”میجر جواد شہادت پر افغانیوں سے بدلہ“

اتوار جون    |    ممتاز امیر رانجھا

کسی نے ٹھیک کہا ہے کہ سانپ کو دودھ پلانے سے بھی سانپ اپنی بد اخلاقی یعنی کاٹنے والی حرکت سے باز نہیں آتا۔پاکستا نی حکومت او ر پاکستانی عوام نے افغانستانی حکومت او ر افغانی حکومت کے لئے لامتناعی قربانیاں دیں۔یہ قربانیاں 1980سے جاری و ساری ہیں۔علاوہ ازیں افغانستان کی وجہ سے پاکستان امریکہ کا اتحادی بنا اور اس وجہ سے سینکڑوں پاکستانی فوجی او ر عوام کی شہادت دنیا کے سامنے ہے۔پاکستان نے افغانستان کی روس سے جنگ اور امریکہ سے جنگ کے بعد لاکھوں افغانیوں کو پاکستان رہنے اور پناہ دینے کی اجازت دی۔
آج اگر دیکھا جائے ہمارے پورے ملک میں افغانیوں نے نہ صرف ”گند“ مچا رکھا ہے بلکہ ان کی وجہ سے پاکستانی خود ذہنی و مالی اذیت کا شکار ہیں۔

(خبر جاری ہے)

افغانیوں نے پاکستان میں سمگلنگ،گن کلاشنکوف،قتل و غارت،ڈکیتی و رہزنی ،زمینوں پر ناجائز قبضے،زنا اورنشہ جیسی برائیوں کو نہ صرف شروع کیا بلکہ آج تک پورے ملک میں ان لوگوں کا نیٹ ورک اپنے گندے عزائم جاری رکھے ہوئے ہے۔پاکستانیوں کی محنت و مزدوری تک میں آڑے آنے والے افغانی آج کل پاکستان میں پجارو گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور خود پاکستان ان کی وجہ سے مالی مسائل کا شکار ہیں۔

افغانیوں پر تو وہ محاورہ ثابت ہوتا ہے کہ جیسے کوئی گھر سے جلانے کی آگ لینے آتا ہے او ر پھر پورے گھر پر قبضے کا دعوہ داربن جاتا ہے۔
گزشتہ روزطورخم گیٹ کی تعمیر پر ہونے تناز ع پر افغانستا ن کی طرف سے جارحانہ کاروائی کے بعد میجر جواد شدید زخمی ہونے کے بعد شہادت پا گئے۔یہ بات کہتے ہوئے سخت تکلیف ہو رہی ہے کہ درحقیقیت افغانستان سیکورٹی فورسز کی طرف سے ہماری فورسز پر یہ ایک حملہ تھا ،تبھی تو ایک میجر لیول کا افسر شہادت پا گیا۔
سرحد پر باڑ یا گیٹ بننے سے پاکستان میں افغانستان اور افغانیوں کی بار بار آمدرفت میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ تھا اسی لئے افغانستان کے پیٹ میں بل پڑ گیااور انہوں نے پاکستانی سیکورٹی فورسز پر اپنا غصہ نکالنے کی کوشش کی۔تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کی طرف سے نہ صرف پاکستان سے سمگلنگ کی جاتی ہے بلکہ یہاں سے غلہ اور اناج بھی چوری کر کے وہاں لیجایا جاتا ہے۔کئی انڈین ایجنٹ بھی بآسانی افغانی بارڈر سے پاکستان میں گھس جاتے ہیں اور پھر افغانی یا انڈین ایجنٹ پاکستان میں بم دھماکے،ٹارگٹ کلنگ یا کئی ایک غلط قسم کی وارداتیں کرتے ہیں ۔
جس سے پاکستان اور پاکستانی عوام عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں۔
بڑے دکھ کی بات ہے کہ افغانستا ن کے پاکستانی حکومت ،پاکستانی عوام اور پاکستانی فوج کے خلوص کی قدر تک نہیں کی۔اس کے بر عکس ہماری فوج اور ہماری حکومت نے ہمیشہ افغانستانی پناہ گزینوں، افغانی حکومت اور عوام کی مدد کے لئے اپنی عملی و عسکری خدمات کے تمام دروازے بند نہیں کئے پھر بھی افغانستانی حکومت اور عوام کا پاکستانیوں سے یوں غدارانہ کردار ناقابل معافی ہے۔
اب بہت ہی بہترین وقت ہے کہ ہماری حکومت اور فوج پاکستان میں موجود تمام افغانیوں کو ان کے ملک جلد از جلد واپس بھیجے اور سرحد پر بہترین قسم کی باڑ لگا کر رکاوٹیں لگائے۔تاکہ افغانستان کی طرف سے ہر قسم کی منفی آمدرفت کو روکا جائے اور پاکستان کو اندرونی و بیرونی خطرات سے بچانے کے علاوہ افغانیوں اور ان کے دوسرے ایجنٹس کی تمام سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔
صدر کرزئی کا دور حکومت دیکھیں اس نے ہمیشہ پاکستان پر تنقید کے تیر برسائے،ہر دور میں افغانستانی حکومت نے پاکستان دشمنوں سے ہاتھ ملا لئے۔
ہندوستان ایک غیر اسلامی ملک ہے لیکن افغانستان اس کو اپنا بھائی بنا کر ہماری عوام اور فوج کے گلے کاٹ رہا ہے۔این ڈی ایس جیسی افغان ایجنسیاں پاکستان میں اپنے کالے کرتوت جاری رکھے ہوئے ہیں۔پاکستان میں ہونے والی تمام دہشت گردانہ واقعات میں اکثریت میں افغان ہی ملوث پائے گئے ہیں۔آپریشن ضرب عضب میں ہماری فوج کی شہادتیں اور افغانی دہشتگردوں کی مزاحمت سے ساری دنیا کو افغانستان کا اصل چہرہ پتہ چل گیا ہے۔
پاکستانی فوج نے ہمیشہ افغان دشمنوں کی حوصلہ شکنی کی ہے۔پاکستانی فوج نے ہمیشہ افغانستان پر چڑھائی کرنیوالوں کوافغانستانی سرحدوں سے دور بھگانے میں معاونت کی ہے۔
پوری دنیا کے حالات یکسر تبدیل ہو گئے ہیں۔اس دور میں دوست اور دشمن ملک کی پہچان کرنا بے حد آسان ہے۔ہم بحثیت قوم اگر ڈٹ جائیں اور پاکستان مخالف ہندوستان یا افغانستان لابیوں اور ایجنٹس کو اگر پکڑنا شروع کر دیں یہ تو یقیننا ملک و قوم کے لئے یہی بہتر ہے۔
پاکستان میں تقریباً پندرہ لاکھ افغانی اس وقت میں موجود ہیں،ان کا فی الفور ملک سے انخلا ء ہو جانا ملک قو م کی ترقی کے لئے ایک اہم سنگ میل ہے۔ان کے ملک سے واپس چلے جانے سے کاروبار،انڈسٹری اور ملکی معشیت کو ترقی کا پہیہ مل جائے گا۔پاکستان کو ہر حال میں ملکی و غیر ملکی فورم پر اس بات کا برملا اظہار کرنا ہوگا کہ پاکستان افغانی پناہ گزینوں کو اپنی سر زمین پر ایک سیکنڈ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔
اب افغانستان اپنے شہریوں کو خود سنبھال سکتا ہے ،خود انہیں گھر بار اور ملکی ذمہ داریاں دے سکتا ہے۔ہم خود دہشت گردی سمیت کئی اور اندرونی معاشی مسائل کا شکار ہیں۔لہٰذا براہ مہربانی تمام افغانی لوگ اگر پاکستانی سرزمین کو خیر باد کہ دیں تو یہ نہ صرف ایک صدقہ جاریہ ہو گا بلکہ ہماری نسلوں پر احسان ِ عظیم ہوگا۔
میجر جواد شہید کابہترین بدلہ یہی ہے کہ ہماری حکومت اور فوج بارڈر مینجمنٹ پر مزید توجہ دے اور افغانیوں کی سرحدی آر پار خلاف ورزیوں کی حوصلہ شکنی کرے۔
میجر جواد شہید کی شہادت کا اچھا بدلہ یہی ہے کہ افغانستان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں اور ان کے تمام افراد کو ان کے ملک میں جلد از جلد واپس بھیجنے کا بندوبست کریں تاکہ افغانستان کی ذرا سی آنکھیں تو کھلیں اور انہیں احساس ہو کہ کس طرح مشکل وقت میں پاکستان نے ان کی مدد کی تھی۔میجرجواد شہید کی شہادت کا اصل یہی بدلہ ہے کہ مستقبل میں افغانستان کی طرف سے ہندوستان جیسے گٹھ جوڑ کا خاتمہ کر دیں۔میجر جواد کی شہادت ہماری پوری قوم کی شہادت ہے اور افغانستان کی طرف سے ہماری نیکیوں کے جواب میں یہ شہادت ایک احسان فراموش ملک کی طرف سے زور دار تھپڑ کی مانند ہے جس پر ہمیں غیر ت کا مظاہرہ کرنا ہوگا،سوچنا ہوگا اور غیرت سے جینا ہوگا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ممتاز امیر رانجھا کے ہفتہ جون کے مزید کالم