اس بات کا نہیں کہ گذشتہ سارا ہفتہ خواتین کے خلاف جرائم او ر ہر فورم پر انکی توہین کے حوالے سے خبروں سے لدااہوا تھا غم تو ان سارے واقعات پر عمومی سماجی روئیے کا ہے ۔ غم اس بات کا بھی نہیں کہ ایک لڑکی کو اپنی دوست کی پسند کی شادی پر مدد پر ہاتھ پاوں باندھ کر زندہ جلا دیا گیا۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ یہ فیصلہ پورے جرگے نے کیا اور علاقے کے معزیزیں اس کار خیر میں حصہ دار تھے ۔
غم اس بات کا بھی نہیں کہ ایک بچی کو پسند کی شادی کی پاداش میں نذر آتش کر دیا دکھ تو اس بات کا ہے کہ یہ جرم اس لڑکی کی ماں نے کیا اور بڑے فخر سے میڈیا کے سامنے اس بات کا اقرار بھی کیا۔ دکھ اس بات کا بھی نہیں کہ ایک خاتون کی قومی اسمبلی میں توہین کی گئی رنج تو اس بات کا ہے کہ اس توہین کے حق میں بہت سے دلائل آنے لگے۔

(خبر جاری ہے)

تاسف اس بات کا نہیں کہ ایک پروگرام میں ریٹنگ کی خاطر ایک خاتون پر وہ بہیمانہ گفتگو کی گئی جو گمان میں بھی نہیں تھی المیہ تو یہ کہ حافظ صاحب کے حق میں فتوے آنے لگے اور لوگوں کی بڑی تعداد نے اس خاتون کو ہی ملعون، ایجنٹ اور بدکار قرار دے دیا گیا۔

ا فسوس اس بات کا بھی نہیں ایک مولانا نے خواتین پر ہلکے پھلکے تشدد کی تائید کر دی حیرت تو اس بات پر ہوئی کہ لوگوں نے اس اقدام پر شادیانے بجائے اور اس ایک فتوے کو اسلام کی فتح قرار دے دیا۔ ۔ آنسو اس بات کے بھی نہیں امریکہ میں ہم جنس نوجوانوں کے کلب میں میں پچاس سے زیادہ افراد کو قتل کر دیا گیا رنج کی بات تو یہ کہ لوگوں نے اس سانحے کی تائید شروع کر دی۔ گناہوں کا کفارہ بتانا شروع کر دیا۔ مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔
کفار پر غلبے کی طرف پہلا قدم قرارا دے دیا گیا۔ الم فگا ر اس وجہ سے بھی نہیں کہ میڈیا خواتین کی شلواروں کے حوالے سے سرعام گفتگو کر رہا ہے بلکہ المیہ تو یہ ہے کہ اس سارے قبیح عمل کی ریٹنگ آ رہی ہے جس کا مطب یہ نکالا جا سکتا ہے کہ لوگ یہی غلاظت دیکھنا چاہ رہے ہیں۔ ۔ چینل اس کی وجہ سے منافع کما رہے ہیں۔ رنج اس بات کا بھی نہیں کہ ہم نے ایک قاتل کو شہید قرار دے دیا اور اس کے جنازے کو قومی تہوار میں بدلنے کی سازش کی افسوس تو اس بات کا ہے ہم نے ایسے قاتلوں کے حق میں جلوس نکالے ، فتوے دئیے گئے اس کو قومی ہیرو قرار دے دیا گیا۔
غم اس بات کا بھی نہیں کہ کہ مدرسوں میں معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں ہوتی ہیں دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ان جرائم میں گرفتار مذہبی اور جنسی جنونیوں کے حق میں جلوس نکالے گئے ۔ انکی رہائی کے لیئے دعائیں کی گئیں۔دکھ اس بات کا بھی نہیں کہ ایک پاکستانی ہندو شہری کو رمضان میں اشیاءخورونوش کی فروخت پر لہولہان کر دیا گیا افسوس کا مقام تو یہ کہ اس جرم کو پبلک میں پذیرائی نصیب ہوئی۔ آزردہ اس بات پر بھی نہیں کہ زمینوں کے حصول کے لیئے اس مادر وطن میں بہت سی کرسچین بستیوں میں کئی مسیحی لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا آزردہ اس وجہ سے ہوں کہ اس جرم کے حامی لوگوں کی تعداد بھی اس معاشرے میں کم نہیں ہے۔
غم ناک اس وجہ سے بھی نہیں کہ مسیحی بھائیوں کو ایک غلاضت صاف کرنے والے شعبے سے منسوب کر دیا اور انکے برتن گھروں میں الگ کر دیئے گئے ان کے تضحیک آمیز نام رکھ کر اپنی انجانی تسکین کی گئی افسوس اس بات کا ہے کہ اس توہین آمیز رویئے میں ہر وقت تسبیح نماز روزہ کرنے والی گھریلو خواتین بھی شامل ہیں۔
یہ قصے پرانے ہوتے جا رہے ہیں ۔ اب یہ ریت روایت بن گئی ہے۔ روز مرہ ہوتی جا رہی ہے۔اب حیرت کا دورانیہ مختصر ہوتا جا رہا ہے۔

ہم اس سب کو قبول کرتے جا رہے ہیں۔ ان جرائم کے حق میں بھی ووٹ آتے جا رہے ہیں۔ ان مظالم کے بھی حامی کھلے عام نظر آ رہے ہیں۔ ان قباحتوں کو بھی پذیرائی مل رہی ہے ۔ ان جہالتوں کی بھی حمائت ہو رہی ہے۔
یہ سب دیکھ کر یہ خدشہ سر اٹھانے لگا ہے کہ اب ہم سب جو نارمل سے لوگ ہیں۔ جو بچیوں کی پسند کی شادی کی تائید کرتے ہیں، جو خواتین کے احترام کی بات کرتے ہیں، ہم سب جو بچوں پر جنسی مظالم کے خلاف ہیں،جو خواتین سے نرمی اور احترام سے گفتگو کی تلقین کرتے ہیں، ہم سب جو سب انسانوں کو برابر سمجھتے ہیں،ہم سب جو کسی بھی انسان کے قتل پر رنجیدہ ہوتے ہیں، ہم سب جو تمام مذاہب کو عزت و احترام دیتے ہیں، ہم سب جو شدت اور دہشت کے دل سے خلاف ہیں، ہم سب جو میانہ روی کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں، ہم سب جو قانون کا احترام کرتے ہیں، ہم سب جو گلی کوچوں میں اپنی اپنی عدالتیں لگانے سے پر ہیز کرتے ہیں، ہم سب جو انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، ہم سب جو بچیوں کی تعلیم کے نعرے لگاتے ہیں، ہم سب جو خواتین کے حقوق کے گن گاتے ہیں، ہم سب جو نفرتوں کی مناہی اور محبتوں کا پر چار چاہتے ہیں، ہم سب جو موسیقی کو حرام نہیں سمجھتے، ہم سب جو فنون کی پذیرائی کرتے ہیں، ہم سب جو تعلیم کو ترقی سمجھتے ہیں، ہم سب امن عالم کے خواب دیکھتے ہیں، ہم سب جو اقلیتوں کو مساوی حقوق کی گردان الاپتے ہیں، ہم سب جو محبت کو مذہب سمجھتے ہیں وہ سارے ہم سب اب اقلیت ہو گئے ہیں۔
اکثریت نہیں رہے۔
ہماری گفتگو اب کتابوں ، کالموں اور مباحثوں تک محدود ہو گئی ہے۔ہماری باتیں اب گرائمر کی درسی کتب سی ہو گئی ہیں۔ نہ ان باتوں اور مکالموں کا کوئی اثر ہے نہ ہی ان سے اب کوئی فرق پڑتا ہے۔
ہمیں اب تسلیم کر لینا چاہیئے ، مان لینا چاہیئے، اقرار کر لینا چاہیئے کہ مارشل لاء کی ایک گیارہ سالہ دور اذیت کے سبب ہم بحیثیت مجموعی ذہنی اور جنسی مریضوں کی اکژیت ہو چکے ہیں اور نارمل سوچنے والے، متوازن باتیں کرنے والے ہم سب اب اقلیت ہو گئے ہیں
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

اقلیت

عمار مسعود کے ہفتہ جون کے مزید کالم



متعلقہ کالم