پیپلز پارٹی:کیا کیا جائے؟

اتوار جون    |    قمر الزماں خان

عام طور پرمفروضوں سے حقائق کی طرف سفر کیا جاتا ہے،مگر کبھی کبھی چھوٹی حقیقتیں بڑی مبالغہ آمیزی کو جنم دیتی ہیں ،جن سے مفروضوں کو شعوری طور پر پال پو س کر حقائق سے فرار حاصل کیا جاتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی قیادت26مارچ کے جلسہ جمال دین والی سے ‘اسی قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہوتی چلی جارہی ہے۔یہ جلسہ تمام تر انتظامی نااہلیوں،ہڑبونگ اور افراتفری کے باوجود ایک کامیاب ترین جلسہ تھا ۔
مگر اس جلسے کا ہجوم متنوع اور مختلف قسم کے عوامل پر مشتمل تھا،اس کو کلاسیکل پیپلز پارٹی کا اجتماع قرارنہیں دیا جاسکتا۔لاکھوں اور کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری سے اپنے وجود کو بلدیاتی عمل میں سیاسی لباس فراہم کرنے والے بھانت بھانت کے سرمایہ کاراور انکے کارندے،فنگشنل لیگ کی باقیات،دیہاڑی دار اور پیپلز پارٹی کے ٹوٹے پھوٹے اور نحیف ڈھانچوں کے گرد بہت ہی مستقل مزاج پارٹی کی حمائت کے کچھ حصوں کا ملغوبہ‘ اس جلسے کے عناصر تھے۔

(خبر جاری ہے)

پارٹی کی وسیع قوتیں‘ جو کہ پارٹی قیادت کی مسلسل غداریوں ،جرائم ،بدعنوانی کے کردار،دھوکہ دہی اور مایوس کن کارگزاری کی وجہ سے بہت ہی نحیف ہوچکی ہیں ،ان میں اتنی سکت نہیں رہی کہ وہ’ پرانی ڈگر‘ کی پارٹی میں سرگرم اور فعال کردار ادا کرسکے۔پچھلے پنتالیس سالوں سے نعروں ،وعدوں اور بڑھکوں کی تکرارِ مسلسل کے بعد‘ اب دھوکے کے سانپ سے ڈسوانے کا ’چسکہ ‘ بھی نشہ کھوچکا ہے۔پرانی باتوں کو نئے چہروں اور نئے ناموں سے دھرانے کے پرانے حربے پِٹ چکے ہیں۔
تین نسلوں نے پے درپے سراب کے پیچھے بھاگ بھاگ کر خود کو ہلکان کیا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے زوال کی ارتقائی کیفیت اور مدت ‘سرمایہ داری نظام کے (اب تک کے ) آخری زوال سے کافی مشابہت رکھتی ہے۔ یہ چار دھائیوں پر محیط ہے۔فوجی آمریتیں ،ریاستی تشدد ،انتقامی کاروائیاں،متعصبانہ اوریک طرفہ احتساب ،جیلیں اور سزائیں اور خاص طور پرکسی اورمتبادل سیاسی قوت یامحنت کش طبقے کی روائیت کی عدم موجودگی ‘پاکستان پیپلز پارٹی کے’ زوال‘ کو انہدام اور تحلیل کے منتقی انجام تک پہنچنے نہیں دیتیں ۔
ہر دفعہ کوئی نہ کوئی چوردروازہ اس کو بقاء کی
اگلی گلی میں پہنچا دیتا ہے۔اس پچیدہ کیفیت کو پارٹی قیادت اپنی طاقت،قوت اور حمائت سے تعبیر کرتی ہے۔پاکستان کے کروڑوں محنت کشوں ،غریبوں ،کسانوں اور پچھڑے ہوئے طبقات کے پاس متبادل سیاسی پلیٹ فارم کی عدم موجودگی کا خلاء سردست پیپلز پارٹی ہی پُر کرتی چلی آرہی ہے۔اس کیفیت میں متذکرہ بالا طبقات کے سیاسی اظہار (خواہ وہ نیم دلی سے ہی کیوں نہ ہو)کا پلیٹ فارم بننے کی وجہ سے‘ پیپلز پارٹی کی قیادت بہت سی نظریاتی ،سیاسی اور حکمت عملی کی غلطیوں کا تدارک کرنے کی بجائے ان کو اور زیادہ گہرا کرنے کی طرف راغب ہوجاتی ہے ۔
شمالی پنجاب سے کشمیر تک ریلی کے ذریعے سیاسی قوت کے اظہار اور پھر کشمیر میں کچھ جلسوں میں موجودہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری کے متغیر اور متضاد نعروں اور موقف سے نظریاتی ہیجان،غیر واضع سیاسی موقف اور کافی حد تک موقع پرستی کے عوامل نظر آتے ہیں۔خاص طور پر ریاست اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے بیانات ماضی میں انکے نانا کی بھارت مخالف بڑھک بازیوں کی بھونڈی نقالی نظر آتے ہیں۔
مسئلہ کشمیر پر انکا موقف کشمیریوں کی منشاء یا کسی ایک خطے کی اپنی آزادانہ اور خود مختیار حیثیت میں بحالی کے برعکس سامراجی خواہشات اور ریاست پاکستان کے حاوی حکمران ٹولے کی ’طے کردہ ‘ ٹون سے مطابقت رکھتاہے۔یہ وہی موقف ہے جن سے عدم دستبرداری کی مستقل خواہش کے سبب ’بھارت اور پاکستان‘ کی ریاستیں ‘مسئلہ کشمیر کو نہ حل ہونے والا اور ہمیشہ باہمی جنگ وجدل کی حالت میں رہنے کا اوزار بناچکی ہیں۔
‘پاکستانی سیاست میں لنگوٹا کسے ہوئے پہلوان خواہ کسی بھی پارٹی سے متعلق ہوں‘فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بالمقابل آزادانہ سوچ استوار کرنے کی ہمت رکھتے ہیں نہ ہی ان میں لگی بندھی(اور ناکام ترین) راہوں سے ہٹ کر چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔سرمایہ داری کے تقاضوں، سرحدوں،باڑوں اور انسانوں کو انسانوں سے جدا رکھنے والے نظام کے سبب جنگ یا حالت جنگ (عملی یا نظریاتی) کی موجودگی میں امن کا نعرہ ایک فریب اوردھوکے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
ایک سامراجی نقطہ نظرکی پیروی کرتے ہوئے ‘کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی ایک ”پپٹ حکومت“ بنانے کا کام پوری جانفشانی سے کرتی چلی آئی ہے،موجودہ انتخابی مہم بھی اس مقصد سے جڑی ہوئی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی میں حکمت عملی مرتب کرنے اور اسکی توسیع کرنے کا کوئی باقاعدہ شعبہ منظم انداز میں کام نہیں کرتا البتہ وقتاََ فوقتاََ پینٹاگان اور دیگر سامراجی مراکز سے اس ضمن میں پورا نصاب مہیا کیا جاتا ہے جس میں کبھی (طبقاتی)”مفاہمت“کی حکمت عملی پر گامزن ہونے کادرس دیا جاتا ہے اور کبھی (فوجی آمریتوں کی حمائیت کے بعد)نام نہاد جمہوریت کے نام پر منڈی کے جبر کو قائم رکھنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔
اس روش نے پارٹی کے زوال اور حمائت میں کمی کے مسلسل عمل کو مہمیز بخشی ہے۔ محنت کش طبقہ ‘جس کی حمائت سے پاکستان پیپلز پارٹی ساٹھ اور سترکی دھائی میں ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی کو ‘اور اسکے طبقاتی مفادات کو ‘یکسر جھٹک دینے سے جہاں ’طبقے ‘کو منڈی کی معیشت کی بے رحم طاقتوں،قوانین اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہاں خود پارٹی بھی اپنے بنیادی نظریات سے الگ ہوکر زمین سے معلق ہوچکی ہے۔
سرمایہ داروں کی کلاسیکل پارٹیاں اور انکی طبقاتی حمائت موجود ہے۔ مسلم لیگیں بالخصوص نو ن لیگ اسکی ایک مثال ہے،جسکا اپنا طبقاتی کردارسرمایہ داروں ،تاجروں ،آڑھتیوں اور دیہی اشرافیہ کے مفادات کا نگہبان ہے۔یہیں سے ان کو سیاسی ،مالیاتی ،سماجی قوت اور کمک ملتی ہے۔حتہ کہ عسکری حلقوں کے ساتھ تمام تر فروعی اختلافات اورمالیاتی سرمائے پر کنٹرول کے ٹکڑاؤ کے‘ نون لیگ انکی فطری حلیف ہے۔یہیں سے پیپلز پارٹی کا دوسری طرف کا بحران بھی جنم لیتا ہے ۔
اپنی حقیقی اساس سے منہ موڑ کر،دشمن طبقات کے مفادات کی پاسداری کرنے اور اپنی سیاسی قوت پر حملوں کے باوجود‘ پاکستان پیپلز پارٹی‘ مخالف سیاسی قوت کے(بالائی اور زیریں) مراکز سے اپنا ناطہ مستقل طور پر جوڑنے کی قدرت سے محروم ہے۔ووٹ لینے ،سیاسی حمائت حاصل کرنے یا (مالیاتی جرائم، بدعنوانی اوردیگر معاملات پر )اپنے دفاع کی ضرورت کے تحت‘ بالآخر پارٹی قیادت کو انہی طبقات
کی طرف دیکھنا پڑتا ہے جنہیں وہ مسلسل دھتکارتی آرہی ہے۔
یہ ایک واضع تضاد اور بحران ہے ،جس کا تدارک انہی پوزیشنز پر رہنے سے ممکن نہیں ہے۔حالیہ(2008-16)زوال کے دائرے سے نکلنے کے لئے پیپلز پارٹی قیادت نے جس حکمت عملی کا سہارا لیا ہے،اسکا دامن محدود اوریہ بہت ہی کم مدتی نسخہ ہے۔یہ نظریاتی،سیاسی اور تنظیمی زوال پذیری کا مستقل حل نہیں ہے۔2جون کو رحیم یارخاں میں ‘جنوبی پنجاب پارٹی تنظیم کے زیر اہتمام ”ورکرز کنونشن“ کے نام پر ایک جلسہ کیا گیا۔
اس جلسے کا مقصد ضلعی باڈیوں کی تنظیم نو کے لئے ”کارکنوں“ کی رائے لینا تھا۔ یہ کنونشن سٹی اور تحصیل سطح پر کسی قسم کی تیاری کے بغیر یکا یک منعقدکیا گیا تھا۔اس لئے اس کے ایجنڈے اور مقاصد سے شرکاء شمولیت سے قبل ناواقف تھے۔اس لئے فوری طور پر ان سے ضلعی تنظیم کے لئے مانگی گئی تجاویز پر کسی بھی مقرر کے لئے بات کرنا ممکن نہ تھا۔صرف وہ مقررین جو ایک خاص ایجنڈے کے تحت اپنے مخالفین پر حملے کرنے کے لئے تیار کئے گئے تھے انہوں نے اپنے خطابت کے فن کا مظاہرہ کیا۔
پنتالیس لاکھ آبادی والے ضلع رحیم یارخاں سے‘ جو پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے‘تین چار کارکنوں کو خطاب کو موقع دیا گیا مگران کے خیالات اور تجاویز بدنظمی،شورشرابے اور برے انتظامات کی نذر ہوگئے۔جب کہ پارٹی وائس چیئرمین مخدوم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم احمد محمود کو اپنی ذاتی تشہیر اور ناکردہ کارناموں کی تفصیلات فراہم کرنے کا خوب موقع مل گیا۔سیاسی پارٹیوں کے تنظیمی بحران بھی نظریاتی وجوہات کی بنا پر ہوتے ہیں یہاں تو سارا بحران ہی نظریاتی زوال پذیری کی وجہ سے ہے۔
اس قسم کے نام نہاد کنونش ‘ پارٹی کو نہ صرف وہ نظریاتی بنیادیں فراہم نہیں کرسکتے‘ جن کی بنیاد پر پارٹی(تازہ دم اور قوت سے بھرپور) نئی سیاست کا آغاز کرسکے بلکہ اس قسم کے ”طے شدہ“ اورنتائج سے محروم پروگراموں سے پارٹی کی تنظیم نو بھی حقیقی بنیادوں پر نہیں ہوسکتی۔1992ء میں سویت یونین کی کیمونسٹ پارٹی دنیا کی سب سے بڑی پارٹی تھی ،مگر نظریاتی زوال پذیری کے باعث ایک ہی رات میں منہدم ہوگئی،اسکے تنظیمی ڈھانچے،دفاتر،اخبارات اور دیگر انفراسٹرکچر اسکو گرنے سے نہیں بچاسکا۔
اسی طرح 1967ء میں بننے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ممبرشپ تھی اور نہ ہی پارٹی ڈھانچے،دفاتر اور اخبارات‘ مگر اپنے انقلابی نظریات کے سبب جو عہد کے تقاضوں کے مطابق راہنما کردار اداکرسکتے تھے‘ وہ ایک ہی دن میں اس ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی تھی۔یہی وہ سیاسی اثاثہ اور حوالہ ہے جو پاکستان پیپلز پارٹی کو ہمہ قسم کے بحرانوں اور زوال پذیری سے نکال کر ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت بنا سکتا ہے۔پارٹی کی بنیادی دستاویزات آج بھی تروتازہ اور موجودہ معروض میں راہنمائی کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہیں۔سن اور سال بدلے ہیں مگر بھوک،بیماریاں،جہالت،اونچ نیچ اور طبقاتی کشمکش وہی ہے اور انکا حل بھی وہی ہے جو آج سے انچاس سال پہلے پارٹی کے تاسیسی اجلاس میں پیش کیاگیا تھا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

قمر الزماں خان کے ہفتہ جون کے مزید کالم