امریکی جارحیت کا پردہ چاک کرتی جان چلکٹ رپورٹ

اتوار جولائی    |    قاسم علی

آخر کار سات سال بعد 6جولائی بروز بدھ جب پاکستان سمیت کئی ممالک میں عیدالفطر منائی جارہی تھی عین اسی روز عراق جنگ سے متعلق حقائق جاننے کیلئے بنائی جانیوالے انکوائری کمیشن کے سربراہ سرجان چلکٹ نے آخر کار وہ رپورٹ جاری کرہی دی جس کا بڑی بے چینی سے انتظار کیا جارہاتھا یہ کمیشن سات سال قبل بنایا گیا تھا جس پر دس لاکھ برطانوی پاوٴنڈ خرچ ہوئے ہیں اگر چہ یہ طویل رپورٹ 26لاکھ الفاظ اور ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے مگر اس کے چیدہ چیدہ نکات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ امریکہ و برطانیہ کی جانب سے عراق پر حملے کیلئے وہاں پر جن تباہ کن ہتھیاروں کو''دنیا کیلئے خطرہ''بنا کر پیش کیا گیا تھا وہ حقیقت نہیں بلکہ عراق پر حملے کیلئے محض پروپیگنڈہ تھا اور مزاکرات سے یا دیگر طریقوں سے یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا تھا جنگ تو آخری حربہ تھا جس کو عجلت میں سب سے پہلے استعمال کیا گیارپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس جنگ کے قانونی جواز پر بھی بحث کرنا گوارا نہیں کیا گیا اورسلامتی کونسل کے اختیارات اور اخلاقیات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے محض چند ناقص انٹیلی جنس معلومات کو ہی اس خونی جنگ کی بنیاد بنالیا گیارپورٹ کے آخر میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ و اتحادی ممالک کو عراق کو خاک و خون میں نہلانے کی تو بہت جلدی تھی مگر جنگ کے خاتمے اور صدام کے بعد والے عراق کیلئے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی ۔

(خبر جاری ہے)

یہ رپورٹ بجا طور پر نہ صرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے ابدی قانون کی عکاسی کررہی ہے بلکہ طاقتور ممالک کی ہوس گیری اوران کی جانب سے وسائل سے مالا مال ممالک پر قبضے کی ایک اور مکروہ داستان بیان کررہی ہے اس رپورٹ سے قبل گزشتہ برس اکتوبر میں اس جنگ کے ایک مرکزی کردار ٹونی بلیئر بھی اس جنگ کو جنگی جرم کرتے ہوئے اس میں کودنے کو اپنی غلطی قراردے چکے ہیں ہم سمجھتے ہیں عراق جنگ موجودہ صدی کی ایک بہت بڑی جنگی غلطی تھی جس کی بارہ سال سے سلگتی آگ دس لاکھ عراقیوں کو نگلنے کے باوجودآج تک بجھ نہیں پائی ہے بلکہ امریکی بش اور اس کے پوڈل ٹونی بلیئر کی جانب سے عراق پر قبضے کے بعد صدام دور کے تمام اداروں بشمول فوج کو ختم کرنے کا فیصلہ ہی اصل میں القاعدہ اورداعش(دولت اسلامیہ عراق و شام)کی بنیاد بنادلچسپ بات یہ ہے کہ ٹونی بلیئر کی طرح صدام دور کی دس لاکھ فوج کو ایک حکمنامے سے تحلیل کرنیوالے عراق میں امریکی نمائندے پال بریمر بھی اپنی اس غلطی کو تسلیم کرچکے ہیں جس پر اگرچہ بہت تنقید بھی کی گئی کہ اتنی بڑی فوج کو اگر بیروزگار کیا جائے گا تو یہ لوگ کل کو امریکہ کیلئے بڑی مزاحمتی طاقت بن کر ابھرسکتے ہیں مگر جارح بش و ٹونی صدام کی ایک ایک نشانی مٹانے پر تلے تھے یہ حکم نامہ تو جاری ہوگیا مگراس کے بعد وہی ہوا جو متوقع تھا چند ہفتوں بعد ہی بغداد میں اقوام متحدہ کے دفترکے باہر پہلا دھماکہ ہوگیا جس میں بیس افراد جان سے گئے مگر یہ تو ابتدا تھی حوس ملک گیری اور منتقم المزاج ٹونی بش اتحاد سے جنم لینے والی یہ لامحدود جنگ ابھی اور کس کس ملک کو بھسم کرے گی کوئی نہیں جانتا۔
اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی عوام اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں اور ایک عام عراقی صدام حسین کے دور کو یادکرتا نظر آتا ہے عوام کا یہ ماننا ہے کہ بیشک صدام بہت سخت گیر تھا ،امریکی اشاروں پر بھی چلتا رہااس نے ظلم بھی بہت کئے ہوں گے مگر اس کے دور میں عراق میں امن تھا ،ادارے مضبوط تھے ،دہشتگردی اور بم دھماکے نہیں تھے اوریہ صدام کا ہی کمال تھاکہ ملک میں پچاس فیصد شیعہ اور پچاس فیصد سنی تھے مگر کسی کو پر مارنے کی بھی جرأت نہ تھی ۔
نو اپریل 2003ء کو بغداد کے فردوس سکوائر پر صدام حسین کے مجسمہ کو گرانے میں پہل کرنے والے موٹرسائیکل مکینک کاظم الجبوری کو آج بھی عراق میں صدام سے نفرت کی علامت سمجھا جاتا ہے جب پوری دنیا میں اس مجسمے کے گرنے کے عمل کو لائیو دکھایا جارہاتھا تب کاظم الجبوری نے کہا تھا کہ وہ صدام سے شدید نفرت کرتا ہے کیوں کہ اس نے میرے خاندان کے افراد کو قتل کروایا تھا اس وقت اس نے ٹونی بلیئر اور بش کو عراق کا نجات دہندہ قراردیا تھامگر اس واقعے کے ٹھیک تیرہ سال بعد جب ایک صحافی نے اس سے اپنے خیالات کے اظہار کرنے کو کہا تو اس نے کہا کہ صدام کا عراق آج سے ہزار درجے بہتر تھا اس وقت فرقہ واریت دور دور تک نہ تھی ملک میں ایک نظام تھا میرا صدام سے انتقام ذاتی تھا مگر یہ بھی سچ ہے کہ جب سے صدام کی حکومت ختم ہوئی تب سے اب تک امن کا ایک دن بھی عراقی عوام کو نصیب نہیں ہوسکا صدام کے مجسمے کو گرانے کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کاظم نے کہا کہ کاش وہ اس دن اپنا ہتھوڑا گھر ہی بھول جاتاجب صحافی نے اس سے پوچھا کہ اگر وہ اب ٹونی بلیئر سے ملے تو اسے کیا کہے گا تو اس پر اس نے حقارت سے کہا کہ وہ اس کے منہ پر تھوکنا پسند کرے گا۔
جب سرجان چلکٹ کی یہ رپورٹ منظر عام پر آئی اس کے بعدجب ٹونی بلیئر ایک نیوز کانفرنس میں اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے برطانوی فوجیوں کو خراج تحسین پیش کررہا تھا عین اسی وقت اس جنگ کا شکار ہونیوالے ایک فوجی کی بہن میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ ''میں دنیا کو بتانا چاہتی ہوں کہ ٹونی بلیئر ایک دہشتگرد ہے''
اب دیکھنا یہ ہے کہ سات سالہ تحقیقات اور دس لاکھ پاوٴنڈ خرچ کرنے کے بعد مرتب ہونیوالی اس رپورٹ پر ''عالمی برادری''کس ردعمل کامظاہرہ کرتی ہے ؟ دنیا میں ہروقت امن اور جمہوریت کا راگ الاپنے والے امریکہ ،برطانیہ اور اس کے دم چھلا بنے رہنے والے ممالک پر اس کاکیا اثر ہوتا ہے اور کیا وہ مستقبل میں ایسی جنگوں سے باز آجائیں گے ؟دنیا میں امن و استحکام اور اقوام کے تحفظ کے نام پر وجود میں آنے والی اقوام متحدہ بارہ لاکھ عراقیوں کو خون میں نہلانے والے درندوں کے خلاف کچھ ایکشن لے پائے گی یا طاقتور اقوام کی لونڈی ہی بنی رہے گی ؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود مسلم ممالک ان گِدھوں کے تسلط سے آزادی اور اپنی بقا کیلئے کسی ٹھوس منصوبہ بندی کی طرف توجہ دینا پسند کریں گے ؟ ؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

قاسم علی کے ہفتہ جولائی کے مزید کالم