چادر پوش کی احسان فراموش

جمعرات جولائی    |    خواجہ محمد کلیم

فی زمانہ اگر آپ کو احسان فراموشی کی کوئی اچھی مثال یاد نہیں تو اپنے ہی کھانے کی تھالی میں چھید کرنے والے چادر پوش حضرت محمود اچکزئی کو یاد کیجئے جس کی ساری کی ساری سیاست تعصب کے خناس میں لتھڑی ہوئی ہے۔قوم پرستی بری چیز نہیں لیکن اگر کوئی قومی پرستی کے پردے میں نفرت اور تعصب پھیلا کر غیروں کے ایجنڈے کی تکمیل کرنا چاہے تو کب تک چھپا رہ سکتا ہے ۔ سیاسی مجبوریاں چاہے بولنے نہ دیں لیکن اپنے پرائے سب انگشت بدنداں ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب بلوچستان میں شرپسندوں کی لگائی آگ بجھ رہی ہے تو صوبے کی پشتون بیلٹ کا چادر پوش کیا فرما رہا ہے۔
پختونخواہ ہر گز افغانوں (ریاست افغانستان )کی سرزمین نہ کبھی تھا اور نہ ہے۔ افغان سلطنت دریائے سندھ تک صرف اس مختصر دورمیں پھیلی جب برصغیر خانہ جنگی کا شکار تھا اور سرحدی حدود آئے روز بدلتی تھیں۔

(خبر جاری ہے)

تاریخ کا نام لے کر تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے جو یاوہ گوئی چادر پوش نے افغان سرزمین پر بیٹھ کر کی کوئی محب وطن پاکستانی وہ سوچ بھی نہیں سکتا ۔ اس حد تک تو بات درست ہے پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے دونوں اطراف کچھ قبیلے خود کو افغان کہلاتے ہیں ،جیسے پنجابی پاکستان میں بھی بستے ہیں اور بھارتی پنجاب کے باسی بھی اپنی پنجابی شناخت پر فخر کرتے ہیں ۔

تاریخ کی آڑ میں تعصب کی سیاست چمکانے والے چادر پوش کا وطیرہ ہے کہ وہ جہاں بھی بیٹھیں پنجاب کی برائی کرتے ہیں ۔ اگر تاریخ کا ہی حوالہ دینا ہے تو اس قوم میں ابھی بہت سے افراد زندہ ہیں جو اس چادر پوش کوتاریخ کے سکے کا دوسرا رخ دکھاسکیں ۔تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اٹھارویں صدی کے وسط تک تو افغانستان نام کی ریاست کا دنیا کے نقشے پر کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ مغل دور کا جائزہ لیں تو یہ پورے کا پورا خطہ جو آج افغانستان کہلاتا ہے سلاطین دلی کے پائے اقتدار کا حصہ تھا۔
آج اپنے محسن پاکستان کو آنکھیں دکھانے والے افغانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ لاہور کے حکمران رنجیت سنگھ کا اقتدار طورخم کی سرحد تک پھیلا ہواتھا ۔یہ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ 1858سے لے کر 1901تک موجودہ خیبر پختونخوابھی پنجاب کا حصہ تھا۔لیکن تب پختونخوا میں پختونوں کے حقوق کے نام پر سیاست چمکانے والا کوئی ذہین سیاستدان موجود نہیں تھا۔خودمحمود اچکزئی کے والد عبدالصمد اچکزئی کو بلوچی گاندھی کا لقب اس لئے ملا تھا کہ تقسیم برصغیر کے وقت عوام نے ان کا تعصب ان کے منہ پر دے مارا اورگاندھی کے نظریات کے برعکس پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا ۔
اورشائد یہی وہ درد ہے جو ان سے چھپائے نہیں چھپتا۔ بلوچستا ن سے صرف گیارہ نشستیں جیت کر پورے صوبے اور دنیا بھر میں افغانستان کے باسیوں کے حقوق کا علمبردار بننے والے چادر پوش اس در د سے شفا پانے کے لئے کبھی پاکستان دشمن افغان بریگیڈیر رازق اچکزئی کے مطب پر حاضری دیتے ہیں اور کبھی ایران کے انقلابیوں کے خفیہ نمائندے رمضان نورزئی سے امریکی ڈالر وصول کرتے ہیں۔یہ ڈالر اس لئے وصول کئے جاتے ہیں کہ افغانستان میں ایران نواز شمالی اتحاد کی دامے درمے قدمے سخنے ”مہمان نوازی “ کی جاسکے۔
محترم ہارون رشید صاحب کو تو اس حقیقت کاپول کھولنے والا وزارت داخلہ کا وہ خط شائد نہیں مل سکا لیکن اس خاکسار سمیت بہت سے صحافی اس کی کاپی حاصل کرچکے ہیں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کا نمک کھانے والے بعض افراد بھی اس کا حق ادا نہیں کرتے ۔دروغ برگردن راوی ،چادرپوش نہ صرف خود وزیراعظم کا مشیر خاص ہیں بلکہ ان کے پورے گھرانے کی بھی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔سگا بھائی محمدخان اچکزئی بلوچستان کا گورنرہے،دوسرا بھائی حمید خان اچکزئی اور برادر نسبتی کی بیوی رکن بلوچستان اسمبلی ہیں،ایک سالی رکن قومی اسمبلی ہے،ایک برادر نسبتی کوئٹہ کے ہوائی اڈے کے جنرل مینجر کی نقدآور پوسٹ پرتعینات ہے،دوسرا برادر نسبتی حسن منظورموٹروے پولیس میں ڈی آئی جی ہے،بیوی کا بھتیجا سالار خان بلوچستان یونیورسٹی میں لیکچررہے اور بیوی کا کزن قاضی جلال اسی یونیورسٹی میں رجسٹرارکے عہدے پر فائز ہے۔
اس کے باوجود چادر پوش دھمکیاں بھی اسی ریاست کی ایک اکائی خیبر پختونخوا کی حکومت کو دے ر ہے ہیں کہ میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانستان کے شہریوں کو ہراساں نہیں کرنے دوں گابلکہ دوسرے صوبوں سے بھی انہیں کے پی کے میں آنے کی دعوت دے رہا ہے ۔کس حیثیت میں وہ یہ بات کرتے ہیں ؟کیا خیبر پختونخوا میں ایک منتخب حکومت موجود نہیں؟صوبے میں افغان مہاجرین کے قیام کے فیصلے پر اسی کی رائے مقدم ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پینتیس برس سے پاکستان میں مقیم تیس لاکھ افغانیوں نے پاکستانی معاشرے کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیئے ہیں ۔جو بولتا ہے ضیاء الحق کی افغان پالیسی کو لتاڑتا ہے اورسمجھتا ہے میں نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ۔ خدا کے بندو! ضیاء الحق کو رزق خاک ہوئے تیس برس ہونے والے ہیں ،تم لوگوں نے کیا کیا؟اصل بات یہ نہیں کہ افغانستان میں بدامنی اس قدر ہے کہ افغان مہاجرین واپس جانے سے ڈرتے ہیں،گو کہ اب حالات کافی بہتر ہیں لیکن دھماکے اور حملے تو پاکستان میں بھی ہیں ۔
اصل بات یہ ہے کہ افغان مہاجرین کو اپنے ملک میں وہ معاشی مواقعے میسر نہیں جو پاکستان میں ہیں ۔ مہمان بن کر آنے والے یہ مہاجر اب بدمعاشی پر اتر آئے ہیں کہ پندرہ لاکھ سے زائد مہاجر اپنی رجسٹریشن تک کروانے پر تیار نہیں ہیں ۔ لیکن وقت آگیا ہے کہ اب تمام افغان مہاجرین کو جلد سے جلد ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے کیونکہ پاکستان ان کی عزت کا ٹھیکہ دار نہیں بلکہ اپنی سلامتی کا ذمہ دار پہلے ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

خواجہ محمد کلیم کے بدھ جولائی کے مزید کالم