ماضی کی تلاش !

منگل جون    |    محمد عرفان ندیم

کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ یورپ نےاب تک تہذیب و ترقی کی جو شاندار مثالیں قائم کی ہیں وہ سب مسلمانوں کی دین ہے؟ میرے خیال میں اگر آپ کالم کے ٓاخر تک میرا ساتھ دیں تو میں آپ کو قائل کر سکتا ہوں ۔عبدالرحمن سوم کا دَور افکارو نظریات کی آذادی کا دَور تھا، اس کے دور میں فقہائے مالکیہ کی گرفت خاصی کمزور پڑ گئی اور لوگ آزادانہ طور پر سائنس و فلسفہ کی تعلیم حاصل کرنے لگے تھے۔ سائنس کی بہت سی شاخوں میں باقاعدہ تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا،عبدالرحمن سوم اور اُس کے جانشین حکم ثانی نے یونانی علوم کی وہ کتابیں جنہیں پہلے سے بغداد میں عربی میں ترجمہ کر لیا گیا تھا وہ اندلس منگوائیں اور ان پر مزید تحقیقات کا حکم دیا۔
مسلمانوں نے اپنی تحقیقات میں تجربہ کو کسوٹی قرار دیا اور علم کے باب میں ایک نئی فکر "سائنسی طریقِ کار" کو فروغ دیا۔

(خبر جاری ہے)

سائنسی طریقِ کار کا اصل بانی بغداد کا مسلمان سائنسدان ابو البرات البغدادی تھاجس نے گہرے غور و خوض کے بعد اِسلام قبول کیا تھا ۔ بغداد کی تحقیقات سے مستفید ہونے کے لئے سپین کے نوجوان حصولِ علم کے لئے افریقہ کا ہزاروں کلومیٹر طویل سفر طے کر کے بغداد پہنچتے اور وہاںسے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹتے۔

یونس الحرانی، اِسحاق بن عمران، اِسحاق بن سلیمان اور ابنُ الجزّار اُس دَور میں سپین میں طبی علوم کے اِفشاء کا باعث ہوئے۔ اس دور میں طب کی معروف شاخوں مثلا تشخیصِ اَمراض، اَمراضِ نسواں، اَمراضِ اَطفال، امراضِ چشم اور سرجری پر خصوصی کام ہوا۔ابوالقاسم الزہراوی قرونِ وُسطیٰ کا سب سے بڑا سرجن تھا۔ بغداد میں رازی کے بعد دُنیائے اِسلام میں وہ سب سے بڑے مطب (clinic) کا مالک تھا۔ اُس نے آپریشن کے لئے خاص مہارت کے ساتھ خود ایسے بہترین آلات تیار کر رکھے تھے، جن کی مدد سے وہ ایسے پیچیدہ آپریشن کرنے میں کامیاب ہو جاتا تھا جن میں 100 فیصد کامیابی کی توقع دورِ حاضر کے ماہر سرجن بھی نہیں کر پاتے۔
وہ آنتوں کے آپریشن کے لئے بلی کی آنتوں سے تیار کردہ دھاگہ اِستعمال کرتاتھا۔ زخم کی سلائی اس مہارت سے کرتاکہ باہر سےاُس کا نشان مکمل طور پر غائب ہو جاتا۔اندلس میں سب سے پہلا ماہرِ فلکیات جو ملک میں سائنسی علوم و فنون کی اِشاعت کا باعث بنا وہ یحییٰ بن یحییٰ ابن السمینہ تھا۔ اندلس کی سب سے بڑی رصدگاہ اشبیلیہ (Seville) میں تھی جہاں مشہورِ عالم مسلمان سائنسدانوں نے اپنی سماوی تحقیقات کی بنیاد رکھی۔
ابو اِسحاق اِبراہیم بن یحییٰ زرقالی قرطبی نے صدیوں سے مسلّمہ بطلیموسی نظریۂ اَفلاک ردّ کرتے ہوئے زمین کی بجائے سورج کو نظامِ شمسی کا مرکز قرار دیا اور یہ ثابت کیا کہ تمام سیارے بیضوی مداروںمیں سورج کے گرد گھومتے ہیں۔ زرقالی ہی وہ عظیم سائنسدان ہے جس نے اندلس میں سب سے معیاری اُسطُرلاب بنایا ۔ اُس کے بنائے ہوئے اُسطُرلاب کے ذریعے اَجرامِ سماوی کا مُشاہدہ اِس قدر درُست ہوتا تھا کہ بغداد کے رہنے والے اِس فن کے بانی مسلمان سائنسدان بھی اُس کی عمدگی پر حیران تھے۔
ہوائی جہاز کے موجد عباس بن فرناس نے اپنے گھر میں ایک فلکیاتی کمرہ بنا رکھا تھا جس میں اُس نے سیارگانِ فلکی کی گردِش ، بادلوں کی حرکات اور آسمانی بجلی کی مصنوعی گرج چمک کا اِنتظام بھی کر رکھا تھا۔
اندلس میں علمِ نباتات کا مطالعہ مسلمانوں نے اپنے اَوائل دَور ہی میں شروع کر دیا تھا۔ طبی بنیادوں پر نباتات پر تحقیق علم طب کے فروغ کے لئے ایک ضروری امر تھا۔ چنانچہ عبدالرحمن اوّل نے قرطبہ میں حدیقہ نباتاتِ طبیہ کے نام سے ایک ایگریکلچرل ریسرچ فارم بنایا، جہاں اَطباء اور نباتیوں کو پودوں کے خواص، اُن کی اَفزائش اور اَثرات پر تحقیق کے گوناگوں مواقع میسر تھے۔
عبدالرحمن اوّل نے علمِ نباتات کی سرپرستی میں خاص دِلچسپی لی اور اندلس میں میسر نہ آنے والے پودوں اور درختوں کے بیج اور قلمیں دُور دراز ممالک سے درآمد کروائیں۔ چنانچہ اُس نے نہ صرف برِاعظم افریقہ بلکہ بیشتر اَیشیائی ممالک کی طرف بھی سرکاری وفود بھیجے جو نایاب پودوں، درختوں اور جڑی بوٹیوں کی تلاش اور پیداوار میں مددگار ثابت ہوئے۔
طبی جڑی بوٹیوں کی اَفزائش میں وادیٔ آش، المریہ اور غرناطہ کے قریب جبلِ شلیر بھرے پڑے تھے۔
خوشبودار بوٹیاں بھی بکثرت پیدا ہوتی تھیں۔ زعفران مسلمان ماہرینِ نباتات ہی نے اندلس میں متعارف کرایا۔اندلس کے نباتی نہ صرف طبی نباتات پر تحقیق کرتے بلکہ ہر قسم کے اناج اور نقد آور فصلوں پر بھی تجربات کرتے۔ ملک کا اکثر حصہ دریاؤں اور اُن سے نکالی جانے والی نہروں سے بہتر انداز میں سیراب ہوتا تھا۔ چنانچہ پورا ملک فصلوں سے لدا رہتا، حتیٰ کہ پہاڑوں کو بھی بنجر نہیں رہنے دیا گیا۔ اکثر پہاڑی علاقوں میں انگور کی کاشت کی جاتی۔
سپین کے دارُ الحکومت قرطبہ کی آبادکاری کچھ اِس حسین انداز سے تھی کہ اُس کی سڑکوں، پلوں اور دیگر تعمیرات نے اُسے چار چاند لگا دیئے تھے۔ قرطبہ اپنی علمی و فنی سرگرمیوں اور صنعتی و تجارتی اہمیت کے باعث دُنیا میں اپنا ثانی نہ رکھتا تھا۔ اندلس کے مسلمانوں نے خلفائے عباسیہ کی شان و شوکت اور پُرتکلف مہذّب زندگی کو بھی ماند کر دیا تھا۔ اندلس تہذیب و ثقافت اور فیشن میں دُنیا بھر میں ایک معیار کی حیثیت اِختیار کر چکا تھا ۔
بڑے بڑے عالیشان محلات اور بنگلوں کے علاوہ بڑے شہروں میں میلوں تک پھلوں اور پھولوں کے باغات اُسے جنتِ ارضی کی صورت دے چکے تھے۔
مسلمانوں نے جہاں سپین کو تعمیرات سے آراستہ کیا وہاں اُسے تہذیبی اِرتقاء سے بھی نوازا، صنعت و حرفت اور تجارت کے فروغ نے شہریوں کو آسودہ حال کر دیا تھا۔ لوگ زیادہ سے زیادہ سرمایہ نئی صنعتوں میں لگانے لگے تھے۔ لوگوں کی قوتِ خرید بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے وہ اعلیٰ لباس اور بہترین اَشیائے خورد و نوش پر بے دریغ رقم خرچ کرتے تھے۔
تہذیبی تکلّفات اُن کی زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔ آرائش و زیبائش پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ گھروں کے باہر لان بنانے اور اُن میں دُور دراز ممالک سے نایاب درخت منگوا کر لگانے کا رواج عام تھا۔ اکثر گھروں میں فوّارے اور حوض بھی بنائے جاتے تھے۔ گلی کوچے پختہ ہوتے اور اُن میں روشنی کا بخوبی اِنتظام حکومت کے خرچ سے ہوتا۔ شہروں میں سیورِیج کا بھی بہت اعلیٰ اِنتظام تھا۔ بلنسیہ کے بڑے گندے نالے پر پکی چھت تھی اور وہ اِتنا چوڑا تھا کہ ایک چھکڑا بآسانی اُس کے اُوپر چل سکتا تھا۔
عبدالرحمن اوّل ہی نے دریائے وادئ کبیر اور دریائے شنیل کے کنارے آباد اکثر شہروں کو متعدّد نہریں کاٹ کر پانی پہنچایا۔ غرناطہ کے باہر ایک عظیمُ الشان محل بنایا اور اُس کے اَطراف میں وسیع و عریض باغ لگایا ۔قرطبہ کے ایک نامور آرٹسٹ زریاب قرطبی نے فیشن کے کئی نئے طریقے متعارف کروائے ، نئے نئے فیشن نکالنے میں اُسے کمال مہارت حاصل تھی۔ اُس نے ملک میں فنِ آرائش کو ترویج دی۔ وہ شاہی مجالس کی تزئین و آرائش کا ماہر تھا۔
اُس نے اندلس کے لباس اور طعام میں حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا کیں،۔ نئے نئے فیشن اِیجاد کر نے کے ساتھ وہ ایک ماہر کک بھی تھا۔ سپین کے بہت سے کھانے اُسی نے اِیجاد کئےجن کی باقیات آج کے سپین میں بھی موجود ہیں۔ اُس نے عام کھانے پکانے کے بھی نئے نئے طریقے نکالے جن سے کھانے زیادہ لذیذ تیار ہوتے تھے۔ اُس نے کھانے کے لئے شیشے کے برتنوں کو بھی رواج دیا اور چمچ اور چھری کانٹے سے کھانے کا طریقہ بھی نکالا۔اس کی بدولت لوگ مختلف موسموں میں مختلف فیشن اور رنگوں کا لباس پہننے لگے۔ سر کے بالوں کی مانگ بائیں طرف سے نکالنے کا طریقہ بھی اُسی کا اِیجاد کردہ ہے۔ اُس سے قبل ساری دُنیا کے لوگ ہمیشہ درمیان سے مانگ نکالتے تھے۔ یورپ بھر میں اُسے فیشن کا باوا آدم سمجھا جاتا تھا۔ میں کالم کے شروع میں اٹھائی گئی اپنی بات پرآپ کو قائل کر سکا یانہیں اس کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے منگل جون کے مزید کالم