کروشیا کے مسلمان

ہفتہ جون    |    شاہد سدھو

خوبصورت یورپی ملک کرو ئیشیا نے بلقان کی جنگ کے بعد ۱۹۹۱ میں آزادی حاصل کی۔ پینتالیس لاکھ آبادی کے ملک کروشیا میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ڈیڑھ فیصد سے بھی کم ہے۔کروشیا کی آبادی کی اکثریت عیسائیت کے رومن کیتھولک عقیدے کی پیروکار ہے۔ مقامی مسلمان فقہ حنفیہ کے پیروکار سنی العقیدہ ہیں۔نسلی طور پر مسلمانوں کی اکثریت بوسنیائی، کروئیشین اور البانوی نسلوں سے تعلق رکھتی ہے۔جدید کروشیا میں ۱۹۱۶ میں اسلام کو رومن کیتھولزم او ر آرتھوڈوکسی کی طرح ریاست کا آفیشل مذہب تسلیم کیا گیا۔
دارالحکومت زغرب سمیت تمام اہم شہروں میں اسلامک سینٹر اور مساجد قائم ہیں۔اسلامک سنٹر زغرب میں واقع مسجد ، کروشیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ اسلامک سنٹر زغرب کی تعمیر کے لئے شارجہ کے حکمران ڈاکٹر شیخ سلطان بن محمد القاسمی نے پچیس لاکھ امریکی ڈالر کا عطیہ دِیا تھا۔

(خبر جاری ہے)

اس اسلامک سنٹر میں ہائی اسکول، بچوں کی نرسری، کلچرل ہال اور حلال کھانوں کا ریسٹورنٹ بھی ہیں۔ کروشیا کی مساجد میں خدمات انجام دینے والے اماموں نے ابتدائی تعلیم زغرب کے اسی ڈاکٹر احمد سماجلووچ ہائی اسکول سے ہی حاصل کی ہے۔

چند برس پہلے تک اسکول میں پڑھائے جانے والے زیادہ تر مضامین اسلامی علوم سے متعلق تھے تاہم جب مقامی اسلامی کمیونیٹی نے یہ محسوس کیا کہ اسکول سے فارغ التحصیل طلباء کی تعداد آئندہ کئی دہائیوں کے لئے مقامی مساجد کے اماموں اور اسلامک اساتذہ کے طور پر کام کرنے کے لئے کافی ہے تو اس اسکول میں کروشیا کے باقی سیکنڈری اسکولوں کی طرح سائنس اور سوشل سائنسز کے کئی نئے مضامین متعارف کرائے گئے۔یہ اسکول حکومت کا منظور شدہ ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل طلباء مزید تعلیم کے لئے کروشیا کی یونیورسٹیوں میں داخلہ حاصل کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔
کروشیا میں مسلمانوں کی مذہبی رہنمائی کے لئے اسلامی تنظیم ” المشیخت“ قائم ہے۔ ملک کے تمام اسلامک سینٹرز اور مساجد براہ راست المشیخت کے کنٹرول میں ہیں۔ زغرب کے مفتی کو جو المشیخت کا منتخب سربراہ ہوتا ہے، کروشیا کے مسلمانوں کا مذہبی رہنما تسلیم کیا جاتا ہے۔ مفتی کا انتخاب، زغرب اور دیگر شہروں میں موجود مساجد کے امام اور اسلامی کمیونیٹی کے سرکردہ ممبرز ووٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔ الیکشن لڑنے کے لئے اہلیت کی شرائط میں امیدوار کا عالم اور امام ہونا شامل ہیں۔
مفتی کا انتخاب سات سال کی مدت کے لئے ہوتا ہے اور دوبار الیکشن لڑا جاسکتا ہے، یعنی مفتی سات سات برسوں کی دو مدتوں کے لئے انتخاب لڑ سکتا ہے۔ کروشیا کے مسلمان اور المشیخت مذہبی طور پر اپنا رشتہ بوسنیا ہر زوگووینا سے جوڑتے ہیں، لِہٰذا منتخب شدہ مفتی کے الیکشن کی توثیق بوسنیا میں قائم مسلمانوں کی اسلامی تنظیم اور بوسنیا کے مفتی اعظم سے لی جاتی ہے۔ زغرب کے موجودہ مفتی ڈاکٹر عزیز حسن ووچ ہیں۔
یہ پہلے زغرب کی مسجد کے امام بھی رہ چکے ہیں۔ راقم کو اپنے زغرب میں قیام کے دوران مفتی ڈاکٹر عزیز حسن ووچ سے ملاقات کا موقع بھی ملا۔ ملاقات زغرب شہر کے مرکزی علاقے میں قائم انکے دفتر میں ہوئی۔ کوٹ پینٹ ٹائی میں ملبوس کلین شیو مفتی صاحب بڑی دل آویز شخصیت کے مالک لگے۔ انہوں نے کروشیا میں مسلمانوں کے مثبت کردار کے بارے میں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مسلمان تعداد میں بہت کم ہیں مگر کروشیائی معاشرے میں اپنے اچھے کردار کی وجہ سے مثبت شہرت رکھتے ہیں اورمعاشرے میں گھل مل کے رہتے ہیں۔
حکومتی سطح پر بھی بطور کمیونیٹی مسلمانوں کا رول تسلیم کیا جاتا ہے اور مسلم لیڈروں کو اعلیٰ تر حکومتی سطح تک رسائی حاصل ہے۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ کروشیا میں مقامی مسلمانوں کے علاوہ دیگر خطوں ایشیا افریقہ وغیرہ کے مسلمان بھی مقیم ہیں، مگر یورپ کے دیگر ممالک برطانیہ ، جرمنی اور امریکہ وغیرہ کے بر عکس کروشیا میں تمام مسلمان ایک ہی تنظیم کے جھنڈے تلے جمع ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہر خطے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوئی ہو اور اپنی مرضی سے الگ الگ دنوں میں رمضان اور عیدیں منا رہے ہوں۔
انہوں نے بتایاکہ زیادہ تر امام اور نائب امام، نوجوان ہیں اور اکثر زغرب اسلامک سنٹر کے اسکول کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں سے بیچلرز اور ماسٹرز ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔ مفتی صاحب کی امامت میں انکے دفتر میں قائم چھوٹی سی مسجد (مصلے) میں ظہر کی نماز ادا کی۔ اگلی دو صفوں میں مرد نماز پڑھ رہے تھے اور پچھلی صف میں خواتین نماز پڑھ رہی تھیں۔چند لمحے پہلے اسکرٹس اور پینٹوں میں ملبوس نظر آنے والی خواتین ، سرپر اسکارف اوڑھے اور عبایہ نما گاون پہنے مفتی صاحب کی امامت میں نماز میں مشغول تھیں۔
یہیں ورازدن شہر کی مسجد کے سابق امام اور معلم ندیم عمرووچ سے ملاقات ہوئی ۔ ندیم بھی اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح کلین شیو یورپین نوجوان ہیں اور ان دنوں حلال سنٹر فار کوالٹی میں تعلیمی شعبے کے انچارج ہیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعد ندیم عمرووچ نے اپنی مر سیڈیز کار میں مجھے ہوٹل ڈراپ کیا۔ اتفاق سے زغرب مسجد میرے ہوٹل سے قریب ہی تھی ، لِہٰذا زغرب میں قیام کے دوران کئی بار نماز کے لئے مسجد جانے کا موقع ملا۔
مسجد کے ارد گرد وسیع پارک اور فٹبال گراونڈ ہیں۔ پہلے عرض کیا ہے کہ ہائی اسکول بھی اسلامک سنٹر کمپلیکس کا حصہ ہے۔اسلامک سنٹر اور مسجد میں مغربی لباسوں میں ملبوس یورپی النسل لوگوں، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا بلا کسی خوف و خطر بلا کسی کے دھرم نشٹ ہونے کے خطرے کے یوں نظر آنا بہت خوش گوار تجربہ تھا۔ سگریٹ پیتی لڑکیاں بھی سگریٹ بجھا کر نماز کے لئے آرہی تھیں تو بزرگ خواتین بھی سروں پر اسکارف اوڑھے مسجد میں داخل ہورہی تھیں۔ نماز سے پہلے قاری کی خوبصورت آواز میں کلام پاک کی تلاوت اور کروشیائی زبان میں ترجمے نے فضا ء پر سحرطاری کیا ہوا تھا، اور میں سوچ رہا تھا ایک یہ بھی ہے مسلمان اور غصے بھری کرخت آوازوں میں کافر کافر پکارتا ایک وہ بھی ہے میرے دیس کا مسلمان۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہد سدھو کے ہفتہ جون کے مزید کالم