واپڈاکے گلوبٹ

پیر جون    |    عمر خان جوزوی

جہاں دودھ کی رکھوالی پر بلی مامور ہو ۔۔۔ وہاں خالی کٹھوہ ۔۔۔۔ بلی کے آہنی پنجوں ۔۔۔ تیز دھار آلے جیسے دانتوں ۔۔۔ اور بلی کے منہ شریف سے گرنے والے دودھ کی لکیر نما نشانات تو دیکھنے کو مل سکتے ہیں مگر بدقسمت نظریں کٹھوے کی آخری کونے اور سب سے نچلی منزل پر بھی دودھ کا کوئی ایک سالم قطرہ تلاش نہیں کر سکتیں۔ ویسے بلی کی چوکیداری میں دودھ کا خالی کٹھوہ بھی کوئی خوش قسمت ہی دیکھ سکتا ہے ۔
۔۔۔ کیونکہ بلی کبھی نہیں چاہتی کہ اس کی برکت سے خالی ہونے والا کٹھوہ اندر سے کوئی ذی روح دیکھے ۔۔۔ بقول بلی ۔۔۔ آہنی پنجوں اور تیز دھار دانتوں سے زخمی زخمی کٹھوہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو شائد کہ پھر دودھ کی چوکیداری کی یہ کرامت ہی کہیں ختم نہ ہو جائے ۔ ایسے میں بلی کے آہنی پنجوں اور تیز دھار دانتوں کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملے گا ۔

(خبر جاری ہے)

جس کٹھوے کی بلی چوکیدار ہو اس کٹھوے میں دودھ پر دودھ ڈالنا کیا اگر اس کٹھوے کو دودھ کی بڑی نہر سے ڈائریکٹ کوئی کنکشن بھی دیا جائے پھر بھی وہ کٹھوہ خالی کا خالی رہتا ہے ۔

۔۔ کیونکہ بلی کاکام کٹھوے کو بھرنا نہیں بلکہ اس کو خالی کرنا ہوتا ہے اور یوں یہ کام وہ بہت اچھے طریقے اور ذمہ داری کے ساتھ نبھاتی ہے۔ یوں تو ہمارے اس ملک میں ایسے کئی محکمے ہیں جن کی چوکیداری پر بلی یا بلے مامور ہیں لیکن ان میں پی آئی اے کی طرح ایک محکمہ ایسا بھی ہے جہاں کل کے ساتھ آج بھی بلیوں کی بہتات ہے۔ شائد نہیں یقیناً ان ہی بلیوں یا بلوں کی وجہ سے سر توڑ کوششوں کے باوجود اس محکمے کا کٹھوہ نہیں بھر رہا ۔
۔ یہ محکمہ عوام کا خون چوسنے کے باوجود کل بھی خسارے میں تھا۔۔۔ آج بھی خسارے میں ہے اور معلوم نہیں آئندہ کب تک خسارے میں رہے گا ۔۔۔ ؟ دسمبر اور جنوری کی سرد راتوں کی تاریکیوں کو ایک بلب سے زائل اور جون جولائی کی گرمی اور مچھروں کو بھگانے کیلئے ایک پنکھے پر اس لئے اکتفا کرنا کہ بجلی کا بل زیادہ نہ آئے ۔۔۔ پھر بھی ایک بلب اور پنکھے کا جب ہزاروں روپے بل آتا ہے تو اس وقت سردیوں میں تاریکیوں اور گرمیوں میں مچھروں سے لڑنے والے غریبوں پر کیا گزر رہی ہو گی ۔
۔۔ ؟ مہینے میں ایک بلب جلانے اور پنکھا چلانے والے غریب گھر کا نظام چلانے کے لئے ادھر ادھر سے قرض لے کر کسی نہ کسی طرح گزاراچلاتے ہیں اور تنخواہ کا اکثر حصہ بجلی بلوں میں لپیٹ کر واپڈا کے سفید ہاتھی کے منہ میں ڈال دیتے ہیں لیکن اس کے باوجودپھر بھی واپڈا آج تک ملک کا منافع بخش ادارہ نہ بن سکا ۔۔ ویسے سوچنے کی بات ہے ۔۔۔ بنتا بھی کیسے ۔۔۔؟ جس طرح بلیوں کی بہتات میں دودھ کا محفوظ ہونا تو دور کٹھوے کا بچنا بھی غنیمت سمجھا جاتا ہے ۔
۔ اسی طرح آج اس ملک میں واپڈا کا وجود بھی کسی کرشمے سے کم نہیں ۔۔۔ واپڈا کے کٹھوے سے دودھ پی پی کر یہ بلیاں اور بلے اب گلوبٹ بن چکے۔۔۔ ان کی موجودگی میں واپڈا کا منافع بخش ادارہ بننا ممکن ہی نہیں۔ ۔۔ واپڈا کے کٹھوے سے دودھ تو یہ گلوبٹ پی رہے ہیں لیکن قیمت غریبوں سے وصول کی جاتی ہے۔ اوور بلنگ اور ناروا لوڈشیڈنگ نے آج اس ملک کے عوام کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ آج کراچی سے گلگت۔۔۔ کوہستان سے بلوچستان اور پشاور سے واہگہ بارڈر تک ملک کے کونے کونے اور گلی گلی میں واپڈا کے مظالم کا رونا رویا جارہا ہے۔
کوئی بھاری بل پکڑ کر آنسو بہا رہا ہے تو کوئی مچھر مار سپرے ہاتھ میں لئے ناروا لوڈشیڈنگ کا رونا رورہا ہے۔ لوڈشیڈنگ سے کوئی مرے یا نہ ۔۔۔ بل جمع کرنے کی کوئی طاقت رکھے یا نہ ۔۔۔ واپڈا کے ان گلوبٹوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ۔۔۔ ان کے پنجے اور دانت خونخوار ریلیوں سے بھی اتنے زیادہ تیزہیں کہ کوئی خوف کے مارے ان کے قریب بھی نہیں جاتا۔ واپڈا ایبٹ آباد کے گلوبٹوں کا ایبٹ آبادکی نجی ٹی وی کی ٹیم پر دن دیہاڑے آہنی پنجوں سے ہونے والے حملے سے واپڈا اہلکاروں کی غنڈہ گردی اور بدمعاشی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
نجی ٹی وی کی ٹیم میں شامل پروڈیوسر سیف الرحمن، طاہر محمود اعوان اور حسیب کو آہنی پنجوں کے ذریعے صرف اس لئے نوچا اور دبوچا گیا کہ وہ واپڈا کے کٹھوے سے مفت میں دودھ پینے والوں کے بارے میں اسفسار کرنے گئے تھے اور قابل محترم و قابل عزت لوگوں کے بارے میں تواستفسار ویسے بھی اس ملک میں سنگین جرم ہے ۔پھر دودھ پیتے عاشقوں کی گستاخی کی تو کوئی معافی ہی نہیں ۔۔۔ سو نجی ٹی وی کی ٹیم کو اپنی اسی گستاخی کی نقد سزا ملی۔
۔۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ واپڈا کے گلوبٹوں نے مجبوری کے آخری درجے پر پہنچنے کے بعد ہی پنجے گاڑھے۔ ۔۔ نجی ٹی وی کی ٹیم اگر اپنا سر کٹھوے کے اندر نہ ڈالتی تو واپڈا کے گلوبٹ کبھی بھی ہاتھ نہ اٹھاتے ۔۔۔ کٹھوے میں سر ڈالنے کے بعد بلے نما گلوبٹوں کے پاس پھر دانت تیز اور پنجے گاڑھنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا کیونکہ بلی کی طرح ان گلوبٹوں کو بھی یہ خدشہ تھا کہ آہنی پنجوں اور تیز دھار دانتوں سے زخمی زخمی واپڈا کا کٹھوہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو شائد کہ دودھ کی چوکیداری کی یہ کرامت ہی پھر کہیں ختم نہ ہو جائے ۔
اسی ڈر۔۔ خوف اور خدشے کے باعث واپڈا کے گلوبٹوں نے کے ٹو ٹی وی کی ٹیم پر حملہ کیا تاکہ کٹھوے کی کرامت باقی رہ سکے۔ واپڈا کے کرپٹ اہلکاروں ۔۔۔ افسروں اور ہمارے ظالم حکمرانوں اور سیاستدانوں نے واپڈا کو بلی کا کٹھوہ بنا دیا ہے۔ جس میں روزانہ بلی منہ ڈال کر پیٹ بھرتی ہے ۔۔۔ واپڈا کے خرچے اور نخرے غریب عوام برداشت کرتے ہیں۔۔۔ واپڈا کا پورا محکمہ غریبوں کے خون پر چل رہا ہے ۔۔ لیکن اس کے باوجود غریب کیلئے کوئی بجلی نہیں ۔
۔۔ گرمیوں اور سردیوں میں 24 گھنٹوں کے دوران 16 سے 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ یہ کونسی بجلی ۔۔کونسی سہولت اورکونسی عوامی خدمت ہے۔۔۔ ؟کرپٹ اور چور حکمرانوں ۔۔۔ سیاستدانوں ۔۔۔۔ ممبران اسمبلی ۔۔۔۔ جاگیرداروں ۔۔۔ سرمایہ داروں ۔۔۔۔ خانوں ۔۔۔۔ نوابوں ۔۔۔ چوہدریوں۔۔۔ وڈیروں اور واپڈا کے چور اہلکاروں اور افسروں کے بجلی بل بھی غریب عوام دیتے ہیں ۔۔۔ 24 گھنٹے بجلی چور ،لٹیرے اور کرپٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ بھاری بل غریبوں کو تھمائے جاتے ہیں ۔
۔۔واپڈامیں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ۔۔ پوچھنے والے جوتھے وہ لوٹ مار اور چوری میں خود برابر کے شریک ہیں جو خود چوری کی بجلی استعمال کریں وہ واپڈا کے چوروں سے باز پرس کیا کریں گے ۔۔۔۔؟ اوور بلنگ اور ناروا لوڈشیڈنگ اس ملک کے غریب عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔ اس ظلم کے خلاف صرف میڈیا یا کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ پوری قوم کو آواز اٹھانا چاہیے۔ مانا کہ اس طرح کے مظالم کی روک تھام کیلئے آواز اٹھانا میڈیا سے واپستہ صحافیوں کا فرض لیکن ظلمت کے اندھیروں میں چراغ جلانے والے مجاہدوں کے جان و مال کی حفاظت بحیثیت مسلمان ہمارا بھی فرض ہے۔
میڈیا ٹیم پر واپڈا کے گلوبٹوں کا حملہ یہ صرف ایک ٹیم پر حملہ نہیں بلکہ یہ پوری قوم اور آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ واپڈا کے گھوڑے سے جان نکالنے والے یہ گلوبٹ کیا اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ واپڈا کو کباڑہ ادارہ بنا کے جو مرضی کریں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ واپڈا کے ان کرپٹ اہلکاروں اور افسروں نے جی بھر کر غریبوں کو لوٹا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان کے حلق میں ہاتھ ڈال کر ان کے پیٹوں سے غریبوں کی پائی پائی باہر نکالی جائے۔ آخر کب تک 24 گھنٹوں میں0 2 گھنٹے ہم لوڈشیڈنگ کے سائے تلے گزاریں گے۔ واپڈا کی نجکاری ہی اس ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ اس لئے ملک کو تاریکیوں سے بچانے کیلئے واپڈا کی نجکاری کرنی ہوگی ورنہ یہ بلے اور گلوبٹ واپڈا کا کٹھوہ اس طرح چاٹتے رہیں گے جو آئندہ 50 سال تک بھی پھر کبھی بھر نہیں سکے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے پیر جون کے مزید کالم