”خوشامد“

بدھ جولائی    |    ارشاد بھٹی

کہتے ہیں کہ دیمک کے دانت ، سانپ کے پاوٴں ،چیونٹی کی ناک اور خوشامد کا منہ کوئی نہیں دیکھ سکتا ۔ عربی محاورہ ہے کہ بوڑھی عورت اور خوشامد سے بچو ،فرانسیسی کہاوت ہے کہ روتی عورت ،ہنستے مرد اور خوشامد سے ہوشیار رہو ،جاپانیوں کا خیال ہے کہ آگ سے جلے اور سانپ سے ڈسے کا علاج ممکن ہے مگر خوشامد پسند مریض کا کوئی علاج نہیں ، چینیوں کا کہنا ہے کہ خوشامد بے وقوف کا خزانہ ہے جبکہ شیخو کہتا ہے کہ خوشامد روٹی کی طرح ہوتی ہے، مطلب روز ہو اور تازہ ہو ۔
پاکستانی زندگی سے خوشامد نکال دیں تو ”یہ دنیا پیتل دی“لگنے لگتی ہے ۔یہاں ”چٹیاں کلائیاں “کی اتنی مانگ نہیں کہ جتنی خوشامد کی ڈیمانڈ ہے ۔یہاں تو ان کی خوشامد بھی ہو رہی ہوتی ہے کہ جنہیں غور سے دیکھیں تو بندے کا ”ہاسہ “ نکل جائے ۔

(خبر جاری ہے)

اپنے پاس تو ایسے ایسے خوشامدی پائے جاتے ہیں کہ جن پر خود خوشامد نازاں ہے ،یہ خاموش بھی ہوں تو لگتا ہے کہ خوشامد ہی کر رہے ہیں ،”میں خوشامد خوشامد کر دی آپے خوشامد ہوئی“ ۔

ہمارے ہاں تو اتنی محنت سے خوشامد کی جاتی ہے کہ اس سے آدھی محنت سے باعزت زندگی گذاری جا سکتی ہے ۔خیبرپختون خواہ کے ایک ممبر قومی اسمبلی کو جب پتا چلتا کہ فلاں جگہ وزیراعظم نواز شریف آرہے ہیں تویہ وہاں پہنچ جاتے ، کافی بار ایسا ہو اتو انہیں کہا گیا کہ جب آپ کو تکلیف نہیں دی جاتی تو آپ یہ تکلیف کیوں کرتے ہیں،بولے ”میں ثواب کی نیت کر کے آتا ہوں اپنے قائد کو دیکھ کر مجھے ثواب ملتا ہے اور آپ مجھے ثواب کمانے سے روکتے ہو “ ۔
مشرف کا مارشل لاء لگا اور ق لیگ بنی تو مزید ثواب کیلئے یہ نہ صرف ق لیگ میں شامل ہو گئے بلکہ پشاور کے اُس جلسے میں یہ مہمان خصوصی تھے کہ جہاں ہر برائی نواز شریف کے کھاتے میں ڈالی جارہی تھی ۔ بے نظیر بھٹو کے دور ِحکومت میں ایک رکن ِقومی اسمبلی کی ہیرا پھیریاں پکڑی گئیں، بی بی نے بلا کر پہلے خوب لتاڑا اور پھر انہیں کہا کہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیں ۔یہ صاحب بولے ”اے عظیم باپ کی عظیم بیٹی اسمبلی کی رکنیت کیا چیز ہے ،آپ کیلئے تو دنیا بھی چھوڑ سکتا ہوں “،بس میری آخری خواہش پوری کر دیں ،بی بی نے پوچھا کیا، تو انہوں نے فرمایا ” بس ایک بار ویسے ہی مسکرا کر شفقت بھری نظروں سے دیکھ لیں جیسے ان گناہوں سے پہلے آپ دیکھا کرتی تھیں “،محترمہ بے اختیار ہنس پڑیں اور یہ صاحب بچ گئے ۔
پنجاب کے ایک بڑے گھرانے کے چشم وچراغ اورممبر قومی اسمبلی کی عادت تھی کہ جب بھی پارٹی میٹنگ ہوتی یہ ایک نمایاں جگہ پر بیٹھ کر چپ چاپ اپنے پارٹی قائد کو گھورتے رہتے ۔ اس عجیب و غریب” گھورو پروگرام“ سے تنگ آکر ایکدن پارٹی قائد کی ہمت جواب دے گئی، اُنہوں نے اِسے بلا کر کہا کہ آئندہ یہ بدتہذیبی کی تومیٹنگ کیا پارٹی سے نکال دوں گا ۔ اتنا کہنا تھا کہ یہ موٹے موٹے آنسو بہا کر بولے ”قائد محترم یہ تو میری عبادت ہے خد ا کیلئے مجھے یہ عبادت کرنے دیں “۔
قائد نے بے اختیارانہیں اپنے بازوٴں میں لے کر نہ صرف عبادت کی اجازت دیدی بلکہ چند ماہ بعد اس عبادت کو شرفِ قبولیت بخش کر انہیں وزیر مملکت بنا دیا ۔ پارٹی میٹنگ میں ایک رہنما نے جوش ِخطابت میں جب اپنے پارٹی سربراہ کو ہٹلر اور چرچل کہہ دیا تو بعدمیں توجہ دلائی گئی کہ حضور ایک تو ہٹلر اور چرچل کی شخصیات میں زمین وآسمان کا فرق تھا اور دوسرا وہ ایکدوسرے کے دشمن تھے ۔آپ نے یہ کیاجھک ماردی تو موصوف بولے ” میرا لیڈر اپنوں کیلئے چرچل اور مخالفین کیلئے ہٹلر ہے “۔
ق لیگ کی حکومت میں ایک رہنما اسٹیج پر بیٹھے اپنے قائد کی طرف دیکھتے ہوئے رکوع کی حالت میں جا کر بولے ” میرے قائد کی حکومت میں وہ وقت بھی آئے گا کہ جب ہوائی جہاز سوزوکی کار کی قیمت میں مِلا کرے گا “بعد میں کسی نے کہا قبلہ یہ کیا کہہ دیا ، تو ہنس کر بولے” کوئی بات نہیں سوزوکی کار کی قیمت جہاز کے برابر کر دیں گے“۔ ہمارے ایک رہنمابات یہاں سے شروع کرتے ہیں کہ قوم کے درد نے مجھے دل کا مریض بنا دیا ہے ۔
اور پھر اپنی ای سی جی رپورٹ دکھاتے ہیں جو برطانیہ کے ایک ہسپتال میں لی گئی “۔ انہی کا کہنا ہے کہ” جمہوریت کیلئے جیل جانے کو بھی تیار ہوں مگر بقول شیخو ان کی یہ خواہش بھی ہے کہ انہیں وہاں سے گرفتار کیا جائے جہاں وہ موجود نہ ہوں“۔ہمارے ایک رہنما جنہیں ٹی وی پروگراموں کی ٹی بی ہو چکی ہے ،جن کی سیاست ایسی مثالی ہے کہ لوگ مثال دیتے ہیں کہ ایسی سیاست نہیں ہونی چاہیے ۔جو درباروں کی موم بتیاں بجھا کر کہہ دیتے ہیں کہ بجلی کی بچت ایسے کرنی چاہیے، بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ وہ کسی مسئلے کے حق یا مخالفت میں ایک لفظ کہے بغیر گھنٹوں خوشامد مطلب تقریر کر سکتے ہیں ۔
شیخو کہتا ہے کہ پاکستان غالباً دنیا کا وہ واحد ملک ہے کہ جہاں لوگ اس عمر میں” میری جان کو خطرہ ہے “کا کہہ کر سیکیورٹی اور پروٹوکول کے مزے لے رہے ہوتے ہیں کہ جس عمر میں صرف عزرائیل والا خطرہ ہی باقی رہ جاتا ہے ۔
میرے ایک غیر سیاسی دوست کو توخادم اعلیٰ کی سیاست پسند ہے جبکہ مجھے شہباز شریف کا سرکار چلانا اور سرکاری لوگوں کو سمجھانے کا انداز اچھا لگتا ہے۔ انہیں دیکھ کر مجھے اکثر فیکٹری کا وہ مالک یاد آجاتا ہے کہ جس کا ملازم انشورنس پالیسی پر دستخط نہیں کر رہا تھا ۔
جب سب لوگ سب جتن کر چکے تو فیکٹری مالک اپنے ملازم کو ایک طرف لے جا کر بولا ”دستخط کرو ورنہ ابھی کان سے پکڑ کر فیکٹری سے نکال دوں گا،ملازم نے فوراً دستخط کر دیئے “۔ بعد میں پوچھا گیا کہ پہلے دستخط کیوں نہیں کیئے تھے ،بولا پہلے کسی نے اتنے واضح طریقے سے پالیسی سمجھائی ہی نہیں تھی۔کپتان اور طاہر القادری کے اتحاد اور دھرنوں کے دوران چھوٹے میاں صاحب کی سوچ اُس آدمی کی سی تھی جو میلہ دیکھنے گیا ،سارا دن میلے میں پھرنے کے بعد ایک درخت کے سائے تلے بیٹھا تو آنکھ لگ گئی لیکن جب اٹھا تو اس کا کمبل غائب تھا ،واپس آیا تو گھر والوں نے پوچھا کہ میلہ کیسا رہا ،کہنے لگا میلا شیلا تو ایک بہانہ تھا اصل میں تو سب لوگ میرا کمبل چرانے کیلئے اکٹھے ہوئے تھے ۔
سیاسی مخالفین کی طبیعتیں صاف کرتے ہوئے خادم اعلیٰ کی کیفیت اُس پٹھان جیسی ہوجا تی ہے جو سب کچھ لوٹنے کے بعد آخری چیز جائے نماز اٹھانے لگا تو رسیوں سے بندھا مالک بولا” خان صاحب یہ تو چھوڑ جاوٴ،خان بولا ”اے ظالم تم ہم کو کافر سمجھتا ہے کیا “۔ خادم اعلیٰ گا بھی لیتے ہیں ۔گلوکاری میں ان کا وہی مقام ہے جو سیاست میں ابرار الحق کا ہے۔اُنہوں نے حبیب جالب کی ”میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا “ کو جہاں جہاں اور جس جس طرح گایا ہے ،سنا ہے کہ اوپر حبیب جالب بھی اب مان نہیں رہے،بس انتظار میں بیٹھے ہیں ۔
شہباز شریف نے پنجاب پولیس کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ بقول ایک لاہوری دوست کے اب تو بیگم کو بلانے پر وہ ”آئی جی“ کہہ دے توڈر کر میں اپنا کام خود ہی کرلیتا ہوں ۔ ان کے میٹرو پروجیکٹ کے تو کیا کہنے ۔ اب بھلا اس میں ان کا کیا قصور کہ قوم میٹرو پر اتنی تیزی سے آگے نکل گئی ہے کہ روٹی ،کپڑا اور مکان پیچھے رہ گئے ہیں ۔ ایک کہاوت ہے کہ ملک چاہے جتنی ترقی کر جائے حکمران ، موسم ، عورت اور خوشامد پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔
ہمارے ہاں یہ کہاوت حرف بہ حرف سچ ہے ۔ ہمارے حکمرانوں کو ملک نے جو دیا اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا اور انہوں نے وطن کوجو دیا اس کا بھی تصور نہیں کیا جا سکتا ۔
حضرت علی  کا فرمان ہے کہ ”خوشامد اور تعریف کی محبت شیطان کے دو بڑے داوٴ ہیں اور زبان سے بڑھکر کوئی چیز بھی زیادہ دیر قید رکھے جانے کی حقدار نہیں “۔ امام جعفر صادق  کا کہنا ہے کہ ”خوشامدی لوگ تیرے لیئے تکبر کا تخم ہیں “۔
امام شافی  کہتے ہیں کہ ”جو تمہارے ایسے اوصاف بیان کرے جو تم میں نہ ہوں وہ تمہارے ایسے عیوب بھی بیان کرے گا جو تم میں نہیں ہوں گے “۔ امام احمد بن حنبل  فرماتے ہیں کہ ”دشمن سے ہمیشہ بچو ، لیکن دوست سے اس وقت بچو جب وہ تمہاری تعریف کرے “۔حضرت معروف کرخی  نصیحت کرتے ہیں کہ” جس طرح تم اپنی برائی سننا ناپسند کرتے ہو اسی طرح خو دکو مدح سرائی سے بھی بچا “۔ شیخ سعدی کے مطابق” خوشامد پسند پرلے درجے کا بے وقوف ہوتا ہے “۔
کالٹن نے کہا کہ ”جسے خوشامد اور قرض کی ضرورت محسو س نہ ہو وہ دنیا کا امیر ترین انسان ہے “۔سرفرانسس نے خوشامدکو میٹھا زہر کہا ۔ واصف علی واصف کا تجربہ ہے کہ خوشامد وہ بیان ہے کہ جس کے دینے والا جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے اور سننے والا سمجھتا ہے کہ یہ سچ ہے۔انہی کا کہنا ہے کہ ”خوشامدی لوگ کبھی سچا لیڈرنہیں چن سکتے “اور روسی کہاوت ہے کہ ”چیتا ،باز ، کمان اور خوشامد یہ سب جھک کر وار کرتے ہیں “۔
جیسے غلاموں کے ملک میں غلام ہی حکومت کرتے ہیں ایسے خوشامد پسندوں کے وطن میں ہمیشہ خوشامد کا ہی راج ہوتا ہے اور اپنی 67سالہ تاریخ اسکی منہ بولتی تصویر ہے ۔ قائدِاعظم اور دو چار کو چھوڑ کر ہر کسی نے یہاں خوشامد کی نقب لگا کر اقتدار کے مزے لوٹے ۔ دو روز پہلے ٹی وی پروگرام میں ایک بہت بڑے رہنما نے جب اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کریہ کہا کہ عوامی خدمت ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے تو مجھے بے اختیار ان کے وہ لاکھوں ووٹرز یاد آگئے جو آج بھی سردیوں میں زمین بچھا کر اور گرمیوں میں مچھر اوڑھ کر سوتے ہیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ارشاد بھٹی کے منگل جولائی کے مزید کالم