سبق!

منگل جولائی    |    محمد عرفان ندیم

میری اداسی انتہا کو پہنچ چکی تھی اور میرا دم گھٹ رہا تھا ،میں نے باہر جانے کا ارادہ کرلیا۔ تھوڑی دیر پہلے بارش ہو ئی تھی اور بارش کی وجہ موسم بہت خوشگوار ہو گیا تھا ۔ میں جس کمرے میں ٹھہرا ہوا تھا اس میں گرمی اور حبس دونوں ہمجولیوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے، میں نے ان دونوں کو گڈ بائے کہا اور بارش میں بھیگنے کے لیے لاہور کی سڑکوں پر نکل پڑا ۔ بارش میری کمزوری ہے اور میں بارش میں بھیگے بنا نہیں رہ سکتا ،میں سفر میں بھی ہوں تو سفر روک کر بارش کو انجوائے کرتا ہوں اور میرے خیال میں بارش اللہ کی طرف انسانوں کے لیے بہترین تحفہ ہے۔
بارش اس زمین کا غسل ہے اور یہ ساری دھرتی غسل کے بعد نکھر سی جاتی ہے۔ میں رات دو بجے بارش کو انجوائے کرنے کے لیے باہر سڑک پر نکل پڑا ۔

(خبر جاری ہے)

میں چلتا چلتا نہر کنارے پہنچ گیا ، لاہور کے عین درمیان سے گزرنے والی نہر لاہور کا خوبصورت چہرہ ہے اور اس سے لاہور شہر کی خوبصورتی دو چند ہو جاتی ہے۔ میں نے کنارے پر چلنا شروع کر دیا ، تھوڑی دور چل کر میں ایک بینچ پر بیٹھ گیا ،میرے سامنے نہر بہہ رہی تھی، نہر کا گدلا پانی اٹکھیلیاں کرتا ہوا پل کے نیچے سے گزر رہا تھا ،آسمان شب فراق میں رونے والے بد قسمت عاشق کی طرح زار وقطار آنسو بہا رہا تھا اور بارش کے یہ قطرے نہر کے گدلے پانی میں گرکر ایک عجیب سا ترنم پیدا کر رہے تھے اور رات کی پریاں اس ترنم کی آواز میں رقص کرنے پر مجبور ہو جاتی تھیں۔

چاند کی دلکش روشنی اس سارے منظر کو اور بھی ذیادہ خوبصورت بنا رہی تھی اور میں اس منظر کے سحر میں گرفتار ہو کر بے خودی میں کچھ گنگنانے لگا تھا۔ میں بارش کے قطروں کے نہر میں گرنے ، گدلے پانی میں جذب ہو نے اور اس سے پیدا ہونے والے ترنم کی آواز میں اپنی اداسی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک سفید ریش بزرگ میرے پہلو میں آ کر بیٹھ گئے۔ میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ، انہوں نے سلام کیا اور گفتگو شروع کر دی ، تقریبا دس منٹ کے انٹرویو کے بعد وہ بولے ” اچھا تو تم یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ ہو “ میں نے ہاں میں گردن ہلا دی اور وہ ہلکے سے مسکرا دیئے۔
میں نے ان کا تعارف پوچھا تو وہ لاہور کے ایک مشہور بزنس مین نکلے ، میں نے پوچھا” سرآپ کی کوالیفکیشن کیا ہے “ وہ بولے ” ویسے تو میں نے یونیورسٹی سے ماسٹر کیا ہے لیکن اصل تعلیم میں نے ایک رات ایک فقیر سے سکیھی تھی“ کہانی دلچسپ ہوتی جا رہی تھی اور آسمان کی آہ و زاری بھی کچھ تھم گئی تھی ،میں نے اپنی نظریں ان کے چہرے پر گاڑھ لیں اور سانس روک کر ان کی کہانی سننے لگا ، وہ بولے” آج سے پچیس سال پہلے جب میں نے پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر کیا تو آخری دن ہم چند دوستوں نے مل کر ایک پارٹی کا اہتمام کیا ، یہ پارٹی ساری رات چلتی رہی اور اس پارٹی میں وہ سب کچھ ہوا جو آپ کسی بگڑئے امیر زادے سے امید کر سکتے ہیں، رات کے آخری پہر پارٹی ختم ہوئی تو ہم چند دوست کیمپس پل سے نہر کے کنارے ہو لیے، ہم نہر کے کنارے اونچی آواز میں قہقہے لگاتے جا رہے تھے ، یہ سردیوں کے دن تھے ، اچانک ہمارے پاوٴں ایک بوری سے ٹکرائے اور ہم رکنے پر مجبور ہو گئے ، یہ ایک فقیر تھا جو سخت سردی کی وجہ سے بوری اور ٹاٹ کے کچھ ٹکرے لپیٹ کر سویا ہوا تھا ، ہماری گستاخی سے وہ اٹھ کر بیٹھا گیا ، ہم اس کے ساتھ نیچے زمین پر بیٹھ گئے اور فقیر نے بھی ہماری کمپنی کو انجوائے کیا اوریوں ہم لوگ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے، جب ہم جانے لگے تو اس نے پوچھا ” آج تم سب کس خوشی میں یہاں گھوم رہے ہو “ ہم نے بتایا کہ آج ہماری تعلیم مکمل ہوئی ہے اور آج ہمیں ڈگری ملی ہے جس کے جشن میں ہم نے اس پارٹی کا اہتمام کیا ہے“ فقیر کافی دیر تک ہنستا رہا اور ہم پریشان ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگے، فقیر نے ایک نظر ہم سب کے چہروں پر ڈالی اور بولا” آپ سب نے ماسٹر کرنے تک بیسیوں مرتبہ امتحا ن دیا ہو گااور آج آپ فائنل امتحان دے کر ڈگری لے چکے ہیں اور آج کے بعد آپ پڑھے لکھے اور گرایجویٹ کہلائیں گے لیکن ایک امتحان آپ کا میں بھی لینا چاہتا ہوں اگر آپ اس امتحان میں پاس ہو گئے تو میں آپ کو پڑھا لکھا سمجھوں گا لیکن اگر آپ اس امتحان میں ناکام ہوئے تو آپ نے کچھ بھی نہیں پڑھا “ ہم سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اورفقیر کی شرط منظور کر لی ، فقیر بولا ” کل ٹھیک اسی وقت اسی جگہ آپ کا امتحان ہو گا “ ہم اٹھے اور واپس آگئے۔
اگلی رات ہم صرف چار دوست تھے جو فقیر کو امتحان دینے اسی جگہ پر موجود تھے ، رات کا آخری پہر تھا اور ہم چار دوست اپنا فائنل امتحان پاس کرنے فقیر کی آماجگاہ کی طرف جا رہے تھے ، تھوڑی دیر بعد ہم مطلوبہ جگہ تک پہنچ چکے تھے لیکن وہاں فقیر کا کوئی نام و نشان نہیں تھا ،ہم پریشان ہو گئے ، ایک دوست نے قہقہہ لگایا اور اونچی آواز میں بولا ” فقیر صاحب ہمیں یہاں بلا کر خود اپنی کٹیا میں آرام کر رہے ہوں گے“ اور ہم سب نے اپنی حماقت پر طویل قہقہہ لگا یا۔
ہم تھوڑا سا آگے بڑھے تو راستے میں کانٹے پڑے تھے ، ہم دو دوست کانٹے پھلانگ کر گزر گئے ،تیسرے دوست نے راستہ بدل لیا لیکن چوتھا دوست وہاں رکا ، اپنا سامان نیچے رکھا اور راستے سے کانٹے صاف کرنے لگا ، ہم نے اسے سمجھایا کہ رات کا آخری پہر ہے ، اندھیرا چھا رہا ہے یہ کانٹے چننے کا وقت نہیں ہے ، ہمیں جلدی اپنے گھر پہنچنا ہے ، یہ سب چھوڑو اور آگے بڑھو، اس نے جواب دیا ” نہیں دوستو! اگر دن کا وقت ہو تا تومیں یہ کانٹے نہ صاف کرتا لیکن ابھی رات کا وقت ہے اس لیے اگر ہم نے یہ کانٹے صاف نہ کیے تو ہمارے بعد آنے والے لوگوں کو یہ کانٹے چبھ جائیں گے ،اگر ہم بھی انہیں صاف کیے بنا آگے بڑھ جائیں گے تو ہماری تعلیم کا کیا فائدہ۔
میں یہاں سے کانٹے صاف کیے بنا نہیں جاوٴں گا آپ لوگ جانا چاہتے ہیں تو چلے جائیں“ ۔ابھی یہ گفتگو جاری تھی کہ قریبی جھاڑیوں سے وہ فقیر نمودار ہوا اور ہمارے درمیان آکر کھڑا ہو گیا ، ہم سب حیران ہو گئے، فقیر نے ہمیں پاس بلایا اور بولا ” اس راستے میں یہ کانٹے میں نے خود بچھائے تھے اور یہی تمہارا امتحان تھا ، آپ چاروں میں صرف ایک طالبعلم کامیاب ہوا جس نے راستے سے یہ کانٹے صاف کیے ، کیونکہ حقیقی تعلیم یہی ہے کہ آپ دوسروں کی زندگی اور دوسروں کے راستوں سے کانٹے چن کر ان کا راستہ صاف کریں ، انہیں خوشیاں فراہم کریں اور ان کی زندگی میں آنے والے دکھوں کو چن کر دور پھینک دیں ، اگر آپ نے یہ سب سیکھا ہے تو آپ تعلیم یافتہ ہیں بھی ہیں اور ڈگری ہو لڈر بھی اور اگر آپ نے سولہ سالہ تعلیمی کیریئر کے دوران یہ نہیں سیکھا تو آپ آج بھی ”کچی“ کلاس کے اسٹوڈنٹ ہیں اور آپ میں اور عام جاہل انسان میں کو ئی فرق نہیں “ ۔
وہ رکے اور بولے ” فقیر یہ بات کر کے چلا گیا لیکن ہم چار دوستوں کو بتا گیا کہ اصل تعلیم اور اصل ڈگری کیا ہے “ ۔ انہوں نے اپنی بات پوری کی ، سلام کیا او ر دھیمی بارش میں گم ہو گئے اور میں چاند کی دلکش روشنی ، ہلکی بارش، نہر کنارے ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھا گوتم بدھ کا شاگرد دکھائی دیتا تھا جو گیان حاصل کرنے کے لیے رات کے اس آخری پہر تنہا اپنی اداسی کو مٹانے کے لیے یہاں آ بیٹھا تھا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے پیر جولائی کے مزید کالم