کیا ہم باقی مہینوں کو رمضان کی طرح نہیں گزار سکتے؟

منگل جولائی    |    حافظ ذوہیب طیب

سال کے گیارہ مہینوں میں جب عوام کی اکثریت خوف خدا سے عاری ،اپنے ضمیر کو ایک طرف رکھ کر ایسے ایسے کارنامے سر انجام دیتی ہے کہ شیطان بھی بالآخر سوچنے پر مجبور ہو جا تا ہے کہ یہ وہی انسان ہے جسے فرشتوں سے سجدہ کرایا گیا، اللہ نے اسے اپنا خلیفہ نامزد کیا اور مجھے صرف اس وجہ سے مردود قرار دے دیا گیاکہ میں نے اس کے آگے جھکنے سے نکار کردیا۔ اللہ کی بارگاہ میں معزز قرار دیا جانے والا انسان اپنی حرکتوں کی وجہ سے پستی کی اس حد کو چھو چکا ہے کہ شیطان تو دور کی بات بلکہ کرہ ارض کی تما م حیوانی مخلوقات کی حیوانیت کا بھی ریکارڈ توڑنے کا اعزاز اسے حاصل ہو چکا ہے ۔

کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جب اپنے آس پاس اور میڈیا کے ذریعے ملک بھر میں ہونے والے ایسے دلخراش واقعات کی شہ سرخیاں نظروں سے نہ گذرتی ہوں کہ جنہیں دیکھ اور سن کر روح کانپ اٹھے ۔

(خبر جاری ہے)

ماں، بیٹی کو زندہ جلا رہی ہے تو بیٹی ماں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے فخر محسوس کر رہی ہے ۔ بیٹا ، باپ پر گھونسوں اور لاتوں کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے تو باپ بیٹے کو عاق کر تا دکھائی دے رہا ہے ۔ بڑا چھوٹے پر اور چھوٹا بڑے پر ظلم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

صاحب، ماتحت کی مزدوری اور اس کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتا ہے اور ماتحت ، اپنے فرائض کی ا نجام دہی میں ڈنڈی مارتے ہوئے صاحب کو دھوکہ دے رہا ہے ۔ الغرض جس کا جہاں ”دا“ لگتا ہے وہ پورے زور و شور کے ساتھ ”دا “ لگانے میں مصروف عمل ہے ۔
قارئین !رمضان کے مقد س مہینے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جس میں یہ تما م برائیوں ختم نہیں مگر کم ضرور ہو جاتی ہیں ۔برکتوں کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس مہینے میں قرآن کریم کا نزول ہوا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:”رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا، جس میں لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور جو حق و باطل کو الگ الگ کر نے والا ہے ۔“اس آیت کریمہ سے واضح ثبوت ملتا ہے کہ عام دنوں کے مقابلے میں رمضان کے ماہ مقدس میں لوگوں پر ہدایت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ رحمتوں اور بر کتوں کی بارش کا نزول ہوتا ہے جس سے معاشرے کا ہر فرد فیضیاب ہو تا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ ماہ مقدس کی مبارک ساعتوں میں لوگ نیکی کی طرف رجوع کرتے اور برائی اور گناہ کے کام سے بچنے کی کوشش کرتے نظرآ تے ہیں ۔ جس سے ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جہاں امن ہوتا ہے۔ سکون ہو تا ہے اور ایک دوسرے میں احساس ، اخوت اور رواداری کا جذبہ پروان چڑھنا شروع ہو جا تا ہے ۔ جس کے ثمرات ملک، شہروں ،محلوں،گلیوں اور گھروں تک دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس ماہ مقدس میں روزے جیسی عبادت کی وجہ سے بھوکوں کی بھوک اور پیاسوں کی پیاس کا شدت سے احسا س ہو تا ہے اور یہی وہ احساس ہے جس کی بدولت بالخصوص اس دفعہ ہر جگہ ، امیر ہو یا غریب ،اپنی اپنی استطا عت کے مطابق لوگوں کے لئے دستر خوان کا انتظام کرتے نظر آئے۔

شدید مہنگائی اور کچھ نا عاقبت اندیش ذخیرہ اندوزوں کی حرام خوری کی وجہ سے بھی وہ جو ایک دوسرے کا حق مارتے تھے ، ایک دوسرے کی دلجوئی کرتے نظر آرہے تھے۔ نیکی کا بدلہ نیکی، جس کے کئی منا ظر دکھنے کے ملے۔صاحب ، ماتحت اور اس کے بچوں کی بھوک کا احسا س کرتے ہوئے اپنی آمدنی سے راشن کا بندوبست کرتا ہے تو ماتحت بھی صاحب کی اس عظیم نیکی کے بدلے نیک نیتی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے ۔ 11، ماہ جو ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں انہیں پیٹ بھر کر کھانے کو ملتا ہے ۔
کئی کئی مہینوں سے جو پھلوں کی دوکانوں پر کھڑے ہوکر حسرت بھری نگاہوں سے دل ہی دل میں یہ سوچتے ہیں کہ شاید ہمارے نصیب میں بھی ایسی نعمتیں لکھی ہوتیں ، انہیں صاحبان اہل دل کی وجہ سے یہ نعمتیں فراہم ہو جاتی ہیں ۔
قارئین ! سب سے بڑی جو بات اس ماہ مقدس کی بر کت سے ہمیں میسر ہوتی ہے وہ کم از کم وقت افطار کے وقت اتحاد بین الملمین کا نظارہ ہو تا ہے جب مسجد سے اذان ہوتے ہی لوگ افطاری کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں بغیر اس بات کی تصدیق کئے کہ یہ اذان دیوبندیوں کی، بریلویوں یا اہلحدیدیثوں کی ہے؟روزے کی روح پر غور کیا جائے تو معلو م ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک ماہ کی ٹریننگ ہے کہ باقی کے 11،مہینوں میں بھی ہم اس بات کویاد رکھیں کہ اپنی پسندیدہ حلا ل چیزوں سے بھی ہم رُکے رہتے ہیں کہ اللہ کا حکم ہے ۔
کیا ہی اچھا ہو کہ رمضان کی طرح باقی مہینوں میں بھی ہم ایسی ہی فکر کا مظاہرہ کریں اور ہر مہینے کو ماہ رمضان کی طرح بسر کرتے ہوئے معاشرے کے پسماندہ اور پسے ہوئے طبقے کو اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہوئے ان کی ہر ممکنہ داد رسی کریں ۔اگر ہم نے ایسا شروع کر دیا تو یقین جانئے اس کے ایسے با بر کات نتائج دیکھنے کو ملیں گے کہ جس کی بدولت ہمارا معاشرہ امن، سکون اور سلامتی والا معاشرہ قرار پائے گا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے پیر جولائی کے مزید کالم