ماہِ مبارک میں ہمارے رویے

جمعرات جون    |    پروفیسر رفعت مظہر

ماہِ صیام کا دوسرا عشرہ شروع ہو چکا۔ یہ ماہِ مقدس اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک ہے جو امتِ محمدیہﷺ کو نصیب ہوا۔ یہ وہ ماہ مقدس ہے جس میں قرآنِ مجید فرقانِ حمید سمیت تمام آسمانی کتابوں کا نزول ہوا۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں ہر رات اللہ تعالیٰ لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے، جس میں شیاطین پابندِسلاسل کر دیے جاتے ہیں اور رحمتِ ربی جوش میں ہوتی ہے۔ اسی لیے رب کریم نے فرمایا کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کا اجر بھی میں ہی دوں گا۔
بدنصیب ہے وہ جو اس ماہ کو پائے اور رب کی رحمتیں سمیٹنے سے محروم رہے۔ حضورِاکرمﷺ کا فرمان ہے ”جس نے روزہ رکھ کر بھی جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی حاجت اور پرواہ نہیں (صحیح بخاری)۔

(خبر جاری ہے)

تحقیق کہ ماہِ صیام ہم سے کچھ لینے نہیں بلکہ رحمتیں، برکتیں اور سعادتیں لٹانے آتا ہے۔ ایسے میں بدنصیب ہے وہ شخص جو محض دنیاوی دولت کی خاطر اس ماہِ مقدس کو اپنے دنیاوی کاروبار کی نذر کر کے حصولِ جنت کی بجائے آتشِ دوزخ کا خریدار بن جائے۔


کیسی عجیب اور دکھ کی بات ہے کہ عیسائی تو اپنے تہواروں پر ضروریاتِ زندگی کی ہر شے کی قیمت کو انتہائی معقول حد تک کم کر دیتے ہیں لیکن ہم جنھیں قرآنِ مجید فرقانِ حمید نے بہترین قوم قرار دیا، جنھیں نیکی کا درس دینے اور برائی سے روکنے والے کہا گیا، وہی ضروریاتِ زندگی کی ہر شے کے نرخ آسمانوں تک پہنچا دیتے ہیں اور جوں جوں ماہِ صیام گزرتا جاتا ہے ان کا لالچ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ آج بازار میں چلے جائیں، آپ کو اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی نظر آئیں گی۔
ایک عام آدمی کے لیے فروٹ کی خریداری کا تصور بھی محال ہے۔ میاں شہبازشریف صاحب نے سستے رمضان بازاروں کا اہتمام تو کر دیا لیکن قیمتیں آج بھی حکمرانوں کے کنٹرول سے باہر ہیں اور دوکاندار اپنی من مانی میں
مصروف۔ اگر ان سے مہنگائی کا ذکر کیا جائے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ ہم تو کریانہ فروش ہیں، جس نرخ پر مال ملے گا، اسی پر ہی فروخت کریں گے۔ یہ سارا قصور تو ذخیرہ اندوزوں کا ہے جو جب چاہے مارکیٹ سے اشیاء غائب کر کے مہنگائی کا طوفانِ بلاخیز لے آتے ہیں۔
ان بڑے مگرمچھوں پر تو کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا، شامت آ جاتی ہے چھوٹے دوکانداروں کی۔
مہنگائی کو تو رکھیں ایک طرف، یہاں تو یہ عالم ہے کہ مسندِاقتدار کے بھوکے احترامِ رمضان میں بھی اپنی ایسی سیاسی سرگرمیوں سے باز نہیں آ رہے جن کا ملک و قوم کو تو کچھ فائدہ نہیں ہونے والا البتہ شاید ہوسِ اقتدار کی تسکین کا کچھ سامان ضرور ہو جائے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کل کے دشمن اور منہ سے آگ اگلنے والے باہم شیروشکر کیسے ہو گئے اور ایسا کرتے ہوئے انھیں ذرا بھی شرم نہیں آئی؟ کپتان صاحب جو کچھ آصف زرداری صاحب کے بارے میں کہہ چکے ہیں، اور جس طرح کے الزامات لگا چکے ہیں، آج انھیں وہ فرشتہ نظر آنے لگے ہیں اسی لیے تو کپتان صاحب نے کہہ دیا کہ ہو سکتا ہے اگست میں کنٹینر پر بلاول میرے ساتھ ہو۔
کپتان صاحب کو یہ نئی الفت ویگانگت مبارک ہو لیکن کیا اسے ”مک مکا“ کہنے کی اجازت ہے؟ علامہ طاہرالقادری بھی مال روڈ پر اپنی محفل سجا کر یہ اعلان کر گئے کہ ستمبر سے قبل حکومت ختم ہو جائے گی۔
علامہ طاہرالقادری کے دھرنے میں پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور متحدہ سمیت اپوزیشن جماعتوں کے وفود نے شرکت کی۔ مولانا صاحب نے فرمایا کہ حکمرانوں کی روح نکلنا شروع ہو گئی ہے، ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ نوازشریف کا بائی پاس ہوا ہے تو وہ پیزہ کیسے کھاتے رہے؟ علامہ صاحب کو ایسی باتیں بہرحال زیب نہیں دیتیں کہ ایک عالمِ دین بیمار پرسی تو ضرور کرتا ہے، طنز کے تیر نہیں برساتا۔ ویسے پیزہ کھانے سے دل کی کوئی شریان تو بند نہیں ہوتی جو اسے ممنوع قرار دیا جائے۔ یہ تو پوری دنیا جانتی ہے کہ میاں نوازشریف صاحب کا مشکل ترین ”بائی
پاس“ ہوا۔ اطلاعاً عرض ہے کہ انگلینڈ ایسا گیا گزرا ملک نہیں جس کے حکمرانوں، ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کو خرید کر اتنا بڑا ڈرامہ اسٹیج کر دیا جائے۔
علامہ صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ نوازشریف خودساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اگر کسی بیماری کا علاج کروانے کے لیے بیرون ملک جانے کو ”خودساختہ جلاوطنی“ کہا جا سکتا ہے تو پھر ایسی جلاوطنی اختیار کیے ہوئے تو خود علامہ صاحب کو ایک عشرے سے زائد ہو چکا۔ اپنا علاج بھی وہ بیرونی ممالک سے ہی کرواتے ہیں اور 36 مختلف اقسام کی ادویات بھی بیرونی ممالک کے ڈاکٹروں کے مشورے سے ہی استعمال کرتے ہیں۔

ہم تو انھیں دست بستہ یہی عرض کر سکتے ہیں کہ خدارا ماہِ رمضان کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے قوم کو ایسے پیغامات سے نوازیے جن میں اخوت، محبت، الفت اور یگانگت کا درس ملتا ہو کہ اس ماہِ مقدس کا یہی تقاضہ ہے۔ سیاست کا کیا ہے، وہ تو ہوتی ہی رہے گی اور ہاں اپنے پہلو میں بیٹھے شیخ رشید صاحب سے اجتناب ہی کیجیے کہ وہ تو میاں برادران سے اپنی ذلتوں کا بدلہ چکانے کی فکر میں ہے۔ یہ وہی شیخ رشید ہے جس نے نوازلیگ میں واپس جانے کے لیے میاں برادران سے ”منتوں، ترلوں“ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
لیکن جب ”جاتی عمرہ“ کے مکینوں نے گھاس نہیں ڈالی تو پھر عمران خان کی پناہ ڈھونڈ لی۔ یہ وہی شیخ رشید ہے جو پرویزمشرف کے دورِاقتدار میں کپتان صاحب کو ”تانگے کی سواریوں والا“ کہا کرتا تھا۔ آج وہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ جاتی عمرہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اینٹ سے اینٹ بجانا تو درکنار وہ تو جاتی عمرہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔ اسے تو میاں برادران سے بدلہ چکانے کے لیے کندھا چاہیے، وہ کندھا خواہ علامہ صاحب کا ہو یا کپتان صاحب کا، پیپلز پارٹی کا ہو یا ق لیگ کا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے بدھ جون کے مزید کالم