مارکس یاد آ رہا ہے !

بدھ جولائی    |    محمد عرفان ندیم

برادرم روف کلاسرا جنوبی پنجاب کے چچا نذر کی کہانی کو لے کر رو رہے ہیں جبکہ یہاں تو جنوبی، شمالی اور ووسطیٰ پنجاب ہر طرف یہی کہانیاں بکھری پڑی ہیں ۔اورصرف پنجاب ہی کیا دوسرے صوبوں میں کو ن سا حاتم طائی بیٹھے ہیں، سوچتا ہوں اگر پاکستان میں کبھی اللہ کی پکڑ آئی تو یہ سارے سرمایہ دار، فیکٹریوں اور ملوں کے مالک اور وہ سب پرائیویٹ مالکان سب سے پہلے پکڑ میں آئیں گے جو اپنے کارکنوں ، ورکروں ، مزدوروں اور اپنے ملازمین کی تنخواہیں دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
ان کی اپنی توند اتنی بڑی ہوتی ہے کہ پہلی نظر میں ہی معلوم پڑ جاتا ہے کہ حرام کا مال ہڑپ کر کے یہ حال ہوا ہے ،پچھلے ہفتے پرائیویٹ اداروں،ملوں اور فیکٹریوں کے مالکان کے رویے پر کالم لکھا تھا کہ کس طرح اپنے ملازمین کا حق مارتے ہیں انہیں تنخواہیں نہیں دیتے یا بہت لیٹ دیتے ہیں، مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایک طبقہ ہے جو اس ظلم کا شکار ہے ،فیڈ بیک سے آنکھیں کھلی کہ یہاں تو ہر طرف یہی کہانیاں بکھری پڑی ہیں، آپ کو ہر علاقے میں ایسے "حاجی اور نمازی " مل جائیں گے جو اپنے ملازمین کے حقوق دبا کر تسبیح کے دانوں میں اللہ ڈھونڈنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، میرے بس میں ہوتا تو ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کے کہتا کہ اللہ کے بندو ! اللہ کو پانا ہے تو کسی غریب ملازم کی تنخواہ کو لیٹ نہ کرو تمہیں نہیں اندازہ کہ اس کی تنخواہ تومہینہ آنے سے پہلی ہی لگ چکی ہوتی ہے ، یہ جو دس بارہ ہزار روپے ہیں یہ تو قرض دینا ہے تا کہ اگلا قرض لینے کی کوئی سبیل پیدا ہو ۔

(خبر جاری ہے)

لاہور سے ایک قاری نے بتایا کہ مالک ہر ماہ یکم کی بجائے 15 تاریخ کو تنخواہ دیتا ہے ، اس بار گزارش کی تھی کی عید ہے تھوڑا پہلے تنخواہ دے دیں پہلے تو مانے نہیں اگر مانے بھی تو صرف آدھی تنخواہ پر ، اور ان کا بینک بیلنس کتنا ہے اگر میں جھوٹ نہیں بو ل رہا تو لاکھوں کروڑوں میں نہیں اربوں کا بینک بیلنس ہے لیکن ایک مزدور کی 15 ہزار روپے تنخواہ دیتے ہوئے اس کی جان جاتی ہے۔وہ قاری بتا رہا تھا کہ آدھی تنخواہ سے بیوی اور بچوں کے کپڑے بھی نہیں بنیں گےباقی اخراجات تو رہے ایک طرف ۔
ایک اور قاری کی میل تھی کہ میں اس عید پر گھر نہیں جا رسکتا ، گھر جاوں گا تو سب سے پہلے ماں انتظار میں بیٹھی ہوگی کہ بیٹا تنخواہ لے کر آئےگا اور اس سے ہم بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوجائیں گے، پھر چھوٹے بہن بھائی بھی عیدی مانگیں گے، ادھرفیکڑی کا مالک نہیں مان رہا کہتا ہے 15 تاریخ کو تنخواہ ملے گی لہذا اب 15 تاریخ کو ہی گھر جاں گا ،ماں کو یہ بہانا لگا کر مطمئن کیا ہے کہ کام بہت ذیادہ ہے چھٹی نہیں مل رہی۔

ہر طرف بکھری ان کہانیوں اور سرمایہ داروں کے رویے کو دیکھ کر کارل مارکس یاد آ رہا ہے۔ٹھیک ہی کہا تھا مارکس نے کہ اگر مزدوروں کو اپنے حقوق حاصل کرنے ہیں تو اس کے لیے خونی انقلاب برپا کرنا پڑے گا، سرمایہ داروں سے اپنا حق چھیننا پڑے گا۔ کارل مارکس کا ذکر ہوا تو چلتے چلتے اس کی جدو جہد کی تھوڑی سی کہانی بھی سن لیں ۔ کارل مارکس 5 مئی 1818 کو شہر ترید میں پیدا ہوا ۔ مارکس کاباپ ایک یہودی وکیل تھاجس نے 1824 میں مسیحی فرقے پروٹسٹنٹ کا مذہب قبول کر لیا تھا۔
پورا گھرانہ خوش حال تھا اور مہذب تھا ۔ ترید میں جمنازیم کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مارکس نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا ۔ پہلے بون پھر برلن یونیورسٹی گیا ،قانون کی تعلیم حاصل کی اور خاص طور سے تاریخ اور فلسفہ کا مطالعہ کیا ۔ یونیورسٹی سے گرایجوایشن کے بعد مارکس بون آگیا ،یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہیگل کے بائیں بازو والے حامیوں کے خیالات جرمنی میں بڑی تیزی سے پھیل رہے تھے ۔اکتوبر 1842ء میں کارل مارکس ایک اخبار کایڈیٹر بن گیا، حکومت نے اس اخبار پر دوہری سنسر شپ لگائی اور پھر یکم جنوری 1843 ء کو با الکل بند کر دیا،مارکس کو مجبور ہو کر استعفیٰ دیناپڑا ۔
ان دنوں پیرس میں انقلابی ٹولیوں کی زندگی اندر ہی اندر ابل رہی تھی ،مارکس اور اینگلز دونوں نے اس میں خو ب بڑ ھ چڑ ھ کر حصہ لیا ۔ 1847 کے موسم بہار میں مارکس اوراینگلز دونوں نے ایک خفیہ پروپیگنڈہ سوسائٹی میں شرکت کرلی ۔ سوسائٹی کا نام کمیونسٹ لیگ تھا ۔ اور جب کمیونسٹ لیگ کی دوسری کانگرس ہوئی تو ان دونوں نے اس میں بہت نمایاں حصہ لیا ۔اسی سوسائٹی کے کہنے پرانہوں نے مشہور کمیونسٹ پارٹی کا مینی فسٹو یار کیا جو فروری 1848 میں چھپ کر سامنے آیا ۔
سیاسی جلاوطن کی حیثیت سے مارکس کی زندگی بڑی مصیبتوں سے گزری۔مارکس اوراینگلز کے درمیان جو خط و کتابت ہو تی رہی اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مارکس ا ور ان کے کنبے کو انتہا ی غریبی اور افلاس کے دن کاٹنے پڑے ۔اگر اینگلز نے مسلسل مددکرکے مارکس کی مالی امداد نہ کی ہوتی تو مارکس بھوک اور افلاس کے ہاتھوں مر چکا ہوتا۔کارل نے اپنی زیادہ تر عمر کسمپرسی میں گزاری۔ اس کے روزگار کا کوئی مستقل وسیلہ کبھی نہیں رہا۔
اس کی اولاد میں سے چار بچے نوعمری میں ہی چل بسے اور تین بیٹیاں ہی بڑی عمر تک پہنچیں۔ ان میں سے بھی دو نے بعد میں خود کشی کی۔ انیسویں صدی کے بعد سے دنیا کی تاریخ پر جتنا اثر کارل مارکس کے نظریات نے ڈالا، اتنا کسی اور انسان کو نصیب نہیں ہوا۔ فلسفہ، سیاست اور معاشیات پر اس کے افکار نے سوچ کے نئے زاویوں کو جنم دیا۔ اس نے ایک کتابچہ تحریر کیا جس میں اس نے دنیا بھر کے محنت کشوں کو اکٹھے ہو کر جدوجہد کرنے کا پیغام دیا۔
اس کتابچے کا نام "Communist Manifesto" تھا اور پہلی دفعہ وہ جرمن زبان میں لندن سے شائع ہوا۔ پیرس میں انقلاب آیا جس کے باعث بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور جمہوریت کے قیام کے لیے کوشش کی گئی۔ جب انقلابی کوششیں اور لڑائی طول پکڑ گئی تو پیرس کے درمیانے طبقے نے انقلابیوں کی حمایت ترک کر دی اور انقلاب ناکامی کا شکار ہوا۔ اس واقعے کے بعد سے کارل کو درمیانے طبقے کی سوچ سے سخت نفرت ہو گئی۔ اس نے اس سوچ کو آمریت سے بھی بدتر قرار دیا اور اس کے مطابق محنت کش کو آزادی کے لیے صرف حکومتی نہیں بلکہ بورژوا سوچ کا بھی مقابلہ کرنا ہو گا۔
کارل مارکس کو اس کی وفات کے بعد جتنی پذیرائی حاصل ہوئی، اس کی زندگی کے دوران اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوئی۔ اس کے نظریات میں اپنی کچھ آمیزش کرنے بعد روس میں لینن اور اس کے ساتھیوں نے زار کی آمریت کا خاتمہ کیا اور مزدور طبقے کی آمریت کا علم بلند کیا۔
رمضان کا مہینہ چل رہا ہے چلیں ہم مارکس اور اس کے فلسفے کی بات نہیں کرتے کیا ان سرمایہ داروں ، فیکٹریوں اور ملوں کے مالکان کو نبی مہربان کی وہ حدیث نہیں یاد جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کر دو اور یہ کہ بیت اللہ کو گرا دینا چھوٹا گناہ ہے لیکن کسی مسلمان کے دل کو دکھانا اس سے کہیں بڑا گنا ہ ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے بدھ جولائی کے مزید کالم