راجہ افضل بولتے ہیں ۔۔۔۔!

جمعرات جون    |    ارشاد بھٹی

سچ کہتے ہیں کہ سیاست کا دل نہیں ہوتا ،یہ کسی کی نہیں ہوتی، وقت آئے تو یہ خون دینے والوں کا ہی خون چوس لیتی ہے اور 77سالہ راجہ افضل اسی سیاست کی زندہ مثال ہیں ۔ 21سال کی عمر میں وہ سیاست میں آئے ، 5مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر اور ایک بار سینیٹر بنے ۔ ان کے دونوں بیٹے بھی قومی اسمبلی پہنچے ۔ جہلم کے راجہ افضل کی 56سالہ سیاست کابہت کچھ تو ایسا ہے کہ جو نہ لکھا جا سکتا ہے نہ سنایا جا سکتا ہے اور نہ بتایا۔
مگر کیاوقت تھا،رازوں بھرا یہ سیاسی گروبتاتا ہے کہ 1985میں یٰسین وٹو وزیراعظم جونیجو کا پیغام لیکر آئے کہ آپ کو وفاقی وزیر بنانے کا فیصلہ ہوا ہے۔میں نے کہا کہ انور عزیزچوہدری (دانیال عزیز کے والد ) کو میری جگہ وزیر بنادیں کیونکہ میں نے ان سے کمٹمنٹ کی ہوئی ہے۔

(خبر جاری ہے)

جنرل ضیاء نے جب خواجہ صفدر (خواجہ آصف کے والد) کو قومی اسمبلی کا اسپیکر بنانا چاہا تو میں نے پہلے یٰسین وٹو ( لیکن جب وہ جنرل ضیاء کے دباوٴ پر انکاری ہوگئے) تو پھر فخرامام کو نہ صرف کھڑا کیا بلکہ ضیاء کے مقابلے میں ایک تھکا دینے والی لابنگ کے بعد اُنہیں جتوا بھی دیا ۔

کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ اگر ضیاء الحق کی مجلس شورٰی کے چیئرمین خواجہ صفدر نے ہی قومی اسمبلی کا اسپیکر بننا ہے تو پھر اس جمہوری ڈرامے کا کیا مطلب ۔مگر ضیاء الحق اِدھر یہ انتخاب ہارے تو اُدھر اُنہوں نے مجھ سے ہارے ہوئے چوہدری الطاف (بعد میں گورنر پنجاب بنے )کو الیکشن ٹربیونل بھجوا کر آرٹیکل 62-63کے تحت مجھے نااہل کرواکر انہیں جتوادیا ۔ لیکن جب چوہدری الطاف حلف لینے قومی اسمبلی پہنچے تو پوری اسمبلی واک آوٴٹ کر گئی ۔
ہماری جمہوری تاریخ میں ابھی تک یہ پہلی اور آخری مثال ہے ۔پھر سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے میرے حق میں فیصلہ سناکر جب مجھے دوبارہ اسمبلی بھجوایا تو یہ فیصلہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کی اب تک پہلی اور آخری مثال ہے ۔ 85ء کی ہی بات ہے کہ میں نے چوہدری نثار کی نواز شریف سے پہلی ملاقات کروائی۔چند دن بعد چوہدری نثارکہنے لگے کوئی ایسا نسخہ بتائیں کہ میں نواز شریف کے قریب ہو سکوں ۔میں نے کہا کہ میاں صاحب کے اردگرد رہا کرو، کیونکہ قریب رہو گے تو قربت بڑھے گی ۔
چوہدری نثار نے یہ مشورہ ایسے پلے باندھا کہ چند ماہ بعد وہ گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے اورفرنٹ سیٹ پر نواز شریف تھے ۔
بے نظیر بھٹو کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی ۔ تحریک کے روحِ رواں وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف مطلوبہ تعداد سے زیادہ اراکین اپنے ساتھ مِلا چکے تھے ۔لیکن ایک شام جب میں نے میاں صاحب سے مری میں مل کر کہا کہ ہماری تحریک کو کامیاب نہیں ہونا چاہیے تو انتہائی حیران وپریشان نواز شریف نے وجہ پوچھی ،میں نے کہا کہ ہم کامیاب ہوئے تو ہمارے اپوزیشن لیڈ رغلام مصطفی جتوئی وزیراعظم بن جائیں گے اور اگر ایک بار جتوئی صاحب وزیراعظم بن گئے تو پھر عمر بھر آپ وزیراعظم نہیں بن سکیں گے ۔
میاں صاحب نے اٹھ کر مجھے گلے لگایا اور اگلے ایک گھنٹے میں تمام ممبران کو واپس اپنی اپنی پارٹیوں میں جانے کا پیغام پہنچا دیا ۔ 1991اور جون کا مہینہ ۔پیغام مِلا کہ نواز شریف صاحب نے ایک ہنگامی میٹنگ بلائی ہے اور آپ نے ضرور آنا ہے ۔ میں جب پہنچا تو وزیراعظم نواز شریف ،چوہدری شجاعت ، جنرل مجید ملک ، چوہدری نثار اور راجہ ظفر الحق پہلے سے موجودتھے۔ نواز شریف نے بات شروع کی ”چند خدشات کی بنیاد پر میں آرمی چیف اسلم بیگ کی جگہ قبل ازوقت نئے آرمی چیف کی تقرری کرنا چاہتا ہوں، آپ لوگوں کی رائے چاہیے “۔
سب نے ایک ہی بات کی کہ اگر ایسا ہوا تو جنرل بیگ سب کچھ لپیٹ دیں گے لہذا ابھی یہ نہ کریں ، نواز شریف نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ ”ہم تو وہ لوگ ہیں کہ اگر پتا چل جائے کہ 6ماہ بعد فلاں جگہ سے اقتدار کا سورج نکلے گا توہم چھ ماہ پہلے ہی وہاں ڈیرے جما کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ آپ یہ کام کر دیں ، کچھ نہیں ہوگا۔میاں صاحب نے جنرل بیگ کی ریٹائرمنٹ سے 3ماہ پہلے ہی جنرل آصف نواز کو آرمی چیف مقرر کر دیا ۔
چند دنوں بعد ایک میٹنگ سے پہلے نواز شریف مجھے ایک طرف لے جا کر قہقہوں میں بولے کہ” گرو جی آپ نے سچ کہا تھا کیونکہ جس دن میں نے جنرل آصف نواز کو آرمی چیف مقرر کیا اسی دن میں نے بریگیڈئیر امتیاز کی یہ ڈیوٹی بھی لگائی کہ نظر رکھیں جنرل بیگ کے گھر کون آ جار ہا ہے۔مگر 24گھنٹوں کے بعد مجھے رپورٹ ملی کہ ایک شخص بھی جنرل بیگ کو ملنے نہیں گیا ، سب کا رخ جنرل آصف نواز کے گھر کی طرف تھا“ ۔
کارگل کا ایشو ہو اتومیں نے پارٹی میٹنگ میں کہا کہ یہ نہ صرف ہمارے کیخلاف سازش ہوئی ہے بلکہ اب ہمارا کاوٴنٹ ڈاوٴن بھی شروع ہو گیا ہے۔
میٹنگ کے بعد وزیراعظم مجھے لے کر ساتھ والے کمرے میں چلے گئے ۔میں نے جب دو گھنٹے دلائل دیئے تو میاں نواز شریف قائل ہو گئے مگر ابھی ہم میٹنگ روم میں ہی تھے کہ چوہدری نثار اور شہبا ز شریف بھی آگئے۔میاں نواز شریف نے جب یہ سب کچھ انہیں بتایا تو شہباز شریف بولے کہ میں اور چوہدری نثار ابھی جنرل مشرف سے مل کر آئے ہیں ،ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ پھر چوہدری نثار نے کلمہ پڑھ کر کہا کہ آرمی چیف ہمارے ساتھ ہیں اور کوئی سازش نہیں ہوئی ۔
کچھ دن بعد برونائی کے دورے کے دوران ساحل سمندر پر واک کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے مجھے کہا کہ سیف الرحمن اور چوہدری شجاعت کی نہیں بن رہی ،میں چاہتا ہو ں کہ چوہدری صاحب کی جگہ آپ کو وزیر داخلہ بنادوں ۔ میں نے کہا میاں صاحب میں پھر یہی کہوں گا کہ ہمارا کاوٴنٹ ڈاوٴن شروع ہو چکا ہے ۔ لہذا اگر ہم مارچ نکال گئے تو میں وزیر داخلہ بن جاوٴں گا ،پھر اکتوبر چڑھا تو 3اکتوبر کو میں نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہہ دیا کہ سامان پیک کر لیں،وقت ِ آخر آن پہنچا ہے ۔
اور وہی ہوا 9دن بعد نواز حکومت برطرف ہوگئی۔
مارشل لاء لگا تووہ راجہ افضل جو اپنی حکومت کے سب سے بڑے ناقد تھے جو ا یک دبانے والے کو سفیر اورایک خوشامدی کے وزیر بننے پر وزیراعظم سے برملا کہاکرتے کہ یہ کیسی حکومت ہے کہ جس میں پالشیئے وزیر اور مالشیے سفیر بن جاتے ہیں ، وہی راجہ افضل اب قیدی نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے ،وہ بیگم کلثوم نواز کو تقریروں اور پریس کانفرنسوں کے پوائنٹس بنا کر دیا کرتے ، انہی کی تجویز پر جاوید ہاشمی کو پارٹی صدر بنا یا گیا ۔
یہ راجہ افضل ہی تھے کہ جنہوں نے جنرل احتشام ضمیر سے کہا کہ ہر سزا قبول مگر نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا جس کے بعد نیب کی نہ ختم ہونے والی انکوائریاں شروع ہو گئیں (نیب راولپنڈی میں شیخ رشید بھی آیا کرتے اور بقول راجہ صاحب ایکدن شیخ رشید نے بتایا کہ میری بات ہو گئی ہے میں (ن) لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ کرمشرف حکومت جوائن کر لوں گا) ، یہ راجہ افضل ہی تھے کہ جنہیں میاں شریف نے کہا کہ مجھے معاف کر دیں کہ دو مرتبہ میری وجہ سے آپ وزیر نہ بن سکے ، یہ راجہ افضل ہی تھے کہ جنہوں نے اڑھائی گھنٹے کی ملاقات کے بعد نواز شریف کو منا لیا کہ وہ پرویز الہی کو وزیراعلیٰ بنادیں (مگر جب بات شہباز شریف تک پہنچی تو وہ والدمیاں شریف کے پاس پہنچے ،نواز شریف کی طلبی ہوئی اور پھر میاں شریف،جنرل جیلانی اور مجید نظامی نے فیصلہ شہباز شریف کے حق میں دیدیا )یہ راجہ افضل ہی تھے کہ جنہوں نے 70ایکٹر شہری رقبہ بیچ کر اپنی سیاست چلائی مگر پلاٹ، پرمٹ تو کیاانہیں جب شوگر مل کی آفرہوئی تو وہ یہ آفر بھی شکریئے کے ساتھ ٹال گئے۔
اور یہ راجہ افضل ہی تھے کہ جن کی تجویز پر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر بنی اور جلاوطنی سے واپسی پر جن کے دلائل کی وجہ سے نواز شریف نے انتخابات کا بائیکاٹ ختم کیا، لیکن یہی راجہ افضل جب یہ کہتے ہیں کہ عابدہ حسین کی خواہش تھی کہ کوئی بھی سپیکر بن جائے مگر فخرامام نہ بنے کیونکہ وہ کسی صورت اپنے خاوند کو خود سے بڑا سیاستدان بنتے نہیں دیکھ سکتی تھیں ،یہی راجہ صاحب جب یہ بتاتے ہیں کہ جس پرویز الہی کو وزیراعلیٰ بنوانے کیلئے میں نے شہبازشریف کی مخالفت مول لی ، اُسی پرویز الہی کی وزارت اعلیٰ کے دور میں مجھے نیب بھگتنا پڑی، میرے پورے خاندان پر قتل کا پرچہ ہوا اور سالہا سال میں چھاپوں اور ناکوں کے کرب سے گذرا،یہی راجہ افضل جب یہ سناتے ہیں کہ ہر وقت میرے گھٹنے چھونے اور ”بھائی جان بھائی جان“کہنے والے شہباز شریف وقت آنے پر میرے مخالف امیدوار کو جتوانے کیلئے لاہور سے جہلم آ کر بیٹھ گئے ، ضلعی انتظامیہ کو الیکشن سونپ دیا ،میرے مدمقابل کیلئے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان ہوا اورالیکشن والے دن 36گھوسٹ پولنگ اسٹیشن بنا دیئے تو دوستو جب سیاست کی یہ کہانی سننے کو ملتی ہے اور جب سیاست کا یہ چہرہ دیکھنے کو ملتا ہے تو پھر دل ودماغ میں ایک ہی بات آتی ہے کہ سچ کہتے ہیں کہ سیاست کادل نہیں ہوتا،یہ کسی کی نہیں ہوتی، وقت آئے تو یہ خون دینے والوں کا ہی خون چوس لیتی ہے اور 77سالہ راجہ افضل اسی سیاست کی زندہ مثال ہیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ارشاد بھٹی کے بدھ جون کے مزید کالم