الوداع۔۔۔۔۔امجد صابری۔۔۔۔۔الوداع

جمعہ جولائی    |    ندیم گُلانی

کراچی میں خون کی ہولی کھیلی جاناکوئی نئی بات نہیں ہے،میری جنریشن کے لوگوں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے،تب سے ہی اس یتیم شہر کراچی کو کسی نہ کسی شکل میں گاہے بہ گاہے خون میں ڈوبا ہُوا دیکھا ہے۔پچیس سالوں سے کراچی کے تھانوں میں درج80فیصدمقدمات اندھی تفتیش کا شکار ہیں۔ڈھائی سال سے جاری کراچی آپریشن پر25ارب سے ذیادہ خرچ ہو چُکا ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال میں کراچی کو رینجرز کے حوالے کرنے کے بعدکراچی میں ہونے والے جرائم میں بہت کمی آئی ہے،اور اس بات کو میں، آپ ،میڈیا اور کراچی میں رہنے والا ہر شہری تسلیم کرتاہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم کب تک ایک واردات سے دوسری واردات ،یاایک قتل سے دوسرے قتل کے وقفے کو امن سمجھتے رہیں گے؟
22جون بروز بدھ 2016کوپورے پاکستان کی ہر دلعزیز شخصیت جناب امجد صابری کولیاقت آباد کراچی میں اُن کے گھر کے قریب کچھ بے ضمیر اور بے توقیر لوگوں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ۔

(خبر جاری ہے)

ایک فنکار کی اہمیت اور عزت کیا ہوتی ہے اِس کا اندازہ لگانا شایدناممکن ہے،لیکن امجد صابری صاحب کے قتل پراُن کے چاہنے والوں کے غمزدہ ہجوم اورپورے مُلک پر چھائی ہوئی اُداسی نے یہ بات صاف صاف ظاہر کردی ہے کہ لوگ امجد صابری صاحب سے کتنا پیار کرتے تھے۔


اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان اور ہر پاکستانی کی جان برابر کی بُنیاد پر قیمتی ہے۔لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ کسی چور،ڈاکو،بھتہ خور یا ظالم چوہدری ،وڈیرے اور کرپٹ سیاستدان کی جان کسی ایسے شخص سے قیمتی نہیں ہو سکتی کہ جس کی پوری عُمر اللہ، اُس کے رسولﷺاور اُس کی آل کی تعریف کرتے گُزری ہو۔
بات سمجھ سے بالاتر ہے،کہ کیا اب اِس مُلک میں اللہ، اُس کے رسولﷺاور اُس کی آل کی تعریف بیان کرتے رہنے میں عُمر بسر کرتے رہنے والے شخص کی یہی وُقعت ہے ،کہ کوئی بھی کم ظرف شخص اپنے ذاتی مذہبی نظریات سے مختلف ہونے کی وجہ سے اُسے قتل کردے،یا پھر کسی بھی سیاسی پارٹی کی بھتہ خور یا دہشت گردوِنگ بھتے کی پرچی کا بدلہ نہ ملنے پر اُسے قتل کردے؟
ایک خبر کے مطابق امجد صابری صاحب کے قتل کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کرلی ہے،لیکن اس خبر میں کتنی صداقت ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا،کیونکہ کسی بھی ہائے پروفائل شخصیت کے قتل کے بعداُنکا ذمہ داری قبول کرنابلاوجہ کا بھی ہو سکتا ہے،کیونکہ جھوٹی ذمہ داری قبول کرنے سے اُن کے دب دبے اور دہشت میں اِضافہ ہوگا،چاہے وہ قتل کسی اور نے ہی کیوں نہ کِیا ہو۔

دوسری طرف لوگوں کا دھیان ایم ۔کیو۔ایم کی طرف بھی جا رہا ہے،اورآپ کو تو معلوم ہی ہے کہ ایم۔کیو۔ایم کی سیاست تو ہمیشہ سے،”پکڑا جائے تو لا تعلق اور مارا جائے تو ہمارا کارکن“،کی بُنیاد پر ہوتی آئی ہے، اوراِس بار بھی ایم۔کیو۔ایم امجد صابری کو اپنا بندہ شو کروا رہی ہے، اور قتل کے الزامات مُصطفیٰ کمال کی پارٹی ”پاک سرزمین “پر لگا رہی ہے۔
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ پاکستان میں لاشوں کی سیاست اورمذہبی فرقہ ورانہ انتہا پسندی کی شکل میں معصوم لوگوں کی جانیں جاتے رہنے کا سلسلہ کب تک چلے گا؟
اصل حقیقت تو خُدا ہی جانتا ہے،لیکن ایک بات طے ہے۔
جس معصوم مقتول کے قاتل کا کچھ پتہ نہ ہو، اُس کے قتل کی ذمہ داری حکومتِ وقت اور حُکمرانِ وقت پر عائد ہوتی ہے۔اورایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ جس دن اِن ظالموں کواِس قوم پہ کئے ہوئے ایک اک ظلم کا حساب دینا پڑے گا۔ انشااللہ۔
امجد صابری کے قتل نے پورے پاکستان کو ایک عجیب غم کی کیفیت میں مُبتلا کر دیا ہے،امجد صابری ایک فنکار تھا ، ہر دلعزیز فنکار،اور جس دیس میں فنکاروں کوسرِ عام قتل کر دیاجاتا ہو،اُس دیس میں پرندے بھی رہنا پسند نہیں کرتے۔فنکار امن کا سفیر ہوتا ہے،اور جہاں امن کے سفیروں کی کوئی وُقعت نہ ہو ، وہاں میرے اور آپ جیسے لوگ کیا حیثیت رکھتے ہیں۔
الوداع۔۔۔۔۔امجد صابری۔۔۔۔۔الوداع
قوم کو اب پتہ چلا ہے یہ
کیا گنوایا ہے تجھکو کھونے سے
درد اتنا ہے دل سُلگتا ہے
آگ بُجھتی نہیں ہے رونے سے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

امجد صابری

ندیم گُلانی کے جمعرات جون کے مزید کالم