فلسفہ تاریخ

اتوار جولائی    |    عارف محمود کسانہ

تاریخی واقعات بیان کرنے سے مراد یہ نہیں کہ یہ کوئی تاریخ کی کتاب نہیں۔بلکہ اقوام سابقہ کے جو واقعات اس میں دئیے گئے ہیں وہ فلسفہ تاریخ ہے۔ قرآن اپنا دعویٰ پیش کرتا ہے پھر اس کو تاریخی شہادتوں سے ثابت بھی کرتا ہے تاکہ بات واضح ہوجائے آئندہ بھی جو قوم اس طرح کے کام کرے گی اُس کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا۔ویسے تو پورے قرآن حکیم میں تاریخی شہادتیں اور گذری ہوئی اقوام کے واقعات موجود ہیں لیکن صرف سورہ الشعراء میں آٹھ اقوام کا ذکر کرکے ایک ہی باب میں بہت خوبصورت انداز میں بات واضح کی ہے ۔
مکہ میں نازل ہونے والی اس سورہ کی آیت ۲۲۴ میں شعرا کا لفظ آیا ہے جس کی وجہ سے اس سورہ کا نام االشعراء ہے۔اُ س دور میں عرب میں شاعری عام تھی اور شعراء کا ان کی زندگی میں بہت عمل دخل تھا۔

(خبر جاری ہے)

ابتداء میں اہل مکہ نے قرآن کو بھی شاعری ہی سمجھا۔ اس سورہ میں اُن کے اس طرز عمل کو رد کرتے ہوئے دور جاہلیت کی شاعری کی مذمت کی اور کہا کہ شاعروں کی پیروی تو گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ بعد میں انہوں نے خود تسلیم کرلیا کہ یہ شاعری نہیں کچھ اور ہی ہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ مکہ میں ہونے والے شاعری کے ایک مقابلہ مین جب حضرت علی نے قرآن کی سب سے مختصر سورہ کوثر آویزاں کی تو عرب کے سب بڑے شاعر لبید کو یہ اعتراف لکھنا پرا کہ کہ یہ کسی بشر کا کلام نہیں۔

چونکہ اس سورہ میں شاعری بھی زیر بحث ہے اس لیے اس سورہ میں قرآن کا ادبی حسن بلندیوں پر ہے اور اس میں الفاظ اور اُن کا ردھم ایسا ہے کہ انسان پڑھتے ہوئے جھوم جاتا ہے۔
اس سورہ کے ابتداء میں صاحب ضرب کلیم حضرت موسیٰ  کے ذکر سے ہے جوآیات ۱۰ تا ۶۶ تک ہے پھر خلیل اللہ حضرت ابراھیم  کی جدوجہد آیات ۶۹ تا ۸۹ ہے اور حضرت نوح کا تذکرہ جلیلہ آیات ۱۰۵ تا ۱۲۱ ہے۔ حضرت نوح کی جانشین قوم عاد کی طرف بھیجے جانے والے پیغمبرحضرت ہود  ا ذکر ۱۲۳ تا ۱۳۹ اورحضرت صالح  اور ان کی قوم ثمود جنہیں اصحاب الحجر بھی کہتے ہیں کا تذکرہ ۱۴۱ تا ۱۵۸ میں ہے۔
حضرت لوط کی قوم کے بارے میں ۱۶۰ تا ۱۷۳ تک آیات میں ہے اور حضرت شعیب  کا ذکر ۱۷۶ تا ۱۸۹ ہے۔ اقوام سابقہ کے بعد آیت۱۹۰ کے بعد رسول اکرم کی جدوجہد کا ذکر، اہل مکہ اور اس دور کی شاعرانہ ذہنیت کا ذکر ہے۔ سورہ میں دو آیات آٹھ اور نو دہرائی گئی ہیں اور ہر پیغمبر اور ان کی قوم کے تذکرہ کے بعد یہ آیات آئیں اور آٹھ مرتبہ غوروفکر کا پیغام دیتی ہیں۔ ان دہرائی جانے والی آیات میں فلسفہ تاریخ بیان کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ اکثر لوگوں کی کیفیت یہ ہے کہ وہ غور وفکر ہی نہیں کرتے اس لئے اس کی صداقت پر ایمان نہیں لاتے۔
ان کے ایمان نہ لانے سے خدا کے قانون پرکوئی اثر نہیں پڑتا ہے کیونکہ وہ اْس خدا کا قانون ہے جو بڑی قوتوں کا مالک ہے۔ مخالفین کتنے ہی صاحب قوت کیوں نہ ہوں‘ اس کے قانون کو شکست نہیں دے سکتے۔وہی خدا ہے جو ہر شے کو نشوونما دینے والا ہے۔
اسی فلسفہ تاریخ کو سورہ الانفال میں واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اِن مخالفین سے کہہ دو کہ اگر یہ ا ب بھی اپنی مخالفت سے باز آجائیں تو جو کچھ یہ اس وقت تک کر چکے ہیں، اْس کا اِن سے کچھ مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔
لیکن اگر یہ وہی کچھ پھر کرنے لگ گئے تو جو کچھ اقوامِ گذشتہ کے ساتھ ہوا ہے، وہی ان کے ساتھ ہو گا۔اپنے دعویٰ کی صداقت میں قرآن حکیم ثبوت پیش کرتے ہوئے سورہ آل عمران اور سورہ محمد میں کہتا ہے کہ تم سے پہلے گذشتہ امتوں کے لئے قانونِ قدرت کے بہت سے ضابطے گزر چکے ہیں سو تم زمین میں چلا پھرا کرو اور دیکھا کرو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ کیا انہوں نے زمین میں سفر و سیاحت نہیں کی کہ وہ دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے۔
اللہ کے قانون کے انکار کی وجہ سے ان پر ہلاکت و بربادی ڈال دی اورانکار کرنے والوں کے لئے اسی طرح کی بہت سی ہلاکتیں ہیں۔
قرآن حکیم بار بارہمیں سوچنے، سمجھنے، غوروفکر اور تدبر کی دعوت دیتا ہے۔ تاریخی شہادتیں ہمارے لیے اسی غرض سے پیش کی گئیں تاکہ ہم ان سے سبق سیکھیں۔ ہم نے نزول قرآن کا مقصد فراموش کردیا اور اس کتاب عظیم کو صرف نمائش کے لیے رکھا ہے جس طرف حکیم الامت نے یوں اشارہ کیا ہے
زمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہے
غضب ہے سطر قرآن کو چلیپا کردیا توُ نے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عارف محمود کسانہ کے ہفتہ جولائی کے مزید کالم