گرانفروش جمہور

پیر جون    |    محمد ثقلین رضا

حضرات! آج بڑی کوشش کے بعد بچہ جمہورا ہتھے لگاہے لیکن اس کی چال ڈھال بد ل چکی ہے‘ بڑی تگ ودو کے بعد اسے کھیل پرراضی کیا ہے۔اس کی ایک ہی ضد تھی کہ اس کے مزاج کیخلاف کوئی بات نہیں ہوگی۔ لہٰذا آپ بھی کوشش کریں کہ اسے راضی رکھا جائے۔ (اتنے میں کار آرکتی ہے جس میں سے ایک نہایت خوبرو جوان اترتا ہے)
استاد: حضرا ت آپ پریشان مت ہوں یہی ہمارا جمہورا ہے بس اس کی چال ڈھال بدل گئی ہے ورنہ ہے وہی کا وہی ۔
بچہ جمہورا
جمہورا: استاد ․․․․․․․․․․یہاں تو بڑی گرمی ہے میری کار میں آجا ‘ ائرکنڈیشنر میں بیٹھ کر کھیل کھیلتے ہیں
استاد : بچہ جمہورا ‘ہم نے اپنے لئے کھیل نہیں کھیلنا بالک یہ جو آئے ہوئے ہیں ان کو بھی راضی کرنا ہے ناں
جمہورا: چھوڑاستاد ‘ یہ کب کسی سے راضی ہوتے ہیں‘ تو اپنی فکرکر
استاد : نہیں جمہورا ‘ انہی لوگو ں سے اپنی روٹی روزی چل رہی ہے
جمہورا : کہاں استاد ‘ جب تک ان کے دم قدم پر تھا تو تیری طرح کبھی روکھی سوکھی بھی کھالیتا تھا جب اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا یہی لوگ مجھ سے روکھی سوکھی کی توقع کرتے ہیں
استاد : جمہورے توواقعی بدل گیا ہے
جمہورا: ہاں استاد واقعی میں بدل گیا ‘ میں اب تو اصل دنیا میں آیاہوں ورنہ تیرے ساتھ رہ کر تو میں خواہ مخواہ اخلاق‘ خلوص اور ایمانداری ہی چاٹا کرتا تھا
استاد :ہائیں جمہورے ․․․․․․․․کیا بکتے ہو ‘ تمہیں سارے سبق بھول گئے
جمہورا: استاد دولت سب کچھ بھلادیتی ہے
استاد : اچھا زیادہ بک بک نہیں کھیل شروع کرو
جمہورا: ٹھیک ہے استاد ‘پر میں زمین پر نہیں لیٹوں گا میرے لئے کرسی منگواؤ
استاد : اچھا بالک تیرے لئے کرسی ہی منگوالیتاہوں
جمہورا : استاد کھیل شرو ع کر
استاد : بچہ جمہورا
جمہورا: جی استاد
استاد : میں کون ؟
جمہورا : اتنا ٹائم نہیں سب جانتے ہیں تومیرا استا د ہے اورمیں تیرا جمہورا ہوں
استاد : اچھا جو کچھ پوچھوں گا وہ بتلائے گا
جمہورا : ہاں بتلاؤں گا مگر خدا کیلئے کھیل شروع کر میرے پاس ٹائم کی ”شارٹیج “ ہے
استاد : اچھا یہ بتا ‘ راتوں رات تیری حالت کیسے بدلی؟
جمہورا: استاد یہ ذاتی سوال ہے ‘ میں اس کا جواب نہیں دونگا
استاد : کیوں جمہورے ناہنجار‘کیوں جواب نہیں دوگے
جمہورا:پہلے تم یہ سوال ان لوگوں سے کرو جو راتوں رات امیر ہوجاتے ہیں پھر میں بھی جواب دونگا۔

(خبر جاری ہے)


استاد : اچھا ناراض نہ ہو ‘ یہ بتا تم دھندہ کونسا کرتے ہو؟
جمہورا: پھر وہی سوال․․․․․․․․․․․․․․اچھا بتادیتا ہوں ۔ میں بہت سے دھندے کرتا ہوں بلکہ ”سیزن “ کماتا ہوں
استاد: سیزن ․․․․․․․کھل کربتاؤ جمہورے
جمہورا: استاد گندم کاسیزن ہو تو گندم سٹاک کرکے لاکھوں کی خرید کر لاکھوں منافع کمالیتا ہوں‘ آٹے کا بحران دکھائی دے تو ٹرکوں کے ٹرک اکٹھے کرکے پھر مرضی کے نرخوں پر وہاں آٹا بھیجتاہوں جہاں سونے کے بھاؤ بکے۔
چینی کابحران ہوتو میرے گودام چینی کے تھیلوں سے بھر جاتے ہیں اورپھر میں انہیں مرضی کے دکانداروں ‘ڈیلروں کو فروخت کرتاہوں ۔ یعنی دو لگاکرکے چار بنالیتاہوں
استاد : ہا․․․․․․․ئیں․․․․․․ جمہورے تم کس دھندے میں پڑگئے
جمہورا: استاد پھر کیاکرتا ‘تیر ی طرح بھوکوں مرتا ‘ لوگوں کو اپنی غربت کے تماشے دکھاکر ‘ یہ کھیل تماشے دکھاکر دو دوروپے اکٹھے کرکے زندگی گزار دیتا
استاد : مجھے سبق نہ پڑھا یہ بتا شہر میں تمہارے کتنے گودام ہیں؟
جمہورا: مجھے تعداد یاد نہیں‘ وہ میرا منشی ہی سارا حساب رکھتاہے
استاد : تجھے شرم نہیں آتی‘ لوگوں پر ترس نہیں آتا
جمہورا:چھوڑاستاد یہ کتابی باتیں ہیں ‘ یاد ہے جب ہم چینی خریدنے گئے تو دکاندار نے دس روپے کی چینی دینے سے انکارکردیاتھا‘ ہم بھوکے تھے بیس روپے کاآٹالینے گئے تو دکاندار نے دھتکارتے ہوئے بیس روپے نالی میں پھینک دئیے‘ استاد یاد تو کرجب ہم گھی کے بغیرسالن پکاکر کھایاکرتے تھے
استاد : مجھے یا دہے پر میں نے اپنا ضمیر نہیں بیچا ‘یہ بتا تجھے کوئی پوچھنے والا نہیں‘ کوئی قانون ‘ کوئی حکمران
جمہورا: استاد کبھی تو میرے ڈیرے پرآ‘ یہ سارا قانون اورافسران میرے مہمان ہوتے ہیں ۔
یہ بیچارے میرے خلاف کیاکارروائی کرینگے۔ یہ قانون بھی ہمارے جیسے راتوں رات امیر ہونے والوں کی لونڈی ہوتاہے
استاد :ہا․․․․․․․․․․․․ہاں ․․․․․․․․واقعی جمہورے تم ٹھیک کہتے ہو۔اچھا یہ بتاؤ اب کیا کررہے ہوان دنوں
جمہورا: استاد نیا سیزن کمارہاہوں ۔۔۔رمضان سیزن‘ استاد:(خوش ہوتے ہوئے ) اچھا اچھا یعنی تو اب نیکی کا ارادہ کئے ہوئے ہو
جمہورا: ہائیں کونسی نیکی استاد
استاد: تم لوگوں کو سستی اشیا فروخت کرتے ہوں ناں؟؟؟
جمہورا : تو واقعی جھلا ہے استا د ‘ میں نے اپنے سٹوروں میں دال‘ چینی‘ گھی‘چنے‘ چاول اورایسی اشیا ذخیرہ کررکھی ہیں جو میں اپنی مرضی کے نرخوں پر بیچ رہا ہوں
استاد : ناہنجار تجھے شرم نہیں آتی؟
جمہورا: استاد پورے شہر میں یہی کام ہوتا ہے ‘ وہ دیکھ سامنے ‘ مسجد سے نماز پڑھ کر نکلنے والا دکاندار کیا رمضان یا دیگر مذہبی ایام میں سستی اشیا دیتاہے‘ وہ ریڑھی والا‘ وہ باریش دکاندار ‘ کیا یہ سب مسلمان نہیں ‘ کیا ان کے اندر ایمان کی رمق باقی نہیں ․․․․․ ․․․جب یہ مرضی کے نرخ لیتے ہیں تومجھ پر کیوں اعتراض کرتے ہوئے استاد
استاد : (زمین پر بیٹھتے ہوئے ) جاجمہورے جا‘ میں واقعی ہار گیا‘ میرے پاس تیرے سوالوں کاکوئی جواب نہیں واقعی تو بھی اس معاشرے کاحصہ ہے جہاں متبرک ایام میں لوگوں کو لوٹاکھسوٹاجاتا ہے ۔
تو جا اپنی دنیا آباد کراور بڑی بڑی گاڑیوں میں آنیوالے افسران کو خوش کر،
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد ثقلین رضا کے اتوار جون کے مزید کالم